کیا گل کھلاتی ہے ٹیم نتیانند ؟

damiبی جے پی کی علاقائی قیادت ، خاص طور پر صدر نتیا نند رائے کے لئے اس مہینے کے ابتدائی دن اچھے نہیں رہے۔حالانکہ کچھ ہی دن پہلے ریاستی بی جے پی کی نئی ٹیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ امید تھی کہ نئے جوش اور نئی توانائی سے ریاست میں پارٹی کا کام نئے سرے سے پٹری پر آجائے گا لیکن پارٹی کے اندر بے اطمیانی کی ہوا چلنے لگی اور رام نومی آتے آتے سارا کچھ سطح پر آگیا ۔ ریاستی بی جے پی کی نئی ٹیم کے اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ہی دھماکہ ہونے لگا۔ عوامی طور پر پہلا بڑا دھماکہ سدھیر کمار شرما نے کیا۔ وہ پچھلی کمیٹی میں جنرل سکریٹری ( جبکہ بی جے پی مہا منتری کہنا زیادہ پسند کرتی ہے ) تھے اور کئی برسوں سے بی جے پی میں کافی اہم بنے ہوئے تھے۔تب وہ ریاست میں قیادت کے مقبول ترین فرد مانے جاتے تھے لیکن نئی کمیٹی میں اپنے (اور جیسا کہ وہ بتاتے ہیں کہ کئی اہم سماجی طبقوں ) کو نظر انداز کئے جانے سے متاثر ہوکر بے اطمینانی ظاہر کرکے سامنے آئے اور صدر پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر نتیانند رائے پارٹی نہیں، گروہ چلا رہے ہیں۔ سدھیر کمار شرما نے علاقائی کمیٹی بنانے میں اور بھی گڑ بڑی کے کئی سنگین الزام لگائے۔ اس کے دو دن بعد ہی بہار تیلیک ساہو سماج کی طرف سے سے ایم ایل سی لال بابو پرساد کو این ڈی اے کی ہی ایک خاتون ایم ایل سی سے بد سلوکی کے الزام میں بی جے پی سے معطل کر دیئے جانے کے خلاف دن بھر کے دھرنا کا انعقاد کیا گیا تھا۔ دھرنا میں لال بابو پرساد تو تھے ہی، بی جے پی کے سابق وزیر سنیل کمار پنٹو اور ایم ایل اے، سی این گپت بھی شامل ہوئے تھے۔ دھرنا کے دوران سی این گپت نے تو اتنا ہی کہا کہ وہ سماج کے ساتھ ہیں اور الال بابو پرساد کی پارٹی میں واپسی چاہتے ہیں لیکن سنیل کمار پنٹو نے بی جے پی کے ریاستی صدر پر تانا شاہی کا الزام لگایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لال بابو پرساد کی معطلی منسوخ نہ کی گئی تو پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ کا گھیرائو کیا جائے گا۔ بابو پرساد کی معطلی کو غیر قانونی بتاتے ہوئے دھرنا کی جگہ پر نتیانند رائے کا پُتلا بھی پھونکا گیا۔ ریاستی قیادت اب سخت ہوئی۔ پارٹی کے بڑے لیڈر اور بہار بی جے پی کے سابق صدر منگل پانڈے نے خبردار کیا کہ ایسا طریقہ اپنانے والوں کو پارٹی معاف نہیں کرے گی۔ اس انتباہ کے اگلے ہی دن پارٹی کے نو نامزد جنرل سکریٹری رادھا موہن شرما نے ان سبھی لیڈروں سے جواب طلب کرلیا۔ اب سچائی ثابت ہونے کے بعد ہی سدھیر کمار شرما، سنیل کمار پنٹو اور سی این گپتا کے بارے میں کوئی فیصلہ لیا جاسکے گا۔ ابھی معاملہ یہیں پر آکر رک گیا ہے۔ لیکن لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ کیایہیں رکا رہے گا ؟
اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے رہا ہے یا یوں کہیں کہ کوئی نہیں دینا چاہتا ہے،نہ قیادت سے جڑا آدمی ، نہ عدم اطمینان کا شکار گروپ۔لیکن اتنا تو طے ہے کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ سدھیر کمار شرما یا سنیل کمار پنٹو کے ساتھ۔ حالانکہ کوئی کھل کر سامنے نہیں آنا چاہتا ہے لیکن پارٹی کے نئی ریاستی کمیٹی کو لے کر تیز کھسر پھسر ہے۔ اس حالت کا فائدہ فی الحال سدھیر کمار شرما کو ملتا دکھائی دے رہا ہے۔ پارٹی عہدیداروں کے سامنے کوئی کچھ بولنا نہیں چاہتا لیکن غیر سرکاری طور پر سدھیر شرما کے الزامات سے اتفاق ظاہر کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ ریاست کی کچھ اہم اونچی برادریوں کے ہر سطح کے بی جے پی لیڈر، سینئر کارکن ان کی باتوں کی حمایت کرتے مل جائیں گے۔ایسی بات نہیں ہے کہ ایسی بے اطمینانی صرف کچھ اونچی برادریوں میں ہی ہے۔ انتہائی پسماندہ سماجی گروپوں میں بھی نظر انداز کئے جانے کا چرچا ہورہا ہے۔ بی جے پی کے علاقائی عہدیداروں اور ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کی لسٹ پارٹی کے بہار انچارج بھوپندر یادو کی رضامندی سے نتیا نند رائے نے طے کیا ہے۔ اس لسٹ سے غیر مطمئن لوگ بھی مانتے ہیں کہ اس میں سبھی اہم اور دبنگ سماجی گروپ کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ہوشیاری کے ساتھ قیادت میں ریاست کے مختلف سماجی گروپ کے موثر لوگوں کے بجائے سیاسی طور پر نامعلوم ،نئے اور کمزور لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انتخاب کے ٹھیک پہلے کمیٹی کس طرح بی جے پی کو اگلی سیاست کے لئے اہل بنائے گی۔ یہ پارٹی سے جڑے یا اس سے ہمدردی رکھنے والوں کے لئے بھی تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔ بات اتنی ہی نہیں ہے، اس سے بھی بڑی تشویش دوسری ہے۔ پارٹی کے بڑے لیڈر سرکاری طور پر اسے قبول نہیں کرتے ہیں۔لیکن غیر سرکاری طور پر وہ بھی مانتے ہیں کہ پیسے کی طاقت کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔ نئے لوگوں کو موقع دینے کے نام پیسے والوں کو پارٹی میں عہدہ اور وقار مل رہاہے۔ دیگر پارٹیوں کی طرح بی جے پی میں بھی پیسے والوں کو عام انتخابات کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا اور لیجسلیٹیواسمبلی میں امیدوار بنانے کی روایت غیر اعلانیہ طور پر برسوں سے چلی آرہی ہے لیکن اب تنظیم بھی پوسٹ دے کر انہیں اپنے حق میں کرنے کی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ سدھیر شرما نے اس سلسلہ میں دیو نارائن منڈل آنند جھا، وشو موہن چودھری جیسے کچھ نام گنائے ہیں۔ عہدیداروں کی لسٹ میں ایسے کئی نام ہیں جو بی جے پی کے کارکن تو ہیں لیکن ان کی سیاسی حیثیت کچھ خاص نہیں ہے۔ بی جے پی کے نئے حامی سماجی گرپوں کی یہ صورت حال ہے تو اس کے روایتی حامی ویشیہ برادری بھی مطمئن نہیں ہے ۔لال بابو پرساد کو پارٹی سے نکالے جانے سے یہ طبقہ مشتعل ہے ،ویشہ برادری کا ماننا ہے کہ لال بابو پرساد پر کارروائی کے پہلے پارٹی قیادت کو معاملے کی تحقیقات کرلینی چاہئے تھی۔ جب کسی نے این ڈی اے کی خاتون ایم ایل سی کے ساتھ بدسلوکی کی کوئی شکایت ہی نہیں کی تو سزا کس جرم کی؟بی جے پی سے جڑے ویشہ طبقہ کا ماننا ہے کہ پارٹی کی موجودہ قیادت نے اپنی شبیہ چمکانے کے لئے بابو کو بلی کا بکرا بنایا ہے۔ اسی لئے بی جے پی ریاستی سدر نتیانند رائے پر تاناشاہی کا الزام لگا اور اسی لئے ان کا پتلا پھونکا گیا۔
عملی طور پر دوستانہ سیاسی ماحول کے باوجود ریاست میں بی جے پی بحران کے دور میں پھنستی دکھائی دے رہی ہے۔بحران کا ایک سرا نئے سماجی گروپوں میں اپنی نئی پکڑ بنانے کا ہے تو دوسرا سرا قیادت کو ساتھ رکھتے ہوئے اس کے تجربہ سے فائدہ حاصل کرتے رہنے کا۔ ریاستی بی جے پی کے موجودہ بحران کے یہ دونوں سرے بڑے ہی اہم بن گئے ہیں۔ ریاست کی سیاست میں اپنی سبقت بنانے میں دونوں کے درمیان خوب تال میل کی ضرورت ہے۔ ایسا کر کے ہی سیاسی سرگرمی کو بامعنی سمت دیا جاسکتاہے۔ یہ کیسے ہوگا؟ اس بارے میں پٹنہ سے لے کر دہلی تک کو سوچنا ہوگا۔ سچائی تو یہ ہے کہ پارٹی قیادت کے بدلے رخ سے اس کے پرانے قدا ٓور لیڈروں کے کچھ حامی مطمئن ہیں تو کچھ دیگر غیر مطمئن۔ آشونی کمار چوبے اور ڈاکٹر پریم کمار کے لوگ اس قیادت سے مطمئن ہیں ۔وہ مانتے ہیں کہ عہدیداروں کے گروپ ہی نہیں، مورچہ اور سیل میں بھی انہیں مکمل حصہ داری ملی ہے اور اپنی سیاسی صلاحیت دکھانے کا انہیں موقع ملے گا۔ نند کیشور یادو کے حامی نہ خوش نہ ناراض کی پوزیشن میں خود کو پاتے ہیں۔ حالانکہ نند کیشور یادو کے کچھ خاص لوگ جو اپنے سماجی طبقے میں اہم ہیں،کو درکنار کر دیا گیا ، وہ بھی اشتعال جیسی صورت میں ہی ہیں لیکن وہ اس صورت حال کو سیاست کا ایک متضاد دور مان کر اسے قبول کرر ہے ہیں۔ یہ بھی گزر جائے گا کے طرز پر خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں ۔لیکن سب سے زیادہ متاثر اور مشتعل بہار میں بی جے پی کے سب سے قداآور لیڈر سشیل کمار مودی کے حامی ہیں۔ سشیل کمار مودی پچھلے دو دہائی سے بہار میں پارٹی کے سب سے موثر چہرہ رہے ہیں اور ان کے کھاتے میں کئی کامیابیاں ہیں جس سے بی جے پی فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ ان کی سیاست کے سبب نئے سماجی شعبے میں بی جے پی کی توسیع ہوئی ہے اور اسی لئے لیڈروں ،کارکنوں کو منظم کرنے میں انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اب درکنار ہورہے ہیں تو ان کا مایوس ہونا بھی فطری ہے۔ ڈش پلیس منٹ کا درد ہے یہ۔ سدھیر کمار شرما ہوں یا سنیل کمار پنٹو یا لال بابو پرساد ، سبھی سشیل کمار مودی کے خاص رہے ہیں۔ سشیل کمار مودی بی جے پی کے کچھ انتہائی وفادار لوگوں میں سے ہیں اور اسی لئے یہ ماننا غلط ہوگا کہ ان مشتعل لوگوں کے طریقہ کار کو ان کی رضامندی حاصل ہوگی۔ لیکن اس فرنٹ پر ان کی خاموشی کچھ سوالات تو پیدا کرتی ہی ہے۔ انہوں نے اپنے لیک آف بورڈ کے ان ستاروں کے ایسے طریقہ کار کی تنقید بھی تو نہیں کی۔
بی جے پی کی قومی قیادت کے لئے اترپردیش کا اسمبلی الیکشن سب سے بڑی سیاسی مصروفیت تھا۔ وہاں کامیابی کے بعد وہ اب 2019 کے پارلیمانی انتخابات کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر اورزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ اس کام کی کمان سنبھال چکے ہیں۔ مرکزی وزراء ، اراکین پارلیمنٹ ،علاقائی قیادت کو ٹاسک دیئے جارہے ہیں۔ پارٹی کو گائوں ہی نہیں، گھر گھر پہنچانے، پارٹی کی توسیع اور اس کی عام مقبولیت کی سطح کو بڑھانے کے ہر بندوبست کئے جارہے ہیں۔ نئے سماجی گروپ ، خاص طور پر دلت، انتہائی پسماندہ اور دیگر محروم طبقوں میں پارٹی کی مضبوط پکڑ بنانے کے خیال سے نئے نئے پروگرام کئے جارہے ہیں۔ مرکزی سرکار کی حصولیابیوں اور غریبوں کو راحت دینے کی اس کی اسکیم اور منصوبوں کی تشہیر کرنے کی پالیسی تیار کی جارہی ہے۔ یہ سارا کچھ بہار میں بھی ہونا ہے۔ بہار کو چھوڑ کر پوری ہندی پٹی پر پارٹی قبضہ کرچکی ہے۔ ایسے میں یہاں پارٹی کا اتحاد سب سے زیادہ ضروری ہے لیکن حال کے واقعات منفی پیغام دے رہے ہیں۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ بغاوت پارٹی کے دروازے پر آگئی ہے لیکن ریاستی اکائی میں عدم اطمینان کے آثار تو ہیں۔ بی جے پی قیادت کے لئے اس سے بھی بڑی تشویش یہ ہے کہ یہ عدم اطمینان پارٹی میں پھیل رہا ہے۔ ریاستی قیادت کے ساتھ ساتھ مرکزی قیادت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کن وجوہات سے ایسا ہو رہاہے لیکن ابھی تو بہار میں موسم گرم ہے اور دیکھنا ہے کہ بی جے پی اس پر کیسے قابو پاتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *