یوگی کو درپیش اکھلیش کی بدنظمی کے چیلنجز

damiدین بندھو کبیر
اتر پردیش کی بدحال نظم و نسق کی خراب حالت کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے مشکلیں ہی مشکلیں ہیں۔ انڈین پولس سروس( آئی پی ایس) اورپرادیشک پولس سروس (پی پی ایس) کے افسران کی ریاست میں بہت قلت ہے۔ خود سرکاری دستاویزات بتاتے ہیں کہ اتر پردیش میں آئی پی ایس افسروں کی 23فیصد کمی ہے اور پی پی ایس افسران کی کمی 29فیصد ہے۔ انسپکٹر ، داروغہ ، ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہیوں کا بھی زبردست فقدان ہے۔ وزیر اعلیٰ کے سامنے بڑا چیلنج اس کمی کو پورا کرنے کا ہے۔
المیہ تو یہ ہے کہ گزشتہ اکھلیش حکومت نے پولس نظام کے تعلق سے اتنی سیاسی بدنظمی کی کہ نظم و نسق کی حالت خستہ ہو کر رہ گئی۔ ذات پرستی کی ترجیحات کی وجہ سے بے بنیاد اور اناپ شناپ طریقہ سے پولس افسروں کے تبادلے کئے گئے اور بھرتیاں کی گئیں۔ یو پی میں محض چار سو آئی پی ایس افسر مہیا ہیں، لیکن اکھلیش حکومت کی مدت کار میں اتنے ہی آئی پی ایس افسروں کو 2454بار تبادلہ کر کے گھمایا گیا۔ ایسے بے معنی تبادلے کئے گئے کہ کچھ افسر تو موج کرتے رہے اور کچھ افسر 6-6مہینے میں اپنا بوریا بستر سمیٹ کر ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔ یہی حال پی پی ایس افسرون کا بھی کیا گیا۔ یو پی میں پی پی ایس افسروں کی کل تعداد 916ہے، لیکن پانچ سال میں انہیں 3921بار ادھر سے ادھر کیا گیا۔ آئی پی ایس اور پی پی ایس افسر پانچ سال تک ادھر سے ادھر بھاگتے ہی رہ گئے تو نظم و نسق ٹھیک کرنے کی نوبت کب آتی! آپ ان تبادلوں کی تفصیل میں جائیں تو آپ کو حیرانی ہوگی۔
آر ٹی آئی کارکن اور سماجی خدمتگار ڈاکٹر نوتن ٹھاکر اور سنجے شرما کے ذریعہ الگ الگ پوچھے گئے سوالات پر حکومت نے جو جواب دئے ہیں، وہ آپ کو تکلیف بھی پہنچائیں گے اور آپ کو حیرانی بھی ہوگی۔ پہلے تو اکھلیش حکومت کے ذریعہ کھیلے گئے تبادلوں کا کھیل دیکھتے چلیں، اس کے بعد ہم افسروں کی کمی کی تفصیل میں جائیں گے۔ اکھلیش حکومت کی مدت کار میں مارچ 2012سے مارچ 2017کے دوران یو پی کے کل چار سو آئی پی ایس افسروں کے کل 2454تبادلے کئے گئے۔ ان میں 78آئی پی ایس افسر ایسے ہیں، جن کا ان پانچ سالوں میں 10یا اس سے زیادہ بار تبادلہ ہوا۔ ان میں آئی پی ایس افسر امیش کمار سریواستو کے 20تبادلے ہوئے۔ آئی پی ایس انیس احمد انصاری کا 18بار تبادلہ ہوا۔ آئی پی ایس راجیندر پرساد پانڈے کا 17بار تبادلہ ہوا۔ آئی پی ایس دلیپ کمار کا 16بار تبادلہ ہوا اور آئی پی ایس ہمانشو کمار سمیت دیگر پانچ آئی پی ایس افسروں کا پانچ سال میں 15بار تبادلہ کیا گیا۔ اپنی مدت کار میں اکھلیش یادو نے 215آئی پی ایس افسروں کا نصف درجن یا اس سے زیادہ بار تبادلہ کیا۔
ایسے بھی آئی پی ایس افسر ہیں، جن کا پانچ سال میں بس ایک تبادلہ ہوا۔ آئی پی ایس سنجے ترڈے اور آئی پی ایس کمل سکسینہ کا پوری مدت کار میں ایک بار تبادلہ ہوا۔ ترڈے سی بی سی آئی ڈی میں بھیجے گئے اور سکسینہ کو داخلہ محکمہ میں تعیناتی ملی۔ اکھلیش یادو نے آئی پی ایس افسر کو معطل کرنے کا بھی ریکارڈ بنایا ۔ آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کو اکھلیش یادو نے متعصبانہ طریقہ سے 10مہینے تک معطل رکھا۔ جبکہ معطل ہونے والے دیگر کچھ افسران کچھ ہی دنوں یا ایک دو مہینے میں بحال کر دئے گئے۔
آئی پی ایس افسروں کی اس اٹھاپھٹک کا اوسط آپ دیکھیں گے تو پائیں گے کہ ایک آئی پی ایس افسر کی مدت کار میں اس کے 27.3تبادلہ کا اوسط نکلے گا۔ اکھلیش حکومت کے پانچ سال کے دور اقتدار میں اوسطاً 1.3آئی پی ایس افسر روزانہ کی شرح سے ٹرانسفر کئے گئے، یعنی فی آئی پی ایس اوسطاً 6تبادلے ۔ اس سچائی پر بھی آپ کو حیرانی ہوگی کہ اپنی مدت کار میں سب سے زیادہ تبادلے جھیلنے والے آئی پی ایس افسر آئی جی پرمود کمار مشر ہیں، جنھوں نے 33سال میں 55تبادلے دیکھے۔ آئی جی وجے کمار گرگ کا 52بار تبادلہ ہوا۔ آئی جی آر کے سورنکاراور ڈی آئی جی امیش کمار سریواستو کا ان کی مدت کار میں 51بار اور اے ڈی جی گوپال لال مینا کا ان کی مدت کار میں 50بار تبادلہ ہوا۔ یو پی میں 50ایسے آئی پی ایس افسر ہیں جن کا پوری مدت کار میں 40یا اس سے زیادہ بار تبادلہ ہوا۔ یعنی، اس کا سیدھا سیدھا تجزیہ یہ ہے کہ مذکورہ افسران اپنی پوری مدت کار میں برسراقتدار جماعتوں کی سیاست اور تکڑم کا شکار ہوتے رہے۔
اب آیئے، اتر پردیش کے پی پی ایس افسران کے تبادلوں کا حال جانتے ہیں۔ اتر پردیش میں پی پی ایس افسروں کی کل تعداد 924ہے، لیکن اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مارچ 2012سے مارچ 2017کے درمیان پی پی ایس افسروں کے 3921تبادلے کئے۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت نے بر سراقتدار ہوتے ہی پہلے ہی سال میں پی پی ایس افسروں کے 1199تبادلے کئے تھے۔ اکھلیش حکومت پر اس معیار کی سیاست اور پیروی کا اثر رہا کہ تبادلے کے احکامات جاری کر کے حکومت اپنا ہی فرمان واپس لیتی رہی اور پھر جاری کرتی رہی۔ ایسے 480معاملے سامنے آئے ہیں، جن میں یا تو تبادلہ کا حکم خارج کیا گیا یا ترمیم کیا گیا ۔ ان میں بھی 123احکامات خارج کئے گئے اور 357احکامات ترمیم کئے گئے۔
واقعی، اکھیلش یادو کی حکومت اول جلول اور بے لگام طریقہ سے ہی چلتی رہی۔ اکھلیش حکومت نے چار بار اپنے ایک ہی فرمان سے سو سے زیادہ پی پی ایس افسران کا تبادلہ کیا۔ اس کے علاوہ چار بار ایک ہی حکم سے 50سے زیادہ پی پی ایس افسروں کا تبادلہ ہوا۔ 15مارچ 2012کو اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ بنے، اس کے 12دن بعد ہی 27مارچ کو انھوں نے 120پی پی ایس افسروں کے تبادلے کئے۔ پھر یکم اپریل کو 153پی پی ایس افسروں کے تبادلے کئے۔ 6دن بعد پھر سات اپریل کو 110پی پی ایس افسروں کا تبادلہ اور 16اکتوبر 2012کو ایک ہی فرمان پر 121پی پی ایس افسروں کا تبادلہ کر ڈالا۔ انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے بعد اتر پردیش کے پولس افسروں کو راحت ملی۔ انتخابی کمیشن کی ہدایات پر اس دوران محض آٹھ پی پی ایس افسروں کا تبادلہ ہوا۔ ان تبادلوں کا اوسط دیکھیں تو اکھلیش حکومت کی مدت کار میں اوسطاً دو پی پی ایس روزانہ کی شرح سے تبادلے کا سامنا کرتے رہے۔
آئیے، اب ریاست میں آئی پی ایس اور پی پی ایس افسران کی کمی کا جائزہ لیتے چلیں۔ اتر پردیش میں آئی پی ایس کیڈر کے کل 517عہدے ہیں، جن میں سے صرف 400عہدے بھرے ہیں اور 117عہدے خالی ہیں۔ ان 400عہدوں میں سے 366پر مرد اور 34پر خاتون افسر تعینات ہیں۔ 400آئی پی ایس افسروں میں سے380ہندو ہیں، 10مسلمان ہیں، پانچ سکھ ہیں اور پانچ عیسائی ہیں۔ گزشتہ 10سالوں میں یو پی کیڈر کے 6آئی پی ایس افسر انتقال کر گئے۔ گزشتہ 10سالوں میں صرف 107آئی پی ایس افسر ہی سیدھی بھرتی سے ریاست میں آئے۔ یعنی خالی پڑے آئی پی ایس کے 117عہدوں کا بھرنا بھی ایک چیلنج ہی ہے۔
اتر پردیش میں پی پی ایس کیڈر کے کل 1299عہدے ہیں، جن میں 916عہدے بھرے ہیں اور 383عہدے خالی ہیں۔ ان 916عہدوں میں 289اپر پولس سپرنٹنڈنت اور 627پر پولس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات ہیں۔289اپر پولس سپرنٹنڈنٹس میں 275مرد اور 14خواتین ہیں۔ 289اپر پولس سپرنٹنڈنٹس میں 276ہندو اور 13مسلمان ہیں۔ اپر پولس سپرنٹنڈنٹ کے عہدوں پر سکھ، عیسائی اور پارسی فرقہ کی نمائندگی صفر ہے۔ 627پولس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس میں 585مرد اور 42خواتین ہیں۔ ان میں 596ہندو، 25مسلمان اور 6سکھ ہیں۔ اپر پولس سپرنٹنڈنٹ کے عہدوں پر عیسائی اور پارسی فرقہ کی نمائندگی صفر ہے۔ گزشتہ 10سالوں میں سات اپر پولس سپرنٹنڈنٹس اور 27پولس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اپنی مدت کار میں ہی انتقال کر گئے۔
پولس کارکنان کی 50فیصد سے زائد کمی
اتر پردیش پولس میں صرف افسروں کی ہی کمی نہیں ہے، ریاست میں پو لس اہلکاروں کا بھی شدید فقدان ہے۔یہ کمی 50فیصد سے زیادہ ہے جبکہ پولس اہلکاروں کی کمی کا قومی اوسط 24فیصد ہی ہے۔ اتر پردیش میں منظورشدہ پولس اہلکاروں کی تعداد 3.63لاکھ ہے جبکہ صرف 1.81لاکھ پولس اہلکار ہی ریاست کی 21کروڑ رعوام کی حفاظت میں لگے ہیں۔ ان میں خواتین اہلکاروں کی تعداد محض 7800ہے۔ سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کو نظم و نسق کے اعتبار سے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے ’سب سے خراب ریاست‘ کا تمغہ دیا ہے۔
یوگی حکومت نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ خالی عہدوں پر جلد ہی بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تربیتی مراکز کی کمی کودیکھتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں بھرتی کا عمل جلد پورا کر پانا آسان نہیں ہوگا۔ ایک بیچ میں ایک ساتھ 35ہزار سے زیادہ سپاہیوں کو تربیت نہیں دی جا سکتی۔ میرٹھ، انائو، گورکھ پوراور مرادآباد میں پولس ٹریننگ اسکول ہے، جبکہ مرزا پور کے چنار میں رنگ روٹ (سپاہی) ٹریننگ سینٹر ہے۔ سیتا پور اور مرادآباد کے پولس ٹریننگ کالج میں داروغہ کو تربیت دی جاتی ہے۔ داروغہ سے اوپر کے افسران کے لئے مرادآباد میں پولس اکادمی ہے۔ مرادآباد پولس اکادمی میں ڈی ایس پی سطح کے افسران کو ٹریننگ ملتی ہے۔ سیتا پور میں آرمس پولس ٹریننگ کالج ہے۔ سلطان پور، کالپی اور کاس گنج میں نئے تربیتی اسکول بن رہے ہیں اور آگرہ کے باہ اور اسٹاوا میں ٹریننگ کالج کا قیام مجوزہ ہے۔ ریاست میں داروغہ کو ٹریننگ دینے کے لئے صرف سیتا پور اور مرادآباد میں ٹریننگ کالج ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ کے پاس ایک بار میں 2400داروغہ کو ٹریننگ دینے کی صلاحیت ہے۔دیگر وسائل کے ذریعہ قریب چار ہزار داروغائوں کو ایک بار میں ٹرینڈ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی 18ہزار سپاہی ٹرینڈ کئے جا سکتے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ٹریننگ میں ایک بار پھر میں 35ہزار رنگروٹوں کو ٹریننگ دی جا تی ہے۔ انسپکٹر ، داروغہ اور ہیڈ کانسٹیبل کی کمی سے دو چار اتر پردیش میں پہلے سے چل رہی بھرتی کا عمل بھی عدالتی چکروں میں الجھا پڑا ہے۔ اکھلیش حکومت نے انسپکٹر کے 2362عہدے، داروغہ کے 21004عہدے اور ہیڈ کانسٹیبل کے 7201نئے عہدوں مختص کئے تھے۔
اکھلیش حکومت میں آئی پی ایس اور پی پی ایس افسروں کے کئے گئے اناپ شناپ تبادلوں کی وجوہات اور حکومت کی ترجیحات کے بارے میں سینئر آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کہتے ہیں کہ یو پی کے ایماندار آئی پی ایس افسروں کو حاشیہ پر رکھنے کا سلسلہ چلا تھا۔ 25فیصد سے زیادہ کام میں مؤثر سینئر آئی پی ایس افسران کو بے معنی عہدوں پر جان بوجھ کر تعینات رکھا گیا۔ اس کی سیدھی وجہ ہے کہ جو پولس افسر سیاستدانوں اور رسوخداروں کے آگے سرنگوں نہیں ہو سکتے، انہیں ترجیح نہیں ملی، نظم و نسق سے بھلے ہی کھلواڑ ہوتا رہا۔ چاپلوس اور بدعنوان افسروں کو ہی نظم و نسق اور پولسنگ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اگر آئی پی ایس افسروں کی سینئرٹی فہرست کی ترتیب دیکھیں تو صاف نظر آئے گا کہ ایماندار اور کام میں مؤثر افسر ریاست کے پولس نظام میں مین اسٹریم میں نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ امیتابھ ٹھاکر بھی اقتدار اور سیاست کا شکار رہے ہیں۔ کان کنی مافیا وزیر گائتری پرجاپتی کے خلاف محاذ کھولنے کی وجہ سے ملائم سنگھ یادو نے انہیں فون پر دھمکی دی تھی۔ اس پر امیتابھ نے ملائم کے خلاف قانونی جدوجہد کر کے ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ اس وجہ سے امیتابھ کو لمبی سرکاری اذیتیں جھیلنی پڑیں۔ ملائم کے ہی سابقہ دور اقتدار میں مافیا سرغنہ مختار انصاری کے خلاف کارروائی کرنے والے ڈی ایس پی شیلندر سنگھ کو سرکاری اذیتوں کا شکار ہونا پڑا تھا۔ آخر کار شیلندر سنگھ نے پولس کی نوکری سے ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے چیلنج یہ بھی ہے کہ چوکیوں سے لے کر تھانوں اور اوپر کے افسروں تک پھیلی بدعنوانی کی روک تھام کیسے ہو۔ تھانوں، چوکیوں اور پولس پکٹ سطح سے ہونے والی وصولی کے تار اوپر تک جاتے ہیں۔ اسی کے دم پر تھانوں اور چوکیوں پر تعیناتیاں ہوتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *