آدھار کارڈ ایک بار پھر موضوع بحث

morarka-jiآدھار نمبر یا آدھار کارڈ سے جڑے تنازع کا مناسب حل ہونا چاہئے۔ آدھار جاری کرنے کا آغاز یوپی اے دورحکومت میں ایک انقلابی قدم کے طور پر کیا گیا تھا۔ انفوسس کے نندن نیلیکانی کی صدارت میں ایک اتھارٹی بنائی گئی تھی۔ اس وقت بھی بہت سارے لوگوں نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ کیونکہ اسے اس کے مقابلے وزارت داخلہ کے فنڈامنٹل میں نیشنل پوپولیشن رجسٹر اسکیم جاری تھی۔ یو پی اے سرکار کے کئی وزیروں نے ملک کے شہریوں کو دو مساوی پہچان نمبر دیئے جانے پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ چونکہ آدھار اسکیم پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ کی نظر کرم تھی، لہٰذا یہ اسکیم جاری رہی۔ اب نئی سرکار آگئی ہے۔یہ سرکار بھی اس معاملے میں پہلی سرکار سے بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے شروع میں کہا کہ وہ آدھار کو رد کر دیںگی، لیکن اب وہ آدھار کو اور مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ اب وہ انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرتے وقت بھی آدھار کو لازمی بنارہے ہیں۔ انکم ٹیکس فائل کرنے کے لئے پہلے سے ہی پین نمبر موجود ہے۔ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم سمیت سرکار میں کوئی ہے جو ہ بتا سکے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ آدھار کی بنیاد پر انکم ٹیکس جمع کرنا چاہتے ہیں تو پھر پین کارڈ کو ختم کر دیجئے۔

میرے حساب سے آدھار کے ممکنہ ہدف وہ لوگ تھے جو سرکار سے سبسڈی اور دوسری رعایتیں لینا چاہتے ہیں۔ اس کا تعلق ڈائریکٹ فروفٹ ٹرانسفر ( ڈی بی ٹی ) سے تھا۔ اگر ایسا تھا تو ہر اس آدمی جس کے پاس پین کارڈ ہے، اسے آدھار کارڈ لینے سے منع کر دینا چاہئے۔ پین کارڈ رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ ملک کے ان دو سے تین فیصد لوگوں میں سے ہیں جو انکم ٹیکس جمع کرتے ہیں۔ انہیں سرکار سے سبسڈی لینے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟دراصل آپ کو یہ لازمی کرنا چاہئے کہ پین کارڈ ہولڈروں کو آدھار بنوانے سے الگ کیاجائے ۔ آج اگر ہمیں بینک اکائونٹ کھلوانا ہے تو ہمیں آدھار کارڈ چاہئے۔ آدھار کارڈ کیوں چاہئے؟میں انکم ٹیکس جمع کرنے والا آدمی ہوں۔ میں اپنے پین کارڈ سے اپنا کھاتہ کیوں نہیں کھلوا سکتا؟میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں انکم ٹیکس جمع کرتا ہوں، میری ساری جانکاریاں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے پاس ہیں۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ آدھار کو لاگو کرنے سے متعلقہ سرکار نے سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کے ٹھیک برعکس بات کہی ہے۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ غریب لوگوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ لینے کے لئے آپ آدھار کارڈ کو لازمی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا یہاں تضاد ہے۔آپ آدھار کس لے چاہتے ہیں؟بدقسمتی سے آدھار کا خراب نتیجہ نکل رہا ہے۔ یعنی آدھار جس میں بائیو میٹرک اور دوسری جانکاریاں لی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک آدمی کی پرائیویسی ختم ہو جائے گی اور جتنے اعدادو شمار جمع کئے گئے ہیں، وہ سب امریکہ میں دستیاب ہوں گے ۔اگر آدھار کا مقصد یہی ہے تو اس کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے ملک کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں ،جو کام آپ کررہے ہیں اس پر آپ کا نقطہ نظر صاف ہونا چاہئے۔ پولیس ، آرمی ،پارا ملٹری فورسیز اور کارڈ نمبر میں انتہائی اعتماد ٹھیک نہیں ہے۔ پولیس اور آدھار کارڈ، بہتر انتظامیہ اور بہتر سرکاری بندوبست کا بدل نہیں ہو سکتے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ جب دہلی میں شیلا دیکشت کی سرکار تھی تو انہوں نے بھی دہلی کے شہریوں کو ایک نمبر دینے کی کوشش کی تھی۔ ان کی اس تجویز پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے فوری طور سے انتباہ جاری کیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ آپ پولیس اور دوسرے سرکاری افسروں پر انتہائی اعتماد مت کیجئے ۔سماج الگ چیز ہے۔اس کے لئے زیادہ پریشانی پیدا نہ کریں۔
وہی مسئلہ آج بھی ہے۔میرے خیال سے سپریم کورٹ نے پھر کچھ کہا ہے۔ سپریم کورٹ کو اٹارنی جنرل کو ہدایت دینی چاہئے کہ وہ وزارتِ قانون ،وزارت داخلہ اور جو بھی وزارت اس میں شامل ہے ،سے مشورہ کریں اور کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچیں کہ آپ حقیقت میں کرنا کیا چاہتے ہیں۔ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا، مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ یہ ایک مضحکہ خیز تجویز ہے۔ بیشک سینکڑوں ہزار کروڑ روپے پرائیویٹ کنسلٹینس ، کمپیوٹر کمپنیوں کے پاکٹ میں چلے گئے ہوںگے۔ نندن نیلیکانی جو ایک روپیہ فی ماہ تنخواہ پر کام کرتے ہیں، لیکن ایسے شواہد ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اس پروجیکٹ سے بہت ساری پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ ملا ہے۔ ایسے میں اگر اس کا مقصد پرائیویٹ کمپنیوںکو فائدہ پہنچانا ہے یا امریکہ کو جانکاری دینا ہے تو یہ الگ ایشو ہے۔ جہاں تک اپنے ملک کا سوال ہے ماس پورے ایشو کو پھر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا ایشو کشمیر سے آنے والی تشویشناک خبریں ہیں۔ اب جبکہ سردیوں کا موسم ختم ہو چکا ہے اور گرمی کا موسم آگیا ہے۔ ایک بار پھر وہاں تشدد شروع ہو گیاہے۔ جب مرکزی سرکار یہ دعویٰ کررہی تھی کہ ڈیمونٹائزیشن کی وجہ سے کشمیر میں تشدد رک گیا ہے تو اسے سن کر وہاں لوگ ہنس رہے تھے۔کیونکہ تشدد رکنے کا تعلق نوٹ بندی سے نہیں تھا ۔ جنوری اور فروری وہاں سخت مہینے ہوتے ہیں۔ اپریل اور مئی کے مہینے سیاحت کے مہینے ہوتے ہیں۔ اگر تشدد جاری رہا تو سیاحت کا یہ موسم برباد ہو جائے گا۔ اب سرکار کی کیا سوچ ہے مجھے معلوم نہیں لیکن جتنا میں نے اپنے ذرائع سے سنا ہے، سرکار سخت رخ اپنانے والی ہے ۔اب سرکار تو بہر حال سرکار ہوتی ہے۔ اسے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کا اختیار ہوتا ہے۔ لیکن انہیں انسانی نقطہ نظر کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہئے۔ نوجوان طلباء پر پیلیٹ نہیں چلائی جانی چاہئے ۔ان کی آنکھیں اور پیر خراب نہیں ہونے چاہئے اور سیاحت کا موسم متاثر نہیں ہونا چاہئے،کیونکہ اس کے متاثر ہونے سے غریبوںکو تکلیف ہوگی۔
ایک تشویشناک خبر آرہی ہے کہ مہاراشٹر میں آندولن کرنے کے لئے پھر سے کسان اکٹھا ہو رہے ہیں۔یہ اکٹھا ہونا مہاراشٹر میں کسانوں کی خستہ حالت کی وجہ سے ہورہا ہے۔ وِدربھ اور ریاست کے دوسرے حصوں سے کسان کی خود کشی کے واقعات جاری ہیں۔ ہر کسان چاہے وہ گنا کسان ہو، کپاس کسان ہو یا عام کسان ہو، سبھی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ موجودہ مہاراشٹر سرکار حل نکالنے کی حالت میں ہے۔ مرکزی سرکار کو ریاستی سرکار کی مدد کرنی چاہئے۔ ریاست میں انہی کی پارٹی کی سرکار ہے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر زراعت پر مرکوز تحریک شروع ہوتی ہے تو ریاست پیچھے ہی جائے گی۔ ایسا نہیں ہونے دینا چاہئے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *