مدھیہ پردیش بے گھر لوگوں کی ہراسانی مزید بڑھے گی

damiشیوراج سنگھ چوہان نے 11 دسمبر 2016 کو ’’نرمدا سیوا یاترا ‘‘ شروع کی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نرمدا ماحولیاتی آلودگی ، نرمدا ریت کھدائی اور نرمدا پانی میں لگاتار کمی سے نرمدا کو بچانے کے لئے سرکار کے پاس روڈ میپ کیا ہے؟غیر قانونی کانکنی اورماحولیاتی آلودگی کی بڑھتی سطح اتنی خطرناک شکل لے چکی ہے کہ اسے سرکار کیسے روک پائے گی، کہنا مشکل ہے ۔ لیکن اسی کے ساتھ ہم دو اور ایشوز پر چرچا کریں گے۔ اس وقت مدھیہ پردیش میں چل رہے دو آندلنوں کی بھی بات کریں گے۔ ان دونوں آندولنوں پر بات کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ ان کا تعلق بھی نرمدا ماحولیاتی آلودگی سے ہے۔یہ دونوں ایشوز اس لئے اہم ہیں کیونکہ ان کا تعلق نقل مکانی سے بھی ہے۔
سب سے پہلے بات چوٹکا نیو کلیئر پاور پلانٹ کی۔ منڈلا ضلع کے چوٹکا میں نیو کلیئر پاور پلانٹ (بجلی) کی تجویز پاس ہو چکی ہے۔ اس کی صلاحیت 1400 میگا واٹ کی ہے۔ اس کے لئے دو پاور پلانٹ لگانے کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن مقامی لوگوں نے اس کی مخالفت کرنی شروع کر دی ہے۔ عوام کسی بھی قیمت پر نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں پاور پلانٹ لگے۔ یہ لوگ پوری طاقت سے اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ پلانٹ ان کے لئے دوبارہ نقل مکانی کا درد لے کر آئے گا ۔ منڈلا علاقے کے ڈیڑھ سو سے زیادہ گائوں 90کی دہائی میں برگی باندھ سے اجڑ چکے ہیں۔ آج تک انہیں نہ تو مناسب معاوضہ ملا ہے نہ ہی زمین۔ پہاڑ اور جنگلوں میں رہنے والے یہ لوگ آدیواسی طبقے سے آتے ہیں۔ نرمدا ندی اور برگی باندھ کے کنارے رہنے کے بعد آج بھی ان کے کھیتوں کو پانی نہیں مل پاتا ۔ ظاہر ہے کہ کھیتی سے جب ان کا گزربسر نہیں ہوگا تو نقل مکانی بھی کرنی ہوگی۔ اس لئے بڑی تعداد میں یہاں کے لوگوں کو زندگی گزارنے کے لئے نقل مکانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ پاور پلانٹ کی وجہ سے ایک بار پھر ان کے سر پر نقل مکانی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ لیکن یہ لوگ پھر سے نقل مکانی کرنے کا خطرہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ چوٹکا پاور پلانٹ سے تین گائوں نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایک گائوں کو رہائشی کالونی کے لئے اجاڑا جائے گا۔تقریبا ً20 کلو میٹر دائرے کے کئی گائوں اس سے متاثر ہوں گے۔
مجوزہ نیو کلئیر پاور پلانٹ کی مخالفت کے لئے’’ چوٹکا پاور پلانٹ سنگھرش سمیتی‘‘ کی تشکیل کی گئی ہے۔ لوگ احتجاج اور دھرنا کررہے ہیں۔ چوٹکا ، کونڈا اور ٹاٹی گھاٹ کی گرام پنچایتوں نے بھی تجاویز پاس کرکے اس کی مخالفت کی ہیں ۔چوٹکا پاور پلانٹ کی مخالفت میں مقامی آدیواسی طبقے لگاتار محاذ آرا ہیں۔ بھاری پولیس دستے کی موجودگی میں 17 فروری 2014 کو ماحولیاتی عوامی سنوائی ہوئی۔ مقامی لوگوں نے تحریری طور پر کام کی جگہ پر پہنچ کر مخالفت درج کرائی۔ دوسری طرف چوٹکا پاور پلانٹ کو آج تک ماحولیاتی منظوری نہیں ملی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی سرکار کے ذریعہ اراضی تحویلات کا ایوارڈ پیش کیا گیا ہے، جس کی تمام سرگرمیوں کا گرام سبھا کے ذریعہ اور ذاتی طور پر تحریر کی شکل میں اعتراض درج کرایا گیا ہے۔
آئین کے پانچویں شیڈول والے سیکٹروں کی گرام سبھائوں کو ترجیحات دی گئی ہیں۔نیز گرام سبھا کی منظوری سے ہی اراضی تحویل کا پروویژن ہے۔سرکار کے ذریعہ گرام سبھائوں کی تجویز کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔اس کی وجہ سے آدیواسیوں کے کلچر، وسائل اور سماجی شناخت سب کچھ ختم ہوتے جارہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ برگی باندھ سے متاثر خاندانوں کی آج تک معاشی و سماجی نوآبادکاری نہیں ہو سکی ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں نے صدر جمہوریہ ہند سے لے کر متلعقہ محکموں کو اس نیو کلیئر پاور ہائوس کے پروجیکٹ کو رد کرنے کی اپیل کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا کے کئی ملکوں میں نیو کلیئر پاور ہائوس بند کئے جارہے ہیں تب ہندوستان کے لئے یہ کتنا مناسب ہے؟منڈلا علاقے زلزلہ کے نقطہ نظر سے بھی انتہائی حساس خطہ ہے۔ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا اور نیشنل انوائرنمنٹ انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ ناگپور کے ذریعہ تیار رپورٹ میں اس حقیقت کو چھپایا گیا ہے۔ جبکہ سرکار کی ڈیساسٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ ، بھوپال کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے زلزلہ کے حساس علاقوں کی جو تفصیلات تیار کی گئی ہے، اس کے مطابق منڈلا اور جبل پور انتہائی حساس علاقے ہیں۔ 1997 میں اس علاقے میں زلزلہ آچکا ہے جس سے بڑی سطح پر تباہی مچی تھی۔ مجوزہ نیو کلیئر پاور پلانٹ ہر دن تقریباً 8 کروڑ ٹن میٹر پانی کا استعمال کرے گا۔ اس سے کرگی باندھی کی سینچائی کی صلاحیت کم ہوگی ۔آلودہ پانی سے باندھی اور زیادہ آلودہ ہوگا۔
دوسری طرف اس وقت مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد ضلع کے بابئی کے موہاسا صنعتی علاقے میں کوکاکولا کمپنی کے میگا پلانٹ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس پلانٹ سے 500 لوگوں کو سیدھے طور پر روزگار ملے گا۔ نرمدا کے قریب اس پلانٹ کے قائم ہونے سے مقامی لوگ نرمدا کے ممکنہ آلودگی کی بھی بات کررہے ہیں۔ اس لئے اس پلانٹ کی بھی مخالفت مقامی لوگوں نے کرنی شروع کردی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نرمدا کو کسی بھی قیمت پر آلودہ نہیں ہونے دیں گے۔ کوکا کولا کمپنی کو 110 ایکڑ زمین دی گئی ہے۔ کوکا کولا کمپنی نرمدا سے یومیہ لاکھوں لیٹر پانی نکالے گی۔ اس سے نرمدا کے پانی میں کمی آئے گی۔ فیکٹری کا آلودہ پانی ، زہریلے مادے نرمدا میں جائیں گے۔اس سے نرمدا آلودہ ہوگی۔ مقامی سطح پر مخالفت شروع ہو گئی ہے۔ یہاں کے مہو سا اور گوراڈیا موتی پنچایت میں کمپنی کے خلاف تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ مہوسا کے 10 گائوں میں لوگوں کا احتجاج سامنے آنے لگا ہے۔ لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اس میں نرمدا ندی سے پانی لیا جائے گا اور یومیہ 18 لاکھ لیٹر پانی کا استعمال کیا جائے گا۔ ایک لیٹر کول ڈرنگ بنانے میں پانچ لیٹر پانی کی بربادی ہوگی۔ بچے ہوئے زہریلے پانی کو بہا دیا جائے گا۔ اس سے خطہ کی کھیتی اور نرمدا ندی دونوں متاثر ہوںگے۔ کئی سال پہلے بھوپال کے پاس پیلو کھیری میں بھی کوکا کولا کا پلانٹ لگا تھا۔ وہاں آج پاروتی ندی خشک ہو چکی ہے۔ سوال ہے کہ ایٹمی بجلی کا متبادل کیا ہے؟ظاہر ہے ملک میں شمسی توانائی ، وائنڈ پاور جیسے متبادل بھی ہیں۔ آج ملک میں جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے، اس میں ایٹمی بجلی کی صرف تین فیصد ہی حصہ داری ہے۔بہر حال سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مدھیہ پردیش اسی طریقے سے نرمدا ندی کو آلودگی سے پاک بنائے گی۔
بے گھر لوگوں پر برے اثرات
بے گھر گائوں چوٹکا۔ ڈیولپمنٹ سیکشن نارائن گنج، ضلع منڈلا ، مدھیہ پردیش میں ہے۔ یہ ماضی میں نرمدا گھاٹی میں تعمیر 30 بڑے باندھوں کے تسلسل میں برگی باندھ، رانی آونتی بائی لادھی ساگر پروجیکٹ سے نقل مکانی کئے ہوئے ہیں۔ 1984 میں نیو کلیئر پاور کمیشن کا اسپیشل گروپ کے ذریعہ موقع کی جانچ ہوئی تھی۔ مرکزی سرکار کے ذریعہ اکتوبر 2009 میں اس کی منظوری دی گئی۔ اس نیو کلیئر بجلی گھر کا نیو کلیئر پاور آف کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعہ تعمیر کئے جانے اور زمین ، پانی اور بجلی وغیرہ کے لئے مدھیہ پردیش پاور پلانٹ کمپنی کو نوڈل ایجنسی بنایا گیا ہے۔ 700 میگا واٹ کی دو یونٹ سے 1400 میگا واٹ بنانے کے بعد جلد ہی دو یونٹ کی توسیع کرکے 2800 میگا واٹ بجلی بنانے کی تجویز ہے۔
موجودہ وقت میں حکومت کے ذریعہ اس پروجیکٹ سے برگی باندھ کے بے گھر گائوں چوٹکا ، ٹاٹی گھاٹ اور کونڈا کے تقریباً 350 خاندانوں کو دوبارہ بے گھر کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروجیکٹ کے تعلق سے 650 ہیکٹئر زمین اور 7 کلو میٹر کی دوری پر موجود گائوں سیمریا کے پاس ٹائون شپ کے تئیں 75 ہیکٹیئر زمین ایکوائر کرنے کی تجویز ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 16500 کروڑ کی ہے اور اس پلانٹ میں نیچرل یورینیم اور کچھ مقدار میں تھوریم کا استعمال کیا جائے گا۔ پلانٹ میں پانی برگی کے آبی ذخائر سے 128 کیوسک لیا جائے گا۔ پلانٹ کی جگہ سے 11 مربع کلو میٹر کے دائرے میں 54 آدیواسی گائوں میں تابکاری کا خطرہ اور آبی ذخائر میں کام کرنے والے 2000 مچھواروں کے خاندان کی زندگی مشکل میں آئے گی۔
برگی باندھ سے 162 گائوں بے گھر ہوئے ہیں جس میں منڈلا کے 95 سیونی کے 48 اور جبل پور ضلع کے 19 گائوں شامل ہیں۔ سینچائی اور بجلی پیداوار کے تعلق سے بنی برگی پروجیکٹ سے بے گھروں کو کم مقدار میں معاوضہ دے کر اپنی زمین سے بے دخل کر دیا گیا اور کسی طرح کی نوآبادکاری اور ریبائونڈ اسکیم لاگو نہیں کیا گیا۔ اس منصوبے سے متاثر ہونے والے 70 فیصد گونڈ آدیواسی طبقے کے لوگ ہیں۔ اس پروجیکٹ کو لے کر پانچویں شیڈولڈ والے گائوں ٹاٹی گھاٹ، چوٹکا ، کونڈا ، پاٹھا، پنڈرئی، سنگودھا، جھنجھ نگر اور مانے گائوں ڈیولپمنٹ سیکٹر نارائن گنج، ضلع منڈلا، مدھیہ پردیش گرام سبھا کے ذریعہ پروجیکٹ کے خلاف تجویز پیش کی ہے۔ اسی طرح پیپریا، پیپا ٹولہ اور گھوما ڈیولپمنٹ سیکٹر گھنسور، ضلع سدنی، مدھیہ پردیش گرام سبھا کے ذریعہ پروجیکٹ کے خلاف تجویز پیش کی گئی ہے۔ مانک سرائے، لال پور اور سنگوا ،ویجا ڈانڈی ، ضلع منڈلا ، مدھیہ پردیش کے پنچایت کے ذریعہ پروجیکٹ کے خلاف تجویز پیش کی ہے۔ اسی مخالفت کی وجہ سے 24 مئی اور 31جولائی 2013 کو اسٹیٹ پالیوشن کنٹرول بورڈ، جبل پور کے ذریعہ منعقد ماحولیاتی سنوائی ملتوی کرنی پڑی تھی۔ دوسری مرتبہ حکومت کے ذریعہ بھاری پولیس دستے کے سائے میں عوامی سنوائی 17 فروری 2014 کو منعقد کروائی گئی جس میں مقامی آدیواسی طبقے کے ذریعہ اعتراض درج کیا گیا۔
صرف سیوا یاترا کافی نہیں ہے
ایک رپورٹ کے مطابق نرمدا میں تقریباً 100 نالے ملتے ہیں۔ان نالوں میں آلودہ پانی کے ساتھ ساتھ شہر کا گندہ پانی بھی بہہ کر ندی میں مل جاتا ہے۔ اس سے نرمدا میں آبی آلودگی ہورہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے شہریوں سے آبی آلودگی روکنے کی اپیل تو کی لیکن یہ اپیل کام نہیں آرہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مدھیہ پردیش کے 16 ضلعوں سے گندے نالوں کا آلودہ پانی نرمدہ میں ملتا ہے۔ ہوشنگ آباد میں 29 نالے ہیں، منڈلا میں 16 اور جبل پور ضلع میں 12 بڑے نالے ہیں۔یہ نالے نرمدہ کی ماحولیات کو خراب کررہے ہیں۔ گندے پانی کے ساتھ ہی زہریلی اشیاء بھی نرمدا میں بہائی جاتی ہیں۔ ریاستی سرکار نے نرمدا کو آلودگی سے بچانے کے لئے پیسے بھی خرچ کئے لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *