گاندھی اور ہماری ذمہ داری

damiگری راج کشور
گاندھی جی کے قتل کے بعد سردار پٹیل نے آر ایس ایس سرسنگھ چالک گرو گولوالکر جی کو ایک خط لکھا تھا جسے یہا ںپیش کیا جارہا ہے۔
اورنگ زیب روڈ
نئی دہلی
11 ستمبر 1948
بھائی شری گولولکر،
آپ کا خط ملا، جو آپ نے 11 اگست کو بھیجا تھا۔ جواہر لعل نے بھی مجھے اسی دن آپ کا خط بھیجا تھا۔ آپ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ پر میرے خیالات اچھی طرح جانتے ہیں۔ میںنے اپنے خیالات کا اظہار جے پور اور لکھنؤ کی سبھاؤں میںبھی کیا ہے۔ لوگوںنے بھی میرے خیالات کا خیر مقدم کیا ہے۔ مجھے امید تھی کہ آپ کے لوگ بھی ان کا خیر مقدم کریںگے، لیکن ایسا لگتا ہے گویا انھیںکوئی فرق نہ پڑا ہو۔ وہ اپنے کاموں میںبھی کسی طرح کی تبدیلی نہیں کررہے ہیں۔ اس بات میںکوئی شک نہیں ہے کہ سنگھ نے ہندو سماج کی بہت خدمت کی ہے۔ جن شعبوں میںمدد کی ضرورت تھی، ان جگہوں پر آپ کے لوگ پہنچے اور بہترین کام کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے، اس سچ کو قبول کرنے میںکسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا۔لیکن سارا مسئلہ تب شروع ہوتا ہے، جب یہ ہی لوگ مسلمانوںسے انتقام لینے کے لیے قدم اٹھاتے ہیں۔ ہم ان پر حملے کرتے ہیں۔ ہندوؤں کی مدد کرنا ایک بات ہے، لیکن غریب،بیبس لوگوں،عورتوں اور بچوںپر حملے کرنا بالکل ناقابل برداشت ہے۔
اس کے علاوہ ملک کی حکمراں پارٹی کانگریس پر آپ لوگ جس طرح کے حملے کرتے ہیں، اس میں آپ کے لوگ ساری مریادائیں، احترام تک کو طاق پر رکھ دیتے ہیں۔ ملک میںایک عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے (وہی آج بھی ہورہا ہے)۔ سنگھ کے لوگوںکے بھاشن میں فرقہ پرستی کا زہر بھرا ہوتا ہے۔ ہندوؤں کی حفاظت کرنے کے لیے نفرت پھیلانے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ اسی نفرت کی لہر کے سبب ملک نے اپنے پتا کو کھودیا۔ مہاتما گاندھی کا قتل کردیا گیا۔ سرکار یا ملک کے عوام میںسنگھ کے لیے ہمدردی نہیںبچی ہے۔ ان حالات میںسرکار کے لیے سنگھ کے خلاف فیصلہ لینا ناگزیر ہوگیا تھا۔
راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ پر پابندی کو چھ ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ ہمیں یہ امید تھی کہ اس دوران سنگھ کے لوگ صحیح سمت میںآجائیںگے، لیکن جس طرح کی خبریں ہمارے پاس آرہی ہیں، اس سے تو یہی لگتا ہے جیسے سنگھ اپنی نفرت کی سیاست سے پیچھے ہٹنا ہی نہیںچاہتا۔ میںایک بار دوبارہ آپ سے اصرار کرتا ہوںکہ آپ میری جے پور اور لکھنؤ میںکہی گئی بات پر دھیان دیں۔ مجھے پوری امید ہے ملک کو آگے بڑھانے میںآپ کی تنظیم تعاون دے سکتی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح راستے پر چلے۔ آپ بھی یہ ضرور سمجھتے ہوں گے کہ ملک ایک مشکل دور سے گزررہا ہے۔ اس وقت پورے ملک کے لوگوںکا، چاہے وہ کسی بھی عہدہ، ذات، مقام یا تنظیم میں ہو، ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میںکام کریں۔ اس مشکل وقت میںپرانے جھگڑوںیا پارٹی کی سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مجھے اس بات پریقین ہے کہ سنگھ کے لوگ ملک کے مفاد میںکام کانگریس کے ساتھ مل کر ہی کرپائیں گے، نہ کہ ہم سے لڑکر۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ کو رہا کردیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ہی فیصلہ لیں گے۔ آپ پر لگی پابندیوںکی وجہ سے میںمتحدہ صوبہ حکومت کے ذریعہ آپ سے بات چیت کررہا ہوں۔ خط ملتے ہی جواب دینے کی کوشش کروںگا۔
آپ کا
سردار بلبھ بھائی پٹیل
یہ خط پیش کرنے کا ایک ہی سبب ہے کہ پٹیل کا سہارا لے کر سنگھ اور دیگر ہندووادی تنظیمیں ، گاندھی کے قتل اور فرقہ پرستی کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ بھلے ہی پٹیل، ڈاکٹر امبیڈکر کی مورتیاںبنواکراپنی عوام مخالف شناخت کو مضبوط کریں لیکن ان کے ذریعہ ظاہر کیے گئے خیالات جوں کے توں رہیں گے۔ ویسے کھیل ہر طرف کھیلا جارہا ہے۔ گاندھی کے تمام افکار اور تخلیقی پروگراموں کو درکنار کرکے گاندھی جی کو سوچھتا پر مرکوز کردیا گیا۔ اسی طرح ڈاکٹر امبیڈکر کی افکار کو بھیم ایپ میںسمیٹ دیا گیا۔ پٹیل کی پوری غیر فرقہ پرست افکار کو چین سے بن کر آنے والی مورتی کے پیچھے سکیر دیا۔ میںسمجھتا ہوںکہ 150 واں سال صرف جشن کے طور پر ہی نہیںمنایا جانا چاہیے۔ کھادی جیسے تخلیقی پروگراموںپر ٹریبونل ہورہا ہے،اسے کیسے عوام سے جوڑا جائے،یہ سوچاجانا چاہیے۔
گاندھی جی نے کہا تھا کہ آزادی محض سیاسی آزادی ہے۔ اس آزادی کو مکمل آزادی میںبدلا جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ گاندھی جی کے وہ آلات جو آزادی کے بعد پانڈووں کے ہتھیاروں کی طرح باندھ کر شمی درخت پر رکھ دیے تھے، انھیں دوبارہ سان پر چڑھانا ہوگا۔ تشدد کے خلاف عدم تشدد کو آج کی ضرورت کے مطابق تیار کرنا پڑے گا۔
گاندھی کو ہماری ضرورت نہیں ہے، اس زہریلے ماحول سے ملک اور عوام کو بچانے کے لیے، گاندھی کے آشیرواد اور وسائل کی ضرورت ہے۔ بدھ کو ملک کے ایک طبقہ نے ملک نکالا دیا تھا۔ جب وہ دنیا میںقابل پرستش ہوگئے تو ویشنو کے دسویں اوتار ہوگئے۔ لیکن سیاسی ہتھکنڈوں سے گاندھی کو ملک نکالا دینا ممکن نہیں ہے۔
گاندھی جی نے عوام سے اپنے کو جوڑا۔ عوامی مسائل کا حل ہند سوراج میںہے۔ جب 1945 میں گاندھی جی نے نہرو جی کو لکھا تھا کہ ہمیں ہند سوراج پر کام کرنا چاہیے اورگاؤں کی ترقی سے جڑنا چاہیے، تو نہرو جی ڈر گئے کہ یہ گاؤں ہمیںکیا دیںگے۔جو خود اندھیرے میںہیں، جن میںسنسکار نہ ہوں، وہ ملک کو روشن کیسے کریںگے۔ اب اس پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ جتنا کام کا ہوگا اسے برتاؤ میںلانا ہوگا۔ یہ کام آسان نہیںہے۔
ان کے تخلیقی پروگراموںکے جتنے لینڈ مارک ہیں اور جنھیںختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انھیں محفوظ اور سرگرم کرنا ہوگا۔ سب سے بڑا سوال ہے ، کیا ہم اس کے لیے سرکار پر انحصار کریں گے۔ ہمیںگاندھی جی کے تعاون کے جذبہ کو جگانا ہوگا اوراپنی اپنی ایمانداری کو پرکھنا ہوگا۔ عوامی تعاون واحد راستہ ہے، جس کی وجہ سے گاندھی جی باپو بن گئے۔
آخیر میںایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ اس بات کو میںنے آچاریہ دھرمادھیکاری جی کے ذریعہ پہلے بھی اٹھایا تھا، لیکن ہمارے مردانہ رجحان نے مثبت جوش نہیںدکھایا۔ باقی 150 ویں سالگرہ بھی 2019 میںہی باپو سے چھ مہینے پہلے اپریل 2019 میںپڑے گی۔ اسے خواتین کو بااختیا ربنانے اور احیائے ثانیہ کے طور پر منایا جائے۔ آج خواتین کے لیے ریزرویشن کی دہائی تو دی جاتی ہے، آزادی کی بات دری کے نیچے کھسکا دی جاتی ہے۔ چاہے آشرموں کا آپریشن ہو یا بہار کسان آندولن ہو، بغیر کستوربا کے تعاون سے ممکن نہیں ہوا ۔ با دنیا کی پہلی عورت تھیں جو جنوبی افریقہ میں ستیہ گرہ کرکے بیماری کی حالت میں جیل گئی تھیں۔ میں جانتاہوںکہ ہماری خوشحال روایت میں عورتوں کا یوم پیدائش یا صدی منانے کے لیے کوئی جگہ نہیںہے۔ انوسوئیا، گارگی وغیرہ سدھ عورتیںرہی ہیں۔ ایسا کہیں ذکر نہیںہے کہ ان سے متعلق کسی طرح کا جشن منایا گیا ہو۔ کستوربا ان سدھ عورتوںمیںنہیںتھیں۔ وہ سماجی ترقی، ملک کی آزادی سے سرگرمی سے جڑی تھیں۔ وہ ان پڑھ تھیں،لیکن آزاد چیتا تھا۔آج مرد ہی سب سے زیادہ جی حضور ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *