روہنگیائی مہاجروں کی آزمائش ابھی باقی ہے

damiہندوستان کی وزارت داخلہ روہنگیائی مسلم مہاجروں کے تعلق سے ایک اہم فیصلہ لینے جارہی ہے۔یہ فیصلہ غیر قانونی طور سے رہ رہے مہاجروں کو گرفتارکرنے اور انہیں واپس میانمار بھیجنے کے تعلق سے ہے ۔یہ مہاجرین جموں سمیت ملک کی مختلف ریاستیں جیسے آسام ، آندھرا پردیش، اترپردیش، کیرالہ،مغربی بنگال اور دہلی کے علاوہ ہریانہ اور حیدرآباد میںمقیم ہیں۔یہ سب میانمار میں بدھسٹوں کے مظالم سے تنگ آکر اپنی جان و آبرو کی حفاظت کے لئے ہندوستان آئے تھے۔ روہنگیائی مہاجروں کی کل تعداد تقریباً دو لاکھ ہے جو مختلف ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور ان میں سے تقریبا 40 ہزار مختلف راستوں سے ہندوستان میں داخل ہوئے ہیں جبکہ رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد صرف 14 ہزار ہے۔صرف جموں میں ان کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اگر صحیح طور پر ان کے اعدادو شمار تیار کئے جائیں تو ان کی تعداد 10 ہزار تک ہوسکتی ہے جبکہ 700 کے قریب قومی راجدھانی دہلی میں مقیم ہیں۔
یہ بڑی بات عجیب بات ہے کہ مہاجروں کی اتنی بڑی تعداد بنگلہ دیش اور چین بارڈر کراس کرکے ہندوستان میں داخل ہوجاتی ہے اور بارڈر پر تعینات سیکورٹی دستے کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی ؟ دراصل اس کے پیچھے کی سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کا رویہ ہمیشہ سے مہاجروں کے لئے نرم رہاہے ۔ جیسا کہ1971 میں ہندوستان نے پاکستانی حملہ آور فوج کی سختیوں سے بچنے کے لئے 10ملین مشرقی پاکستانیوں کو پناہ دی تھی اور پھر انہیں 1972 سے پہلے مجیب -اندرا پیکٹ کے تحت آزاد بنگلہ دیش بھیجا گیا تھا۔اسی طرح افغانستان سے امن کی تلاش میں آئے 14ہزار پناہ گزینوںکو ہندوستان نے نہ صرف پناہ دی بلکہ انہیں ہر طرح کی سہولتیں بھی فراہم کی۔ اسی طرح بنگلہ دیشی رفیوجیز کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریلیکسڈ ویزا فراہم کرنے کی بات کی جس سے 85 لاکھ بنگلہ دیشی رفیوجیزکو راحت ملنے کا امکان پیدا ہوا ۔اس کے علاوہ عراق و دیگر ملکوں سے آئے ہوئے تقریبا 32 ہزار پناہ گزیں ملک میں موجود ہیں۔یہ سب بڑے آرام و سکون سے ہیں اور انہیں حکومت کا تعاون بھی مل رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ حکومت انہیں گرفتار کرنے اور واپس میانمار بھیجنے کے بارے میں سوچ رہی ہے؟ ان پناہ گزینوں کو لے کر گزشتہ دنوں لوک سبھا میں جس طرح بحث ہوئی اور مرکزی سرکار نے ان کے تعلق سے جو سخت رویہ اختیار کیا ہے ، اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ہندوستان کا پناہ گزینوں کے بارے میں جوقدیم موقف رہا ہے، موجودہ حکومت اس سے ہٹ رہی ہے۔ان مہاجروں کو لے کر حزب اقتدار اور حزب اختلاف میںزبردست تکرار ہوئی۔ حزب اقتدار نے جہاں انہیں جرائم اور دہشت گردی میں ملوث بنگلہ دیشی مسلمان بتاتے ہوئے ملک سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا ،وہیں حزب اختلاف نے میانمار میں تشدد کا شکار ہوکر ہندوستانی پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے مسلمانوں کی قابل رحم حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں باضابطہ پناہ گزین قانون بنایا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں پناہ گزینوں کے تعلق سے کوئی باضابطہ قانون نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان 1951 کے یونائیٹڈ نیشنز رفیوجی کنونشن اور 1967 کے پروٹوکول کا دستخط کنندہ ہے جس کے تحت کسی بھی ملک کی یہ قانونی ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ کہیں سے بھی آئے مہاجرین کو تحفظ فراہم کرے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی قومی رفیوجی پالیسی نہیں ہے۔اس کے باوجود ہندوستان کی روایت رہی ہے کہ یہ مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھتا ہے اور مختلف وقتوں میں مختلف ممالک کے پناہ گزیں ہندوستان کا رخ کرتے رہے ہیں۔جب کوئی مہاجریہاں پناہ لیتا ہے اور اسے پناہ لینے کی منظوری مل جاتی ہیتو اسے شناختی کارڈ اور ٹریول ڈاکیومنٹ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ رہائشی پرمٹ کے لیے اپلائی کرنے کا اہل ہوجاتا ہے اور پھر ملک بھر میں کہیںبھی رہنے کی جگہ کا انتخاب کرسکتا ہے۔ یہ مہاجر ان ڈاکیومنٹ کے سہارے پرائیویٹ سیکٹر میںملازمت بھی کرسکتا ہے اور بچوںکی تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولیات بھی پاتا ہے۔ یہ ان سب سہولیات کو عدلیہ کے متعدد فیصلوںاور ہدایات کی روشنی میں انجام دیتا ہے۔ اس ملک میںتمام مہاجرین کے آنے اور جانے کے معاملے فارنرز ایکٹ 1946 اور رجسٹریشن آف فارنرز ایکٹ 1939 سے گورن ہوتے ہیں۔ ان ضابطوں کے باوجود اس بات کی ضرورت تو ہے ہی کہ ہندوستان میںباضابطہ ایسا کوئی سسٹم ہو جس کے تحت مہاجرین کا نظم زیادہ شفافیت اور ذمہ داری سے کیا جائے۔
بہر کیف اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو روہنگیائی مسلمان ہندوستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں،خاص طور پر جوکشمیر کے علاقے میں رہ رہے ہیں، ان پر حکومت سخت رویہ اپنانے کے بارے میں غور کررہی ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ان پناہ گزینوں میں سے کچھ کے پاس غیر قانونی طریقے سے آدھار کارڈ بنوانے کے ثبوت ملے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت کو یہ بھی شبہ ہے کہ یہ لوگ جعلی نوٹوں کے کاروبار، انتہا پسندی، نکسل ازم وغیرہ میں ملوث ہیں ۔اس کے علاوہ ان کے غیر قانونی طریقے پر رہنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں تو آبادی کا تناسب بھی بدل گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان روہنگیائی مہاجروں کے پاس (1982سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت)میانمار کی شہریت نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ وہاں کی ملازمت یا دیگر سرکاری مراعات سے محروم ہیں۔میانمار کی حکومت انہیں اپنا شہری ماننے سے انکار کررہی ہے، ایسے میں ہندوستان اگر انہیں واپس میانمار بھیجتا ہے تو ان کا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کے اس فیصلے کو غلط بتارہا ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ہزاروں برسوں سے ہم نے کئی کمیونٹیز کو پناہ دی ہے اور اسی نقطہ نظر سے روہنگیائی مظلوموں کو بھی ملک میں ٹھکانا دیا جانا چاہئے۔ روہنگیا مسلمان انتہائی قابل رحم حالت میں رہ رہے ہیں۔ان پر الزام لگانے کی بجائے ملک میں ایک پناہ گزین قانون بننا چاہئے تاکہ روہنگیائی مہاجروں کو سہارا مل سکے۔
حکومت کے اس رویے کے بعد کچھ انتہا پسند عناصر نے ان پر زیادتیاں شروع کردی ہیں۔ابھی حال ہی میں یہ خبر آئی ہے کہجموں شہر کے مضافاتی علاقہ میں موجود ایک روہنگیائی بستی میں چند شر پسندوں نے آتشزنی کے بعد اوربستی کے رہنے والوں کو جلد از جلد جموں چھوڑ کر چلے جانے کی ہدایت دیتے ہوئے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہنے کی دھمکی دی ہے۔ا س بستی کے ایک باشندہ کریم اللہ نامی روہنگیائی مہاجر نے بتایا کہ اس نے حسب معمول کباڑ اکٹھا کر کے رکھا ہوا تھا کہ 10؍ 12افراد اس کے پاس آئے اور اسے جموں چھوڑ کر چلے جانے کے لئے کہا۔ یہ تمام لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے ۔ انہوں نے چند روہنگیائی افراد کے ساتھ مار پیٹ بھی کی اور وہاں رکھے کباڑ کو آگ لگا دی ۔اس بستی میں 8روہنگیائی کنبے جھونپڑیوں میں رہائش پذیر ہیں اور کوڑا کرکٹ و ردی وغیرہ اکٹھا کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔
بہر کیف اگر کچھ مہاجروں نے غیر قانونی طریقے پر آدھار کارڈ بنوائے ہیں تو یہ ہمارے سسٹم کی کمی ہے جس کی جانچ ہونی چاہئے ،ساتھ ہی غلط کرنے والوںکے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ، نہ کہ اس غلطی کی سزا تمام مہاجروں کو دی جائے ۔خیال رہے کہ یہ مہاجرین میانمار سے بھاگ کر یہاں عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے لئے نہیں ،بلکہ جان کی امان کے لئے آئے ہیں۔اگر انہیں واپس میانمار بھیجا گیا تو ظاہر ہے انہیں موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا جس پر حکومت کو سوچنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *