طلاق ثلاثہ کے حق میں نہیں مسلم خواتین

muslimمسلم خواتین کے لیے طلاق ثلاثہ ایک ایسا عمل ہے ، جس کا براہ راست اثر اُس عورت پر پڑتا ہے جو شادی شدہ ہے او رکسی کی بیوی ہے۔طلاق کی صورت میں اس کا گھر خاندان اور بچے سب کی زندگی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے۔ طلاق کے ثلاثہ کے تعلق سے عورت کی اس بربادی پر ’چوتھی دنیا‘ نے بہت سی ایسی عورتوں سے بات چیت کی جو شادی شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس امر پر گہری نظر رکھتی ہیں اور انھوںنے اس سلسلے میں اسٹڈی اور سروے بھی کیاہے۔ ا س کے ساتھ ہی وہ قرآن و حدیث کے احکامات و ہدایات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ ان عورتوں سے بات چیت کرکے جو بات سامنے آئی ، اس کا لب لباب یہ ہے کہ مسلم خواتین طلاق ثلاثہ کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا ہے، جبکہ عدت کو ملحوظ رکھتے ہوئے الگ الگ تین بار طلاق دینے کے احکامات قرآن پاک کی مختلف سورتوں میںموجود ہیں۔ بات چیت کے دوران یہ نکتہ بھی سامنے آیاکہ ایک بار میں تین طلاق کی اجازت بہت ہی مخصوص حالات میںخود پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے دور میںایک ایک بار ہی دی گئی ہے۔ اس لیے وہ واقعے مستثنیٰ کہلائیں گے اور انھیںنظیر، یا دلیل کے طور پر نہیں لیا جاسکتا ہے۔ طلاق کے اس طریقہ کی وضاحت مشہور اسلامی محقق امام ابو حنیفہ کی ہے، جن کے ماننے والوں کی ہندوستان میں بڑی تعداد ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ مسلمانوںمیںتین طلاق کو پسند بھی نہیںکیا جاتا ہے، اس لیے اسے طلاق بدعت اور مغلظہ کہا جاتا ہے جبکہ تین الگ الگ وقتوںمیںعدت کے فرق کے ساتھ دی گئی طلاق کو طلاق حسنہ کہا جاتا ہے۔
ان ماہر خواتین کے تجزیوں اور آراء کی روشنی میں سپریم کورٹ کو یہ مشورہ ہے کہ مسلم خواتین سے متعلق سے ایشوز پر غور کرتے وقت، ملک کی ایک بڑی تعداد میں رائج ایک بار میںتین طلاق کو عمومی طور پر مسترد کیا جائے اور الگ الگ تین بار میں طلاق کی بنیاد پر قانون سازی کرنی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *