واجپئی اور مودی کی کشمیر پالیسی میں فرق

shujaat-bukhariوزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر اس بحث پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کے حالات سے نمٹنے کے لئے صرف ’انتظامی‘ طریقہ ہی استعمال کرے گی۔ 2اپریل کو سری نگر-جموں قومی شاہراہ پر بنی (ہندوستان کی) سب سے لمبی سرنگ کے افتتاح کے موقع پر بولتے ہوئے انھوں نے بندوق چلانے اور پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ دراصل انھوں نے لوگوں کی پذیرائی کی ، جنھوں نے ان کے مطابق سرنگ بنانے کے لئے پتھر کی نقاشی کی۔ اپنی پر جوش تقریر میں وزیر اعظم نے راہ سے بھٹکے ہوئے نوجوانوں سے دہشت گردی اور سیاحت کے درمیان فرق پہچاننے کے لئے کہا۔
’’میں وادیٔ کشمیر کے راہ سے بھٹکے ہوئے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پتھر کی طاقت کو پہچانیں‘‘، یہ بات انھوں نے اپنی اس تقریر میں کہیں جو ترقی پر مرکوز تھا اور ٹکرائو کی سیاست سے بچنے والا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف راہ سے بھٹک چکے نوجوان ہیں جو پتھر پھینک رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اسی کشمیر کے نوجوان ہیں جو یہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے پتھر پر نقاشی کر رہے ہیں۔‘‘
مودی نے بہت ہی اہم موقع پر کشمیر کا دورہ کیا ہے اور ترقی پر ان کی توجہ نے یہ اشارہ دے دیا کہ آنے والے دنوں میں ان کی حکومت کی کشمیر کے تئیں پالیسی کیا ہوگی؟ کشمیر میں ابھی بسنت کا موسم ہے۔ گزشتہ سال 6مہینے تک چلے تشدد، جس نے عام زندگی مفلوج کر دی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لوگوں کے ذہن میں شک و شبہات پیدا ہونے لگے ہیں کہ امسال گرمیاں کیسی گزرنے والی ہیں۔ یہاں تجسس بنا ہوا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ مہینوں کے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی بھی لوگوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے۔دہشت گردانہ حملوں کی بڑھتی تعداد اور ان کو بچانے کے لئے انکائونٹر کی جگہ پر شہریوں کا پہنچنا ایک بالکل الگ طرح کی کہانی بیان کرتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آف پولس ایس پی وید اس رجحان کو خودکش رجحان بتاتے ہیں، لیکن جو لوگ ایسا کر رہے ہیں، انھوں نے یہ صاف کر دیا ہے کہ وہ ایسا کریں گے ،بھلے ہی اس کا مطلب موت ہی کیوں نہ ہو۔
اس پس منظر میں مودی کی تقریر سے مسئلہ کے حل کی طرف کسی پہل کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ ہارڈ لائن حریت کانفرنس کے لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم مودی سے کہا کہ کشمیر معاملہ میں وہ ایک اسٹیٹس مین کا کردار ادا کریں ۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو کشمیر میں ابھی بھی نئی دہلی سے بات چیت کی امید برقرار ہے، لیکن دوسری طرف نئی دہلی نے اپنے تمام دروازے بند کر دئے ہیں اور نظام برقرار رکھنے کے لئے پوری طرح ہتھیار بند دستوں پر منحصر ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے کوئی مطلب نہیں کہ حالات سیاسی پہل کا تقاضہ کرتے ہیں۔
مودی نے بدلائو کے ایک ایجنٹ کے طور پر بار بار سیاحت کی بات کی۔ اس میں شک نہیں کہ کشمیر میں سیاحتی شعبہ بے پناہ قوت و صلاحیت اور سیاحت بازی پلٹنے والا شعبہ بن سکتا ہے۔ سال 2003سے 2007تک چلنے والی سیاسی پہل کے دوران یہ ثابت ہوا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ جب ہندوستان، پاکستان اور کشمیر میں سیاسی عمل جاری تھا تو اس وقت سیاحت اپنے شباب پر تھی، لیکن 2016میں چھ مہینے کے ہنگامے نے یہ دکھایا کہ کیسے یہ بری طرح ناکام بھی ہو سکتی ہے۔ سیاحت کے لئے امن بحال کرنے کے لئے سیاسی زاویہ نگاہ ضروری ہے۔ کشمیر کو ایک سیاسی ایشو کے طور پر قبول کرنے سے یہاں خوشحالی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
بہرحال، گزشتہ کچھ سالوں میں لوگوں کی ذہنیت میں بدلائو آیا ہے، خاص کر نوجوان پیڑھی میں جو سیاسی طور پر مشتعل ہو گئی ہے۔ جنہیں نوکری کے لئے کوشش کرنی چاہئے وہ ہندوستانی مخالف احتجاج کا انعقاد کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ وہ جارح ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے مارچ کے آخری ہفتے میں وسط کشمیر کے چدورا علاقہ میں ایک مڈبھیڑ کے دوران تین نوجوان لڑکوں کی موت ہوئی۔ ایسی صورتحال سے نمٹنے کا چیلنج حکومت کے لئے مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی بدظنی کو نکارنا آگ میں گھی کا کام کر رہا ہے۔ مودی کی ترقی کا ایجنڈا اس سچائی کے باوجود آیا کہ ان کی پارٹی بی جے پی علاقائی پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ اتحاد میں ہے اور اس اتحاد کا ایجنڈہ ریاست کے سیاسی مزاج پر مرکوز ہے۔
پی ڈی پی-بی جے پی اقتدار کے دو سالوں کے دوران کوئی بھی ایشو نہیں اٹھایا گیا ہے۔ ایجنڈے کے صرف تین نکات کو نافذ کرنے میں برق رفتاری دکھائی گئی ہے۔ پہلا مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کے بارے میں، دوسرے دو ایشوز کشمیر کے دوسری طرف کے پناہ گزینوں اور کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری سے متعلق ہیں۔ متنازعہ ایشوز جن سے ہندوستان میں عدم استحکام آ سکتا ہے، جیسے آرمڈ فورسز اسپیشل ایکٹ (افسپا) ، حریت اور پاکستان کے ساتھ بات چیت اور سیاسی قیدیوں کی رہائی جیسے ایشوز کو چھوا تک نہیں گیا ہے۔ اس سے یہی ثابت ہوا کہ اتحاد کا ایجنڈا (اے او اے) صرف کاغذوں پر ہی رہا۔ اس میں سیاسی مداکلت کی بات صرف پی ڈی پی اور بی جے پی کو ساتھ لینے کے لئے ماحول تیار کرنے کے لئے کی گئی تھی۔یہ امید کی جا رہی تھی کہ یو پی انتخابات کے بعد مودی پاکستان اور ممکنہ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہوں گے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب وہ امید ختم ہو گئی ہے۔
ایک دلچسپ تبصرہ مودی نے اپنے پیشرو سابق وزیر اعظم اٹل بہار ی واجپئی کے بارے میں کیا تھا،جنھوں نے کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت (کے جے آئی) کی بات کی تھی، جس نے ایک بار لوگوں میں سیاسی امکان بنایا تھا۔ مودی نے اس سے پہلے سات بار اس کا ذکر کیا ہے۔ جب 2014کے انتخابات میں وہ دہلی کے اقتدار کی طرف بڑھ رہے تھے تو پہلی بار انھوں نے جادوئی کے جی آئی کی بات کی تھی۔26مارچ 2014کو انھوں نے جموں میں ایک عوامی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں واجپئی کے ذریعہ دکھائے گئے راستے پر چلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ میری خواہش ہے کہ واجپئی کے ذریعہ شروع کئے گئے کام کو پورا کروں۔ یہ میری خواہش ہے اور میں اس کے لئے بار بار یہاں آئوں گا۔
وزیر اعظم بننے کے بعد بھی انھوں نے اپنا رخ نہیں بدلا اور 4جولائی 2014کو کٹرہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ کشمیر کے لئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا جو منصوبہ تھا حکومت اسے آگے بڑھائے گی اور ریاست کے عوام کا دل جیتنا میرا ہدف ہے۔اسی طرح 22نومبر، 2014کو انھوں نے کشتواڑ میں کہا تھا کہ اٹل جی کے الفاظ ’’جمہوریت ، انسانیت اور کشمیریت‘‘ کا کشمیریوں کے دل میں ایک خصوصی مقام ہے۔ ان الفاظ نے کشمیر کے نوجوانوں کے دلوں میں ایک بہتر مستقبل کی امید جگائی تھی۔ 10اگست 2016کو جب کشمیر سیاسی بدامنی کی آگ میں جل رہا تھا تو انھوں نے اس بارے میں بات تو کی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سے اس سمت میں ایک انچ نہیں بڑھے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ واجپئی نے پاکستان کے ساتھ جنگی بند ی کی، حزب المجاہدین سے بات چیت شروع کی اور حریت کو بات چیت کی میز تک لے آئے۔ حالانکہ بات بہت آگے نہیں بڑھی، لیکن واجپئی نے ایک راہ دکھائی جو امیدوں سے بھری ہوئی تھی۔
جموں اورکشمیر میں ترقی پرمسلسل زور مودی کی کشمیر پالیسی کا بنیادی فلسفہ ہے، لیکن واجپئی کے صرف کا مطلب صرف ترقی ہی نہیں تھا، بلکہ کشمیر کی سیاسی حقیقت کو پہچانتے ہوئے ایسے راستے پر چلنا تھا جس میں کشمیر اور پاکستان دونوں شامل ہو سکتے تھے۔ جب واجپئی نے 18اپریل 2003کو سری نگر سے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کی تو اس وقت دونوں ملکوں کے تعلقات آج کے مقابلہ میں زیادہ خراب تھے۔ ان کے لئے اسلام آباد کے ساتھ بنا شرط دوستی کی پیشکش کرنا بڑا جوکھم بھرا تھا۔ اس پیشکش کے ساتھ ساتھ انھوں نے کشمیر میں بھی ایک مذاکراتی عمل شروع کیا۔ مودی کو اسی راستے پر چلنا ہوگا جس پر صرف سیاسی زاویہ نگاہ کے ساتھ ہی چلا جا سکتا ہے۔ سیاست کے بعد ترقی ہو سکتی ہے نہ کہ ترقی کے بعد سیاست۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *