کیااجیت ڈوبھال کشمیر جارہے ہیں؟

SATOSH-SIRایک ذہنیت بن گئی ہے کہ ہماراپورا ملک ، پورے ملک کا مطلب کشمیر کے علاوہ ملک کے لوگ اور میڈیا، کشمیر کو شاید دل سے نہیں مانتے۔ ہم دعوے ضرور کرتے ہیں کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، لیکن ہم کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ شاید دل سے نہیںمانتے۔ زمین کو اپنا مانتے ہوں،لیکن لوگوںکو تو ہم بالکل نہیں مانتے، کیونکہ کامیابی کے ساتھ پورے ہندوستان میںیہ ماحول بنا دیا گیا ہے کہ کشمیر کا رہنے والا کوئی بھی آدمی ہندوستان سے پیار نہیں کرتا۔ اس کی وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے او رشاید اسی ایک لائن کو دھیان میںرکھ کر ہمارے سارے منصوبے بنتے ہیں۔
اسی لیے کشمیر کا کوئی بھی واقعہ ملک کے میڈیامیں، پارلیمنٹ میںیا ملک کے لوگوںمیںکوئی جگہ نہیںپاتا۔ صرف وہی واقعات چھوٹی سی جگہ پاتے ہیں، جہاں پر پولیس یا فوج سے مڈبھیڑ میںبڑی تعداد میںلوگوںکی موت ہوتی ہے اور جو موتیںہوتی ہیں یا جن کی موتیں ہوتی ہیں، انھیںایک لائن میں دہشت گرد، علیحدگی پسند یا پاکستان کا حامی ڈکلیئر کردیا جاتا ہے۔
دوبارہ پتھر بازی شروع کیوں ہوئی
کشمیر میں کتنے اسکول ہیں، کتنے کالج ہیں، کشمیر میںروزگار کی صورت حال کیا ہے، کشمیر میںترقی کی صورت حال کیا ہے،جسے پہلے دنیا کی جنت کہتے تھے، اب کیسے دنیا کے دوزخ میںتبدیل ہوتا جارہاہے، یہ سب موضوع میڈیا کے نہیںہیں۔ لیکن جب روز صبح ہم کشمیر کے اخباروںکی سرخیاں نیٹ کے اوپر دیکھتے ہیں،جن میں گریٹر کشمیر اور رائزنگ کشمیر شامل ہیں،تو پتہ چلتا ہے کہ کشمیر کا ماحول کیا ہے اور وہاں پر کن کن سوالوںکو دبی زبان سے ہی ، لیکن لگاتار اٹھایا جارہا ہے۔ ہم ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ کشمیر میں سی آر پی ایف کو نئی پیلیٹ گن اور پیلیٹس مہیاکیوں کرائے گئے ہیں؟ ہمارے فوجی سربراہ نے کمان سنبھالتے ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اب پتھر چلانے والوں پر پیلیٹ نہیں بلیٹ چلے گی۔ ان اسباب کی تلاش گزشتہ چھ مہینے میں نہیںکی گئی کہ کن وجوہات سے پتھر بازیاںہوتی ہیں، اور نہ ان وجوہات کی تلاش کی گئی کہ کیوں اب پھر سے پتھر بازی شروع ہوگئی۔ بلکہ ایک چینل نے اسٹنگ آپریشن د کھایا، جس میں ایسا کہتے ہوئے کچھ لوگوںکو دکھایا کہ انھیں 10 سے 15 ہزار روپے مہینے کی آمدنی پتھر چلانے کے عوض میںہوجاتی ہے اور وہ کہیںبھی جاکر پتھر چلا سکتے ہیں۔ اب یہ کمال کی چیز ہے کہ ہماری ساری ایجنسیوںاور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ہیڈ کوارٹر سری نگر میں ہیں، لیکن آج تک کے رپورٹر پتھر بازوں کے پاس پہنچ گئے لیکن پولیس، انٹیلی جنس، آئی بی یا دوسری خفیہ ایجنسیاںان پتھر بازوںکے پاس نہیںپہنچ پائیں۔ تاکہ وہ انھیں پکـڑ کر ملک کے عوام کے سامنے کھڑا کرتیں اور اس بات کا خلاصہ کرتیں کہ انھیںپیسے پاکستان سے ہی مل رہے ہیں۔ اس کا مطلب کشمیر کا پورا سسٹم ایک اخبار کے رپورٹر سے زیادہ کمزور اور بونا ہے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ وہ شخص، جسے ایک چینل کے اسٹنگ آپریشن میںپتھر باز کہہ کر دکھایا گیا، وہ کھلے عام سری نگر میںگھوم رہا ہے ، بارہمولہ میں گھوم رہا ہے۔ اس کاایک ویڈیو وائرل ہوا ہے، جس میںوہ کہہ رہا ہے کہ میںنے یہ سب کہا ہی نہیںتھا۔ میںنے ایک حوالہ میںیہ بات کہی تھی، جس کو کاٹ کر انھوںنے مجھے پتھر باز بنا کر پیسہ لینے والا ڈکلیئر کردیا۔ وہ آزادی سے کیوں گھوم رہا ہے؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسی کچھ لوگوں کو دھیرے دھیرے بڑا بناتی ہیں،جیسے وانی کو بنایا گیا تھا اور پھر اس کا انکاؤنٹر کردیتی ہے۔ کیا یہ نیا معاملہ کشمیر میںواقعہ کو دوہرانے کا مرکز بننے والا ہے؟
پچھلے پانچ مہینے گزر گئے او رسرکار نے یہ وقت گنواد یا ۔ وہ کشمیر میں بات چیت شروع کرسکتی تھی۔ لوگوںکو اپنے حق میںلانے کے لیے نئے قدم اٹھا سکتی تھی۔ سنجیدگی کے ساتھ پچھلی سرکاروں سے الگ نئے نظریہ سے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی پہل کرسکتی تھی،لیکن اس نے یہ سب نہیںکیا۔ دراصل کشمیر کے بارے میںمرکزی سرکار کا ماننا ہے کہ ریاست کی اپنی ایک ڈاکٹرین ہوتی ہے او ر سرکار کو اسی کے حساب سے چلنا ہوتا ہے۔ سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا جب قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے کشمیر سے آنے کے بعد ملے تھے، تو اجیت ڈوبھال نے ان سے یہی کہا تھا کہ سرکار کا اپنا ایک نظریہ ہوتا ہے، سرکار کی اپنی ایک پالیسی ہوتی ہے ،جس کی انھوںنے ڈاکٹرین لفظ سے وضاحت کی اور کہا تھا کہ اس سے الگ سرکار کیسے جاسکتی ہے۔
ڈوبھال کے کشمیر کا گورنر بننے کا مطلب
اب اسی کشمیر میںہماری جانکاری کے مطابق شری اجیت ڈوبھال گورنر بن کر جارہے ہیں۔ ان کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر کی ذمہ داری ایک بڑی پیرا ملٹری آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل کو ملنے والی ہے۔ ایک پولیس ذہنیت والا شخص ہٹے گا اور دوسرا پولیس ذہنیت والا شخص اس کی جگہ آئے گا۔اجیت ڈوبھال کو کشمیر کا گورنر بنانے کے پیچھے صرف اور صرف ایک نظریہ ہوسکتا ہے کہ کشمیر کی صورت حال کو کڑے ڈھنگ سے ہینڈل کیا جائے۔ کڑے ڈھنگ سے ہینڈل کا مطلب ہے کہ کشمیر میںجو تھوڑی بہت آزادی ہے، وہ بھی ختم ہوجائے اور دہلی سے سری نگر جانے والے لوگ نہ صرف جانکاری دے کر سری نگر جائیں ،بلکہ سری نگر سے اجازت لے کرسری نگر جائیں۔ وہاںپر موجود سیکورٹی فورسیز کواور زیادہ اختیارات دیے جاسکتے ہیں اور کشمیر میںرہی سہی جمہوری قدموںکی آہٹ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ میںجب یہ کہہ رہا ہوں، تو یہ صرف اندیشہ ہے۔ ایسا ہوگا اس پر یقین کرنے کو جی نہیںچاہتا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ حکومت ہند کے ذریعہ کوئی بھی پہل نہ کیے جانے کے پیچھے صرف اور صرف ایک ذہنیت ہوسکتی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کی کسی بھی مانگ کو سختی سے دبایا جائے ۔ دوسرے الفاظ میںکہیںتو سختی سے کچلا جائے۔ اتنے لوگ کشمیر گئے ۔کشمیر سے اتنے لوگ دہلی آئے، ملک کے دوسرے حصوںمیںگئے اور سب نے ایک ہی رائے ظاہر کی کہ حکومت ہند کو کشمیر میںنئی پہل کرنی چاہیے، بات چیت کی پہل او رکشمیر کے لوگوںکو سمجھانا چاہیے کہ ان کا مفاد کس میں ہے۔ اس بات کو بھی حکومت ہند نے گزشتہ پانچ مہینے میں شروع نہیںکیا۔ یہ سب ثابت کرتا ہے کہ کشمیر میںآگے بہت کچھ ایسا ہونے والا ہے، جس کا ہم تصور نہیںکرپارہے ہیں۔
کشمیری میں دھرناو مظاہرہ کی اجازت کیوں نہیں؟
کشمیر کے لوگ آخر پرامن تحریک کیوں نہیں کرتے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر ایک ہی جواب ملا کہ کشمیر میںدھرنا اور مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیںہے۔ ملک کے دسرے کسی بھی حصے میں دھرنا مظاہرہ کی اجازت ہے، اپنی بات کہنے کی اجازت ہے۔ لیکن کشمیر میںاگر ہال میں بھی ایک سبھا کرنی ہے تو اس کے لیے سرکار سے اور پولیس سے اجازت ضروری ہے۔ ہم جب آزادی کی جنگ لڑرہے تھے یا آزادی کے بعد بھی، کبھی دھرنا پردرشن کے اوپر روک نہیں لگی۔ لیکن جموںکشمیر میںتو دھرنا اور پردرشن کے اوپر بھی روک ہے۔ وہاں بغیر اجازت کے دھرنا پردرشن نہیںہوسکتے ہیں۔ اگر دھرنا پردرشن ہوتے ہیں،تو پولیس سختی سے پیش آتی ہے۔ شاید اسی لیے اپنی بات کہنے کے لیے لوگوںنے ہاتھوںمیںپتھر اٹھائیہیں۔یہ پتھر پرامن تحریک کے لیے نہیںہیں،یہ پتھر مایوسی کے پتھر ہیں او راس احساس کے پتھر ہیںکہ اگر ہمیں ظلم سہنا ہی ہے ، مرنا ہی ہے، تو ہم کیوںنہ پتھر چلاکر اپنی جان دیں۔
کشمیری لیڈر دنیا گھومنے کی جگہ ہندوستان کے لوگوں سے ملے
جموں کشمیر کے لوگوں سے ہندوستان کی ذہنی حالت کی بات بتانا چاہوں گا۔ کیونکہ کشمیر کے لوگوں نے اپنا درد، اپنی تکلیف کبھی ہندوستان کے عوام سے کھل کر نہیںکہی۔ سیاسی جماعتوں نے سرکار سے تو بات کی، لیکن کسی سیاسی جماعت نے ہندوستان کے عوام سے یہ بات نہیںکی۔ دنیا کو تکلیف بتانے کی حکمت عملی سری نگر کے لیڈروں نے بتائی، لیکن ہندوستان کے لوگوںسے اپنی تکلیف بتانے کی کبھی حکمت عملی بنائی ہی نہیں ۔ 2014 سے قبل جب مرکز میںمنموہن سنگھ کی سرکار تھی یا اس سے قبل اٹل بہاری واجپئی کی سرکار تھی، اس دوران عوام کو کبھی بھی کشمیر کے لیڈروں نے یا سیاسی پارٹیوںنے ایڈریس ہی نہیںکیا اور اپنی حمایت میںہندوستان کے لوگوںکو کھڑا کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیںکی۔ نتیجتاً ملک کے باقی حصوں میںیہ احساس گھرکرتا گیا کہ کشمیر کے لوگ یا ان کا ایک بڑا حصہ ، ہندوستان کے باقی لوگوںسے نہ صرف ڈائیلاگ نہیں کرنا چاہتا، بلکہ نفرت بھی کرتا ہے۔ شاید یہ بڑی اسٹریٹجک بھول کشمیر کے تمام لیڈروںسے ہوئی۔ اب جبکہ مرکز میںنریندر مودی کی سرکار ہے، تب یہ اور بھی مشکل ہے، کیونکہ سرکاراپنے قدموں سے یہ پیغام دے چکی ہے کہ وہ کشمیر کے لیڈروںکو ہندوستان میں گھومنے کی اجازت نہیںدے گی۔لیکن اس کے باوجود کشمیر کے لیڈروںکو، کشمیر کے سمجھدار لوگوںکو دنیا گھومنے کے بجائے ہندوستان کے لوگوںکے بیچ گھومنے کی پہل کرنی چاہیے اور اپنی باتوںسے ہندوستان کے لوگوںکو آگاہ کراناچاہیے۔ کشمیر میں یہ تصور غلط ہے کہ ہندوستان کی سول سوسائٹی کشمیر کے مسائل سمجھنا نہیںچاہتی۔یہ بھی تصور غلط ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو لے کر ہندوستان کی سول سوسائٹی کے دل میںکوئی ہمدردی نہیںہے، حساسیت نہیں ہے۔ سوال صرف ہندوستان کی ریاستوںمیں جانے کا اور اپنی بات کہنے کا ہے؟
کشمیر کے لیے ایک نئی پہل کی ضرورت ہے
لیکن ان ساری چیزوںسے الگ ،میںسرکار سے اور ہندوستانی سول سوسائٹی سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوںکہ کشمیر کے لوگ ہمارے زیادہ نزدیک ہیں، بجائے جنوبی افریقہ کے لوگوںیا امریکی لوگوںیا یوروپین سے۔ ہم انھیںاپنے ساتھ لینا چاہتے ہیں، لیکن کشمیر کے لوگوںکو اپنے ساتھ لینے یا کشمیر کے لوگوں کے مسائل جاننے کے لیے ہم کوئی پہل ہی نہیں کرنا چاہتے۔ سرکار کے قدم سرکار جانے، لیکن ہندوستانی سول سوسائٹی اور ہندوستانی میڈیا کو کم سے کم ایک بار پھر سے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ہندوستان کے لوگوںکو کشمیر کے لوگوں کے دل کا درد بتائے۔ اس درد کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم عطا کرے۔ حکومت ہند سے یہ گزارش ہے کہ اسے کسی بھی طرح کشمیر کو بین الاقوامی سیاست یا بین الاقوامی ہتھیاروںکی ٹیسٹ سائٹ بننے سے روکنا چاہیے ۔ یہ صرف ہندوستان یا ایشیا کے مفاد میںنہیںہوگا، بلکہ عالمی امن کے مفاد میںہوگا۔ میںیہ امید کرتا ہوںکہ ملک کے وزیر اعظم اور ملک کی سرکار اس خطرے کو ضرور سمجھ رہی ہوگی، کیونکہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ سرکار میںایسے لوگ نہیںہیں، جو اس خطرے کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ فوراً کشمیر کو لے کر ایک نئی پہل کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے اب بہت کم وقت بچا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *