فلم کو معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے آزاد رہناچاہئے: رچا چڈھا

damiاپنے تیز اور جرات مندانہ اداکاری کی وجہ سے بالی و وڈ میں الگ چھاپ چھوڑنے والی اداکارہ رچا چڈھااپنی سماجی زندگی میں جنسی تشدد اور جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتا رہتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سنیما کو معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیےآزاد ہونا چاہئے۔ رچا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کی اصل ذمہ داری سیاست اور پالیسی سازوں پرہے۔ رچا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “میں اس کا جھنڈابردار نہیں بننا چاہتی۔ سنیما کی معاشرے میں تبدیلی لانے کی ذمہ داری نہیں ہونا چاہئے۔ یقینی طور پر ایسی فلمیں بننی چاہئے جن کی کچھ مثبت سوچ ہو لیکن کسی کو اسے بوجھ کی طرح نہیں لینا چاہیے۔

رچا نے کہاکہ “کئی بار آپ صرف کوئی کہانی کہتے ہیں بجائے اس کے کہ یہ دکھائیں کہ اس میں کیا سبق چھپا ہوا۔ ہمیں اس طرح کے پیغامات کے لئے سیاستدانوں کی طرف دیکھنا چاہئے، جنہیں ہم اپنے نمائندے کے طور پر انتخاب کرتے ہیں، نہ کہ اداکاروں کی طرف ‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہمارے سیاستدان بامعنی پیغام دے رہے ہیں، تو ان کا جواب تھا، “بالکل نہیں اور یہی ایک چیز انہیں متحد بناتی ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں۔ وہ اب حوصلہ افزائی نہیں کرپارہے ہیںاور اسی لیے آج کا نوجوان کرکٹ کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور دیگر کھیل ستاروں سے زیادہ محرک ہو رہا ہے۔
یہ سب کہنے کے باوجود رچا مانتی ہیں کہ فلموں، فلم سازوں اور فلمی فنکاروں کو ذمہ دار ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ “ہمیں غیر اخلاقی کام نہیں کرنا چاہئے، جیسے ہمیں خواتین کی بری تصویر نہیں دکھانی چاہئے یا کسی خاص کمیونٹی کی خراب تصویر پیش نہیں کرنی چاہئے یا اس طرح کے گانے ‘’ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دلوالے ہیں‘ ‘ نہیں گانے چاہئے۔ ایسی چیزیں نہیں کرنی چاہئے، لیکن غیر ضروری دباؤ بھی نہیں ہونا چاہئے۔
رچا نے کہاکہ “جیسے جب ہم کسی قاتل یا برے شخص کی کہانی کہتے ہیں تو ہم پر جرم کے خوبیاں کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن ہم تو واقعی صرف ایک کہانی کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر دباكر بنرجی کی فلم ‘’ اوئے لکی، لکی اوئے‘ ‘سے فلم کیریئر کی شروعات کرنے والی رچا کو ’گینگ آف واسے پور‘ پھكرے ‘اور مسان ‘جیسی فلموں نے پہچان دلائی۔
رچا کہتی ہیں کہ فلمی ستاروں کو ذمہ داری دکھانی چاہئے، تاکہ وہ ایک بامعنی پیغام پھیلا سکیں۔ رچا تھوڑا شدید تیور اپناتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہالی ووڈ کے ستارے سماج کی خدمت کے کاموں کے لئے فرصت نکال لیتے ہیں، لیکن ہمارے یہاں فلمی آرٹسٹ ہمیشہ کسی جلدی میں رہتے ہیں۔ رچا کہتی ہیں، “میری خواہش ہے کہ ہمارے یہاں رایلٹی کا بندوبست ہو جائے یا اس طرح کچھ آرٹسٹ مستقبل کو لے کراپنے آپ کو محفوظ محسوس کرسکیں۔ کم از کم بیرونی فنکاروں کو اپنا پروموشن خود کرنا ہوتا ہے انہیں کمرے کے کرایہ، خاندان اور دیگر ذمہ داریوں کی فکر کرنی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان سب حالات کے درمیان آپ جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس کی تعریف ہونی چاہئے۔
جب رچا سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز میں اپنا تعاون دینا چاہیں گی تو انہوں نے اپنی آنے والی فلم میں شریک اداکارہ ہالی ووڈ کی ڈیمی مور کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ آپ کے ساتھ بچپن میں جو کچھ ہوتا ہے، آپ کی پوری زندگی پر اس کا اثر رہتا ہے۔ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *