کیا نئی کروٹ لے گی مسلم سیاست ؟

damiیوپی انتخابی نتائج کے بعد بہار کی راجدھانی پٹنہ میںسیکولر سوچ رکھنے والے دو غیر سیاسی گروپوں کی الگ الگ میٹنگیںہوئیں۔ ان دونوں میٹنگوںمیں سے ایک خالص مسلم دانشوروںاور سماجی کارکنوں کی تھی، تو دوسری میٹنگ میں ہندو،مسلم اور عیسائی تینوں مذاہب کے دانشور۔ ان دونوں میٹنگوںمیں آئے خیالات پر باری باری سے غوروفکر کریں تو یوپی انتخابات کے بہار پر پڑنے والے اثرات کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اور یہ جانا جاسکتا ہے کہ یوپی میں بی جے پی کی تاریخی جیت کے بعد بہار کے لوگوں کی سیاسی سوچ، ان کا شعور اور مستقبل کے منصبوبوں کے ممکنہ حالات کیا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے آئیے ان دو میٹنگوں میں ابھرے خیالات پر غور کرتے ہیں۔
پہلے مسلم دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی میٹنگ پر غور کرتے ہیں۔ ا س میٹنگ میں سماجی کارکن، صحافی، پروفیشنلس، کاروباری گویا ہر طرح کے لوگ جمع تھے۔ ان میں کچھ مؤثر چہرے تھے تو کچھ زمین پر کام کرنے والے محنتی لوگ بھی۔ اس میٹنگ کی خاص بات یہ تھی کہ اس انعقاد سے میڈیا کو دور رکھا گیا تھا۔ میٹنگ میںاس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یوپی میںفرقہ پرست طاقتیں توقع سے زیادہ مضبوط ہوئی ہیں۔
سیکولرزم کو مضبوط کرنے جیسے مدعے پر چرچا آگے بڑھی تو میٹنگ میںلوگوں کی دو طرح کی رائے سامنے آئیں۔ پہلی رائے یہ تھی کہ بہار میں 2015 کے اسمبلی انتخابات میںمسلمانوں نے جو ٹیکٹیکل ووٹنگ کی تھی اور جس طرح سے مہا گٹھ بندھن کو جتایا تھا، وہ ایک سیدھا طریقہ تھا۔ اس طریقے کو آگے بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسری رائے پہلے سے ایک دم مختلف تھی۔ کچھ نوجوان اور جوشیلے دانشوروںکی دلیل تھی کہ سیکولرزم کے نام پر مسلمان جن سیاسی گروپوں کو ووٹ کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کی طاقت سے اقتدار میں چلے جاتے ہیں، لیکن قیادت کی سطح پر مسلمانوں کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ۔ یہ صورت حال 70 سال سے ہے۔
یہی سبب ہے کہ پچھلے 70 سالوں میںبہار میں مسلم لیڈر شپ کی بالکل ترقی نہیں ہوئی۔ مسلم محض اور محض ووٹر یا ووٹ بینک بنے رہ گئے۔ اقتدار میںآنے والی پارٹیاں مسلمانوں کو وزیر تو بنا دیتی ہیں لیکن انھیں لیڈر نہیںبننے دیتیں۔ لہٰذا دوسری رائے پیش کرنے والوںکی دلیل تھی کہ مسلمانوں کو اپنی سیاست کرنی ہے تو قیادت بھی اپنی تیار کرنی پڑے گی۔ سیکولرزم کے مبینہ علمبرداروں کے چنگل سے مسلمانوں کو نکالنا پڑے گا۔ انھیں یہ احساس دلانا پڑے گا کہ ان کے ووٹ میں غضب کی طاقت ہے۔ اس لیے انھیںووٹر ہی نہیں بنے رہنا ہے، بلکہ لیڈر بھی بننا ہے۔ اگر مسلمانوں کے سیاسی برتاؤ میںیہ تبدیلی لائی جاسکے تو مسلم قیادت اتنی طاقتور ہوسکے گی جتنے مضبوط بہار میںلالو پرساد ہیں۔ دلیل یہ بھی تھی کہ آخر 12فیصد سے کم آبادی والے یادووں کے اتحاد سے لالو جیسے طاقتور لیڈر ابھر سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ 17 فیصد آبادی والے مسلمانوں کے اتحاد سے کوئی مسلم رہبر نہیں ابھر سکتا؟
اس خیال کو پیش کرنے والے دانشوروںکا سیاسی نقطہ نظر اس روایتی نقطہ نظر سے بالکل الگ ہے جو اسد الدین اویسی برانڈ سیاست کا حامی رہا ہے۔ حیدرآباد کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسد الدین اویسی کی سیاست مذہبی جذبات کو بھڑکانے والی سیاست کے طور پر مانی جاتی ہے جبکہ اس میٹنگ کے دانشوروں کا واضح طور پر ماننا ہے کہ سیاسی قیادت تو مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، لیکن سیاست کا مرکزی نقطہ پوری طرح سے سیکولر ہو۔ آسام میںبدرالدین اجمل کی قیادت والا آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (آئی یو ڈی ایف ) گزشتہ ایک دہائی میںایک مضبوط سیاسی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی سیاست سیکولرزم کے اصولوں پر مبنی ہے۔ آسام میں پچھلے اسمبلی انتخابات میں حالانکہ اجمل کی پارٹی سکڑکر دہائی کے آنکڑے کو نہیں چھو سکی لیکن اس سے پہلے اسمبلی انتخابات میں وہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔ لہٰذا اس میٹنگ کے دانشوروں کی دلیل تھی کہ بہار میں بھی اگر مسلم قیادت والی ایسی سیاست جب ابھرے گی تو سیکولر سیات کرنے والی پارٹیوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر گٹھ بندھن کیا جاسکتا ہے۔ اور لالو و نتیش جیسے لیڈروں کی مجبوری ہوگی کہ وہ ان سے گٹھ بندھن کریں۔
یاد رکھنے کی بات ہے کہ بہار میں 2015 کے الیکشن میںاویسی کی سخت گیر سیاسی پہچان کے سبب کوئی بھی پارٹی ان سے گٹھ بندھن کو تیار نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ کشن گنج ضلع کے 80 فیصد سے زیادہ آبادی والے اسمبلی حلقہ سے خود اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان بھی ہار گئے تھے جبکہ وہاں سے جے ڈی یو کے ہی مسلم امیدوار کی جیت ہوئی تھی۔ اترپردیش کے حالیہ انتخابات میںبھی پورے اتر پردیش میںمسلمانوںنے اویسی کی پارٹی کو مسترد کردیا۔
اب آئیے یوپی الیکشن کے بعد بہار میں جو دوسرا منتھن ہوا، اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اس منتھن کیمپ میںسماجی کارکن دیواکر،ستیہ نارائن مدن، عیسائی مشنری سے جڑے فادر منتھرا، صحافی سرور احمد، محمد زاہد، کنچن بالا، مہندر سمن جیسے تقریباً تین درجن دانشور موجود تھے۔ سب کی تشویش فطری طور پر یوپی میںفرقہ پرست طاقتوں کے مضبوط ہونے کو لے کرتھی۔
اس میٹنگ میں بات چیت سے ابھرے مدعوں کا خلاصہ یہ تھا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بہار کی سیکولر طاقتوں کو متحد کرنا اور گاؤں گاؤں میں سیکولر قدروں کی تشہیر و توسیع کے ساتھ نوجوانوں کو تربیت دینے کی تیاری کرنا ہے۔ اس میٹنگ میں بھی لگ بھگ سارے لوگ غیر سیاسی تھے اور ان کی رائے تھی کہ بہار نے جو مظاہرہ 2015 کے اسمبلی الیکشن میںکیا ہے ، اسے آگے بھی بنائے رکھنے کے لیے کام کرنا ہے۔
اب ان دو میٹنگوںسے یہ بات واضح ہے کہ یوپی الیکشن میںبہار میںغیر بی جے پی سیاسی کلچر کے خلاف ایک مضبوط تیاری کے لیے کام کرنا ان کی ترجیح ہے۔ لیکن ان میٹنگوںسے واضح ہے کہ بہار میںیوپی کے انتخابی نتائج کا وسیع اثر عام لوگوںکے دل و دماغ میںبیٹھا ہے۔ ادھر فطری طور پر بی جے پی خیمے میں جوش ہے۔ اس کی دو مثالیں یہی ہیں کہ یوپی انتخابی نتائج کے دن بہار میں بی جے پی کے کارکنوںنے جشن منایا اور دوسرا جشن تب منایا گیا جب آدتیہ ناتھ یوگی نے یوپی کے وزیر اعلیٰ کی کمان سنبھال لی۔ ادھر بہار بی جے پی کے لیڈروں کے لگاتار آرہے بیانوںمیںاس بات کا ذکر کیا جانا کہ اب بہار کی باری ہے، یہ سوچنے کے لیے کافی ہے کہ بی جے پی کی جیت سے اس کا حوصلہ کافی بڑھا ہے۔
یہاں یہ کہنا مشکل ہے کہ مسلمانوں اور سیکولر سوچ رکھنے والے دانشوروں کے منتھن کے بعد ان کے خیالات کو عملی بنانے میں کتنی پہل قدمی کی جائے گی لیکن اتنا تو طے ہے کہ یوپی الیکشن کے بعد بہار کی تینوں بڑی غیر بی جے پی پارٹیوں کے کان ضرور کھڑے ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر تب جب یوپی میں غیر جاٹو او رغیر یادووں کے بی جے پی کی طرف شفٹ ہونے سے لالو پرساداد اور نتیش کمار کے لیے چیلنجز بڑھیں گے، اس میں دو رائے نہیں ہے۔ حالانکہ یوپی الیکشن کو لے کر آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس کے لیے خوشگوار حالت یہ ہے کہ اترپردیش کے برعکس بہار میںغیر بی جے پی پارٹیوںکا گٹھ بندھن مضبوط ہے۔ وہاںمایاوتی کے الگ الیکشن لڑنے کے سبب ایس پی، کانگریس اور بی ایس پی کے لیے ہار کاسبب بنا تھا۔ لالو اور نتیش اس دلیل کو اپنے لیے مثبت مان سکتے ہیں کہ یوپی میں ایس پی، بی ایس پی او رکانگریس کا ووٹ فیصد بی جے پی سے زیادہ تھا۔ اس لیے فطری طور پر بہار کی سیکولر آئیڈیا لوجی کی سیاست کرنے والی پارٹیوںکے لیے ایک سبق یہ ہے کہ آنے والے الیکشن میں اپنے گٹھ بندھن کو اور مضبوط کریں۔
جہاںتک یوپی کے مسلمانوںکے ووٹنگ پیٹرن کی بات ہے تو اعداد و شمار کو دیکھنے سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم ایس پی – کانگریس اور بی ایس پی کے بیچ خوب ہوئی۔ یوپی میں 19.9 مسلم ووٹر ہیں۔ اور اس طرح دیکھیں تو ایس پی کی بھاری ہار کے بعد بھی اس کے کل چنے گئے 47 اراکین اسمبلی میں18 مسلمان ہیں جو کل نمائندگی کا 38.3 فیصد ہوتا ہے۔ ایس پی کی تاریخ میںمسلم اراکین اسمبلی کی یہ ریکارڈ نمائندگی ہے۔ اسی طرح بی ایس پی کے کل جیتے 19 اراکین اسمبلی میں 5 مسلم ہیں جو فیصد کے لحاظ سے 26 سے زیادہ ہے۔ بی ایس پی کے لیے بھی مسلم اراکین اسمبلی کا یہ فیصد اب تک کا سب سے زیادہ ہے۔ وہیں اویسی کی پارٹی کا ایک امیدوار کا نہ جیتنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانوں نے انھیں وہاں بھی مسترد کردیا جہاں مسلمانوںکی آبادی 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے اور انتخابی مہم کے دوران بڑی بھیڑ وہاں بھی ان کی میٹنگوں میںآیاکرتی تھی۔
یو پی میںمسلمانوںکا ووٹنگ پیٹرن بھی بہار کی سیکولر سماجوادی سیاست کے لیڈروں کے لیے ایک مصیبت ہے جو بتاتا ہے کہ بہار میں بی جے پی سے ٹکر لینے کے لیے یہ لازمی ہے کہ غیر بی جے پی پارٹیوں کا گٹھ بندھن بنا اور بچا رہے۔ چونکہ ابھی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں دو سال کا وقت ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاست کئی کروٹیں لے گی۔ کئی اتار چڑھاؤ آئیں گے۔ ہم نے اوپر مسلمانوں کی میٹنگ کا ذکر کیا ہے۔ اس میٹنگ میں ابھر کر سامنے آنے والے خیالات پر اگر پھر سے غور کریں تو یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوںمیں مسلمانوں کی متبادل قیادت اپنی مضبوطی کے لیے جدوجہد کرسکتی ہے۔
اس کے لیے یہ آسام کے بدرالدین اجمل کی سیاست کی تقلید کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے لیے بدرالدین اجمل کے اے آئی یو ڈی ایف سے رابطہ کیا جائے۔ ویسے بہار الیکشن پر نظر رکھنے والوںکو یاد ہوگا کہ اشفاق رحمان کی قیادت والے جنتا دل راشٹروادی (جے ڈی آر) نے 2015 میں اپنے چالیس امیدوار میدان میںاتارے تھے۔ جے ڈی آر اپنی سیاست اور اپنی قیادت کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتراتھا۔ اس نعرے نے حالانکہ تب مسلمانوںکو متوجہ کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی لیکن ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میںبہار کے مسلمان اس نعرے سے متاثر ہوں اور اپنے لیے سیاست میںایک نئی راہ بنانے کی کوشش کریں۔ ایسے حالات میںسیکولر پارٹیوںکے لیے ایک نیا چیلنج بھی سامنے آسکتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *