کیسے ختم ہوگا پانی کا استحصال

damiڈاکٹر مظفر حسین غزالی
ہندوستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں 65 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ پانی حاصل کرنے کیلئے اور گہرے بور کرنے پڑرہے ہیں۔ ہندوستان زمین سے پانی کھینچ کر استعمال کرنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں پینے کے پانی کی 80 فیصد ضرورت اسی سے پوری کی جاتی ہے، یعنی زمینی پانی سے۔ 2001 سے 2010 کے درمیان یوپی، تلنگانہ، بہار، اتراکھنڈ اور مہاراشٹر میں بالترتیب75,78,88,89اور74 فیصد کنوں کے پانی کی سطح نیچے گئی ہے جسے خطرے کی گھنٹی مانا جانا چاہئے، کیوںکہ یہ پانی کے ذخائر سکڑ کر کم ہونے کا قدرتی اشارہ ہے۔
پینے کے پانی کی کمی کا مسئلہ دنیا کے بڑے مسائل میںسے ایک بن کر ابھرا ہے۔ ایسے میں آلودہ پانی اس مسئلہ کو اور سنگین بناتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ گندہ پانی صاف پانی کے ذرائع کو بھی متاثر کررہا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز کی ایک رپورٹ کے مطابق 80 فیصد آلودہ پانی صاف پانی کے ذخائر میںملا دیا جاتا ہے۔ اگر اس کو صاف کرکے دوبارہ استعمال میں لایاجائے تو کروڑوں لوگوں کیلئے صاف پینے کاپانی دستیاب ہوگا اور آبی وسائل کو آلودہ ہونے سے بھی بچایا جاسکے گا۔ اس وقت دنیا کی 66.3کروڑ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ دنیا بھر میں 1.8ار ب لوگ آلودہ پانی پینے کو مجبور ہیں۔ ان میں سے 8.42 لاکھ لوگ آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوںسے ہر سال مرجاتے ہیں۔ ہندوستان کی بات کریں تو 7فیصد دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، واٹر ایڈ کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 6.3 کروڑ آبادی کی پہنچ سے پینے کا صاف پانی دور ہے۔ یہ آنکڑا دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں کے لوگ آلودہ پانی پینے کو مجبور ہیں۔سیویج اور صنعتی اکائیوں سے سالانہ330 کیوبک کلو میٹر آلودہ پانی نکلتا ہے۔ اس میں سے 167 کیوبک کلو میٹر آلودہ پانی میں سات ممالک (چین، ہندوستان،امریکہ، انڈونیشیا، برازیل، جاپان اور روس) کی حصہ داری ہے۔ دنیا میں 9087ارب کیوبک میٹر پانی سالانہ استعمال ہورہا ہے۔ پانی کی مانگ میں 2030 تک 50 فیصد تک اضافے کا اندازہ ہے۔
اس بار عالمی واٹر ڈے کی تھیم’’ ویسٹ واٹر‘‘ یعنی آلودہ پانی ہے۔ یونائیٹڈ نیشن کے مطابق پائیدار ترقی ہدف 6 کو پورا کرنے میں آلودہ پانی ایک اہم رول ادا کرے گا۔ اس میںکئی طرح کے معدنیات اور مفید اجزاء پائے جاتے ہیں،جنہیں کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سیویج اور صنعتی اکائیاں آلودہ پانی کو صاف کرکے ندی نالوں میں چھوڑتے ہیں تو مرتی ہوئی ندیوں کو نئی زندگی مل جائے گی۔ سیویج اور آلودہ پانی کی وجہ سے ندیوں کی تہہ میں گاد جمع ہوجاتی ہے۔ اس سے ندیوں کا پانی سڑنے لگتا ہے۔ اس میں تیزابیت بڑھ اور آکسیجن کم ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے مچھلیاں زندہ نہیں رہ پاتیں۔ ساتھ ہی گاد جمنے سے ندیاں اتھلی ہوجاتی ہیں اور برسات میں باڑھ کا قہر برپاتی ہیں۔ سیویج اور صنعتی اکائیوں کے پانی کو صاف کرنے کے دوران اس سے نکلا ویسٹ کھیتی کیلئے بہترین کھاد کا کام کرتا ہے۔
دنیا بھر میں آلودہ پانی کوصاف کرکے دوبارہ استعمال کرنے پر زور دیا جار ہا ہے۔ ہندوستان میں کارخانہ یا صنعتی ادارے کی منظوری کیلئے ویسٹ پانی کو صاف کرنے کا انتظام کرنا ضروری ہے۔ اس کا سرٹیفکیٹ لینا ہوتا ہے لیکن زیادہ تر فیکٹریوں یا کارخانوںمیں پانی صاف کرنے والی مشینیںخراب رہتی ہیںیا پھر انہیں کام میں نہیں لایا جاتا کیوںکہ جتنا پیسہ اس کام میں خرچ ہوتا ہے اس سے بہت کم پیسے میں سرکاری افسران سے انہیں کلین چٹ مل جاتی ہے۔
گرمی شروع ہوتے ہی پانی پر بات ہونے لگی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے پچھلے سال گیارہ ریاستوں میں ہائے توبہ تھی۔ ان میں سب سے زیادہ باندھ رکھنے والا مہاراشٹر بھی شامل تھا۔ اس سال یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پانی کی کمی سے جوجھتے کئی علاقے جب بارش آئے تو باڑھ میں ڈوبے ملیں، پھر باڑھ کو لے کر ہائے توبہ مچے، باڑھ گزرنے کے بعد ندیاں سوکھی ہوں اور پانی کی کمی کا سوال پھر ہمارے سامنے کھڑا ہو۔ یہ سوال سبھی ریاستوں کے سامنے ہے۔ جھیلوں کیلئے مشہور رہے بنگلور کے پانی پر بھی ہے اور پانچ ندیوں والے پنجاب کے آبی وسائل پر بھی۔ دہلی تو پہلے ہی گنگا کے پانی پر منحصر ہے۔پانچ نڈیوں ستلج ،بیاس ، راوی ، چناب اور جھیلم کی دھارائوں کے بیچ بسی ریاست کو پنجاب کہا جاتا ہے ۔ ایک سرکاری سمجھوتہ کی وجہ سے پنجاب کے لوگو ں کا ستلج ، بیاس اور روای جن سے 40.4بلین کیوبک لیٹر (بی سی ایم)پر ہی حق ہے لیکن یہ عجیب سمجھوتہ ہے کہ اس میں سے بھی 11.1بی سی ایم پانی کا استعمال پاکستان کررہا ہے ۔چناب اور جھیلم با وجود پنجاب میں بہنے کے وہاں کے لوگ ان ندیوں کے پانی کا استعمال نہیں کر سکتے جبکہ چناب ، جھیلم اور سندھو ندی کو ملا دیں تو ان تین ندیو ں میں 167.2بی سی ایم پانی کا بہائو ہوتا ہے ۔ہندوستان کو اپنے اس سمجھوتہ پر دوبارہ غور کرنا چاہئے ۔
دلچسپ ہے کہ زمینی پانی میں آرسینک اور فلورائڈ جیسے خطرناک کیمیکل سب سے زیادہ باڑھ والے بہار میں بھی موجود ہیں اور ہرسال سوکھے کی مار جھیلنے والے راجستھان میں بھی۔ مرکزی وزیربرائے دیہی ترقی، ڈرنکنگ واٹراینڈ سینی ٹیشن نریندر تومر نے کہا کہ ہرگھر کو صاف پینے کا پانی مہیا کرانے کیلئے سرکار نے 25 ہزار کروڑ روپے سے پانی کا معیار بلند کرنے کیلئے ذیلی مشن شروع کیا ہے۔ مرکزنے آرسینک، فلورائڈ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے اس مشن کی شروعات کی ہے۔ دیش کی 28 ہزار بستیوں میں آرسینک،فلورائڈ والا پانی پینے کو ملتا ہے۔ گنگا کے میدانی حصوں میں زمینی پانی لگاتار آلودہ ہورہا ہے۔ مغربی بنگال اور گنگا کے میدانی حصوں کے زمینی پانی میں آرسینک و راجستھان کے زیر زمین پانی میں فلورائڈ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس سے لوگوں کو خطرناک بیماریاں ہورہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے یہاں پانی کی کمی ہے یا پھر اس کے انتظام کی۔ جواب آئے گا انتظام، یہ انتظام نہ سرکاروں کو کوسنے سے ٹھیک ہوسکتا ہے نہ رونے یا چیخنے چلانے سے۔ سرکار اس میں کافی حد تک مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیوںکہ ندیوں اور جنگلوں کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن عوامی مدد کے بغیر وہ پانی کے انتظام میں کامیاب نہیں ہوسکتی کیوںکہ پانی کاانتظام ایک ساجھا کام ہے۔ ہمارے یہاں سیکڑوں ندیوں کے علاوہ زمین کے نیچے بھی پینے لائق پانی کا بڑا بھنڈار موجود ہے۔ ہماری پانی کی اس تجوری میں 213 ارب کیوبک لیٹر پانی کے سمانے کی گنجائش ہے۔ جبکہ ہمیں اپنی ضرورت کیلئے صرف 160 ارب کیوبک لیٹر پانی ہی چاہئے۔ ناسمجھی یہ ہے کہ نکاسی زیادہ جمع کم۔ پانی کے لیول کو مین ٹین رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ جتنا پانی زمین سے کھینچا جائے اتنا اور ویسا ہی پانی اسے واپس لوٹایا جائے۔ سچ تو یہی ہے کہ آج بھی ہمیں ہماری ضرورت کا پانی کوئی پلا سکتا ہے تو وہ ہے بارش کی بوندیں،اور پانی کو جمع کرنے کا وہی پرانا طریقہ۔ اگر پانی جمع کرنے کی مقامی ٹیکنکس نہ ہوں توآج بھی آبادی کا رہنا مشکل ہوجائے۔ پانی کے بوندوں کواکٹھاکرنے کی تاریخ پرانی ہے۔ تال، ہال، جھال، چال، کھال، بندھا، باوڑی، جوہڑ،کنڈ، پوکھر، پائین، تالیہ، جھیل اور تالاب وغیرہ مختلف ناموں سے پانی کو اکٹھا کرنے کے انیک طریقے ہندوستان میں الگ الگ وقتوں پر اپنائے گئے۔ یہ تمام طریقے زمین سے لئے گئے پانی کو اسے واپس کرنے والے ہیں۔
ترقی کے نام پر تال، تلیاں اور تالاب پاٹ کر وہاں عمارتیں کھڑی کردی گئیں۔ ندیوں، جھیلوں، کنوئوں اور زمین کے نیچے کے پانی کو جان بوجھ کر آلودہ کیاگیا، تاکہ پانی کا کاروبار ہوسکے۔ ہندوستان کی تاریخ میں پانی پلانا ثواب کا کام سمجھا جاتا تھا۔ پانی کونا پوچھنا بے عزتی کی بات سمجھی جاتی تھی۔ پانی بیچا جائے گا یہ کبھی کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں رہا ہوگا۔ پانی قدرت نے دیا ہے کسی نے اسے نہیں بنایا۔ تو پھراس کا کاروبار کیوں؟ چلئے انسان تو پانی خرید لے گا لیکن جانور، پرندے جو ہمارے لئے انتہائی ضروری ہیں وہ پانی کہاں سے پئیںگے؟ کیا صاف پانی پران کا حق نہیں ہے؟ دہلی میں پہلے جگہ جگہ پیائو ہوا کرتے تھے۔ نگر نگم یا پیائو بنانے والے ان میں صاف پانی بھرنے اور ان کی صاف صفائی کا انتظام کرتے تھے۔ لیکن آج دہلی میںدور دور تک کوئی پیائو دکھائی نہیں دیتا۔بوتل بند پانی کا چلن بڑھ رہا ہے ۔اس سے ایک طرف آلودگی میں اضافہ تو دوسری طرف بوتل کا پانی ٹاکسن پید اکر کینسر جیسی بیماریوں میں اضافہ کررہا ہے ۔
پچھلے سال جاگرن گروپ نے نوئیڈا، غازی آباد میںتالابوں کو زندہ کرنے کی مہم چلائی تھی۔ انتظامیہ کی مدد سے کئی جگہ تالاب کی زمین پر سے قبضوں کو ہٹواکرتالاب کھودے گئے۔ تالابوں کو باقی رکھنا اوران میں پانی بھرے اس کی دیکھ بھال کرنے کا کام تو مقامی لوگوں کو ہی کرنا ہوگا۔ جل ادھیکار تنظیم بھی دہلی اورآگرہ میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مستقل کام کررہی ہے۔ ریاستی و مرکزی سرکار وںنے پانی کے تحفظ کیلئے کئی طرح کی پالیسیاںبنائی ہیں لیکن جب تک پانی کے استحصال ، بے جا مداخلت اور آلودگی کو نہیں روکا جائے گا تب تک یہ پالیسیاں کارگرثابت نہیں ہوسکتیں۔ جس طرح کینسر کا علاج اس کی جڑ سے شروع کیا جاتا ہے اسی طرح آلودگی کو اس کی پیدائش کی جگہ ہی روکنا ہوگا۔ پانی کی نکاسی کی حد مقرر کی جائے اورپانی جمع کرنے کی مہم سے عوام کو جوڑا جائے، جن علاقوں کے لوگوں نے اس طرف دھیان دیا وہاں کے لوگ پانی کے بحران سے نکل گئے۔ اس بات کو سب جانتے ہیں کہ جہاں پانی نہیں وہاں زندگی نہیں، لیکن پھر بھی پانی کے مول کو نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے۔ پانی ہوگا تبھی کل ہوگا، پانی کے بغیر زندگی ہوگی یہ توکوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *