25 سال پرانے گھوٹالے بے نقاب

dami25 سال پرانے ایک گھوٹالے کی کہانی ابھی کیوں ؟ اس لیے کیونکہ اس سے جڑی دستاویزیں بتاتی ہیںکہ ساری جانکاری دیے جانے کے بعد بھی سرکاریںاس گھوٹالے کی جانچ کرانے سے کترا رہی ہیں۔ یا کہیںکہ سرکاریں اس گھوٹالے کو سطح پر لانا ہی نہیں چاہتی ہیں۔ یہ کہانی اس گھوٹالے کی صرف انھیں پرتوںکو کھولتی ہے،جنھیںسرکاری کمیٹی اور وجیلنس کی جانچ نے اپنی رپورٹ میںکھولی ہیں۔ 1993 کی رپورٹ پر اگر آج تک کارروائی نہیںہوتی ہے تو یہ مان لینا چاہیے کہ گھوٹالہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ اس کہانی میںدامودر ویلی کارپوریشن یعنی ڈی وی سی کے گھوٹالے کی بھی ایک کہانی ہے، جہاں 9000 لوگوں کو فرضی بے گھر دکھاکر نوکری دینے سے جدا ایک گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ یہ دونوں گھوٹالے جھارکھنڈ کے دھنباد سے جڑے ہیں۔ یہ کہانی ان گھوٹالوںکو سامنے لانے کی جدوجہد میںلگے ایک وہسل بلوئر کی بھی کہانی ہے۔

26 لاکھ کروڑ یا 1.86 لاکھ کروڑ کے کوئلہ گھوٹالے کے بعد ایک اور کوئلہ گھوٹالہ ہمارے سامنے ہے۔ ہماری دستاویز یں بتاتی ہیں کہ یہ گھوٹالہ ہی ہے۔ بھارت کوکنگ کول لمٹیڈ (بی سی سی ایل) چاہے تو اسے غلط ثابت کرسکتی ہے، یہ بتاکر کہ سیکڑوں کروڑ کے کوئلے اور اسپیئر پارٹس کی شارٹیج کا مطلب کیا ہے؟ بہرحال ’چوتھی دنیا‘ کے پاس بی سی سی ایل کی دستاویز وںکی وجیلنس /سرکاری کمیٹی کے ذریعہ کی گئی جانچ کی کاپی دستیاب ہے۔ وجیلنس جانچ کی یہ دستاویزات صاف صاف بتاتی ہیںکہ کیسے دھنباد میںپھیلے سیکڑوںکولیئری میںبی سی سی ایل کے ذریعہ کروڑوںروپے کے کوئلے کی شارٹیج دکھائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی کروڑوں روپے کے اسپیئر پارٹس خریدے گئے ہیں۔
کول شارٹیج کا کیا مطلب ؟
سب سے پہلے ہم آپ کے سامنے وجیلنس جانچ سے جڑی دستاویزوںمیں درج کچھ سچائیوںکو رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں رپورٹ آف دی گورنمنٹل کمیٹی سیٹ اَپ ٹو انوسٹیگیٹ انٹو اسٹاک شارٹیج اِن بی سی سی ایل کی۔ یہ کمیٹی کوئلہ وزارت کے ذریعہ 27 جولائی 1992 کو تشکیل کی گئی تھی۔ اس کمیٹی میں 6 ممبر تھے۔ اس کمیٹی نے سب سے پہلے ان 21 کولیئری کی تفصیلی جانچ کی جس نے 1-4-1992 تک 50000 ٹن سے زیادہ کی کول شارٹیج بتائی تھی۔ کمیٹی نے کل 31 کولیئری کی جانچ کی۔ 23 اگست 1993 کو کمیٹی نے اپنی جانچ پوری کی۔ اس کمیٹی نے اپنی جانچ میںپایا کہ 1983-84 سے لے کر 1991-92 تک کل 75.04 لاکھ ٹن کوئلہ کی شارٹیج دکھائی گئی۔ اتنے کوئلہ کی بازارمیں قیمت اس وقت 233.80 کروڑ روپے تھی۔ کمیٹی نے یہ بھی مانا کہ حقیقی شارٹیج اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ میںکہتی ہے کہ اس شارٹیج کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً بک اسٹاک اور ایکچول کول اسٹاک میں فرق مینجمنٹ میں گڑبڑ ہونے کے سبب ہوسکتا ہے یا پھر ایسے شخص کے سبب بھی ہوسکتا ہے جس کی رسائی کولیئری تک ہو اور اس نے غیر قانونی طریقہ سے ٹرک میںکوئلہ بھر کر غیر قانونی ڈسپیچ کیا ہو۔ کمیٹی نے پایا کہ کچھ کولیئری ایسے بھی رہے جہاںسال در سال کول شارٹیج دکھائی گئی۔ اس کے علاوہ بی سی سی ایل کی جانچ ایک وجیلنس ٹیم نے بھی کی تھی۔ اس وجیلنس ٹیم کے مکھیا شری اے ٹی رائے تھے۔ وجیلنس کی جانچ بتاتی ہے کہ بی سی سی ایل نے اسپیئر پارٹس کی خریداری میںبھی بھاری بے ضابطگی برتی ہے۔ سال 1998 کی وجیلنس رپورٹ کے مطابق کمپنی نے سیکڑوں کروڑ روپے سے زیادہ اسپیئر پارٹس خریدنے پر خرچ کردیے جو حقیقت میںخریدے ہی نہیں گئے تھے۔ وجیلنس جانچ یہ بھی بتاتی ہے کہ بی سی سی ایل دھنباد کے مختلف کولیئری میںاسکریپ مینجمنٹ کا بھی برا حال ہے۔
بہرحال یہ مان لینا چاہیے کہ 80 کی دہائی سے چلی آرہی لوٹ (جانچ رپورٹ کے مطابق) ابھی بھی جاری ہے کیونکہ اب تک اس کی نہ تو کوئی مکمل جانچ کرائی گئی ہے اور نہ ہی مرکزی سرکار اس گھوٹالے کی جانچ کو لے کر سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ صرف نو سال کے بیچ ) 1983-84 سے 1991-92) اگر 233 کروڑ روپے کی رقم کے کوئلہ کی شارٹیج دکھا کر گھوٹالہ کیا گیا ہے تو گزشتہ 25 سالوں میں یہ رقم کتنی ہوگئی ہوگی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسا ماننے کے پیچھے ٹھوس وجہ بھی ہے۔ سندری کے سماجی کارکن راماشرے سنگھ لگاتار بی سی سی ایل کے گھوٹالوںسے سرکار کو آگاہ کراتے رہے۔ مقامی سطح پر مذکورہ جانچ رپورٹ آنے کے بعد چھٹ پٹ کارروائی ضرور ہوئی۔ کچھ ایک افسروں کی گرفتاری بھی ہوئی، جبکہ اسے لے کر راماشرے سنگھ درجنوں بار جھارکھنڈ سرکار سے لے کر یوپی اے سرکار اور مرکز کی موجودہ نریندر مودی سرکار کو آگاہ کراتے رہے ہیں، بدلے میںسرکار صرف ایک خط بھیج کر اپنی ڈیوٹی ختم سمجھ لیتی ہے۔ سوال صرف لوٹ کا نہیںہے،سوال لوٹ کی چھوٹ دینے اور جانچ سے کترانے کا بھی ہے۔ آئیے سلسلہ وار ڈھنگ سے بی سی سی ایل اور ڈی وی سی کے کارناموں(اسے آگے تفصیل سے بتایاجائے گا) کی جانچ کی مانگ کرنے اور اس مانگ کا کیا حشر ہوا،اسے سمجھتے ہیں۔ پہلے بی سی سی ایل کے گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کا کیا ہوا، اسے دیکھتے ہیں۔
بابو لال مرانڈی نے کارروائی کیوں نہیںکی؟
بی سی سی ایل میںچل رہے کوئلہ گھوٹالے کو لے کر سب سے پہلے راماشرے سنگھ نے جھارکھنڈ کے پہلے وزیر اعلیٰ بابولال مرانڈی کو سال 2001 میںخط لکھ کر سی بی آئی جانچ کی سفارش کرنے کی مانگ کی تھی۔ اس بارے میںانھوںنے چار اہم دستاویز بھی وزیر اعلیٰ کو سونپی تھیں۔ کوئی کارروائی نہ ہوتی دیکھ کر اور بار بارریمائنڈر بھجنے کے بعد راماشرے سنگھ سے کہا گیا کہ دستاویز گم ہوگئی ہیں، اس لیے آپ پھر سے دستاویز بھیجیں۔ 28-4-2001 کو جھارکھنڈ سرکار کے سی آئی ڈی محکمہ کے ایک انسپکٹر راماشرے سنگھ کے گھر پہنچے اور ان سے مذکورہ دستاویزوں کی مانگ کی۔ بعد میںانھوںنے 2-5-2001 کو رانچی جاکر مذکورہ دستاویز سرکار کے پاس پھر سے جمع کرائیں۔ ان دستاویزوں کی بنیاد پر اے ڈی جے (سی آئی ڈی) نے بھی کارروائی کرنے کی سفارش کی لیکن ریاستی سرکار کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
منموہن سنگھ کے زمانے میں بھی نہیں ہوئی کارروائی
اس کے بعد راماشرے سنگھ نے بی سی سی ایل کے گھوٹالوںسے جڑی دستاویز یوپی اے 2- سرکار کو بھی بھیجے۔ وزیر اعظم منموہن کے دفتر سے 29-8-2012 کو ساری دستاویز مناسب کارروائی کے لیے کوئلہ وزارت کے سکریٹری کے پاس بھیج دی گئیں۔ وزیر اعظم کے آفس کی طرف سے ایک کے بعد ایک یعنی چار ریمائنڈر کول سکریٹری کو کارروائی کے لیے بھیجے گئے، لیکن آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔
وزارت داخلہ کا جھارکھنڈ کے داخلہ سکریٹری کو خط
5مئی 2014 کو وزارت داخلہ نے جھارکھنڈ کے داخلہ سکریٹری کو ایک خط لکھا۔ اس خط میںصاف صاف لکھا تھا کہ درخواست گزار راماشرے سنگھ کا خط موصول ہوا، جس میں انھوںنے ڈی وی سی اور بی سی سی ایل کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ یہ عرضی وزارت داخلہ کے پاس 11-4-2014 کو پہنچی تھی، جس کا سی آر نمبر 269338 ہے۔ آگے اس خط میں لکھا گیا ہے کہ جہاںتک سی بی آئی جانچ کی مانگ کی گئی ہے تو اس بارے میں یہ کہنا ہے کہ جس ریاست میں کوئی واقعہ ہوا ہے، وہی ریاست جب تک سی بی آئی جانچ کی سفارش نہیں کرتی ہے تب تک مرکزی سرکار سوؤ موٹو (خود نوٹس) لیتے ہوئے اپنی طرف سے سی بی آئی جانچ کے لیے نہیںبول سکتی ہے۔ اس خط میںیہ بھی لکھا ہے کہ آگے اگر یہ کیس سی بی آئی کو دینا ہے تو اس کے لیے منسٹری آف پرسنل سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے ، اس خط کے زبان و بیان سے صاف تھا کہ ریاستی سرکار چاہے تو اپنی طرف سے سی بی آئی جانچ کی سفارش کرسکتی ہے اور اس میںمرکزی سرکار کو کوئی اعتراض نہیںتھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خط ملنے کے بعد جھارکھنڈ سرکار نے کیا کیا؟ اس دوران ہیمنت سورین جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس کے بعد ابھی رگھوور داس جھارکھنڈکے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ الٹے 28-4-2015 کو جھارکھنڈ سرکار کے انڈر سکریٹری آف پبلک انفارمیشن آفیسر ہری ہر مانجھی کی طرف سے راماشرے سنگھ کو ایک خط (لیٹر نمبر 08/S.A(02-30/2015 2445)بھیجا جاتا ہے۔ اس خط میں لکھا ہے کہ وزارت داخلہ، حکومت ہند نئی دہلی کے لیٹر نمبرjharkhand/2014- 24013/1/ سی ایس آر 3- تاریخ 5 مئی 2014 ، داخلہ محکمہ کے وصولی رجسٹر میں درج نہیں ہے۔ یعنی اس خط کے مطابق جھارکھنڈ کے داخلہ محکمہ کو وزارت داخلہ سے مذکورہ کوئی خط ملا ہی نہیں ہے۔ اب ا س کا کیا مطلب نکالا جاسکتاہے، ا س کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کیایہ نہیںماننا چاہیے کہ اقتدار تک رسائی رکھنے والے بااثر لوگوںنے وزارت داخلہ کے مذکورہ خط کو ہی غائب کرادیا۔
موجودہ مرکزی سرکار سے کارروائی کا انتظار
28 ستمبر 2015 کو راماشرے سنگھ نے ایک حلف نامہ دیتے ہوئے ڈی وی سی اور بی سی سی ایل گھوٹالے کی جانکاری ثبوت سمیت موجودہ مرکزی سرکار کے پرنسپل سکریٹری کو بھیجی۔ اس خط میںساری جانکاری اور ثبوت دیتے ہوئے سی بی آئی جانچ کی مانگ کی گئی۔ وزیر اعظم کے آفس سے 7/10/2015 کو ایک خط (لیٹر نمبر – پی ایم او پی جی / ڈی / 2015 / 0239100) چیف سکریٹری، جھارکھنڈ سرکار کو بھیجا گیا۔ اس خط میںلکھا گیا ہے کہ راماشرے سنگھ کا28/9/2015 کا خط ملا اور اسے آپ کے پاس مناسب کارروائی کے لیے بھیجا جارہا ہے، لیکن آج تک جھارکھنڈ سرکار کے چیف سکریٹری نے اس پر کیا کارروائی کی ہے، کسی کو نہیںمعلوم۔
ظاہر ہے کہ وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ سے لے کر مختلف وزارتوں تک کو بی سی سی ایل میںہوئے گھوٹالے کی جانکاری ہے لیکن آج تک کہیں سے بھی کوئی کارروائی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کا سیدھاسا مطلب ہے کہ مختلف سطح کے افسر اس گھوٹالے کی جانچ کرناہی نہیں چاہتے۔ پبلک انٹرپرائزز میںہوئے گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کرانے سے آخر سرکاریں کیوں کتراتی رہی ہیں؟ اگر درخواست گزار راماشرے سنگھ کی دستاویزوں اور ثبوتوں میںخبر نہیں ہے،ان کے الزام اگر بے بنیاد ہیںتو کیوں نہیںان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔صاف ہے کہ سرکار میں بیٹھے بابوؤںکی منشا اس معاملے کو لٹکائے رکھنے کی ہے تاکہ ایک دن تھک ہارکر اس مسئلے کو اٹھانے والا وہسل بلوئر اپنے گھر بیٹھ جائے اور آگے بھی لوٹ کایہ کھیل جاری رہے۔
9000 فرضی بے گھر لوگوںکا معاملہ؟
دراصل 1953 میں دامودر ویلی کارپوریشن کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ مفاد عامہ کے نام پر جھارکھنڈ کے دھنباد، جامتارہ اور مغربی بنگال کے پرولیہ اوربردوان ضلعوںکی تقریباً 41 ہزار ایکڑ زمین کے ساتھ ہی چار ہزار سے زیادہ گھروںکا ایکویزیشن کیا گیا۔ اس ایکوائزیشن سے قریب 70 ہزار لوگ متاثر ہوئے۔ متاثرہ خاندانوںکی تیسری نسل آج بھی نوکری اور معاوضہ پانے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ حال ہی میںمتاثرہ گھٹوار آدیواسیوں نے نوکری اور معاوضہ کے لے ننگے بدن ہوکر احتجاج بھی کیا تھا۔ ایکوائزیشن کے پروویژنس کے مطابق ہر ایک خاندان کے ایک ممبرکو ڈی سی سی میںنوکری دی جانی تھی، لیکن آج تک ہزروںایسے خاندان ہیں جنھیںنوکری نہیں ملی۔ متاثرہ خاندانوں میںسے زیادہ تر گھٹوار آدیواسی فرقہ سے آتے ہیں۔ بہرحال اس پوری کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ سماجی کارکن راماشرے سنگھ کے مطابق ڈی وی سی نے بے گھرخاندانوںکو نوکری دینے کے نام پر ایک بہت بڑا بڑا فرضی واڑہ کیا ہے۔ راماشرے سنگھ بتاتے ہیںکہ ڈی وی سی نے تقریباً 9 ہزار لوگوں کو فرضی بے گھر بتا کر نوکری دے دی ہے۔ دوسری طرف جو حقیقت میںاس پروجیکٹ کی وجہ سے بے گھر ہوئے ، انھیں آج تک نوکری نہیںملی ہے۔ ثبوت کے طورپرہوہ بتاتے ہیں شم پاتھ گاؤں، ضلع دھنباد، جہاںکے 1670 گھر کا ایکویزیشن ہوا تھا، ان کے ایک بھی متاثرہ شخص کو نوکری نہیں ملی ہے۔ اسی طرح مغربی بنگال کے پرولیہ ضلع کے رگھوناتھ پورہ تھانہ کے تیل کمپی گاؤں کے 1700 گھروں کا ایکوائزیشن ہوا تھا ور آج تک ایک بھی خاندان کو نوکری نہیںملی ہے۔ راماشرے سنگھ باتے ہیں کہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کے لیے وہ گزشتہ کئی سالوںسے کوشش کررہے ہیں اور لگاتار ریاستی سرکار سے لے کر مرکزی سرکار کو ثبوت بھیجتے رہے ہیں، لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
منسٹری آف پرسنل نے کہا جانچ کیجئے، جانچ نہیںہوئی
22جنوری 2015 کو حکومت ہند کی منسٹری آف پرسنل نے جھارکھنڈ سرکار کو خط (لیٹرن نمبر 261/1/2015/اے وی ڈی 2، تاریخ 22-1-2015 لکھ کر 9 ہزار غیر بے گھروںکو بے گھر بتا کر نوکری دینے کی بات کہی جس کا ذکر جھارکھنڈ سرکار کے ریونیو اینڈ لینڈ ریفارم ڈپارٹمنٹ نے راما شرے سنگھ اور ڈپٹی کمشنر بوکارو/ دھنباد کو بھیجے اپنے خط میںکیا ہے۔ریونیو اینڈ لینڈ ریفارم ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی سکریٹری پیتامبر سنگھ نے ڈپٹی کمشنر بوکارو / دھنباد کو بھیجے اپنے خط (تاریخ 6-5-15) میںلکھا ہے کہ شری راماشرے سنگھ ، صلاح کار ، گھٹوار آدیواسی مہا سبھا،سندری، دھنباد سے موصول خط، جو میتھن اور پنچیت ڈی وی سی میں9000 غیر بے گھروںکو بے گھر بتاکر نوکری کے بارے میں ہے، کی اصل کاپی منسلک کرتے ہوئے کہنا کہ اس پر پوری طرح جانچ کرنے کے بعد فوری طور پر کارروائی کرنے کی مہربانی کی جائے اور کی گئی کارروائی سے محکمہ پرسنل اینڈ ٹریننگ وزارت،حکومت ہند اور درخواست گزار کو آگاہ کرانے کی مہربانی کی جائے۔ ظاہر ہے کہ آج تک اس خط پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
باروزگار بے گھروں کی فہرست کیوںنہیں؟
راماشرے سنگھ بتاے ہیںکہ 9000 فرضی بے گھروںکو نوکری دینے کا ان کا الزام اگر غلط ہے تو ڈی وی سی انھیںامپلائڈ ڈسپلیسڈ لوگوںکی لسٹ کیوںنہیںفراہم کراتی ہے۔وہ اس طرح کی فہرست آر ٹی آئی کے تحت بھی مانگ چکے ہیںلیکن یہ فہرست انھیںآج تک نہیںملی ہے۔اس بارے میںزونل آفس ،جامتارہ نے بھی 11/4/15 کو ایک خط ڈی وی سی ، میتھن کے چیف ایگزیکٹو کو خط لکھ کر تین نکات پر مبنی اطلاع فراہم کرانے کو کہا تھا۔ اس میںپہلا نکتہ یہ تھاکہ میتھن اور پنچیت ڈی وی سی نے جتنے بے گھروں کو روزگاردیا ہے،ان سب کی مکمل تفصیل کے ساتھ فہرست فراہم کرایاجائے۔ دوسرا یہ ہے کہ میتھن اور پنچیت ڈی وی سی نے جن بے گھروںکی زمین کا ایکویزیشن کیا ہے،ان کی مکمل تفصیل کے ساتھ فہرست فراہم کرائی جائے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ میتھن اور پنچیت ڈی وی سی نے1977 اور 1978 میںبے گھروںکو روزگار دینے کے لیے جو پینل بنایا تھا، اس کی پوری تفصیل فراہم کی جائے۔ لیکن ڈی وی سی نے آج تک ایسی کوئی فہرست فراہم نہیں کرائی ہے، کیونکہ اگر یہ فہرست عام ہوتی ہے تو پھر اپنے آپ سارا کھیل سامنے آجائے گا۔
بغیر معاوضہ زمین پر قبضہ کیے جانے کا ثبوت
سب ڈویژنل آفیسر دھنباد نے 12 فروری 2015 کو ایک خط دھنباد کے ڈپٹی کمشنر کو لکھا ہے۔ یہ خط ہی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ نوکری تو نوکری بے گھروںکو آج تک معاوضہ بھی ٹھیک سے نہیںمل رہا ہے۔ اس خط میںسب ڈویژنل آفیسر نے لکھا ہے کہ راماشرے سنگھ کے ذریعہ انڈر سائنڈ رابطہ کرکے ڈسٹرکٹ لینڈ آفیسر کے ذریعہ ڈی وی سی مینجمنٹ کو تحریری خط کی کاپی فراہم کراتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ڈی وی سی مینجمنٹ کے ذریعہ کل پنچاٹیوں کو 39949 روپے کی ادائیگی اب تک نہیں کی گئی ہے جبکہ ڈی جی ایم ، ڈی وی سی شری بی نندی کے ذریعہ خط بتاریخ 14-11-2014 سے مطلع کیا گیا ہے کہ مذکورہ رقم کی ادائیگی لینڈ آفیسر کو کردی گئی ہے۔ واضح ہے کہ ڈی وی سی مینجمنٹ کے ذریعہ غلط بیانی کی جارہی ہے اور بغیر رقم ادائیگی کے 29 پنچاٹیوں کی زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ رکھا گیا ہے۔ اس لیے شری سنگھ سے موصولہ خط کی کاپی منسلک کرتے ہوئے التماس ہے کہ ڈی وی سی مینجمنٹ پر قاعدے کے مطابق کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ سب ڈویژ ن آفیسر کایہ آرڈر غلط ہے،راماشرے سنگھ کا الزام غلط ہے یا پھر ڈی وی سی کا دعویٰ ۔ ظاہر ہے اس سوال کا جواب تب تک نہیںمل سکتا، جب تک کہ اس پورے معاملے کی پوری جانچ نہ کرائی جائے۔
دراصل بی سی سی ایل کی طرح ہی ڈی وی سی (9000 فرضی بے گھروںکو نوکری دینے) معاملے میںبھی راماشرے سنگھ نے ریاستی سرکار سے لے کر مرکزی سرکار تک شکایتیںکیں ۔ 5 مئی 2014 کو وزارت داخلہ نے جھارکھنڈ کے داخلہ سکریٹری کو بھیجے اپنے خط میںبھی اس بات کا ذکر کیا تھا کہ درخواست گزار راماشرے سنگھ کا خط موصول ہوا، جس میںانھوںنے ڈی وی سی معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے اور اگر ریاستی سرکار چاہے تو سفارش کرسکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس خط پر ریاستی سرکار نے کوئی کارروائی نہیںکی اور الٹے ریاستی سرکار کی طرف سے کہا گیا کہ اسے وزارت داخلہ سے کوئی خط ہی نہیںملا ہے۔ 4-8-14 کو جھارکھنڈ اسمبلی میںرکن اسمبلی متھرا پرساد مہتو نے بھی اس بارے میںسوال اٹھایا تھا جس کے جواب میںاس دور کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے فوری طور پر کارروائی کے لیے حکومت ہند سے سفارش کرنے کا یقین دلایا تھا۔ موجودہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے بھی30 دنوںکے اندرکارروائی کرنے کے لیے کہا تھا۔ وزیر اعظم کے آفس کی طرف سے بھی درجنوں بار جھارکھنڈ کے چیف سکریٹری کو خط بھیج کر راماشرے سنگھ کی شکایت پر مناسب کارروائی کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن یہ ہندوستانی جمہوریت کا المیہ ہی کہیے ، جہاںوزیر اعظم کے آفس کا حکم ریاست کا چیف سکریٹری نہیںمانتا، وزیر اعلیٰ کا حکم ریاست کے افسروںکے لیے کوئی معنی نہیںرکھتا۔ غور طلب ہے کہ دامودر گھاٹی پروجیکٹ اور بی سی سی ایل، دونوںمرکزی سرکار کے تحت کام کرنے والے ادارے ہیں۔کوئلہ وزارت اور بجلی وزارت اس کی نوڈل ایجنسی ہیں۔ ان دونوں اداروں کے کارناموں کے بارے میںریاست سے لے کر مرکزی سرکار تک کو پوری جانکاری ہے۔ اب ایسے میںاگرایک درخواست گزار سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتا ہے، وہ بھی پورے ثبوت کے ساتھ، تو سرکاری اس جانچ سے کتراکیوںرہی ہیں ؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *