مسلم خواتین طلاق ثلاثہ کے حق میںنہیں

damiان دنوں مسلمانوں میںطلاق کا طریقہ کار عدالت اور عوام دونوں میں ایک بارپھر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 30 مارچ 2017کو سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کے معاملہ کو پانچ ججوں کی آئینی بینچ کے پاس بھیج دیا ہے۔ بینچ حلالہ اور تعداد ازدواج کے ساتھ ساتھ طلاق ثلاثہ جیسے اسلا می طریقوں کی آئینی بنیاد پر تجزیہ کرے گی۔ معاملہ کی سماعت عدالت میںآئندہ 11 مئی سے ہوگی جو کہ چار دنوں تک جاری رہے گی۔ لہٰذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ فیصلہ کن موڑ تک پہنچنے کو ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ طلاق ثلاثہ ایک ایسا عمل ہے جس کا سیدھا اثر اس عورت پر پڑتا ہے جو کہ بیوی ہوتی ہے۔ اور پھر اس سے پورا خاندان اور ان کے بچے بھی صرف متاثر ہی نہیں بلکہ تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اس بات کے پیش نظر ’چوتھی دنیا‘ نے متعدد مسلم عورتوںسے بات چیت کی جو کہ اپنے شوہروں کی بیویاںبھی ہیں اور انھوںنے اس سلسلے میںاسٹڈی اور سروے کیا ہے۔ نیز ان کی ان ایشوز کے تعلق سے قرآن، حدیث اور تاریخ پر نظر بھی ہے۔ ان مسلم عورتوں سے بات چیت کے دوران جو بات کھل کر سامنے آئی، وہ یہ ہے کہ عورتیں طلاق ثلاثہ کے حق میںنہیںہیں۔ ان کا واضح طور پر کہنا ہے کہ قرآن میںاس کا کوئی ذکر ہی نہیںپایا جاتا ہے۔ جبکہ عدت کو ملحوظ رکھتے ہوئے الگ الگ تین بار طلاق دینے کے احکامات وہاںمختلف سورتوں میںموجود ہیں۔ بات چیت کے دوران یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ ایک بار میںتین طلاق کی اجازت بہت ہی مخصوص حالات میں خود پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور خلیفہ دوم حضرت عمر ؓکے ادوار میںایک ایک بار دی گئی ہے۔ اس لیے وہ مستثنیٰ یعنی Exception کہلائیں گے اور انھیں نظیر ،مثال یا دلیل کے طور پر نہیں لیا جاسکتا ہے۔ ویسے طلاق کے اس طریقہ کی وضاحت مشہور اسلامی محقق امام ابو حنیفہ کی ہے جن کے ماننے والوںکی ہندوستان میںسب سے بڑی تعداد پائی جاتی ہے ۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوںمیںایک بار میںتین طلاق کو پسند بھی نہیںکیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے طلاق بدعت اور مغلظہ بھی کہا جاتا ہے جبکہ تین الگ الگ وقتوں میں عدت کے فرق کے ساتھ دی گئی طلاق کو طلاق حسنہ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ ان ایشوز کی ماہر خواتین اس سلسلے میں کہا کہتی ہیں؟
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںواقع سروجنی نائیڈو سینٹر فار ویمن اسٹڈیز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صبیحہ حسین کہتی ہیں کہ ایک بار میںتین طلاق کا معاملہ بہت سیدھا سا ہے۔اس کا قرآن میںکہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ایک دو بار کے مستثنیٰ واقعہ کی بنیاد پر اس کا وجود قائم ہوا اور یہ مشہور اسلامی ریسرچر امام ابو حنیفہ کی تحقیق یا اسکول آف تھاٹ کا جز ہے جبکہ الگ الگ وقت میںتین بار دی جانے والی طلاق کا قرآن میںصاف طور پر حکم ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ حسین یہ بھی کہتی ہیں کہ امام ابو حنیفہ کی تحقیق کی روشنی میںکسی عورت کو اپنے شوہر کے غائب ہونے کی صورت میں90 برس انتظار کرنا ہے مگر اسے ناقابل عمل سمجھتے ہوئے انگریزوں کے دور میں علماء کے اتفاق الرائے کے بعد مسلم میرج ڈیزولوشن ایکٹ 1939 بنا جس میں 90 برس کی بجائے پانچ برس انتظار کرنے کے بعد کوئی عورت دوسری شادی کرسکتی ہے اور اس قانون پر کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ کا اس دلیل کی بنیاد پر کہنا ہے کہ لہٰذا طلاق ثلاثہ کے بارے میںبھی اس طرح کا موقف قانونی طور پر لیا جاسکتا ہے۔ اس سے عورتوں کے استحصال کا دروازہ بند ہوسکے گا۔
اسی سینٹر میں ریسرچ اسسٹنٹ اور مسلم پرسنل لاء پر گہری نظر رکھنے والی ترنم صدیقی کا خیال ہے کہ جب الگ الگ کرکے تین بار طلاق کہنے کے سلسلے میںقرآن اور حدیث دونوں میں واضح طور پر ہدایات موجود ہیں تو کسی بھی قسم کی جھجک کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار لوجیکل ، راشنل اور ہیومین ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ غصہ یا جذ بات میںمبتلا کسی شخص کو ایک بار کے بعد مزید دو بار طلاق دینے کے بارے میںنظر ثانی کا موقع مل جاتا ہے۔ نیز وقفہ ہونے کی صورت میںصبر و تحمل پیدا ہوتا ہے او رغصہ ٹھنڈا بھی ہوجاتا ہے۔ ان کے خیال میںالگ الگ تین بار طلاق پر ہمیں یکسو رہنا چاہیے۔ ان کے خیال میںتین بار طلاق کے وقفہ کو بھی مقرر کرنا چاہیے تاکہ ایسی صورت حال نہ پیدا ہو کہ ایک بار طلاق کہنے کے بعد لمبا عرصہ ملنے کی صورت میںمیاںبیوی کا تعلق معلق نہ رہے۔
مشہور قرآنی اور آئینی محقق اور اسکالر ڈاکٹر ثریا تبسم کا کہنا ہے کہ ایک بار میں تین طلاق کہنے کا طریقہ ایک خاتون کے اندر خوف پیدا کردینے والا ہے۔ لہٰذا یہ غیر انسانی طریقہ ہے۔ انھوںنے بتایا کہ ’’ 2001 میں میں نے عام مسلم خواتین کے درمیان ایسے چند دیگر ایشوز کے ساتھ طلاق ثلاثہ کے تعلق سے بھی سروے کیا تھا۔ کوئی بھی خاتون اس کے حق میںنہیںہے۔ عورتیں تو ایک بار میں تین طلاق کا نام سنتے ہی ڈر جاتی ہیں۔ یہ تمام سروے 2003 میں انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ سے چھپی میری کتاب ’ویٹنگ فار دی نیو ڈان‘ میں موجود ہے جسے کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ لہٰذا الگ الگ تین بار میںقانون سازی کی بات کی جانی چاہیے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہی اسکالر ڈاکٹر فردوس صدیقی کا ماننا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے سلسلے میں قرآن میں جب کچھ بھی نہیں ہے تو اس پر اصرار کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ اس کے برعکس الگ الگ تین بار میںطلاق کا جواز پورے طور پر موجود ہے۔ اس کے ذریعہ مرد کو اپنے آپ کو سنبھلنے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا موقع ملتا ہے۔
معروف سماجی کارکن اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ مشتاق احمد علیگ کی اہلیہ رضوانہ مشتاق کہتی ہیں کہ سوال یہ ہے کہ جب نکاح مرد و خاتون دونوں کی مرضی سے ہوتا ہے تو طلاق کے وقت ایسا عمل کیوںنہیں ہوتا؟ ان کے خیال میں اس طرح کا پروویژن طلاق کے وقت بھی رہنا چاہیے۔ یہ بھی ایک بار میں تین طلاق کہنے کے عمل کے حق میںنہیں ہیں۔ ویلور (تمل ناڈو) کی رہنے والی رضوانہ مشتاق دہلی میں مقیم ہیں اور بچوں میںمادری زبان اردو کو سکھانے میںمصروف ہیں۔
عائلی قانون پر گہری نظر رکھنے والی اسکالر شائستہ عنبر کا غیرمبہم الفاظ میںکہنا ہے کہ طلاق ناپسندیدہ عمل ہے مگر ضرورت پڑنے پر جو طلاق دی جائے وہ طلاق بدعت اور مغلظہ نہیں بلکہ طلاق حسنہ ہونی چاہیے۔ انھوںنے کہا کہ الگ الگ تین بار طلاق کہنے کا حکم قرآن کریم کی بقرۃ، النساء نور اور طلاق نام کی سورتوں میںموجود ہے۔ ان کا بھی موقف یہی ہے کہ اگر کوئی قانون سازی ہوتو اس میں الگ الگ تین بار طلاق دینے کو ملحوظ رکھا جائے او رنکاح کی طرح طلاق کے وقت بھی گواہوں کا پروویژن ہو۔
ان ماہر خواتین کے تجزیوں اور آراء کی روشنی میںسپریم کورٹ کو یہ مشورہ ہے کہ طلاق کے تعلق سے ایشوز پر غور کرتے وقت ملک کی ایک بڑی تعداد میں رائج ایک بار میںتین طلاق کو عمومی طور پر مسترد کردینا چاہیے کیونکہ وہ غیر انسانی فعل ہے او رالگ الگ تین بار میں طلاق کی بنیاد پر قانون سازی کرنی چاہیے اور الگ الگ تین بار کے وقفہ پر بھی کوئی مناسب فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہندوستان میں اس طریقہ کے ماننے والوںاور اس پر عمل کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *