شام میں کیمیائی حملہ روسی ناکامی کے سبب ہوا‘

_95563966_5d408b3b-576c-463b-8b6f-2b7224f56e3aامریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں شامی حکومت کو کیمیائی حملہ کرنے سے باز رکھنے میں روس ناکام رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ روس نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا تھا کہ وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کو تباہ کرنے کو یقینی بنائے گا تاکہ وہ حملے نہ کریں۔ یاد رہے کہ شام کے علاقے خان شیخون میں گذشتہ ہفتے مبینہ کیمیائی حملے میں 89 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی حکومت نے کیا ہے جبکہ شامی حکومت اس کی ذمہ داری باغی فورسز پر ڈالتی ہے۔
ریکس ٹیلرسن نے یہ بات ایک ایسے وقت کی ہے جب پیر کے روز اٹلی میں جی۔7 ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہونے والی ہے۔ اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ روس کو شامی حکومت سے دور کرنے کے لیے دباؤ کیسے ڈالا جائے۔ اس اجلاس کے بعد امریکی وزیر خارجہ ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں وہ اپنے ہم منصب سرگئی لاوروو سے ملاقات کریں گے۔ ادھر شام نے کسی بھی کیمیائی ہتھیار کے استعمال سے انکار کیا ہے اور روس نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ روس شامی حکومت کا اہم اتحادی ہے اور اس نے 2013 میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے معاہدے میں مدد کی تھی۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ‘روس اس سازش میں شامل تھا یا وہ صرف نااہل تھا یا اسے دھوکہ دیا گیا شامی حکومت کی طرف سے، وہ بین الاقوامی برادری سے کیے جانے والے اپنے وعدے میں ناکام ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس نے شامی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی اور اس میں اس کی ناکامی کی وجہ سے زیادہ بچے اور معصوم لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *