مرکز کی بی جے پی حکومت کانگریس کی نقل کر رہی ہے

پارلیمنٹ میں کچھ مفید بل اپوزیشن کی مدد سے پاس ہوئے اور کچھ بل (منی بل قرار دے کر) اپوزیشن کی مدد کے بغیرپاس ہوئے۔ یہ پارلیمانی جمہوریت اور جمہوری روایات کے لئے ٹھیک نہیں ہے، لیکن پارلیمنٹ کے کام میں روزانہ رکاوٹ پیدا کرنا بھی کسی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا، کل ملا کر پارلیمنٹ میں کچھ مناسب کام ہونے سے ملک کو فائدہ ہوا۔ جی ایس ٹی پر بھلے ہی تمام راضی ہو جائیں، لیکن اسے نافذ کرنا مشکل ہے۔ بہر حال، یہ بل یو پی اے کے ذریعہ لایا گیا تھا اور این ڈی اے کے ذریعہ پاس ہوا۔ لہٰذا، اس پر تمام فریقوں کی رضامندی رہی۔ دیکھتے ہیں، جب اسے نافذ کیا جاتا ہے تو یہ کیسے کام کرتا ہے۔ دوسرے ملکوں میں، جہاں جی ایس ٹی نافذ ہوا ہے، وہاں 7سال کے بعد رینیونیوٹرل ہوا۔ ہندوستان کے لئے 7سال ایک لمبا وقت ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن ٹیکس تعین کو آسان بنانا ہمیشہ قابل ستائش ہے۔ خاص طور پر صارف اور ٹیکس دہندہ کے زاویہ نگاہ سے۔ بدعنوان افسران کو مایوسی ہوگی، کیونکہ ان کے لئے پیسے بنانے کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ کل ملا کر جی ایس ٹی کو ٹیکس اصلاح کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن امریکہ میں جی ایس ٹی نہیں ہے، جبکہ یوروپ میں یہ نافذ ہے۔ اس کے نافذ ہونے کے ایک یا دو سال کے بعد ہی ہم اس کی کامیابی یا ناکامی پر تبصرہ کرپائیں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں برسراقتدارپارٹی اور اپوزیشن کے درمیان پچھلے دروازے سے کچھ سمجھوتہ ہوگا، تاکہ پارلیمنٹ کے لئے کچھ صحتمند مثال قائم کی جا سکے۔ ملک کو اس کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے ذریعہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہندوستانی کل بھوشن یادو کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ عام طور پر امن کے دور میں جاسوسوں کو سزائے موت نہیں سنائی جاتی ہے، اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ جاسوس ہیں۔ اس معاملہ کو لے کر بہت تنازعہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جاسوس نہیں ہیں۔ وہ وہاں عام پاسپورٹ اور ویزا پر گئے تھے، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ وہاں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے، ہمیں معلوم نہیں ہے۔ اس معاملہ میں حکومت کو اپنی پوری مہارت اپنانی چاہئے اور اگر ضرورت پڑے تو پاکستان پر دبائو بھی بنانا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس ان کے کچھ قیدی ہوں گے۔ ہم بات کر سکتے ہیں اوربغیر جانی نقصان کے قیدیوں کا لین دین کر سکتے ہیں، لیکن یہ وزارت خارجہ کے نوکرشاہوں کے علاوہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اور پی ایم او پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
کشمیر میں ہوئے ضمنی انتخابات میں صرف 7فیصد ووٹنگ ہوئی، جو گزشتہ 22سال میں سب سے خراب ووٹنگ ہے۔ لوگوں کو ووٹ دینے کو راضی کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کیا جانا چاہئے۔جموں و کشمیر میں غلام محمدبٹ کی قیادت والی جماعت اسلامی کے ایک دیگر لیڈر نے ایک بار کہا تھا کہ کشمیر کی سیاسی صورتحال سے انتخابات کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سلجھنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جب تک مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکل جاتا، تب تک معمولی سرگرمیاں چلتی رہنی چاہئے۔ لوگوں کو ووٹ دینا چاہئے، انہیں اپنے نمائندے کو چننا چاہئے، خواہ وہ پنچایت کے لئے ہو، اسمبلی کے لئے ہو یا پارلیمنٹ کے لئے ہو۔ لوگوں کو اپنی اپنی آواز پہنچانے کیلئے اپنے نمائندہ چننا چاہئے۔ مجھے اس میں کچھ بھی غلط نہیں لگتا اگر سیاسی جماعتیں اعلان کریں کہ ان کے انتخاب میں حصہ لینے سے کشمیر مسئلہ پر ان کے رخ میں کوئی بدلائو نہیں آئے گا اور یہ ہر فریق کے لئے قابل قبول ہوگا، لیکن اتنا خرچیلا چنائو کروانے پر بھی اگر اس میں صرف 7فیصد لوگ حصہ لیں، یہ یقینی طور پر ناقابل قبول ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ کشمیر پر حکومت پرو ایکٹیو رخ اپنائے گی اور پاکستان سے بیک چینل بات چیت شروع کرے گی اور مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرے گی۔
اتر پردیش انتخابات میں جیت کے بعد بی جے پی میں اور حکومت میں یہ سوچ بن گئی ہے کہ انھوں نے ہندوستان پر ہمیشہ کے لئے جیت حاصل کر لی ہے۔ یہ صورتحال کا غلط اندازہ ہے۔ راجیو گاندھی لوک سبھا میں 400سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ جیتے تھے، ان کے بعد ایسی جیت پھر کسی کو نہیں ملی ہے، لیکن صرف دو سال میں اس حکومت نے اپنی پوری معتبریت کھو دی تھی اور وہ 1989کا انتخاب ہار گئے تھے۔ اس حکومت کو بھی ایسے ہی دن دیکھنے پڑ سکتے ہیں، اگر یہ مستعد نہیں ہوئے۔ عوام اکثریت اس لئے دیتی ہے، تاکہ حکومت ملک کے لئے بہتر کام کر سکے۔ صرف اقتدار کا سکھ اٹھانے اور اکثریت پر اترانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ کل ملا کر موجودہ حکومت کانگریس کی نقل کر رہی ہے۔ خواہ منریگا ہو یا آدھار ۔ گووا میں جس طرح سے انھوں نے حکومت بنائی، وہ بھی کانگریس کی ہی نقل تھی۔لہٰذا، وہ کانگریس مکت ہندوستان چاہتے ہیں، لیکن لوگوں کو وہ کانگریس سے لیس پالیسی پیش کر رہے ہیں۔ متبادل سیاست کا سوال اب ختم ہو گیا ہے۔ دیکھتے ہیں آئندہ عام انتخابات میں یہ حکومت رائے دہندگان کو اپنی کون سی حصولیابیاں دکھاتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *