مسلم تنظیمیں شراب بندی کی تحریک میںپیچھے کیوں؟

au-asif-for-webحالانکہ ہندوستان کی چار ریاستوںگجرات، کیرل، ناگالینڈ اور منی پور کے علاوہ لکش دیپ یونین ٹیریٹوری میں شراب بندی پہلے سے نافذ ہے مگر ایک سال قبل یکم اپریل 2016 سے ریاست بہار میںشراب بندی لاگو ہونے سے یہ واقعی موضوع بحث بن گئی۔ اسے مزید زور اس وقت ملا جب سپریم کورٹ نے ہائی ویز پر شراب کی دوکانوں پر ہتھوڑا چلایا۔ اس کے بعد اترپردیش اور دیگر ریاستوں میںبھی شراب بندی کا مطالبہ ہونے لگا۔
پہلے چند ریاستوں اور یونین ٹیری ٹوری میں شراب بندی کا فیصلہ وہاںکی حکومتوں کا تھاجبکہ ہائی ویز پر شراب کی دوکانوںپر پابندی سپریم کورٹ کی طرف سے ہے۔ ان تمام پابندیوںمیںبہار میں شراب بندی اس لحاظ سے انوکھی ہے کہ یہاں نشہ بندی کی تحریک کو خواتین نے پروان چڑھایا اور اسے کامیاب کیا۔ اس ِمیں امارت شرعیہ پھلواری شریف کا بھی ہاتھ ہے۔ مگر حکومتی سطح پر کریڈٹ تو نتیش کمارکو جاتا ہے جنھوںنے اسمبلی انتخاب کے دوران وعدہ کیا تھا کہ کامیاب ہونے کے بعد شراب پرریاست بہار میںپابندی لگادیںگے۔ انھوںنے اس سلسلے میں اپنا انتخابی وعدہ واقعی پورا کیا۔ ان کے اس فیصلے میں خواتین نے ان کا ساتھ دیا۔ کچھ لوگوںنے نتیش کمار کے اس فیصلہ کو عدالت میںچیلنج کیا مگر انھیں وہاں کامیابی نہیں ملی۔ نتیش کمار کا یہ عزم تھاکہ انھوںنے یہاںتک کہہ دیا کہ جسے شراب بندی سے زیادہ پریشانی ہے، وہ بہار چھوڑ کر جاسکتا ہے۔ نتیش کمار کے اس فیصلہ سے ریاست بہار پر زبردست مالی خسارے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا مگر ان کے پاؤں پھسلے نہیںاور وہ اپنے پختہ ارادے پر جمع رہے۔
دراصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ حکومتیںشراب کو ریونیو کا بڑا ذریعہ مان لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو حکومت گاؤں گاؤںمیںپانی نہیںپہنچا پاتی ہے،وہ ان ہی گاؤ ں میںدیسی شراب کی دوکانیںیا اڈہ ضرور کھلوادیتی ہیں۔ شراب بندی کے تعلق سے دراصل ریونیو کا یہی اہم فیکٹر تھا جس کے سبب آندھرا پردیش، ہریانہ،میزورم اور تمل ناڈو جیسی ریاستوںمیں شراب پر پابندی عائد ہوئی مگر بعد میںیہ پابندی ہٹالی گئی۔ عیاںرہے کہ جب 1952 میںمجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن چکرورتی راجہ گوپال آچاریہ مدراس اسٹیٹ کے وزیر اعلیٰ بنے تو انھوںنے وہاں مکمل شراب بندی کا اعلان کردیا۔ راجہ جی جیسی شخصیت کو یہ فیصلہ زیب دیتا تھا۔ اس وقت مدراس اسٹیٹ میں کو سٹل آندھرا اوررائل سیما شامل تھے۔ بعد ازاں ریاست آندھرا پردیش بننے کے بعد یہ پابندی ختم ہوگئی۔ پھر 1994 میںتیلگو دیشم پارٹی کے بانی این ٹی راما راؤ نے پابندی لگائی۔ ریونیو کا مسئلہ اس وقت بھی آیاکہ مگروہ بھی راجہ جی کی مانند اخلاقیات اور اصولوں کے پابند تھے۔ لہٰذا وہ ذرا بھی اپنے فیصلے سے متزلزل نہیں ہوئے۔ مگر 1997 میں این چندرا بابو نائیڈو نے اسے یہ کہہ کر ختم کردیا کہ یہ پابندی اندرون ریاست اور سرحدوں کے باہر کمیوںیعنی لیکیج کے سبب کامیاب یا قابل عمل نہیںہے۔ اسی طرح ہریانہ میں جولائی 1996 سے شراب بندی تھی جسے بنسی لال کی وکاس پارٹی نے یکم اپریل 1998 سے اٹھا لیا۔ تمل ناڈو میںشراب بندی کا قانون مختلف ادوار میںرہا ہے جسے 2001 میں اٹھالیا گیا۔ میزورم میںشراب بندی 20 فروری 1997 سے نافذ تھی جسے 10 جولائی 2014 کو 17 برس کے بعد ختم کردیا گیا۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن ریاستوں میںشراب بندی کا قانون اوپر سے تھوپا گیا ، وہ کامیاب نہیں ہوپایا اور پھر وہاںریونیو فیکٹر نے اسے اور بھی مشکل بنادیا۔ اس لحاظ سے ریاست بہار کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ وہاںنشہ بندی میںخواتین نے بڑا ہی اہم کردار ادا کیا۔ امارت شرعیہ پھلواری شریف بھی اس میںمحرک رہی۔ خواتین ہوںیا امارت شرعیہ،دونوںکا موقف یہی تھا کہ یہ ایک ایسی سماجی برائی ہے جس سے گھر کا گھرتباہ ہوجاتا ہے۔ مگر یہ بات عجب لگتی ہے کہ ان مختلف ریاستوں میںجہاںشراب بندی کے تجربات ناکام ہوئے اور اسے ختم کرنا پڑا، وہاںشراب بندی کے قانون کے ختم ہوتے وقت وہاںکی خواتین نہ کچھ بولیں اور نہ ہی مسلم تنظیموںنے اس کے خلاف کوئی آواز اٹھائی۔ عیاں رہے کہ اسلام میںشراب ام الخبائث ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ مسلم تنظیموںمیںسے کسی نے بھی اسے کبھی اپنی کسی خصوصی مہم میںشامل نہیںکیا اور نہ ہی اس کے لیے باضابطہ کوئی تحریک چلائی۔ البتہ جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علماء ہند نے اپنی تنظیمی قرارداد میںاسے وقتاً فوقتاً رکھا۔ مگر ضرورت ہے شراب یا نشہ کے خلاف عوامی طور پر ماحول بنانے کی۔ اس سلسلے میںمسلم تنظیموں کو آگے آنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جب امارت شرعیہ پھلواری شریف ریاست بہار میںنتیش کمار کے فیصلے کے پیچھے کھڑے رہنے کا اعلان کرسکتی ہے اورکھڑی رہتی ہے تو دیگر مسلم تنظیمیںبہا راور دیگر ریاستوںمیں ایسا کیوںنہیںکرسکتی ہیں؟ یاد آتی ہے چند برس قبل جموںو کشمیر جماعت اسلامی کی مجلس نمائندگان کی یہ قرارداد کہ حکومت جموںو کشمیر کو ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے اس معاملے میں سبق سیکھناچاہیے جنھوںنے اس ام الخبائث پر پابندی لگا رکھی ہے۔ دراصل دیگر مسلم تنظیموں کو بھی اسی طرح اس ضمن میںآگے بڑھنا چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *