چھتیس گڑھ ترقی کے نام پر ہورہی ہے لوٹ

damiبات ایک ایسی ریاست کی جسے قدرت نے خوشحال بنایا لیکن انتظامی لاپرواہی، سرکاری کاہلی،پالیسیوںاور دور اندیشی کی کمی کی وجہ سے آج یہ پچھڑی ریاستوں سے مقابلہ کررہی ہے۔ آدیواسیوں،محروموں اور پچھڑوں کی اکثریت والی اس ریاست کا عالم یہ ہے کہ واضح سوچ اور پالیسی نہ ہونے کے سبب سرکار اپنے بجٹ کے 20,000کروڑ وپے بھی خرچ نہیںکرسکی ہے۔ اگر ریاست میں تعلیم، صحت، پانی اور سڑک کی تعمیر کی پرتوں کو ذرا سا ادھیڑ دیں تو ہر طرف دھول کی موٹی پرت نظر آتی ہے۔
چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ کی شبیہ ’سُشا سن بابو ‘سے کم نہیں ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی تعلیم، صحت، سڑک، بجلی اور پانی کی نجکاری کرکے منافع خور کمپنیوں کے حوالے کرنے کی مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ لیکن کیگ کی رپورٹ نے چھتیس گڑھ سرکار کے جھوٹی ترقی کے دعووںکی پول کھول دی ہے۔ زمینی آبی سطح بنائے رکھنے اور کسانوںکو آبپاشی کی سہولت دینے کے لیے سرکار 2680 کروڑ روپے میں 369 اینیکیٹ بنا رہی ہے۔ اینیکیٹ کی تعمیر میں تاخیر اور آدھے ادھورے بنے اینیکیٹوں پر سرکار نے 1096 کروڑ روپے بیکار میں ہی خرچ کر دیے۔ سرکار کی کاہلی کہیں یا انتظامی نااہلی، دس سال گزرنے کے بعد بھی اب تک 280 اینیکیٹ نہیں بن پائے ہیں۔ یہاںتک کہ اینیکیٹ کی تعمیر کے وقت بنیادی چیزوں پر بھی دھیان نہیںدیا گیا۔ مثلاً گرمی میںزیر زمین پانی کی سطح کی دستیابی ، کھیتوں میںبجلی کا نہیں ہونا،اینیکیٹ سے کھیتوں کا فاصلہ اور کھیت کے کناروں کی بہت زیادہ اونچائی وغیرہ۔ یا یوںکہیںکہ محکمہ نے اینیکیٹ سے کھیتوںکا فاصلہ اور کھیت کے کناروںکا کوئی انتظام ہی نہیںکیا یا اس بارے میںسوچا بھی نہیں۔
وہیں35 اینیکیٹوں کی تعمیر ان ندیوں اور نالوں پر کی گئی، جہاںبارہ مہینے پانی دستیاب نہیں رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ پروجیکٹ اپنے ہدف سے دور ہوتا چلا گیا ۔ عالم یہ ہے کہ محض چھ سے آٹھ اینیکیٹوں میں ہی سال بھر پانی دستیاب رہتا ہے ۔ مرکزی جل بورڈ نے جانکاری دی کہ مقررہ معیار کی خلاف ورزی کرنے کے سبب 47 اینیکیٹ زیر زمین پانی میں اضافہ نہیںکرسکے۔ کچھ اینیکیٹ بنے بھی تو ڈیڑھ سال کے اندر ہی خراب ہوگئے۔کبوگا، مین پور، سرپور اور بڑ گاؤں اینیکیٹ کی تعمیر میںگھٹیا میٹریل کا استعمال کیا گیا، جس کے سبب وہ ڈھے گیا یا اہم دیوار میںدرار پیدا ہوگئی۔
اگر کسی ریاست کی اقتصادی صحت اور ترقی کے پیمانے کو سمجھنا ہوتو سب سے آسان طریقہ سرکارکی تعلیم او رصحت سے متعلق پالیسی کو جان لینا ہے۔ تعلیمی شعبہ میںدیکھیںتو ریاست میںصرف 25 فیصد اسکول ہی گریڈ اے کے ہیں۔ باقی 75 فیصد اسکول بی سے لے کر ڈی گریڈ تک کے ہیں۔ یہ بات ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تعلیم معیار مہم کے جائزے کے دوران سامنے آئی۔ حال ہی میں اسکولوں میں انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کے لیے 858 کروڑ روپے دیے گئے، جسے سرکار نے ٹیچروں کی تنخواہ پر خرچ کردیا۔ پنچایتی سطح پر اسکولوں کی ترقی کے لیے دس کروڑ روپے دیے گئے، جسے سرپنچوں نے ہضم کرلیا۔ ہوٹل مینجمنٹ کورس شروع کرنے کے لیے 18 کروڑ روپے خرچ کردیے گئے، لیکن کئی سال بعد بھی کلاس شروع نہیں ہوئی ہے۔ اساتذہ اور طلبہ کے بگڑے تناسب کو سدھارنے کے لیے سرکار نے ابھی تک کوئی قدم نہیںاٹھایاہے۔ ریاست میںکل اساتذہ کے 20 فیصد یعنی قریب بارہ ہزار اساتذہ انٹرینڈ ہیں۔
دیہی علاقوں میں طبی خدمات پہنچانے کے لیے 945ڈاکٹروں کی تقرری کی گئی لیکن انھوںنے وہاں جانے سے منع کردیا۔ ٹریننگ لے رہے ڈاکٹروںکو لگتا ہے کہ اگر شروع میں ہی دیہی علاقوں میں کام کرنا پڑا تو یہ ان کے کریئر کے لیے نقصاندہ ہوگا۔ وہیںدیہی علاقوںمیں طبی آلات کا فقدان، ایمبولینس کی سہولت فراہم نہ ہونے اور بنیادی مسائل کے سبب بھی ڈاکٹر دیہی علاقوںسے دور بھاگتے ہیں۔ لیکن یہ جزوی سچ ہے۔ 171 ڈاکٹر دیہی علاقوں میں جاکر کام کرنا چاہتے تھے لیکن سرکار نے ا ن کی تجویز قبول نہیںکی۔ اس کے برعکس ان کی 66 لاکھ کی معاہدہ کی رقم بھی ضبط کرلی گئی۔ مارچ 2016 کے اعدادوشمار کے مطابق ابھی 17 ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہے جبکہ سرکار نے دعویٰ کیا تھا کہاایک ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر کی سہولت دی جائے گی۔ دیہی علاقوں میں طبی خدمات پہنچانے والی نرسوں کی بات کریںتو ابھی ایک لاکھ لوگوںپر ایک نرس تعینات ہے، جبکہ سرکار نے ایک لاکھ لوگوں پر 75 نرسیں تعینات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے کہا ہے کہ سماجی اور اقتصادی شعبے میں2200 کروڑ روپے کا گھوٹالہ دکھاتا ہے کہ آدیواسی، دلتوں اور کمزور طبقوں کے لیے بنے منصوبوں میںکس طرح سیندھ ماری جارہی ہے۔ کیگ کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میںجل، جنگل، زمین اور معدنیات کی لوٹ مچی ہوئی ہے، وہیںسرمایہ داروں اور شراب بنانے والوں پر سرکار مہربانیسے پیش آ رہی ہے۔
اگر اشتہارات پر ایک نظر ڈالیںتو ملک کی سبھی ریاستیں نمبر ون ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ریاستوں میںترقی کو لے کر مسابقت اچھی بات ہے لیکن اگر یہی قواعد صرف چہرہ چمکانے تک محدود ہو تو پھر ترقی کی بات کون کرے؟ اب تک قدرتی وسائل کے سرپرست رہے آدیواسیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرکے نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جارہا ہے۔ اس ہڑبھونگ میںآدیواسیوں، محرومین کی جائز مانگیںبھی دفن ہوجاتی ہیں یا نکسل اسپانسرڈ ڈیمانڈ بتاکر سرکار انھیں نظرانداز کردیتی ہے۔ ایسے میں ترقی کے جادوئی آنکڑوںسے عوام کو کچھ وقت تک تو بھرمایا جاسکتا ہے لیکن مستقبل میںسرکار کو اس کا خمیازہ بھگتناپڑتا ہے۔
کیگ نے اٹھائے سوال
چھتیس گڑھ میں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میںخلاصہ کیا گیا ہے کہ سرکار نے 2184 کروڑ روپے بے ضابطگی کے ساتھ خرچ کیے ہیں۔ اس رپورٹ میں 3146 کروڑ روپے اضافی خرچ اور 2016 کے بجٹ کے 80 ہزار کروڑ روپے میںسے 20 ہزار کروڑ روپے خرچ نہیں کرپانے کی جانکاری بھی دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے کہا ہے کہ اس رپورٹ پر اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور پبلک انڈرٹیکنگ کمیٹی کے ذریعہ جانچ کرائی جائے گی اور جانچ کے بعد اسمبلی میںاسے پیش کیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *