یوگی آدتیہ ناتھ جی، ترجیحات اور ذمہ داری طے کیجئے

SATOSH-SIRاتر پردیش کا چرچا چاروں طرف ہے اور بی جے پی کو ملی بے مثال کامیابی نے اتر پردیش کو دنیا کے نقشے پر نئے سرے سے انسٹال کردیاہے۔ اب سوال اتنا ہے کہ یہ نقشہ بنتا کیسا ہے؟ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی ذاتی حکمت عملی سے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔ سچائی چاہے جو ہو لیکن سچ یہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں اور اتر پردیش میں ان کے نام کو لے کر توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔ توقعات بڑھنے کے پیچھے ان کا رخ، ان کی بات چیت کا طریقہ، ان کے تیور اور ان کے کام کرنے کا طرز،یہ سب مل کر یوگی کو ملک کے موجودہ وزراء اعلیٰ میں ایک الگ طرح کا وزیر اعلیٰ بنا رہے ہیں۔
لیکن یہ تمام باتیں آنے والے مہینوں میں سچ ثابت ہوتی ہیں کہ نہیں ،اس کے اوپر ہلکا سا شبہ یا دھندلاپن آگیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے یوگی آدتیہ ناتھ کو لاء اینڈ آرڈر کے اوپر جو زور (ایمفیسس) دینا چاہئے تھا، وہ انہوں نے نہیں دیا۔ لاء اینڈ آرڈر کے نام پر ان کی تنظیم ہندو واہنی کے کارکن، جو ہندو واہنی کے ہیں یا مقامی لفنگے ہیں ،یہ طے ہونا ابھی باقی ہے ،وہ اتر پردیش میں کلچرل دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔لیکن اس کلچرل دہشت گردی سے پہلے ہم لاء اینڈ آرڈر کی بات کرتے ہیں۔ اگر وزیر اعظم مودی کے انتخابی حلقے اور اتر پردیش کی کلچرل راجدھانی وارانسی میں دن دہاڑے چوک جیسے مصروف علاقے میں زیورات کی دکان میں ڈکیتی پڑ جائے اور ڈاکو فائر کرتے ہوئے نکل جائے، جبکہ وہیں پر کوتوالی ہے، لوگوں کی بھیڑ ہے اور ان لوگوں کی بھیڑ ہے، جنہوں نے ووٹ دے کر بی جے پی کو بے مثال کامیابی دلائی ،تو اسے ہم کیا کہیں گے؟بنارس میں ہی چھ دن کے وقفہ میں دن دہاڑے دوسری ڈکیتی پڑی ۔لٹیروں کو یا ڈکیتوں کو نہ قانون و نظام کی فکر نہ پولیس کا ڈر اور نہ یوگی کے چہرے کا خوف۔وہ بے خوف ہوکر جرائم کرکے نکل گئے۔ دوسری طرف اتر پردیش کے کئی ضلعوں میں پولیس والوں کے اوپر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے گزشتہ دور حکومت میں ہوتے تھے۔ پہلے اقتدار سے جڑے لیڈر پولیس کے اوپر حملہ کرتے تھے، اب بھی اقتدار سے جڑے لیڈر پولیس کے اوپر حملہ کررہے ہیں۔ اس لئے جس قانون و نظام کا شور بی جے پی نے اتنا مچایا تھا، یوگی آدتیہ ناتھ کا پہلا ایک مہینہ ان دعوئوں کی ہنسی اڑا رہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو سب سے پہلا دھیان لاء اینڈ آرڈر کی طرف دینا چاہئے، کیونکہ آنے والے 30 دن اگر لاء اینڈ آرڈر میں سدھار نہ لا پائے، تو مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ یوگی بھی عام وزراء اعلیٰ کے درجے کے وزیر اعلیٰ والی لسٹ میں شامل ہو جائیں گے۔
اب کلچرل دہشت گردی۔ یہ رومیو لفظ کس کے دماغ کی پیداوار ہے ، میں نہیں کہہ سکتا، لیکن یوگی آدتیہ ناتھ نے اس لفظ کا استعمال ضرور کیا کہ ہم اینٹی رومیو اسکواڈ بنائیں گے اور پولیس نے ان کے اسی جملے کو بنیاد مان کر بجائے غنڈے ، لٹیروں، مجرموں، شہدوں کو پکڑنے کے، اینٹی رومیو اسکواڈ بنادیا۔ شروع کے چھ سات دن، جو لڑکا یا لڑکی یا مرد یا عورت ایک ساتھ دکھائی دیے، پولیس نے ان کو پکڑ لیا۔ انھیں رومیو بنا دیا۔ ان میں کوئی باپ بیٹی تھے، کوئی چاچا بھتیجی تھے، کوئی میاں بیوی تھے، کوئی بھائی بہن تھے، لیکن پولیس نے پکڑا۔کچھ کیس میںپولیس نے چھوڑا،کچھ میںپولیس نے پیسہ لے کر چھوڑا۔ اب یہ خبر یوگی آدتیہ ناتھ کو ہے یا نہیں ہے؟ یوگی عوام کے بیچ سے نکلنے والے شخص ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ پولیس کس طرح لہریںگن کر یا کسی بھی منصوبہ کو بنا کر کس طرح دولت کماتی ہے۔ شاید یوگی جی اس کو بھول رہے ہیں یا بھولنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وزیر اعلیٰ کی کرسی ایسی ہے جو اپنے انتظامیہ پر نکیل کم کستی ہے، انتظامیہ کا کھلونا ضرور بن جاتی ہے۔
اب اینٹی اسکواڈ کے نام پر کئی سارے لوگ گھروں میں گھس رہے ہیں۔ خاص طور سے دوسرے سماج کے گھروںمیں اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ گھر کے اندر کیسے کپڑے پہنے ہیں۔یعنی آپ اپنے گھر کے اندر اپنی مرضی کے کپڑے نہیںپہن سکتے،اپنے گھر کے اندر آپ مرضی کا کھانا نہیںکھا سکتے،اپنے گھر کے اندر بھی آپ مرضی کے مطابق کوئی کام نہیںکرسکتے۔ لیکن یہ سارے کام جو پارٹی اقتدار میںبیٹھی ہے،اس کے سماج کے لوگوںکے اوپر نہیںہورہے ہیں۔ کیا اس کا پتہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو ہے؟ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ ایسے لوگوںکے اوپر سختی کریںجو ہندو یوا واہنی کے نام پر لوگوںکے گھروںمیںگھس کر عورتوںکو بے عزت کررہے ہیں۔ اب اس کا جواب سرکار کی طرف سے یہ آئے گا کہ آپ ہمیں ان گھروںکے نام بتائیے اور آپ ثبوت دیجئے کہ ان کے گھر میںکون گھسا۔ تو میںمعافی مانگ لیتا ہوںکہ میںنہ آپ کو نام بتاؤں گا اور نہ کون گھسا ہے ، یہ بتانے کا حوصلہ کروں گا۔ کیونکہ یہ کام سرکار کا ہے۔ اور جس دن سرکار یاانتظامیہ کہے گی کہ عوام ہی ثبوت دیں، اس دن سرکار کی ضرورت نہیںہے۔ پھر ہم مان لیں گے کہ اترپردیش میںبھی ایک نئے چہرے والے جنگل راج کی شروعات ہورہی ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی سے امیدیںہیں۔ان امیدوںمیں اترپردیش کے لوگوں کے بنیادی مسائل شامل ہیں۔ اس میںاسکولوںکی حالت ہے،اسپتالوںکی حالت ہے، علاج کی حالت ہے،اساتذہ گاؤں کے اسکول نہیںجاتے،سالوںسے ایسا ہورہا ہے۔ پندرہ بیس سالوں سے ایسا ہورہا ہے۔ دیہی علاقوں میںڈاکٹر پرائمری ہیلتھ یونٹ میںنہیںرہتے۔ علاج کے لیے بورا بھر کر روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ کیا یہ مسائل یوگی آدتیہ ناتھ کو بے چین کریں گے؟ اگر وہ تعلیم اور صحت کے ساتھ ہی دیہی علاقوںکی سڑک اپنی ترجیحات میںلیںگے، تو لوگ انھیںمبارکباد دیںگے۔
آخر میں بجلی نظام ،جس کا بہت شور پچھلی سرکار کے وزیر اعلیٰ نے مچایا تھا، لیکن ابھی بھی گاؤںمیںبجلی نہیں ہے۔ شہروںمیںآپ چوبیس گھنٹے بجلی دیجئے۔ آپ الٹا کیوںنہیںکرتے کہ شہروں میںآپ بارہ گھنٹے بجلی دیجئے او رگاؤںمیںچوبیس گھنٹے بجلی دیجئے۔ کسان کو اگر بجلی مل جائے اور سڑک مل جائے تو شاید وہ آپ کو دعائیںدے گا اور رفتہ رفتہ اپنی حالت ٹھیک کرلے گا۔ کیونکہ اس کے بعد کی چیزوں میںبازار بھی اپنا مفاد سدھتا دیکھ کر کسانوںسے ہاتھ ملانے کے لیے آگے بڑھے گا۔
ابھی یوگی سرکار کو کل ملاکر تیس دن ہوئے ہیں۔بہت سارے قارئین کہیںگے کہ آپ نے تیس دن کے اندر ہی یوگی آدتیہ ناتھ کی تنقید شروع کردی۔ ہم ایسے قارئین سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ راستہ شروع میںہی طے ہوتا ہے اور جب راستہ ہی ٹیڑھا اختیار کرلیا جائے تو پھر منزل پر کبھی نہیںپہنچتے۔ ہم اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ اپنی ترجیحات طے کیجئے۔ ا ن ترجیحات کی ذمہ داری طے کیجئے۔ ٹائم باؤنڈ پلان بنوائیں اور جو اس کام کو نہ کرے، اس کی ذمہ دری طے کرکے اس کے لیے کوئی سزا طے کیجئے۔ انتظامیہ کا تانا بانا بہت بگڑا ہواہے۔ اور ان لوگوں کا دماغ بھی بہت بگڑا ہوا ہے، جو یوگی آدتیہ ناتھ کی اخلاقی اصلاحات سے متاثر ہوکر خود قانون کے رکھوالے ہوگئے ہیں۔ میں آخر میںپھریوگی آدتیہ ناتھ سے کہنا چاہتا ہوںکہ گائے کو فساد کا سبب مت بنائیے۔ آپ ہر ضلع میںایک گئوپالک افسر مقرر کیجئے اور اس گئو پالک افسر کا یہ کام ہو کہ اس ضلع میںکس کے پاس گائے ہے، اس کا لیکھا جوکھا رکھے۔ وہ گائے بیمار ہوتی ہے، تو گئو پالک افسر کو پتہ ہو۔ گائے چوری ہوجاتی ہے ،گئو پالک افسر کو پتہ ہوناچاہیے اور تھانے کو اس کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ اگر گائے کسی کے گھر سے بکتی ہے تو گئو پالک افسر کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ گائے بکی ہے۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوںکہ آنے والا وقت فرقہ وارانہ بدنیتی کا وقت نہ بنے اور گائے اس میںمدعا نہ بنے ۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ گائے کا لیکھا جوکھا سرکار کے پاس رہے۔ آخر میںان الفاظ کے ساتھ میںیوگی آدتیہ ناتھ کو مبارکباد دینا چاہوںگا کہ گائے کھیت میںنہیںپیدا ہوتی۔ گائے 90 فیصد یا 99 فیصد ہندو پالتے ہیں۔ وہ گائے کو ماتا کہتے ہیں لیکن ایسے سارے گائے کو ماتا کہنے والے ہندو بھائی جو گئو شالائیں چلاتے ہیں، ان کی رپورٹ منگا لیجئے کہ گائے کے لیے جو پیسہ سرکار دیتی ہے ان میں سے کتنا پیسہ گائے کے اوپر خرچ ہوتا ہے۔و ہاںپر گایوںکی حالت کیا ہے؟ آپ اگر اپیل کریںگے تو ضلعوںکے صحافی ان گئو شالاؤںکی حالت پر رپورٹ بنا کر اپنے اخباروںمیںدیں گے۔ آپ اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ صرف اتنا کیجئے۔ ترجیحات طے کیجئے۔ آپ اترپردیش کے قابل احترام وزیر اعلیٰ مانے جائیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہیںکرتے ہیں تو عام وزیر اعلیٰ کے درجہ میں تو کوئی بھی شامل ہوسکتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *