طلاق ثلاثہ ایشو پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف خوش آئند

au-asif-for-web’’اگر عدالت ایک ساتھ تین طلاق دینے والوںکے لیے کوئی سزا مقرر کرتی ہے یا کوئی تجویز پیش کرتی ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس کا خیر مقدم کرے گا۔ حضرت عمر ؓکے زمانے میں ایسے لوگوں کے لیے سزا کا نظام تھا۔‘‘آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کا گزشتہ 30 مارچ کو سپریم کورٹ کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کے معاملے کو پانچ رکنی بینچ کے حوالے کرنے اورمعاملے کے صرف قانونی پہلوؤںکا جائزہ لینے کے فیصلہ پر مذکورہ بالا رد عمل بروقت اور خوش آئند ہے۔ توقع ہے کہ اگر مسلم پرسنل لاء بورڈکا مجموعی طور پر یہی موقف رہتا ہے تو اس سے متعلقہ مسئلہ کو نمٹانے میںمدد ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جید عالم دین اور جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے بھی سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس جے ایس کھیہر کے ذریعہ طلاق ثلاثہ ، حلالہ اور تعدد ازدواج کے تعلق سے داخل پٹیشن پر سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرنے اور بحث کا حکم دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ جمعیتہ علماء ہندا س کے لیے تیار ہے کیونکہ سپریم کورٹ میںبحث کے دوران طلاق ثلاثہ ، حلالہ اور تعداد ازدواج کے تعلق سے قرآن و حدیث کے مطابق صحیح بات سامنے رکھنے کا موقع ملے گا۔ ویسے انھوںنے یہ بھی کہا ہے کہ اس انتہائی اہم ایشو پر سپریم کورٹ نے جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ بابری مسجد انہدام مقدمہ کے ملزمان کے خلاف مقدمات چلائے جانے اور دہشت گردی کے معاملوں میں بھی سماعت میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا جائے گا تاکہ برسوں سے انصاف کے انتظار میںبیٹھے لوگوںکی امید پوری ہوسکے اور دہشت گردی کے فرضی معاملوںمیںبرسوںسے جیلوںمیں بند مسلم نوجوانوںکو رہائی نصیب ہوسکے۔
ڈاکٹر الیاس اور مولاناارشد مدنی کے یہ ردعمل یقیناً مثبت پیغام دیتے ہیں۔ اس سے طلاق ثلاثہ کو لے کر جو آوازیں وقتاً فوقتاً اتھتی رہتی ہیں،وہ بند ہوسکیں گی۔ امید ہے کہ دیگر اکابرین اسلام و ملت بھی اسی طرح کی مثبت آراء کا اظہار کریںگے اور پھر اس تعلق سے یہ متنازعہ ایشو حل ہوجاسکے گا۔
دراصل 30 مارچ کو ہی مرکزی حکومت نے اس مسئلہ میںچار سوالات پیش کیے تھے۔ پہلا تھاکہ مذہبی آزادی کے حق کے تحت تین طلاق، حلالہ اور تعداد ازدواج کی اجازت آئین کے تحت دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ دوسرا تھا کہ مساوات کا حق اور عزت کے ساتھ جینے کا حق اور مذہبی آزادی کے حق میںسے کس کو ترجیح دی جائے؟ تیسرا سوال تھا کہ پرسنل لاء کو آئین کی دفعہ 13 کے تحت قانون تصور کیا جائے گا یا نہیں؟ اور چوتھا سوال تھا کہ کیا تین طلاق، حلالہ اور تعداد ازدواج ا ن بین الاقوامی قوانین کے تحت درست ہیں جس پر ہندوستا ن نے بھی دستخط کررکھے ہیں؟
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کے علاوہ بھی معاملہ سے متعلق کچھ فریقوں نے اپنے سوالات رکھے ہیں لیکن یہ تمام سوالات دوبارہ فریم کیے جائیں گے کیونکہ عدالت نے کہا ہے کہ تمام فریقین اپنے اپنے سوالا ت اٹارنی جنرل کو دے دیں، اس کے بعد ہی عدالت فیصلہ کرے گی کہ کن مسائل پر غور کیا جائے؟ مرکز کی جانب سے رکھے گئے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نے کہا ہے کہ یہ تمام سوالات آئینی مسائل سے متعلق ہیں اور آئینی بینچ کو ہی ان کی سماعت کرنی چاہیے۔ جب ایک خاتون وکیل نے شاہ بانومقدمہ میںسپریم کورٹ کے فیصلہ کے حشر کا ذکر کیا تو اس وقت بینچ نے کہا کہ کسی بھی مقدمہ کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں۔ ہم 40 برسوں سے معاملات میں فیصلہ کرتے ہیں،ہمیںقانون کے مطابق کام کرنا ہوگا، ہم قانون سے باہرنہیںجاسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کے معاملے میں جس سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ، وہ یقیناً کسی بھی فریق کو اعتماد میںلینے کے لیے کافی ہے۔ سپریم کورٹ کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے کہا کہ گر سرکار کا تعاون رہا تو ایام تعطیل میںبھی سماعت جاری رکھی جاسکتی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسے جلد نمٹانے کے لیے سبھی فریقین کا تعاون جاری ہے۔ اس دوران اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ اس عرصہ میں دیگر دو معاملوںمیں آئینی بینچوںکی سماعت ہونے سے سبھی جگہ جرح کرنے میں مشکل ہوگی۔ اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس جے ایس کھیہر نے کہا کہ اگر آج ہم اس معاملے پر سماعت نہیںکرسکے تو یہ معاملہ سالوںلٹکار ہے گا۔ ان کا اٹارنی جنرل سے یہ جملہ بڑا ہی اہم اور معنی خیز تھا کہ اگر آپ تعاون کرنا نہیںچاہتے ہیںتو بتائیں،پھر ہم پر یہ الزام نہ لگائیںکہ معاملہ سالہا سال سے زیر التوا ہے۔
عیاںرہے کہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کے معاملہ کو پانچ ججوں کی آئینی بینچ کے پاس بھیج دیا ہے۔ بینچ طلاق ثلاثہ، حلالہ اور تعداد ازدواج جیسے اسلامی طریقوںکا آئینی بنیاد پر تجزیہ کرے گی۔ معاملہ کی سماعت عدالت میںآئندہ 11 مئی سے ہوگی،چار دنوںتک معاملہ کی مسلسل سماعت ہوگی۔ اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طلاق ثلاثہ،حلالہ اور تعداد ازدواج کا معاملہ فیصلہ کن موڑ پر پہنچنے کو ہے۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس معاملہ میںمسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر علمائے کرام کی تائید و حمایت حاصل ہے اور کسی بھی طرح کا کوئی ٹکراؤ نہیںہے۔ لہٰذا امید کی جاسکتی ہے کہ مئی کے اواخر تک اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے آجائے گا جس پر پورے ملک کی نظر ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *