سات لاکھ عہدے خالی، بھرتی میں 90فیصد کمی کیسے دور ہوگی بے روزگاری ؟

damiگھوٹالوں میں پوری طرح ڈوبی کانگریسی سرکار کا مرکز سے صفایا، اچھے دنوں کی آہٹ کے ساتھ ہوا تھا۔ انہیں بھی اچھے دنوں کا خواب دکھایا گیا تھا جن کے پاس روزگار نہیں تھا۔لیکن ان کے اچھے دن کیسے آئیں گے جن کے پاس اب بھی نوکری نہیں ہے اور وہ سرکار اچھے دن کیسے لائے گی جو خود کہہ رہی ہے کہ سال در سال نوکریوں میں کمی آتی جارہی ہے۔

29مارچ کو جب ملک لوک سبھا سے جی ایس ٹی کو منظوری مل جانے کی خوشیاں منا رہا تھا ،اسی دن پارلیمنٹ سے ہی ملک کے موجودہ اور مستقبل کی سمت و حالت بتانے والی ایک اور خبر آئی ۔ لیکن اس دن یا اگلے دن کی خبروں میں بھی اتنی جگہ نہیں جتنی جگہ جی ایس ٹی کو ملی تھی۔ حالانکہ جی ایس ٹی کی کامیابی بھی اسی پر ٹکی ہے،کیونکہ جب روزگار ہی نہیں رہے گا تو پھر ٹیکس کہاں سے آئے گا۔ 30 مارچ کو لوک سبھا میں ہی سرکار نے سیاسی پارٹیوں کی کمائی میں اڑنگا ڈالنے والے راجیہ سبھا کے ان پانچ ترامیم کوخارج کر دیا، جن میں سے ایک میں سیاسی چندے کی حد کو کمپنیوں کے فائدے کا 7.5 فیصد تک کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن یہ تب بھی کسی کے لئے بڑی تشویش کی بات نہیں تھی کہ عوام کی کمائی کیوں کم ہو رہی ہے؟کیا وجہ ہے کہ سال در سال نوکریوں میں کمی آتی جارہی ہے ؟کیا وجہ ہے کہ روزگار پیدا کرنے کے لئے لئے بنائی گئی تمام اسکیمیں فلاپ ثابت ہو رہی ہیں؟
دراصل 30 مارچ کو منسٹر آف اسٹیٹ فار پرسنل اینڈ ٹریننگ جتندر سنگھ نے لوک سبھامیں کچھ ایسے اعدادو شمار پیش کئے ، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ روزگار پیدا کرنے کے نقطہ نظر سے مودی سرکار اپنے دور کار کے سب سے برے دور سے گزر رہی ہے۔ وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سال 2013 کے مقابلے میں 2015 میں مرکزی سرکار کی سیدھی بھرتیوں میں 89 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ موجودہ وقت کے لحاظ سے اسے ایک خطرناک اعدادو شمار کہا جاسکتا ہے، کیونکہ ہندوستان ابھی بے روزگاری کے ایک برے دور سے گزر رہا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ مرکز کے ذریعہ سیدھی بھرتیوں کے اعدادو شمار میں سال در سال کمی آتی جارہی ہے۔ 2013 میں مرکزی کے ذریعہ سیدھی بھرتیوں کے ذریعہ154841 لوگوں کو روزگار ملا تھا، جو 2014 میں کم ہوکر 126261 رہ گیا ۔ 2015 میں اس میں زبردست گراوٹ آئی اور مرکز کی طرف سے کی جانے والی بھرتیوں کے توسط سے صرف 15877 لوگ ہی روزگار پا سکے۔ نوکریوں کی یہ تعداد مرکزی سرکار کے 74 محکموں کو ملا کر ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ حاشئے پر پڑے ان لوگوں کے لئے روزگار پیدا کرنے میں بھی بھاری کمی آئی ہے، جنہیں ہر سرکار اپنا رہنما بتاتی رہی ہے۔ اسی دوران شیڈولڈ کاسٹس و شیڈولڈ ٹرائبس اور دیگر پسماندہ برادریوں کو دی جانے والی نوکریوں میں 90 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔سال 2013 میں ان برادریوں کے 92928 لوگوں کو مرکز کی طرف سے دی جانے والی نوکریوں میں بھرتی ہوئی تھی، جو 2014 میں گھٹ کر 72077 ہو گئی، جبکہ 2015 میں ایسی نوکریاں دھڑام سے گریں اور ان کی تعداد صرف 8436 ہو گئی۔
اس سے پہلے بجٹ سیشن میں ہی سرکار کے ایک دیگر وزیر نے بھی اس طرف ایوان کا دھیان دلایا تھا۔ مرکزی اسکیم کے وزیر مملکت راوت اندر جیت سنگھ نے اعدادو شمار کے ذریعہ ایوان کو بتایا تھا کہ بے روزگاری کے اوسط میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ 6فروری کو راجیہ سبھا میں اضافی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے رائو اندرجیت سنگھ نے جانکاری دی تھی کہ موجودہ وقت میں بے روزگاری کا اوسط پانچ فیصد کو پار کررہا ہے، جبکہ شیڈولڈ کاسٹ کے درمیان بے روزگاری کا اوسط نارمل زیادہ یعنی
5.2 فیصد ہے۔ وزیر نے ہی بتایا تھا کہ جو بے روزگاری اوسط آج 5فیصد ہے وہ 2013 میں 4.9 فیصد ، 2012 میں 4.7فیصد اور 2011 میں 3.8 فیصد تھا۔ وہیں 2011 میں شیڈولڈ کاسٹ کے درمیان بے روزگاری کا یہ اوسط 3.1 فیصد تھا جو کہ آج 5.2 فیصد ہے۔
روزگار دینے کے معاملے میں سرکار کے دعوئوں اور سچائی کی جانچ کریں تو اس میں بھی حقائق کچھ اور ہی نظر آتے ہیں۔ اس بار کے بجٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سرکار نے 2 لاکھ 80 ہزار نوکریوں کے لئے بجٹ تجویز کیا ہے۔ سرکار کی طرف سے اسے نوکریوں کی باڑھ کہا گیا۔ انکم ٹیکس محکمہ میں سب سے زیادہ نوکریوں کی بات کہی گئی تھی۔ اس محکے میں نوکریوں کی تعداد 46 ہزار سے بڑھ کر 80 ہزار کئے جانے کی بات تھی۔ اس میں کہا گیاتھا کہ ایکسائز محکمہ میں بھی 41 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیںگی۔ لیکن وزیر مملکت برائے پرسنل اینڈ ٹریننگ جتندر سنگھ کے ذریعہ لوک سبھا میں بتائے گئے اعدادو شمار اس میں شک پیدا کرتے ہیں کہ اس بجٹ میں جتنی نوکریوں کی بات کہی گئی ہے، وہ زمین پر اتر پائیںگی؟ دو برسوں کے اندر جب مرکزی سرکار کی نوکریوں میں 89 فیصد کی کمی ہو سکتی ہے تو پھر کیسے مانیں کہ سرکار نوکریوں کی باڑھ لانے والی ہے۔ ان دعوئوں پر چرچا کے درمیان یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ مرکزی سرکار کے ہی ایکسائز محکمہ میں گزشتہ 8سالوں کے دوران محض 25 ہزار بھرتیاں ہوئی ہیں۔ 2006 سے 2014 کے دوران ایکسائز محکمہ میں صرف 25,070 لوگ نوکریاں پا سکے۔
کسی ایک محکمہ کے ذریعہ سب سے زیادہ نوکریاں دینے کے معاملے میں ریلوے اول ہے۔لیکن موجودہ وقت میں روزگار پیدا کرنے کے لحاظ سے اس کی بھی حالت خستہ ہے ۔ حال میں ہوئے یو پی انتخابات کی تشہیر کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ گزشتہ ایک سال سے ریلوے نے ایک لاکھ لوگوں کو نوکری دی ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ ریلوے کی وکنگ کیپی سیٹی کو لے کر ضروری لوگوں کی تعداد کو 2014 کے مقابلے میں 2015-18 کے لئے کم کردیا گیا ہے۔ وہ بھی دو لاکھ سے زیادہ، اس بار کے بجٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ یکم جنوری 2014 کو ریلوے کی منظور شدہ کیپی سیٹی 15,57,000 تھی، جسے 2015-18 کے لئے 13,26,437 سے لے کر 13,31,433 کر دیاگیا ہے۔ اس میں دھیان دینے والی بات یہ بھی ہے کہ 2014 میں جب ریلوے کو 15,57,000 لوگوں کی ضرورت تھی، تب بھی یہاں 13,61,000 لوگ ہی کام کررہے تھے۔
حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ سرکار کے پاس ویکنسی نہیں ہے یا لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ نوکریوںکے لئے پوسٹ خالی پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی بحالی نہیں ہو پا رہی ہے اور بڑی تعداد میں نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں۔ پرسنل اینڈ ٹریننگ کے اسٹیٹ منسٹر جتندر سنگھ نے ہی بتایا تھا کہ مرکزی سرکار کے مختلف محکموں میں ساڑے سات لاکھ سے زیادہ پوسٹ خالی ہیں۔ جولائی 2016 میں ایک تحریری جواب میں وزیر نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ یکم جولائی 2014 کو مرکزی سرکار کے مختلف محکموں کو ملا کر 40.48 لاکھ پوسٹ تھے ، جن میں سے 33.01 لاکھ پوسٹ پر ہی تقرریاں کی جاسکی تھیں۔ وزیر نے ساتویں پے کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ انہوں نے اس رپورٹ کے مطابق بتایا تھا کہ یکم جنوری 2014 کو مرکزی سرکار کے تحت 7,74,000 پوسٹ خالی ہیں۔
حالانکہ کئی ایسے محکمے ہیں جہاں ملازموں کی زیادہ ضرورت ہے اور بغیر بھرتی کے کام نہیں چل سکتا، وہاں بھی نارمل طور سے نوکری پر رکھنے کی جگہ نارمل سے کم تنخواہ اور بغیر دیگر سہولتوں کے ٹھیکہ پر لوگ بحال کئے جارہے ہیں۔فلیکسی اسٹاف کی شکل میں جانے والے ایسے ملازمین کام تو وہی کرتے ہیں جو اس پوسٹ پر سیدھے بھرتی سے آئے ہوئے لوگ کرتے ہیں،لیکن انہیں ان کے مقابلے میں بہت ہی کم سہولیتیں دی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں فلیکسی اسٹاف کا یہ رواج اتنی تیزی سے پائوں پھیلا رہا ہے کہ اس معاملے میں ہندوستان جلد ہی امریکہ اور چین کے بعد تیسرے مقام پر آجائے گا۔ ہمارے ملک میں ففلیکسی اسٹافنگ 20 کے ریٹ سے بڑھ رہی ہے اور 2018 میں ہندوستان میں ان کی تعداد 2کروڑ 90لاکھ ہو جائے گی۔
ٹھیک سے اسٹارٹ بھی نہیں ہوئی اسٹارٹ اپ
16جنوری 2016 کو اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم شروع کا ایکشن پلان پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ سرکار اس اسکیم کے ذریعہ ملک میں اسٹارٖ اپ کمپنیوں کو بڑھاوا دے گی۔ اس وقت کے خطاب میںاو پی رومس کے بانی رتیش اگروال کی باتیں سن کر وزیر اعظم نے کہا تھا کہ رتیش کی باتیں سن رہا تھا، مجھے حیرانی ہوئی کہ ایک چائے والے نے ایک ہوٹل چین شروع کرنے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ شاید وزیر اعظم جی کو اس سوال کا جواب مل گیا ہو، کیونکہ 10 ہزار کروڑ کی بھاری بھرکم بجٹ والی اس اسکیم کے لئے سرکار کی طرف سے اب تک صرف 5کروڑ 66لاکھ روپے ہی جاری ہوئے ہیں۔ اسٹارٖ اپ انڈیا کو لے کر تب وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسٹارٹ ٖ اپ کمپنیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے 10ہزار کروڑ کے سرکاری فنڈ کی تجویز کی گئی ہے۔ اس وقت یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسٹارف اپ کے لئے پیٹنٹ اپلی کیشن لگانے پر 80 فیصد چھوٹ اور پہلے تین سال تک منافع پر ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔ اسی اسکیم کے ماتحت اسکولی طلباء کے انوویشن کو بڑھاوا دینے کے لئے قدم اٹھانے کی بھی بات کہی گئی تھی۔ لیکن موجودہ وقت کی حقیقت ان اعلانات سے بہت الگ ہے۔ آر ٹی آئی کے ذریعہ ایک اخبار کے ذریعہ پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں سرکار نے بتایا ہے کہ اسٹارٹ اپ انڈیا کے لئے 22جنوری 2016 کو جس 10 ہزار کروڑ کا فنڈ بنایا گیا تھا ، اس میں سے اب تک ایک ہزار 315 کروڑ کا ہی فنڈ بنا ہے اور اس میں سے بھی اب تک صرف پانچ کروڑ 66 لاکھ روپے ہی جاری ہوئے ہیں۔ حالانکہ چار سرمایا کار کمپنیوں کو 110 کروڑ روپے دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ جس اسکیم کو نوکریاں پیدا کرنے کے لئے جادو کی چھڑی کی طرح مشتہر کیا گیا، اس کے لئے اب تک ٹھیک سے فنڈ بھی جاری نہیں کیا جاسکا ہے۔
دستاویزوں کے مکڑ جال میں الجھی مَنی اسکیم
مائیکرو یونیٹرس ڈیولپمنٹ اینڈ ریفائنس ایجنسی یعنی مَنی اسکیم کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نے ایک بات کہی تھی کہ بہت سی چیزیں صرف نقطہ نظر کے آس پاس منڈلاتی رہتی ہیں،لیکن ان کی حقیقت بالکل الگ ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کی یہ بات موجودہ وقت میں منی اسکیم کی حقیقت پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔ کیونکہ اس اسکیم کو لے کر جس طرح کا نقطہ نظر بنایا گیا ہے، حقیقت اس سے بالکل الگ ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ جو مودی سرکار صنعت کو فائلوں کی جکڑ سے باہر نکالنے کی بات کرتی ہے، اسی نے منی اسکیم کو دستاویزوں میں قید کر دیا ہے۔ اس اسکیم کی ایک یہ سچائی بھی ہے کہ اس کے ذریعہ لون لینے پر جس ریٹ سے سود کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے، اس سے کم ریٹ پر ہندوستان کے گائوں میں مہاجن سے سود پر پیسے مل جاتے ہیں۔ اس بارے میں بتاتے ہوئے یو پی کے انڈین انڈسٹریز ایسو سی ایشن کے قومی نائب صدر نیرج سنگھل کہتے ہیں کہ منی اسکیم سے چھوٹے کاروباریوں کو بھی 11.25 فیصد سے 11.75 فیصد کے ریٹ سے لون ملتا ہے، جو کسی بھی طرح سے کاروباریوں کے حق میں نہیں ہے۔ منی اسکیم کو چھوٹے کاروباریوں کے حق کے لئے عمل میں لایا گیا تھا، لیکن اس کا فائدہ لینے کے لئے اتنے دستاویزوں کو لازمی کر دیا گیاہے جن سے چھوٹے کاروباریوں کو کبھی واسطہ نہیں ہوتا۔ جیسے اس کے لئے پانچ سال کا سی ایم اے ڈاٹا دینا لازمی ہے۔ سی ایم اے یعنی کریڈٹ مانیٹرنگ ارینجمنٹ ڈاٹا ، بینک سے منی اسکیم کے تحت لون لینے کے لئے ضروری ہے۔ بینک اس ڈاٹا کو دیکھ کر ہی لون دینے یا نہیں دینے کا فیصلہ لیتا ہے۔ سی ایم اے ڈاٹا سی اے کے ذریعہ بنوایا جاتا ہے، اسے لینے کے لئے سی اے 25-30 ہزار روپے فیس لیتے ہیں۔ ایک چھوٹے کاروباری کو جسے 50 ہزار کا لون لینا ہو ، اس کے لئے بھی سی ایم اے ڈاٹا بنوانا ضروری ہوگا۔
دراصل 30 مارچ کو منسٹر آف اسٹیٹ فار پرسنل اینڈ ٹریننگ جتندر سنگھ نے لوک سبھامیں کچھ ایسے اعدادو شمار پیش کئے ، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ روزگار پیدا کرنے کے نقطہ نظر سے مودی سرکار اپنے دور کار کے سب سے برے دور سے گزر رہی ہے۔ وزیر نے ایوان کو بتایا کہ سال 2013 کے مقابلے میں 2015 میں مرکزی سرکار کی سیدھی بھرتیوں میں 89 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ موجودہ وقت کے لحاظ سے اسے ایک خطرناک اعدادو شمار کہا جاسکتا ہے، کیونکہ ہندوستان ابھی بے روزگاری کے ایک برے دور سے گزر رہا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ مرکز کے ذریعہ سیدھی بھرتیوں کے اعدادو شمار میں سال در سال کمی آتی جارہی ہے۔ 2013 میں مرکزی کے ذریعہ سیدھی بھرتیوں کے ذریعہ154841 لوگوں کو روزگار ملا تھا، جو 2014 میں کم ہوکر 126261 رہ گیا ۔ 2015 میں اس میں زبردست گراوٹ آئی اور مرکز کی طرف سے کی جانے والی بھرتیوں کے توسط سے صرف 15877 لوگ ہی روزگار پا سکے۔ نوکریوں کی یہ تعداد مرکزی سرکار کے 74 محکموں کو ملا کر ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *