یوگی کا امتحان ابھی باقی ہے

morarka-sir-jiیوپی الیکشن کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے گورکھپور سے پانچ بار کے رکن پارلیمنٹ رہے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ چنا۔یہ کہا گیا کہ اراکین اسمبلی نے یوگی کو چنا، یہ کہنے کی بات ہے۔ نریندر مودی اور امت شاہ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ یوگی کو سی ایم کے طور پر چاہتے ہیں ۔ دوسری طرف کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آئے کہ سرکار چلانے کے لیے بھگوا دھاری یوگی کا انتخاب صحیح نہیںہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ آر ایس ایس ہمیشہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پیچھے رہا ہے اور اس کی پالیسیوںکو قرون وسطی میںلے جانے کے لیے ڈٹ کے بی جے پی کے پیچھے کھڑا ہے۔
حالانکہ کچھ نکات کو نوٹ کرناچاہیے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ مہنت اویدناتھ گورکھپور مٹھ کے مکھیا تھے،وہ کبھی آر ایس ایس یا بی جے پی سے نہیںجڑے تھے۔ وہ اپنے علاقے میںکافی مقبول تھے۔ بی جے پی نے انھیںٹکٹ کی پیشکش کی ۔ وہ الیکشن لڑے اور رکن پارلیمنٹ بنے۔ انھوںنے یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنا جانشین بنایا۔ یوگی آدتیہ ناتھ پانچ بار سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ یہ مجھے نہیںمعلوم کہ وہ بی جے پی کے ممبر ہیں یا نہیں ہیں، لیکن وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہیں، اس لیے بی جے پی سے جڑے ہیں۔ جو تھوڑی بہت جانکاری ہے یا جتنی جانکاری میںاکٹھا کرپایا ہوں،اس کے مطابق اگر آر ایس ایس کو وزیر اعلیٰ چننا ہوتا، تو یوگی آدتیہ ناتھ اس کی پسند نہیںہوتے۔ اکثریت حاصل کرنے کے بعد آرایس ایس کسی ہارڈ لائنر کو پسند کرتا،جیسے ہریانہ میںمنوہر لال کھٹر کی طرح یا ان کے جیسے شخص کی طرح، جو آر ایس ایس کی لائن پر کام کرسکے۔ یوگی کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ گورکھپور مٹھ میںبہت سارے مسلم ان کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ گورکھپور، جہاں سے وہ چن کر آتے ہیں، میں وہ سبھی طبقوںکے بیچ کافی مقبول ہیں۔
یہ کہنا بہت جلد بازی ہوگی کہ ان کا سی ایم چنا جانا صحیح ہے یا نہیں۔ ان کے کام کو اگر ایک سال نہیںتو کم سے کم چھ مہینے تک دیکھنا چاہیے۔ انھوںنے اپنی شروعات خوفناک طریقے سے بوچڑ خانے بند کروانے سے کی۔ ان کے وزیر واضح کرتے ہیں کہ صرف غیر قانونی بوچڑ خانے ہی بند کیے جائیں گے۔ جائز بوچڑ خانے چلتے رہیںگے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس پر کوئی بہت زیادہ اعتراض نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ انھوںنے کچھ پبلک کو لبھانے والے قدم اٹھائے ہیں جیسے سرکاری دفتروں میںپان گٹکھا بین کرنا اور وزیر لال بتی نہیںلگائیں گے۔ اس سے قبل اروند کجریوال نے دہلی میں اس طرح کا اعلان کیا تھا۔ ابھی امریندر سنگھ نے پنجاب میںبھی ایسا ہی اعلان کیا ۔ یہ سب بھی ایک چھوٹا پبلک کو لبھانے والا قدم ہے۔ دو ایسے اصل مدعے ہیں جس کی بنیاد پر یوگی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ پہلا ہے، لاء اینڈآرڈر۔ اکھلیش یادو کے دور حکومت میںآدھے سے زیادہ پولیس اسٹیشن میںیادو ایس ایچ او تھے۔ عام لوگوںکے بیچ یہ کوئی بہت اچھی تصویر پیش نہیںکرتی ہے۔ اس سے اعتماد کا ماحول نہیںبنتا۔ ظاہرہے اگر کسی یادو ایس ایچ او کے دل میںیادو کے لیے سافٹ کارنر ہوتو وہ کسی دیگر ذات کو سنجیدگی سے نہیںلے گا۔ افسروں کے تبادلے اور پوسٹنگ میںیوگی کیا کرتے ہیں،اس کو دھیان سے دیکھنا چاہیے۔ صلاحیت کی بنیاد پر اگر آپ ایمانداری سے افسروںکا انتخاب کرتے ہیںتو یہ ایک بہتر شروعات ہوگی۔ آخرکار سب جانتے ہیں کہ لاء اینڈ آرڈر کا کام جتنا تشددآمیز گروپ سے جدا ہوتا ہے اتنا ہی پولیس افسروںکی افادیت سے جدا ہوتا ہے۔پولیس کا اہم کام ہے کہ غنڈہ گردی نہ ہو۔ یہ یوگی کی پہلا امتحان ہوگا۔
یوگی کادوسرا امتحان ہوگاجس کے بارے میںمیںابھی کہہ سکتا ہوں کہ وہ بہتر مظاہرہ نہیں کر پائیں گے،روزگار پیدا کرنا۔ اترپردیش کے نوجوانوںکی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے روزگار پیدا کرنے کاکام تقریباً ناممکن ہوگا۔ وہ اگر بے روزگاری کا ضلع وار ڈاٹا تیار کرالیتے ہیں، تو یہ ایک بہتر کام ہوگا۔ اس ڈاٹا میںوہ پائیںگے کہ مشرقی یوپی کی حالت مغربی اور وسط یوپی کے مقابلے زیادہ خراب ہے۔ مشرقی اترپردیش میںروزگار دینے کے لیے کون سی خاص پالیسی اپنائی جاتی ہے ، یہ دیکھنا باقی ہے۔ وزیر اعظم ہر طرح کی فینسی اسکیموںمیںیقین رکھتے ہیں۔ نوکری مانگو نہیں، نوکری پیدا کرو، ان کا یہ بیان کہنے میںجتنا آسا ن ہے، کرنے میںاتنا ہی مشکل ہے۔ دراصل یہاںزرعی شعبہ کے بحران سے نمٹنا ہے۔ زرعی شعبہ کی حالت ٹھیک نہیںہے۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ چھ سال میںہم کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کردیںگے، لیکن ایسا کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ کیونکہ پانچ سال میںپیداوار دوگنی نہیںہوسکتی، سپورٹ ویلیو اس سطح تک نہیں بڑھائی جاسکتی ہے۔ زرعی شعبہ کو راحت دینے کے لیے سرکار کو اینوویٹو اسکیم کے بارے میںسوچنا چاہیے۔ بیشک زراعت ریاست کا موضوع ہے، مودی بھلے ہی کچھ بھی کہیں ،لیکن اترپردیش بہت اہم ہے۔یہاںلوگ زمین کے اوپر منحصر ہیں، گنگا یہاںسے گزرتی ہے، یہاںکی زمین زرخیز ہے۔ یہاں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے، اگر وہ زرعی شعبہ کے لیے کام کرنا چاہیں۔ ایسا کرنے سے بے روزگاری کا دباؤ کم ہوگا۔
تیسری چیز جو دماغ میںآتی ہے، وہ ہے بجلی۔ انھوںنے پورے اترپردیش کے لیے 24×7 بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر یہی ایک وعدہ وہ پورا کردیتے ہیں، تو انھیںتاریخ میںیاد کیا جائے گا۔ کیونکہ توانائی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔ چاہے زراعت ہو، صنعت ہو، گھریلو ضرورت ہو،ہم بجلی پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔ اترپردیش میںبجلی کی سپلائی بہت خستہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یوگی پر کوئی رائے قائم کرنے کے لیے ہمیںابھی انتظار کرنا چاہیے۔ اگر وہ کچھ بہت ہی غلط کام کرتے ہیں اور کمیونٹیز کے بیچ نفرت پیدا کردیتے ہیں یا آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں، تو بیشک وہ غلط ہوگا۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟
جو دوسرا واقعہ ہے وہ ہے سپریم کورٹ کا بابری مسجد – را م جنم بھومی پر آرڈر۔ دراصل ہائی کورٹ کا آرڈر خود ہی غلط ہے۔ یہ عدالتوںکا کام نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ رام کا جنم ہوا تھا۔ آج اگر ہمیں یہ جاننا ضروری ہو کہ کسی شخص کا جنم کہاںہوا تھا، تو اسے میونسپل سرٹیفکٹ کی ضرورت ہوگی یا ہاسپٹل ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ وہ کہاں پیدا ہوا تھا۔ رام اور کرشن پورانیک شخصیت ہیں۔ ہندوؤں کا ایک طبقہ ، جس میںمیںبھی شامل ہوں،یہ نہیں مانتا کہ رام اور کرشن نے کسی عام انسان کی طرح جنم لیا تھا۔ وہ دیوتا ہیں، پورانیک شخصیت ہیں۔ میںآستھا کو سمجھ سکتا ہوں۔ میںسمجھ سکتا ہوںکہ آر ایس ایس اپنی آستھا کے مطابق وہاںمندر بنانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ ایسامسئلہ نہیںہے جس پر عدالت سے فیصلہ لیا جائے۔ اس پر فیصلہ دینے کے بجائے ، سپریم کورٹ اچھا کرے گا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کردے، لیکن میںسمجھ سکتا ہوں کہ معاملے کی حساسیت کے مدنظر سپریم کورٹ نے کورٹ سے باہر منصفانہ حل نکالنے کے لیے کہا ہے۔ میںاپنے قارئین کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوںکہ وزیر اعظم چندر شیکھر کے ذریعہ کورٹ سے باہر یہ معاملہ سلجھا لیا گیا تھا۔ جس میںہندو او رمسلمان دونوںایک فارمولے پر راضی ہوگئے تھے۔ جب سمجھوتہ پر دستخط ہونے والے تھے، اسی وقت راجیو گاندھی نے ان کی سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی۔ چندر شیکھر جی نے انھیں فون کرکے کہا کہ آپ دو تین دن تک رک جائیے،میںاس مسئلے کو نمٹانے والا ہوں۔ لیکن راجیو گاندھی نے حمایت واپس لے لی اور سرکار گرگئی۔ انھوںنے ایسا کیوںکیا؟ اب وہ نہیںبتاسکتے، کیونکہ وہ اس دنیا میںنہیںہیں۔ ہاںشرد پور ابھی زندہ ہیں، وہ شاید اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں۔ تو اب وہ فارمولہ کیوںنہیںلاگو ہوسکتا؟
اس کے بعد آر ایس ایس اور اس کے سنگھ پریوار سے عقیدت رکھنے والے غنڈہ عناصر نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو گرادیا، جس نے مسلمانوںکو چوٹ پہنچائی۔ ریکارڈ بتائیںگے کہ اس کے بعد مسلمانوںمیں ملی ٹینسی آئی تھی، ناراضگی بڑھی تھی۔ داؤد ابراہیم جو اس وقت تک ایک اقتصادی مجرم تھا،اس فساد کے بعد ایک کرمنل بن گیا۔ لہٰذا اگر اس مسئلے پرواقعی کوئی بامعنی عمل شروع کرنا ہے تو ہندوؤں کو بلا شرط معافی مانگنی چاہیے۔ ہاںہم وہاںمندر بنانا چاہتے ہیں ،ہم وہ جگہ چاہتے ہیں، ہم جائز طورپر یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ وہ جگہ ہماری ہے لیکن کسی عمارت کو گرا دینا غیر آئینی ہے۔ ایک بار جب آپ معافی مانگ لیں گے تو اور مسلمان راضی ہوجائیںگے کیونکہ جس مسجد میںنماز نہیںہوتی ہے ، وہ مسلمانوںکے لیے اہم نہیںہوتی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بابری مسجد میں بہت پہلے سے نماز نہیںہورہی تھی۔ اسی لیے وہ چندر شیکھر سے متفق ہوگئے تھے کہ مسجد کو دوسری جگہ ہٹادی جائے اور زمین دے دی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ان کی شرط تھی کہ آج کے بعد کاشی، متھرا اور دوسری جگہوں پرمعاملے دوبارہ نہیںکھلنے چاہئیں۔ ایک قانون پاس ہونا چاہیے کہ 15 اگست 1947 کے بعد جو مندر ہے، وہ مندر رہے گا اور جو مسجد ہے، وہ مسجد رہے گی۔ میںسمجھتا ہوںکہ سرکار کے ریکارڈ میں وہ سمجھوتہ ہوگا۔ پی ایم او یا وزارت داخلہ میںوہ کاغذات ہوںگے۔ اگر وہ اس مسئلے پر واقعی سنجیدہ ہیںتو مجھے لگتا ہے کہ اس کی شروعات سمجھدار لوگوںکو ہندوؤں اور مسلمانوںکو ساتھ لانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس جھگڑے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینا چاہیے۔ دیکھتے ہیںکیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *