سشیل مودی کا لالو پر الزام کیا ہوگا انجام؟

damiالزام تراشیوں کی لڑائی میںجہاں بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں آر جے ڈی ڈیمیج کنٹرول کرنے میں لگا ہوا ہے۔ دوسری طرف سیاسی تجزیہ نگاروںکا ماننا ہے کہ اس معاملے میںجے ڈی یو کی خاموشی ایک تیر سے دو نشانے لگانے جیسا ہے۔ ایک طرف وہ تیج پرتاپ اور تیجسوی کو کابینہ سے نکالنے کی سشیل مودی کی مانگ پر خاموشی اختیار کرکے آر جے ڈی کا حوصلہ بڑھانے میںمدد کررہیہے، تو دوسری طرف اسے یہ بھی امید ہے کہ آر جے ڈی اور بی جے پی کی لڑائی میں اسے فائدہ ہوگا۔
جمہوریت کے بارے میں علامہ اقبال کے ایک شعر کا خلاصہ یہ ہے کہ جمہوریت میںبندے کو گنا جاتا ہے، تولا نہیں جاتا ۔ یہی سبب ہے کہ جمہوری نظام میں کی جانے والی سیاست میں تمام جماعتیں، عوام کو متاثر کرکے انھیں اپنے حق میں کرنے کے لیے ہر وقت یہ کوشش کرتی ہیں۔ اسی لیے تمام جماعتیں اپنی حریف جماعتوں کو برا اور خود کو اچھا ثابت کرنے میں لگے رہتی ہیں۔ موجودہ دور کا بہترین نظام حکومت ہونے کے باوجود جمہوریت کی لمٹیشن یہ ہے کہ حقیقت کچھ بھی ہو، لیکن عام لوگوںکا پرسیپشن سیاسی جماعتوں کو اقتدار سونپنے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی عوامی حمایت حاصل کرنے میںاپنی ساری توانائی لگادیتی ہیں، بندے کو تولنے کی ضرورت انھیں نہیں پڑتی۔
لالو پر الزم
اس لحاظ سے دیکھیںتو بہار بی جے پی کے سینئر لیڈر سشیل کمار مودی قانونی طور پر یہ کبھی ثابت نہیںکرپائیںگے کہ لالو پرساد نے ریلوے منسٹر رہتے ہوئے کوچر برادران کو ریلورے کے دو ہوٹل دے کر فائدہ پہنچایااور اس کے بدلے کوچر برادران نے ڈیلائٹ مارکیٹنگ نام کی کمپنی کو پٹنہ کی دھڑکن کہے جانے والے بیلی روڈ (جواہر لعل نہرو مارگ) پر دو ایکڑ زمین دی۔ پھر اس زمین کو لالو پرساد کے خاندان کے افراد کو منتقل کردیا گیا۔ حالانکہ سشیل مودی نے اپنی سرکار کی ریلوے منسٹری سے اپیل کرنے کی بات کہی ہے کہ وہ لالو پرساد کے ذریعہ مبینہ کوچر برادران کو فائدہ پہنچانے کی جانچ کرے۔ سشیل مودی اپنے دعوے کی سچائی کسی بھی قیمت پر ثابت نہیںکرسکتے، اس کی وجہ لالو پرساد کے اس جواب میںہے، جسے انھوںنے پریس کانفرنس کرکے دیا تھا۔ لالو نے پانچ صفحات کے اپنے جواب میںجو دلیلیںدی ہیں، ا س کے مطابق 1999 میں اٹل بہاری واجپئی کی سرکار نے ریلوے کے لیے ایک کارپوریشن آئی آر سی ٹی سی کی تشکیل کی تھی۔
آئی آر سی ٹی سی اپنے ہوٹلوں اوریاتری نواسوں کو پندرہ سال کے لیے لیز پر نجی پارٹیوں کو منتقل کرتی ہے۔ اس کے لیے وہ اوپن بیڈ نکالتی ہے او رجس پارٹی کے ذریعہ سب سے زیادہ بولی لگائی جاتی ہے،اسے ہوٹل یا یاتری نواس سونپ دیا جاتا ہے۔ اس طرح کوچر برادران کو جو دو ہوٹل لیز پر ملے وہ تکنیکی اور قانونی عمل کے معیار کے مطابق ملے۔لالو نے یہ بھی کہا کہ آئی آر سی ٹی سی آزاد ادارہ ہے اور اس میںبطور ریلوے منسٹر انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی اور نہ ہی وہ کرسکتے تھے۔ لالو نے پریس کانفرنس میںیہ بھی بتایا کہ کوچر برادران نے ہوٹل کے الاٹمنٹ سے 22 ماہ قبل ڈیلائٹ مارکیٹنگ کو بیلی روڈ کی زمین بیچی تھی۔ تب یہ کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ آئی آر سی ٹی سی اپنے ہوٹلوں اور یاتری نواسوں کو کھلے ٹینڈر کی بنیاد پر نجی کمپنیوں کو الاٹ کرنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لالو نے اس تکنیکی اور قانونی عمل کو بھی سمجھایا کہ مقررہ قوانین اور قیمت کے مطابق کوچر برادران سے ڈیلائٹ مارکیٹنگ کمپنی نے زمین حاصل کی تھی۔ یہ باتیں سمجھانے کے بعد لالو نے سشیل مودی سے سوال پوچھا کہ کیا کوچر برادران کو 22 مہینے قبل یہ خواب آیا تھا کہ آئی آر سی ٹی سی ہوٹلوں کا الاٹمنٹ کرے گی؟
سشیل مودی کے ذریعہ لالو کے خاندان ، جس میں نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو، وزیر صحت تیج پرتاپ یادو اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی شامل ہیں، پر الزام لگایا گیا تھا کہ ڈیلائٹ مارکیٹنگ نے دو ایکڑ زمین کی ملکیت انھیں سونپ دی۔ اس زمین پر بہار کا سب سے بڑا مال زیر تعمیر ہے۔ مودی کے الزام اور اس پر لالو کے حقائق پر مبنی جواب سے یہ طے ہے کہ مودی اپنے الزامات کو شاید ہی قانونی طور پر ثابت کرسکیں، لیکن یہ بھی طے ہے کہ انھوںنے لالو خاندان کے خلاف ایک رائے تیار کرنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب رہے۔ حقیقت کچھ بھی ہو۔ سشیل مودی کے ذریعہ لالو خاندان کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے متعدد الزام لگائے گئے تھے جن کے جواب لالو پرساد نے پوائنٹ وائز دیے ہیں۔ اس کا مشاہدہ’ باکس‘ میںکیا جاسکتا ہے۔
الزامات کے ممکنہ اثرات
یہاںہم مودی کے الزامات کے پیچھے کی حکمت عملی اور بہار کی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات کی گتھیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سشیل مودی نے بڑے اسٹریٹجک کے طور پر ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ اس میں انھوں نے ایک اہم الزام لگایا، جس میںانھوںنے نہ تو لالو پر سیدھا نشانہ لگایا اور نہ ہی ان کے نائب وزیر اعلیٰ بیٹے تیجسوی یادو پر۔ ان کا سیدھا حملہ تیج پرتاپ یادو پر تھا، جو وزیر صحت کے علاوہ وزیر برائے امور جنگلات اور ماحولیات بھی ہیں۔ مودی نے کہا تھا کہ لالو کے خاندان کی زمین پر آر جے ڈی رکن اسمبلی ابو دوجانہ کی کمپنی کے ذریعہ مال بنایا جارہا ہے۔ اس زمین سے کھودی گئی مٹی پٹنہ کے چڑیا خانہ کو 90 لاکھ روپے میںبیچی گئی، وہ بھی بغیر ٹینڈر کے۔ اس طرح تیج پرتاپ یادو نے اپنے محکمہ کے وزیر کے طور پر 90 لاکھ روپے کا فائدہ خود اٹھالیا۔
اس پریس کانفرنس میں مودی نے اسٹریٹجیکلی تیج کو لپیٹا۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ تیج پرتاپ یادو تیز ردعمل دیتے ہیں۔ مودی کی امید کے مطابق تیج نے تیز ردعمل دیا اور کہا کہ مودی پر وہ ہتک عزت کا معاملہ ٹھوکیںگے۔تیج کے اس تیز ردعمل کے بعد لالو کچھ سمجھتے یا بولتے، تب تک ہنگامہ کھڑا ہوچکا تھا۔ لالو پرساد کو شایدمودی کی اسٹریٹجی کا پتہ نہیںتھا، اس لیے انھوں نے اس مدعے کو سنجیدگی سے نہیںلیا۔ انھوںنے اس معاملے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے جواب میںیہ کہہ ڈالا کہ چڑیا خانہ کو تو وہ مفت میںاپنی گایوں کا گوبر دیتے ہیں، البتہ اگر کسی کو شک ہوتو اس معاملے کی جانچ کرالی جائے۔ لیکن اس کے بعد ایک دن کا گیپ دیتے ہوئے مودی نے دوسری پریس کانفرنس کی اور پھر الزامات کی جھڑی لگادی، (جن کا’ باکس‘ میںذکر ہے)۔ اس کے ساتھ ہی صحافیوں کو آف دی ریکارڈ یہ بھی بتایا کہ ابھی ان کے پاس الزامات کا اور بھی پلندہ ہے، جسے وہ آگے اجاگر کرتے رہیںگے۔ مودی کی دوسری پریس کانفرنس کے بعد لالو ان کی اسٹریٹجی سمجھ گئے او رخاموشی اختیار کرلی۔ ان کی یہ خاموشی لگاتار پانچ دنوںتک جاری رہی۔ اس بیچ سشیل مودی ایک پرایک الزام منڈھتے رہے۔ لیکن پانچویں دن لالو پرساد نے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کردیا، جس سے یہ اندازہ ہوگیا کہ وہ پوری تیاری کے ساتھ مودی کے الزامات کا جواب دینے والے ہیں۔
لالو کے جواب ’باکس‘ میں دیے گئے ہیں، لیکن یہاںاس بات کا ذکر ضروری ہے کہ آرگینک گارڈن کو مبینہ طور پر 90 لاکھ کی مٹی بیچنے کا جو الزام مودی نے لگایا تھا، اس کے جواب میںلالو نے یہ کہا کہ آرگینک گارڈن کو ایک روپے کی مٹی نہیںبیچی گئی۔ مال کی زمین سے نکلی مٹی دانا پور قبرستان کو دی گئی۔ لالو کے اس جواب پر سشیل مودی نے خاموشی اختیار کرلی۔ انھوں نے پھر 90 لاکھ کی مٹی بیچنے کے الزام کو نہیںدوہرایا اور مال و زمین پر اپنے حملہ کو شفٹ کردیا۔ لالو نے سوال کھڑا کیا کہ مودی ہٹ اینڈ رن کا طریقہ اپنا رہے ہیں۔ انھوںنے طنزیہ لہجہ میںکہا، دیکھا نہ جواب ملنے کے بعد اب مودی مٹی کے معاملے میںچپ ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میںمودی کی خاموشی شک بڑھانے والی ہے۔ اگر حقیقت میںبغیر ٹینڈر کے مٹی بیچنے کی حقائق پر مبنی اطلاع مودی کے پاس تھی، تو انھیںلالو پرساد کے جواب پر اپنی بات کہنی چاہیے تھی۔
پریم گپتا کی وضاحت
مودی کے ذریعہ لالو کے خاندان پر لگائے گئے الزاموں کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جس ڈیلائٹ مارکیٹنگ کمپنی سے لالو کے خاندان کو زمین منتقل کرنے کا الزام مودی نے لگایا تھا، وہ کمپنی پریم گپتا کے خاندان کے افراد کی تھی۔ پریم گپتا لالو کے خاصے قریبی اور آر جے ڈی کے راجیہ سبھا ممبر رہے ہیں۔ آر جے ڈی جب مرکزی سرکار کا حصہ تھا، تب پریم گپتا کمپنی معاملوںکے وزیر تھے۔ لہٰذا مودی کے الزاموںکا جواب دینے جب لالو پریس کے سامنے آئے تووہ پریم گپتا کو بھی ساتھ لائے۔ پریم گپتا نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جب بہار میں کام کرنے کا ماحول نہیںتھاتو کمپنی کے ڈائریکٹروں نے 2008 میں قاعدے قانون پر عمل کرتے ہوئے (ایل ایل پی) لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنر شپ کے تحت ڈیلائٹ مارکیٹنگ کو لارا پروجیکٹس میںبدل دیا، جس کے شیئر رابڑی دیوی، تیج پرتاپ یادو اور تیجسوی یادو کے پاس ہیں۔ پریم گپتا نے صحافیوں کو یاد دلایا کہ یہ معاملہ 2008میں بھی اٹھایا گیا تھا۔ پریم گپتا نے اس لیڈر کا نام نہیںلیا جس نے اس معاملے کو 2008 میں اٹھایا تھا۔
دراصل 2008 میں اس معاملے کو للن سنگھ نے اٹھایا تھا،جو جے ڈی یو کے لیڈر ہیں اور نتیش کابینہ میںکابینہ درجہ کے وزیر ہیں۔ دھیان رکھنے کی بات یہ ہے کہ 2008 میںنتیش اور لالو سیاسی طور پر ایک دوسرے کے مخالف تھے، لیکن اب جب اس معاملے کو بی جے پی کے لیڈروں نے اٹھانا شروع کیا ہے، تو جے ڈی یو بالکل خاموش ہے۔ ظاہر ہے کہ جے ڈی یو اور آر جے ڈی گٹھ بندھن کی سرکار کا حصہ ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کا الگ وجود ہے۔ایسے میںبی جے پی اور آر جے ڈی کی الزام تراشیوں کی لڑائی سے جہاں بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے،وہیںآر جے ڈی ڈیمیج کنٹرول کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ دوسری طرف سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے میںجے ڈی یو کی خاموشی ایک تیر سے دو نشانے جیسی ہے۔ ایک طرف وہ تیج پرتاپ اور تیجسوی کو کابینہ سے نکالنے کی سشیل مودی کی مانگ پر خاموشی اختیار کرکے آر جے ڈی کے حوصلہ کو مضبوط بنائے رکھنے میںمدد کررہا ہے، تو دوسری طرف اسے یہ بھی امید ہے کہ آر جے ڈی اور بی جے پی کی لڑائی میںاسے فائدہ ہوگا۔
سشیل مودی کے الزام اور لالو کی صفائی
سشیل مودی :تیج پرتاپ اور تیجسوی یادو کی زمین پر بننے والے مال کی زمین سے مٹی نکال کر اسے پٹنہ کے آرگینک گارڈن کو بیچا گیا۔ اس کے لیے کوئی ٹینڈر بھی نہیںنکالا گیا او ربدلے میںآرگینک گارڈن سے 90 لاکھ روپے لیے گئے، جس کا فائدہ تیج پرتاپ کو ہوا۔ تیج پرتاپ جنگلات اور ماحولیات کے وزیر بھی ہیں۔
لالو پرساد:جس مال کی زمین سے مٹی نکال کر بیچنے کی بات کہی جارہی ہے، اس زمین سے ایک روپیہ کی مٹی بھی آگینک گارڈن کو نہیںبھیجی گئی۔ مودی کا الزام من گھڑت ، بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔
سشیل مودی: لالو نے ریلوے وزیر رہتے ہوئے کوچر برادرس کو ریلوے کے دو ہوٹل اونے پونے دام میں بیچ دیے او راس کے بدلے اس سے دو ایکڑ زمین لے لی۔
لالو پرساد: سشیل مودی نے جس زمین کی بات کہی ہے، وہ زمین2005 میںکوچر برادرس نے ڈیلائٹ کمپنی کو دی تھی۔ا س کے 22 مہینے بعد ریلوے کے ذریعہ باجپئی سرکار کے دور میں آئی آر سی ٹی سی (ریلوے کی خود مختار کارپوریشن) نے اوپن بیڈ کے تحت ریلوے سے ہوٹل کی لیز حاصل کی تھی۔ کوچر نے اوپن بیڈ میں تمام بیڈرس سے زیادہک کی بولی لگائی اور بھاری کمپٹیشن کے بعداسے 15 سال کی لیز آئی آر سی ٹی سی نے دی۔آئی آر سی ٹی سی کے کام میںریلوے منسٹر کا کوئی دخل نہیںہوتا۔ یہ ڈیل تمام قاعدے قانون کے تحت ہوئی۔کوچر کو ہوٹل بیچا نہیںگیا۔ ایسے میںمودی کا الزام بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔
سشیل مودی: ڈیلائٹ کمپنی کو رابڑی، تیجسوی، تیج اور چندا یادو (بیٹی) نے لارا پروجیکٹس نامی کمپنی بنائی اور اس سے دو ایکڑ زمین اونے پونے دام میںخرید لی۔
لالو پرساد: میرے خاندان کے کسی فرد کے نام پر بیلی روڈ کی زمین ہے ہی نہیں۔ ڈیلائٹ کمپنی 2007 کے کمپنی ایکٹ ایل ایل پی کے تحت لارا پروجیکٹس کا حصہ ہوگئی۔ ا س کمپنی میں شریمتی رابڑی دیوی کا حصہ تھا، جس کے شیئر انھوں نے تیج اور تیجسوی کو دیے۔ ڈیلائٹ کمپنی کا قیام 1981 میں پریم گپتا اور ان کے خاندان نے مل کر کیا تھا۔ لیکن پریم گپتا کے خاندان والوں نے اس کے شیئر کی منتقلی انکم ٹیکس، کمپنی لاء اور تمام قانونی عمل کے بعد ایل ایل پی کمپنی بنائی۔ بیٹی چندا یادو کا نام اس معاملے میں مودی نے گھسیٹا ہے جبکہ ان کا اس کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
سشیل مودی: نتیش کابینہ میںرہتے ہوئے تیج اور تیجسوی پرساد بدعنوانی میں ملوث ہیں، ایسے میںانھیںوزیر کے عہدہ سے ہٹایا جائے۔
لالو پرساد: لارا پروجیکٹس کی زمین پر میریڈین نامی کمپنی مال بنوارہی ہے۔ قاعدے کے مطابق اس میںتعمیر کا سارا خرچ اسے اٹھانا ہے اور بدلے میں اسے مال کا آدھا حصہ ملے گا۔ اس میںایک پیسہ میرے خاندان کا نہیںلگ رہا ہے۔ بزنس ماڈل میںکاروبار ایسے ہوتا ہے، یہ دنیا کو پتہ ہے۔ اس زمین کے بارے میں سارا ریکارڈ تیج پرتاپ اور تیجسوی یادو نے الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن کو سونپا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دونوںنے وزیر بننے کے بعد سی ایم نتیش کمار کو بھی اپنی جائیداد کی پوری جانکاری دی تھی۔ ا س معاملے میںبھی جھوٹے الزام لگا کر سشیل مودی خود اپنی جگ ہنسائی کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *