چین -پاکستان کاریڈور،گلگت بلتستان،کشمیر اور پاکستان

shujaat-bukhariابھی کشمیر نے یہ سمجھنا شروع ہی کیا تھا کہ چین -پاکستان کاریڈور ( سی پی ای سی ) کا مطلب کیا ہے اور اس کا خطے پر کیا اثر پڑے گا، تبھی اس سے جڑا ہوا ایک اور متنازع ایشو سامنے آگیا اور اس ایشو نے بنیادی بحث کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ یہ ایشو ہے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی سفارش ۔اب یہ ایشو کشمیر کے سیاسی ڈسکورس پر حاوی ہونے لگا ہے۔ دراصل بحث کی ابتدا اس وقت ہوئی جب پاکستان کے انٹر منسٹریل کارڈینیٹر وزیر ریاض حسین پیر زادہ نے 15 مارچ کو جیو نیوز کو بتایا کہ سرتاج عزیز کی صدارت والی کمیٹی نے گلگت بلتستان کو ایک صوبہ بنانے کی سفارش کی ہے۔ اس بیان سے نہ صرف دہلی (جس کا اس ایشو پر اپنا ایک موقف ہے) میں بلکہ کشمیر میں بھی بھنویں تن گئی ہیں۔
سی پی ای سی نے اس وقت اپنی طرف دھیان متوجہ کیا تھا، جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ کشمیر سی پی ای سی کا حصہ بن کر کیوں فائدہ مند نہیں ہوسکتا ہے؟اس کے بعد سے ہی یہ ایشو سیاسی اور عام ڈسکورس کا حصہ بنا ہوا ہے۔ محبوبہ نے دہلی میں ایک سمینار کو خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ جموں و کشمیر اس خطہ میں اقتصادی سرگرمیوں کا ایک کاریڈور بن سکتا ہے اور لائن آف کنٹرول کے پار چلنے والی اقتصادی سرگرمیوں سے ملک بھاری فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ سی پی ای سی جیسے منصوبوں سے ہونے والے فائدے میں حصہ دار بن کر ہم اقتصادی ترقی میں شامل کیوں نہیں ہو سکتے ہیں۔ آئیے ، ہم اپنے چھوٹے موٹے جھگڑوں سے آگے بڑھیں۔ دراصل سی پی ای سی کو اقتصادی خوشحالی کی کنجی کی شکل میں صرف محبوبہ مفتی ہی نے اخذ نہیں کیا، بلکہ 11 مارچ کو سری نگر میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ منعقد ایک سمینار میں بھی اس میں خوب دلچسپی دکھائی گئی۔ یہاں تجزیہ کاروں نے اس بات پر اپنے خیالات ظاہر کئے کہ سی پی ای سی کیسے کشمیر کے سیاسی مسئلے کو اور اس کے حل کو متاثر کرے گا؟اس طرح کے خیالات نے یہ صاف کر دیا ہے کہ کشمیری اس کو لے کر کتنے خواہاں ہیں؟یہ خواہش صرف عام سیاسی عمل تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر سول سوسائٹی اور دانشور بھی شامل ہیں۔
بحث آگے بڑھانے اور پالیسی سازوں کے لئے ایک انسائٹ ثابت ہونے کے بجائے، گلگت بلتستان کے پاکستان کا حصہ بننے کا ایشو پریشان کرنے والا ایشو ثابت ہوا ہے۔ اس پر پاکستان نے کوئی توضیح نہیں کی ہے۔ اس ایشو کو چھیڑ کر شاید وہ متعلقہ فریقوں کا رد عمل دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن کشمیر کے اس شعبے کا رد عمل بہت تیز رہا۔ گلگت بلتستان پہلے کبھی بھی کسی ڈسکورس کا حصہ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ جب کشمیر میں 1989 کی مسلح بغاوت شروع ہوئی تو پاکستان حکومت کشمیر ( جسے پاکستان میں آزاد جموں و کشمیر اور ہندوستان میں پاکستان مقبوضہ کشمیر کی شکل میں جانا جاتا ہے ) اس کا بالواسطہ حصہ بن گیا تھا۔ یہاں راتوں رات ہزاروں کشمیری نوجوان مظفر آباد اور دیگر جگہوں پر لوگوں کے گھروں میں مہمان بن گئے تھے۔ ملی ٹینٹ تنظیموں نے اسے آزادی کا بیس کمیپ اعلان کیا تھا اور جدو جہد میں یہاں کے لوگوں کی مکمل حصہ داری صاف دکھائی دینے لگی تھی۔ آج بھی جب کشمیر میں کچھ بھی ہوتا ہے تو اُس طرف کے لوگ اس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
کشمیر کے لئے گلگت بلتستان بھی لداخ کی طرح کوئی دور کی جگہ ہے ۔صرف 2016 کی گرمیوں میں ہندوستانی مظالم کے خلاف وہاں سے کچھ احتجاج کی خبریں آئی تھیں۔ جب دس سال پہلے میں وہاں گیا تھا تو مجھے وہاں کے لوگوں میں کشمیر مسئلے کو لے کر زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی دی تھی۔ حالانکہ وہ پاکستان کے ساتھ خوش دکھائی دیئے،لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں ریاستی موضوعات کے اختیارات واپس ملنا چاہئے۔ حالانکہ آئینی اور سیاسی طور پر آزاد کشمیر کی پاکستان میں 1947 سے ہی الگ حیثیت ہے،لیکن گلگت بلتستان کو کبھی بھی اس کاحصہ نہیں مانا گیا۔ یہاں 2009 میں دکھاوے کی سیاسی خود مختاری بحال کی گئی تھی اور اس کا نام شمالی خطہ سے بدل کر گلگت بلتستان کر دیا گیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان مشرق کے جموں و کشمیر ریاست کا حصہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مطابق اس کا حل ابھی زیر التوا ہے۔ گلگت بلتستان پر پاکستان کے غیر قانونی قبضے کی وضاحت کرتے ہوئے ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کچھ اس طرح اپنا رد عمل ظاہر کیا : یہ ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ابھی بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ 1947 میں پوری جموں و کشمیر ریاست ہندوستان میں شامل ہوئی تھی۔ پاکستان کے ذریعہ اس صورت میں کسی یکطرفہ بدلائو کے قدم کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہوگی اور وہ ہندوستان کے لئے پوری طرح نامنظور ہوگا۔ یہ مانا جارہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کے لئے پاکستان پر چین کی طرف سے دبائو تھا۔ حالانکہ بیجنگ بھی میدان میں کود پڑا اور کہا کہ اس نے کشمیر پر اپنے موقف میں بدلائو نہیں کیا ہے۔ چینی ترجمان ہوا چون ینگ نے کہا کہ چین -پاکستان اقتصادی کاریڈور ( سی پی ای سی ) نے کشمیر ایشو پر چین کی صورت حال کو متاثر نہیں کیا ہے ‘‘۔اگر اسے جوں کا توں مان لیا جائے اور اگر پاکستان اس پر عمل کرتا ہے تو ایک حقیقت یہ ہوگی کہ ایک لمبے وقت سے اس مسئلے پر اس کا جو موقف تھا، وہ اسے ہی رد کرے گا۔
حالانکہ کبھی کبھی پاکستان نے اپنا رخ نرم کیا اور آئوٹ آف باکس حل کی بات بھی کی، لیکن کشمیر مسئلے کے حل کے لئے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی تجویز اس کے لئے سیاسی بائبل کے مساوی ہے۔ گلگت بلتستان پر بھی اس کا موقف ویسا ہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے اس خطہ کے لئے ویسا انتظام بھی نہیں کیا جیسا انتظام اس نے پاک مقبوضہ کشمیر کے لئے کیا تھا ،لیکن تاریخ کے حقائق کو بدلا نہیں جاسکتا ہے۔ نئے صوبہ بنانے جیسا بڑا قدم اٹھا کر پاکستان اپنے ہی مقاصد کو شکست دے گا اور کشمیر ایشو کو ختم کرنے کی بنیاد رکھے گا ،جو کہ سی پی ای سی کی ابتدا کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔
کشمیر میں سول سوسائٹی اور مزاحم قیادت نے اس تجویز پر تیکھا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ دانشوروں اور سول سوسائٹی کی تشویشات کو سمجھا جاسکتاہے،لیکن متحدہ حریت قیادت ، جس میں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک شامل ہیں، کا رد عمل دلچسپ ہے۔ اس قیادت نے ایسا شاید ہی کبھی کچھکہا ہو جو پاکستان کی سرکاری حیثیت کے خلاف ہو اور پاکستانی سرکار کی اس تجویز پر اگر وہ کوئی رد عمل دیتے ہیں تو یقینی طور سے وہ کچھ الگ ہوگا۔ بہر حال زیادہ تر مزاحم لیڈر اب اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے ذریعہ پیش کئے گئے 4پوائنٹ فارمولہ کی مخالفت کررہے ہیں۔ جب یہ فارمولہ پیش کیا گیا تھا تو صرف گیلانی اس کے خلاف تھے، جنہوں نے اس فارمولے پر ہوئے کسی حل کو ماننے سے انکار کردیا تھا،لیکن باقی قیادت نے اسے مان لیا تھا۔اس پس منظر میں اسلام آباد کے لئے چین کی منشا کے حساب سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اب سی پی ای سی اور کشمیر پر واپس آتے ہیں۔ یہ تجزیہ کرنا غیر حقیقی ہوگا کہ سی پی ای سی کا کشمیر کو کیا فائدہ ملے گا؟ہر وہ چیز جو لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) کے دوسری طرف سے جڑی ہوئی ہے، اس کا تعلق کشمیر کے سیاسی ایشو کے حل سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اگر سی پی ای سی سے ہندوستان کے جڑنے کے امکانات کو بھی دیکھا جائے تب بھی جموں و کشمیر مسئلہ، جھگڑے کا سبب بنا رہے گا۔ ہمارے سامنے ایل او سی پر کارو بار کی مثال ہے جو اس لئے جاری ہے کیونکہ کاروباری اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ورنہ اگر اسے دونوں سرکاروں پر چھوڑ دیا گیا ہوتا تو یہ بند ہو گیا ہوتا۔ ایل او سی کارو بار کی ابتدا اکتوبر 2008 میں سیاسی مجبوریوں کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ اگر اس سلسلے میں کسی بھی اقتصادی خوشحالی کا تصور کیا جاسکتا ہے،تو وہ صرف دونوں طرف فری اکانومی سیکٹر کے کنٹرول سے کیا جاسکتا ہے۔اس کا سجھائو کشمیر چیمبر آف انڈسٹریز اینڈ کامرس کے صدر مبین شاہ نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں دیا ہے۔
اپنے سیاسی اَنا کو کچھ وقت کے لئے الگ رکھ کر اور کارو بار کو ترجیح دے کر ہندوستان اور پاکستان دونوں اپنے لوگوں کی بڑی خدمت کرسکتے ہیں، جو بالآخر اس مسئلے کے سیاسی حل کے لئے ایک معاون صورت حال بنانے میں مدد کرے گا۔ موجودہ صورت حال میں سی پی ای سی کے فائدوں کی بات کرنا دن میں خواب دیکھنے جیسا ہے۔ کشمیر کے الجھے ہوئے مسئلے میں گلگت بلتستان کا ایشو بھی شامل ہو گیا ہے ۔دراصل جب تک ہندوستان اور پاکستان سنجیدہ طور سے کشمیر پر بات کرنے اور کشمیری سے بات کرنے کے لئے آگے نہیں آتے، تب تک کچھ بھی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *