گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جانا اپوزیشن اور پاک مقبوضہ کشمیر کو منظور نہیں

damiگلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری آئینی صوبہ قرار دینے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی دی جائے گی۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کے ارکان مبصر کی حیثیت کے حامل ہوں گے ۔ آئین میں بعض ترامیم کے ذریعے سینیٹ، قومی اسمبلی اور دیگر اداروں میں گلگت بلتستان کو بطور مبصر نمائندگی دی جائے  ی۔
وزیر اعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی نے چند ہفتے قبل تین تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے حل تک عبوری آئینی صوبہ قرار دیا جائے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ گلگت بلتستان کے موجودہ نظام ہی میں اصلاحات کے ذریعے مختلف قومی آئینی اداروں میں نمائندگی دی جائے اور تیسری تجویز یہ تھی کہ’’ آزاد کشمیر‘‘ (پاک مقبوضہ کشمیر)کے نظام سے ملتا جلتا نظام اپنایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے عبوری صوبہ بنانے کی تجویز منظور کرتے ہوئے طے کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی دی جائے گی۔ گلگت بلتستان کے لیے قومی اسمبلی میں تین اور سینیٹ میں چار نشستیں مختص کی جا سکتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے تینوں ڈویژنز میں سے ہر ایک کے لئے قومی اسمبلی کی ایک نشست ہو گی۔ سینیٹ میں تین جنرل اور ایک خاتون کی نشست ہو گی۔ سینیٹر کا انتخاب گلگت بلتستان اسمبلی کرے گی۔
دوسری طرف پاک مقبوضہ کشمیر کی حکومت اور کشمیریوں نے گلگت بلتستان کو آئینی درجہ دینے کی مخالفت شروع کر دی ہے اور کہا ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر گلگت بلتستان کا علاقہ جموں و کشمیر ریاست کا حصہ ہے اور اسکو ایک تاریخی حقیقت قرار دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس سوچ کو کشمیر کے موقف کو کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایک تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ ان حالات میں گلگت بلتستان اور اے جے کے (پاک مقبوضہ کشمیر ) کا عبوری انتظام کیا جائے اور بعدازاں پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں شامل کر دیا جائے ۔بلوچ لیڈروں نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔یونائٹیڈ کشمیر پیپلس نیشنل پارٹی کے سکریٹری جمیل مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کے آئینی مسائل کے حل کے میں ایک بڑی رکاوٹ 28اپریل 1949کا معاہدہ کراچی ہے ،جو گلگت بلتستان کے عوام سے پوچھے بغیر مقبوضہ کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کا پاکستان کے آئینی صوبہ بننے میں اصل رکاوٹ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں جن میں اس خطے کو بھی متنازعہ قراردیا گیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اکتوبر 1947تک قائم ریاست جموں وکشمیر کا گلگت بلتستان اہم صوبہ تھا۔ اقوام متحدہ میں پوری ریاست جموں و کشمیرمتنازع ہے ایسی صورت میں کیا پاکستان کے لئے گلگت بلتستان کو اپنا پانچواں آئینی صوبہ قراردینا ممکن ہے؟ اور اگرپاکستان ایسا کرتاہے تو ہندوستان کو بھی یہ حق مل جائے گا کہ وہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے ختم کرنے کا مجاز ہوجائے۔ اس آرٹیکل میں ہندوستان نے جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دی ہے ۔اس لئے پاکستان کے لئے گلگت بلتستان یا مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئینی حصہ بناناتقریباً ناممکن ہے۔
مزید یہ کہ ہندوستانی آئین آرٹیکل370 کی طرح پاکستانی آئین کے آرٹیکل 257میں بھی ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ آرٹیکل 257میں واضح درج ہے کہ’’ جب ریاست جموں وکشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں، تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کی عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے‘‘۔ جس طرح ہندوستانی آئین میں ریاست جموں و کشمیر سے مراد ’’ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان ، مقبوضہ کشمیر اور چین کے زیر انتظام اسکائی چن‘‘ ہے، اسی طرح پاکستانی آئین کے آرٹیکل 257میں بھی ریاست جموں وکشمیر سے مراد مذکورہ بالا تمام علاقے ہی ہیں۔ پاکستان کو اگر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بناناہے تو اسے پہلی تو آئین کے آرٹیکل 257کو ختم یا ترمیم کرکے واضح کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ نہیں ہے اور ایسا پاکستان کیلئے ممکن نہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور گلگت و بلتستان کے تعلق سے پاکستان کا اگلا قدم کیا ہوتا ہے؟
حریت لیڈر ان بھی مخالف
ایک مشترکہ بیان میں سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ لمبے وقت سے عالمی ایشو ہے ،اس کی جغرافیائی صورت حال میں تبدیلی کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک نے گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ نہ دینے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اسکے بڑے بْرے اثرات مرتب ہوں گے اور بھارت کو سیاسی اور اخلاقی طور پر جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنے کا حق مل جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ تاریخ عوام کی خواہش کا احترام کرنے سے مرتب ہوتی ہے نہ کہ سودے بازی اور علاقائی تبدیلیاں کرنے سے اس طرح جموں و کشمیر اسمبلی نے متفقہ قرارداد میں حکومت پاکستان کی مقرر کردہ کمیٹی پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں جلد بازی میں اور قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر کوئی فیصلہ نہ کرے جس سے مسئلہ کشمیر کو کوئی نقصان پہنچے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *