سماج سے بچا کر ماں نے ماموں کے پاس بھیجا، اب سب انسپکٹر ہیں نويدا

naveda-mehar-Muslim-Police-Copsمدھیہ پردیش کے اندور شہر کے قریب آباد مہو کے چھوٹے سے گاؤں کیسر بڑی سے آنے والی مسلم لڑکی نویدا مہر اب مدھیہ پردیش پولیس میں سب انسپکٹر ہیں۔ نويدا مہر معاشرے کی پہلی لڑکی ہیں جنہوں نے محنت اور سماجی مخالفت کے بعد یہ مقام حاصل کیا۔ بھوپال کی بھنوری پولیس اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے نويدا مہر کی عزت افزائی کی۔
نویدا مہر نے بتایا کہ معاشرے میں لڑکیوں کو نہیں پڑھایا جاتا۔ ابھی تک معاشرے کی لڑکیوں کے علاوہ بھی کوئی بھی آدمی پولیس میں بھرتی نہیں ہو سکا۔ مہر معاشرے کے اثر و رسوخ رکھنے والوں نے بھی نويدا کی پڑھائی میں رکاوٹیں ڈالیں اور خاندان پر بھی نویدا کو پڑھائی چھوڑنے کے لئے دباؤ بنایا۔ لیکن نويدا نے گاؤں سے آٹھویں کا امتحان پاس کر اپنی ماں اور نانی کی مدد سے آگے کی تعلیم اندور میں اپنے ماما کے گھر پرائیویٹ امتحانات کے ذریعے مکمل کی اور پھر نويدا نے تاریخ رقم کی۔
اپنی بیٹی کو سب انسپکٹر بنا دیکھ کر نويدا کی ماں کی آنکھیں بھر آئیں۔ نويدا کی ماں بہت خوش ہیں، تو وہیں بہن نے کہا کہ مشکلات کا سامنا کر نويدا اس مقام پر پہنچی۔ نويدا کی بہن نے بتایا کہ معاشرے کے لوگ کہتے تھے کہ مسلم سماج میں لڑکیوں کو نوکری نہیں ملتی، اس لیے پڑھائی چھوڑ کر گھر بیٹھ جاؤ۔ اب پورے خاندان کو نويدا پر ناز ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *