کیا سرکاری انٹرپرائزز کے آخری دن آگئے؟

damiایچ ایل دوسادھ
اپریل کے پہلے ہفتہ میں کئی اخباروں میںشائع خبروں کے مطابق مودی سرکار کی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے نیتی آیوگ نے 12 اور پبلک انڈرٹیکنگز کے اسٹریٹجک ڈس انوسٹمنٹ کی سفاررش کی ہے۔ آیوگ نے اس سلسلے میں حال ہی میںیک رپورٹ سرکار کو سونپی ہے۔ اس سے پہلے آیوگ 15 پبلک انڈرٹیکنگز اور دو پی ایس یو کی چار اکائیوںکے اسٹریٹجک ڈس انوسٹمنٹ کی سفارش کرچکا ہے۔ اس بیچ نیتی آیوگ نے خسارے میںچل رہے جن پی ایس یو کو بند کرنے کی سفارش کی تھی، ان میں سے سات اور پی ایس یو کو وزیر اعظم کے دفتر نے بند کرنے کی ہری جھنڈی دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2016-17 میں نیتی آیوگ کل 31 پبلک انڈرٹیکنگز اور اکائیوں کی اسٹریٹجک سیل کرنے کی سفارش کرچکا ہے۔ اصل میں ارون جیٹلی نے 2016-17 کے بجٹ خطاب میں نیتی آیوگ کو ڈس انوسٹمنٹ اور اسٹریٹجک سیل کے لیے پبلک انڈرٹیکنگز کی پہچان کرنے کو کہا تھا ۔ آیوگ نے گزشتہ مالی سال میں سیل کے علاوہ 26 ایسے پی ایس یو کو بند کرنے کی سفارش کی جو خسارے میں چل رہے ہیں۔ ان میں سے آٹھ پی ایس یو کو بند کرنے کی تجویز کو کابینہ منظوری دے چکی ہے جبکہ سات اور پی ایس یو کو بند کرنے کی ہری جھنڈی وزیر اعظم کے دفتر نے دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ مال سال 2016-17 اصلاحات کے نقطہ نظر سے اس لیے خاص رہا کہ سرکار نے خسارے میں چل رہے پبلک انڈرٹیکنگز کو بند کرنے اور کئی پبلک انڈرٹیکنگز کو اسٹریٹجک سیل کی سمت میں ٹھوس قدم اٹھایا۔ بہر حال جس طرح حالیہ اسمبلی انتخابات کے ذریعہ مودی سرکار او رمضبوط ہوئی ہے، اس سے آنے والے مالی سال اصلاحات کے لحاظ سے خاص سے خاص بنتے جانے کے لیے مجبور ہوں گے۔
اصل مقصد
دراصل اگست 1990 میں منڈل کی سفارشوںکے خلاف سومناتھ سے اجودھیا یاترا کے ذریعہ بی جے پی نے پالیٹکلانٹرپرائز چلاتے ہوئے جو طاقت جمع کی ہے، اس کا کلچرل نیشنلزم ، پرائم ٹارگٹ ریزرویشن کو کاغذات تک سمیٹنا ہے۔ ایسا اس لیے کہ جس کمیونٹی کے مفاد کو دھیان میںرکھ کر بی جے پی سیاست کرتی آئی ہے،اس کا 80-85 فیصد غلبہ سرکاری نوکریوںکو چھوڑ کر اقتصادی، سیاسی، مذہبی ثقافت، تعلیم وغیرہ سبھی شعبوں میں ہے۔ سرکاری نوکریوںکے شعبہ میںبھی اس کی حالت زیادہ خراب نہیںتھی لیکن منڈل کی سفارشوں نے فرق ڈالا، اس لیے اسے رام جنم بھومی مکتی آندولن کی سمت میںآگے بڑھنا پڑا، جس کے نتیجہ میںبے شمار لوگوںکی جان اور ہزاروںکروڑ کی املاک کا نقصان ہوا۔ بہرحال ا س تحریک کے ذریعہ سودیشی کے حمایتی اٹل جی اقتدار میں آئے۔ اقتدار میںآنے کے بعد انھوںنے لوگوں کو حیران کرتے ہوئے نہ صرف نرسمہا راؤ کی اس اقتصادی پالیسی کو، جو خاص طور سے ریزرویشن کو کاغذوںتک سمیٹے رکھنے کے ارادے سے منظور کی گئی تھی اور جس کا سنگھ پریوار دتّوپنت ٹھینگڑی کی قیادت میں شدید مخالفت کرتا رہا،حوصلہ کے ساتھ پسند کیابلکہ باقاعدہ منسٹری آف ڈس انوسٹمنٹ کھول کر منافع والے گورنمنٹ انٹرپرائزز تک کو اونے پونے داموں میں بیچنے کی زبردست پہل شروع کی۔
اس کے لیے انھوںنے لوگوں کو چونکاتے ہوئے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ منسٹری آف ڈس انوسٹمنٹ تشکیل کی بلکہ اس کی ذمہ داری امبیڈکر مخالف ارون شوری کو سونپی جو اپنی تخلیق ’ورشپنگ فالس گاڈ‘ سے دلتوںسے ملی توہین کا بدلہ لینے کے لیے موقع کی تلاش میںتھے۔ شوری نے اٹل جی کو مایوس نہیںکیا۔ حکومت اور اپوزیشن کی بھاری مخالفت کے باوجود انھوںنے بالکو جیسے کئی منافع بخش سرکاری انٹرپرائزز کو ٹھکانے لگا کر اپنی قابلیت کا ثبوت دے دیا تھا۔ بہرحال ریزرویشن کو کاغذوں تک سمیٹنے کے لیے اٹل جی نے ڈس انوسٹمنٹ کا جو سلسلہ شروع کیا، اسے آگے بڑھانے میںوزیر اعظم نریندر مودی نے کوئی کمی نہیںکی۔ بلکہ جس طرح وزیر اعظم مودی نے سیکورٹی تک سے جڑے انٹرپرائزز میں100 فیصد ایف ڈی آئی لاگو کرنے کا حوصلہ دکھایا، اس سے وہ اپنی مادری تنظیم کا ہدف پورا کرنے میںاٹل جی سے بہت آگے نکل گئے۔ لیکن اٹل اور مودی زمانے میںکچھ فرق ہے۔ اٹل جی ڈس انوسٹمنٹ منسٹری تشکیل کرنے اور شوری جیسے تیز طرار شخص کو اس کا چارج سونپنے کے باوجود آرام کے ساتھ ڈس انوسٹمنٹ کی گاڑی آگے نہ بڑھا سکے۔ انھیں اپنے این ڈی اے کے ساتھیوںکی مخالفت کا وقتاً فوقتاً سامنا کرناپڑا، جس کی سب سے بڑی مثال ستمبر 2002 میں قائم ہوئی تھی۔
فرنانڈیز کا مطالبہ
یکم ستمبر 2002 کو دوبارہ سمتا پارٹی کا صدر بنتے ہی اٹل بہاری واجپئی کابینہ میں تیسرے نمبر کی حیثیت رکھنے والے جارج فرنانڈیز نے این ڈی اے سرکار کی لیبر اینڈ انوسٹمنٹ پالیسی کا وسط مدتی جائزہ لینے کی مانگ کی اور ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم جیسی انتہائی منافع بخش سرکاری کمپنیوں کے ڈس انوسٹمنٹ کی مخالفت کرکے واجپئی سرکار کو سکتہ میںڈال دیا تھا۔ ان کے رخ کو دیکھتے ہوئے تب واجپئی سرکار میںدو نمبر کی حیثیت رکھنے والے ایل کے اڈوانی نے ان سے 5 ستمبر کو ملاقات کی، جس پر پورے ملک کی نگاہیںٹکی ہوئی تھیں۔ لیکن ڈس انوسٹمنٹ کے ایشو پر آئیڈیل رخ اختیار کیے ہوئے وزیر دفاع جارج کو سمجھانے میںاڈوانی کامیاب نہ ہوسکے۔ایسے میں6 ستمبر کو تیل کمپنیوںکے ڈس انوسٹمنٹ کو ملک مفاد مخالف قرار دیتے ہوئے سنگھ اور اس کی چائلڈ آرگنائزیشنز نے سرکار کے خلاف مخالفت کا جھنڈا بلند کردیا۔ اس دن سنگھ کے ترجمان منموہن ویدیہ نے پریس کانفرنس کرکے یہ بیان دے ڈالا تھا، ’وزیر دفاع جارج فرنانڈیز تیل کے شعبہ میںڈس انوسٹمنٹ کی جو مخالفت کررہے ہیں دراصل وہ سنگھ کا پرانا تصور ہے، جس سے وہ اتفاق کرتے ہیں‘۔ اگلے دن 7 ستمبرکو وزیر اعظم ہاؤس پر میٹنگ ہوئی لیکن وزیر دفاع جارج فرنانڈیز ، پیٹرولیم کے وزیر رام نائیک اور ڈس انوسٹمنٹ کے وزیر ارون شوری کے بیچ اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم کے ڈس انوسٹمنٹ کا معاملہ ٹال دیا گیاتھا۔ اس کے ساتھ ہی انڈین آئل کارپوریشن، او این جی سی ، گیل وغیر کے ڈس انویسٹمنٹ سے متعلق تجویز بھی ٹال دی گئی تھی۔
7 ستمبر کی میٹنگ کے بعد جارج فرنانڈیز ، رام نائیک، اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی اور دوسرے سنگھیوں میں ڈس انوسٹمنٹ کی مخالفت کا کمپٹیشن اور تیز ہوتا، اسی درمیان اپنے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے تحت این ڈی اے کے دو اہم اتحادیوں بیجو جنتا دل او رسمتا پارٹی نے نالکو کی نجکاری کی مخالفت میں 19 ستمبر کو اوڈیشہ میںریاست گیر بند کیا، جس میں غیر بی جے پی جماعتوںسے متعلقہ ٹریڈ یونینوں ایچ ایم ایس، اے آئی ٹی یو سی ، آئی این ٹی یو سی، اے آئی سی سی ٹی یو، یوٹی یو سی نے حصہ لیا۔ اسے دیکھتے ہوئے اوڈیشہ بند کے اگلے دن یعنی 20 ستمبر کو سنگھ کی حمایت والے ’سودیشی جاگرن منچ‘ کے کنوینر پی مرلی دھرراؤ، ’بھارتیہ مزدور سنگھ ‘ کے صدر ہنس مکھ بھائی دوے اور ’بھارتیہ کسان سنگھ‘ کے صدر کنور جی بھائی جادھو نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرکے 25 ستمبر سے 2 اکتوبر تک ڈس انوسٹمنٹ کی مخالفت میں ملک گیر عوامی تحریک چھیڑنے کا اعلان کردیا۔ اس پریس کانفرنس میںپچھلے گیارہ سال سے جاری گلوبلائزیشن کے خراب اثرات کو گنواتے ہوئے کہا گیا تھا، ’ جو غلطی نرسمہا راؤ سرکار نے کی ، وہی غلطی واجپئی سرکار کررہی ہے۔‘ بہرحال سنگھ کی حامی تینوںتنظیموںنے اپنے اعلان کے مطابق 25 ستمبر سے 2 اکتوبر تک دھرنا پردرشن کیا۔ ملک بھر میں28 ریلیاں نکالی گئیں۔ خیریکم ستمبر سے شروع ہوکر 2 اکتوبر 2002 کو تُنگ پر پہنچی ڈس انوسٹمنٹ مخالفت اٹل جی اپنے جانے پہچانے انداز میںجھیلتے رہے لیکن 5 اکتوبر کو دسویں پانچ سالہ منصوبہ پر عمل درآمد کے لیے ڈس انوسٹمنٹ کے ذریعہ 78000 کروڑ جمع کرنے کے مسودہ کو منطوری دے کر بتا دیا تھا کہ پبلک انڈر ٹیکنگز کو بیچنے کا ارادہ اٹل ہے۔
بی جے پی کا یوٹرن
بہرحال یہ سچ ہے کہ سنگھ پریوار نرسمہاراؤ کی جن پالیسیوں کی مخالفت کرتا رہا،اقتدار میںآنے کے بعد اٹل بہاری واجپئی نے ان ہی پالیسیوںکو آگے بڑھانے میںراؤ سے بھی زیادہ مستعدی دکھائی، جس میں ڈس انوسٹمنٹ بھی ہے۔ لیکن راؤ کو بونا بنانے میںانھیں قدم قدم پر خود سنگھ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسا اس لیے ہوا تھا کیونکہ اس وقت اپوزیشن مضبوط تھا اور خود اٹل جی کی سرکار دوسرے ساتھیوں پر منحصر تھی جو اپنی شبیہ بنائے رکھنے کے لیے رہ رہ کر آنکھیں دکھاتے رہتے تھے۔ ان کو دیکھتے ہوئے سنگھ پریوار خود اٹل جی کی پالیسیوںکی مخالفت کرنے میںان سے آگے نکلنے کا دکھاوا کرتا رہتا تھا۔ لیکن2014 میںمودی کی تاریخی کامیابی کے بعد بی جے پی کی دوست جماعتوں پر سے انحصار ختم ہوگیا اور اپوزیشن بھی کمزور پڑ گیا۔اس کے ساتھ سرکار کے خلاف سنگھ کی مخالفت بھی کم ہوتی گئی۔ لیکن اب جبکہ مارچ میںہوئے انتخابات کے بعد مودی سرکار اور مضبوط ہوئی اور اگلے کچھ مہینوںمیں راجیہ سبھا میںبھی افرادی قوت کافی ہوجائے گی، پھر سنگھ کو بی جے پی سرکار کی مخالفت کا رتی بھر بھی دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیںرہے گی۔ ایسے میں بی جے پی ڈس انوسٹمنٹ کے باب کو بہت تیزی سے مکمل کرنے کی سمت میں آگے بڑھے گی۔ اس کی مینٹل پریزینٹیشن ریزروڈ طبقوںکو لے لینی چاہیے۔ یاد رہے سوشل میڈیا میںآئی کچھ خبروںکے مطابق گزشتہ تین سالوں میں مرکزی سرکار کی نوکریوں میں 90 فیصد کٹوتی ہوئی لیکن سنگھ پریوار کی طرف سے مخالفت کی آواز ذرا بھی تیز نہیں ہوئی۔
(قلم کار بہوجن ڈائیورسٹی مشن کے قومی صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *