سید افتخار گیلانی کا قلمی خاکہ مین اسٹریم میڈیا کے صحافی کی پذیرائی

damiہندوستان کے مسلم حلقہ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بین الاقوامی مین اسٹریم کے معروف صحافی سید افتخار گیلانی کو ان کی تقریباً 30 سالہ خد مات کے اعتراف میں ایک لاکھ روپے کا معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) کا بارہواں شاہ ولی اللہ ایوارڈ میمنٹو کے ساتھ دیا گیا ہے۔ افتخار معروف انگریزی روزنامہ ڈی این اے کے مدیر (اسٹریٹجک افیئرز) او رچیف نیشنل بیورو ہیں۔ یہ ملک میںانگریزی میں شائع ہورہے روزناموں میںواحد مسلم نیشنل بیورو سربراہ ہیں۔ یہ ایک درجن کے قریب اخبارات و رسائل اور ریڈیو و ٹی وی سے منسلک رہے ہیں۔ انھیں مذکورہ ایوارڈ اور میمنٹو گزشتہ 3 اپریل 2017کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کانفرنس ہال میںسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی کے ہاتھوںدیا گیا ہے۔ اس موقع پر سینئر انگریزی صحافی اور روزنامہ ’ٹریبون‘ کے سابق ایڈیٹر شاستری رام چندرن ، تسمیہ ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سید فاروق و دیگر اہم شخصیات و صحافی حضرات کے علاوہ آئی او ایس چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم موجود تھے۔ متعدد شخصیات نے اظہار خیال بھی فرمایا۔
افتخار گیلانی نے اپنی 30 سالہ صحافت کا آغاز فیچر سروس ’فانا‘ سے شروع کیا تھا۔کئی سو رپورٹیں، مضامین اور انٹرویوز کیے۔یہ بیرون ملک میڈیا کے بھی ہندوستان میںنمائندے رہے ہیں۔ یہ اپنی سنجیدہ، آبجیکٹو اور تحقیقاتی صحافت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس موقع پر تحریر و تصنیف کے لیے جونیر کٹیگری کا 25 ہزار روپے پر مبنی ایوارڈ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی استاد نشید امتیاز کو دیا گیا۔ نیز آئی او ایس کی شائع کردہ اور وائس آف امریکہ کے نئی دہلی میں نمائندہ خصوصی سہیل انجم کی تحریر کردہ کتاب ’دینی رسائل کی صحافتی خدمات‘ کا معروف اسکالر مولانا عبدالحمید نعمانی نے اجراء کیا۔

کشادہ پیشانی، اقبال مندی کی نشانی۔ آنکھوں میں چمک، ذہانت کی رمق۔ ستواں ناک، یعنی انتہائی بیباک۔ ہونٹوں پہ شادابی، رنگ قدرے گلابی۔ گول چہرہ، اوپری ہونٹوں پہ مونچھوں کا پہرہ۔ اوسط قد، خوبصورت خال و خد۔ چال ڈھال میں متانت، لہجے میں شائستگی و شرافت۔ مزاج میں کشمیریت، سادہ اور سلجھی طبیعت۔ کردار میں بلندی، فکر و خیال میں ہوش مندی۔ آبروئے صحافت، رپورٹنگ تجزیے و تبصرے میں مہارت۔ دورِ قحط الرجال میں صائب الرائے ہونے کی نشانی، صورت و سیرت سے خاندانی، اپنی ذات میں گنجینۂ معانی، نام ہے سید افتخار گیلانی۔
کشمیر کے سوپور میں 1967 میں پیدا ہوئے، احسن ساعتوں میں ہویدہ ہوئے۔ وہیں ابتدائی تعلیم پائی، پھر بیرونی دنیا کی راہ اپنائی۔ کشمیر یونیورسٹی سے بی ایس سی کیا، پھر آئی آئی ایم سی سے ماس کام میں پی جی کیا۔ ڈپلومیٹک رپورٹنگ کورس میں دوسری پوزیشن پائی، پارلیمانی رپورٹنگ میں خوب عزت کمائی۔ ریڈیو رپورٹنگ میں ٹریننگ کے لیے پا بہ رکابِ جرمنی ہوئے، پھر تو تجربات و مشاہدات کے دھنی ہوئے۔ ایک عرصے تک ریڈیو جرمنی کی آواز رہے، وائس رپورٹنگ میں صاحبِ سوز و ساز رہے۔ آپ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے صحافی ہیں، نوآموز صحافیوں کے لیے ایک چشمۂ صافی ہیں۔ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کی صحافت صفتِ اضافی ہے، آپ محتاج تعارف نہیں بس نام ہی کافی ہے۔ قلم کی حرمت دل سے عزیز ہے، باقی ہر بڑی چیز بھی ناچیز ہے۔ حق گوئی آپ کا طرۂ امتیاز ہے، جبھی تو قلم کو بھی آپ پہ ناز ہے۔ صحافتی قدریں آپ کی جان ہیں، حقیقی صحافت کی آپ پہچان ہیں۔ آپ مردِ میدانِ صحافت ہیں، صاحبِ جرأت و ہمت ہیں۔ ملی مسائل پر خوب لکھتے ہیں، بہ تقاضائے اسلوب لکھتے ہیں۔ حالات حاضرہ پر گہری نظر ہے، آپ کی نظروں میں ہر خبر ہے۔ ڈیلی نیوز انالیسس یعنی ڈی این اے میں ایڈیٹر اسٹریٹجک افیئرس اور چیف آف بیورو ہیں، گویا بازارِ صحافت میں روپیہ، ڈالر، درہم، دینار اور یورو ہیں۔ پاکستان کے روزنامہ دنیا کے کالم نگار ہیں، ہندوستان کے متعدد اخباروں کے لیے انتہائی باوقار ہیں، دورِ زوالِ صحافت میں بھی باعثِ افتخار ہیں، گویا موسمِ خزاں میں نوید بہار ہیں۔ تہلکہ سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں، خوب کھری کھری کہہ چکے ہیں۔ بیورو چیف کی حیثیت سے کشمیر ٹائمس کے دہلی میں نمائندہ رہے، بے اصولی صحافت کی گھنگھور تاریکی میں انجمِ تابندہ رہے۔ ڈیلی ٹائمس پاکستان کے کرسپانڈنٹ اسپیشل رہے، انوسٹی گیٹیو جرنلزم کے لیے پل بہ پل مائل رہے۔ فرائڈے ٹائمس لاہور، کشمیر لائف سرینگر، سہارا ٹائمس، خبریں گروپ، نوائے وقت گروپ، پانئیر، فانا اور مڈڈے بھی آپ سے فیض یافتہ ہیں، جن اخباروں کے لیے آپ نہیں لکھتے وہ بڑے ہی دل گرفتہ ہیں۔
آپ کے ریسرچ پیپرس نے خوب دھوم مچائی، حلقۂ اہل علم میں بڑی عزت پائی۔ آپ نے جموں و کشمیر میں شورش پسندی کی تاریخ کھنگالی، حالات و واقعات کے گہرے سمندر میں اتر کر ایک ایک چیز نکالی۔ کشمیر میں پریس کی آزادی کی تحقیق کی، ہر اہل نظر نے آپ کی باتوں کی تصدیق کی۔ ساوتھ ایشیا پالیسی نیٹ ورک انالیسس یعنی سپنا اور آئی ڈی ایس اے کے لیے آپ کی قابل ذکر خدمات ہیں، آپ کی خدمات یہیں تک محدود نہیں بلکہ شش جہات ہیں۔ ’’مائی ڈیز ان پریزن‘‘آپ کی لاثانی کتاب ہے، جو تجرباتِ جیل کے ذیل میں باب در باب ہے، تعصب و تنگ نظری کا دنداں شکن جواب ہے، مگر آجکل کمیاب ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ’’تہاڑ کے شب و روز‘‘ ہے، جو انتہائی لرزہ خیز اور دلدوز ہے۔ اس کتاب کی بڑی پذیرائی ہوئی، ساہتیہ اکیڈمی کے ذریعے بھی عزت افزائی ہوئی۔
صحافت ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا ہے، اُس کی مٹی بھی آپ کے نزدیک سونا ہے۔ صحافتی اداروں کے آپ محبوب ہیں، ان کو پسند آپ خوب ہیں۔ آپ کئی تنظیموں میں شامل ہیں، ان کے لیے دل کی دھڑکن نہیں بلکہ خود دل ہیں۔ پریس ایسو سی ایشن آف انڈیا کے نائب صدر رہے، یعنی اس ادارے کے لیے بڑے ہی قابل قدر رہے۔ پریس کلب آف انڈیا کی ایکزیکیٹیو کونسل کے ممبر رہے، اپنی سرگرمیوں کی بدولت دوسروں سے بہتر رہے۔ پارلیمنٹ کی پریس مشاورتی کمیٹی نے وقار بخشا، وائس چیئرمین کا منصبِ تابدار بخشا۔ لوک سبھا کی پریس کمیٹی اور غیر ملکی صحافیوں کے کلب کی شان رہے، جہاں بھی رہے ہر محفل کی جان رہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی کمیٹی نے بھی اپنایا، دلہی سینٹر فار میڈیا ریسرچ اینڈ پبلی کیشن ٹرسٹ نے اپنا ٹرسٹی بنایا۔ گویا آپ کی خدمات کا سب کو اعتراف ہے، ہر ایک کا دل آپ کے تعلق سے صاف ہے۔ ایوارڈوں سے آپ کی جھولی بھری ہے، آپ کی کشتِ صحافت انتہائی زرخیز اور ہری ہے۔
بالآخر دنیائے صحافت کے لیے باعث افتخار ٹھہرے، بااصول صحافت کے قافلہ سالار ٹھہرے، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے نزدیک باغِ صحافت کے گلِ گلزار ٹھہرے اور اسی لیے آپ شاہ ولی اللہ ایوارڈ کے بھی حقدار ٹھہرے۔ یہ ایوارڈ نہیں محبت کی نشانی ہے، اعترافِ خدماتِ افتخارِ گیلانی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *