دلت مایاوتی سے کیوں دور ہوگئے؟

damiایس آر داراپور ی
حال میں اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات نے یہ بتا دیا کہ دلت سیاست ایک بار پھر بری طرح سے ناکام ہوئی ہے۔اس انتخاب میں اکثریت سے سرکار بنانے کا دعویٰ کرنے والی دلتوں کی نام نہاد بہو جن سماج پارٹی (بی ایس پی ) کا 2012 اسمبلی انتخابات میں زوال دکھائی دے رہا تھا لیکن 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کا پوری طرح سے صفایا ہو گیا تھا اور اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ اسی طرح 2007 کے بعد بہو جن سماج پارٹی کے ووٹ فیصد میں بھی لگاتار گراوٹ آئی جو 2007 میں 30 فیصد سے گر کر 2017 میں 23 فیصدپر پہنچ گئی۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بڑی چالاکی سے اس ناکامی کا بنیادی سبب ای وی ایم مشینوں کی گڑبڑی بتا کر اپنی ذمہ داری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن ان کی موقع پرستی، بد عنوانی ،تاناشاہی ، دلت مفاد کی اندیکھی اور جوڑ توڑ کی پالیسی کے ہتھکنڈے کسی سے چھپے نہیں ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی کے زوال کے لئے آج نہیں تو کل انہیں ذمہ داری لینی ہی پڑے گی۔
پہلی ناکامی نہیں
دلت سیاست کی ناکامی کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ری پبلک پارٹی آف انڈیا اسی طرح کی ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔ جب تک یہ پارٹی ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریہ کی پیروی کرتی رہی تب تک یہ پھلتی پھولتی رہی۔لیکن جیسے ہی یہ لیڈروں کے ذاتی مفاد ، موقع پرستی اور ایشو سے ہٹنے کی شکار ہوئی، اس کا زوال شروع ہو گیا اور اب یہ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہے۔ ماضی میں اتر پردیش میں بھی اس پارٹی کی شاندار سرگرمیاں رہی ہیں۔
1962 میں اتر پردیش میں اس پارٹی کے چار ایم پیز اور آٹھ ایم ایل ایز تھے اور 1967 میں اس کے ایک ممبر پارلیمنٹ اور 10ایم ایل ایز تھے۔ اس کے بعد اس کا تحلیل ہونا شروع ہوگیا۔اس دوران پارٹی کا ایک پروگریسیو ایجنڈا تھا اور یہ جدو جہد اور آندولن میں یقین رکھتی تھی۔ اس پارٹی نے ہی 1964 میں 6 دسمبر سے قومی اراضی تحریک شروع کی تھی۔ اس تحریک میں تین لاکھ سے زیادہ تحریک کرنے والے گرفتار ہوئے تھے اور اس وقت کانگریس سرکار کو اس کی سبھی مانگوں کو ماننا پڑا تھا، جس میں زمین کا الاٹمنٹ بنیادی مانگ تھی۔ اس کے بعد کانگریس نے اس کے لیڈروں کی ذاتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا ۔انہیں عہدہ اور دیگر لالچ دے کر توڑنا شروع کر دیا۔ نتیجتاً 1970 تک آتے آتے یہ پارٹی کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی اور آج اسکے لیڈر ذاتی مفاد کے لئے الگ الگ پارٹیوں سے سمجھوتہ کر کے اپنا پیٹ پال رہے ہیں۔
اب اگر شمالی ہندوستان خاص کر اتر پردیش میں بہو جن سماج پارٹی کی تخلیق نو کو دیکھا جائے تو یہ ایک طریقے سے آر پی آئی کے زوال کے رد عمل کا ہی نتیجہ تھا۔ کانشی رام نے آر پی آئی کی باقیات پر ہی بی ایس پی کی تعمیر نو کی تھی۔ شروع میں آر پی آئی کے زیادہ تر کارکن ہی اس میں شامل ہوئے تھے اور دلتوں کے متوسط طبقہ کا اسے بڑا تعاون ملا تھا۔ 1993 میں ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن سے اسے بڑی کامیابی ملی تھی اور سماج وادی پارٹی ،بہو جن سماج پارٹی کی سرکار بنی تھی۔ اس وقت دلتوں، پسماندوں اور مسلمانوں کا ایک طاقتور گٹھ بندھن بنا تھا اور اس کا پیغام پورے ہندوستان میں گیا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے کچھ ذاتی مفاد کے سبب یہ گٹھ بندھن جلد ہی ٹوٹ گیا۔ اس صورت حال کی سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ اس میں دلتوں کی زبردست مخالف پارٹی جی جے پی سے حمایت لی گئی تھی۔ اسی طرح دو بار پھر بی جے پی سے گٹھ جوڑ کیا گیا جو کہ مایاوتی کے ذاتی مفاد کے لئے تو ٹھیک تھا لیکن دلت مفاد کے لئے نقصان دہ تھا۔ اس سے دلتوں میں ایک بے سمتی پیدا ہوئی اور یہ دوست اور دشمن کا فرق کرنا بھول گئے۔ جس برہمن وادی نظریہ سے ان کی لڑائی تھی، اسی سے انہیں دوستی کرنے کے لئے کہا گیا۔ بعد میں مایاوتی نے دلت سیاست کو انہی گونڈوں ،بدمعاشوں اور دلت پر مظالم کرنے والوں کے ہاتھوں بیچ دیا جن سے ان کی لڑائی تھی۔
دلت ایجنڈا کا اعلان کیوں نہیں ؟
اگرچہ بی ایس پی چار بار اقتدار میں آئی ،لیکن اس نے اپنے دلت ایجنڈا کاکبھی اعلان نہیں کیا۔ اس کا منفی اثر یہ پڑا کہ نام نہاد دلت سرکار تو بنی لیکن دلتوں کے امپاورمنٹ کے لئے کوئی بھی اسکیم لاگو نہیں کی گئی۔ اس کے نتیجہ میں دلتوں کی جذباتی منہ بھرائی تو ہوئی اور ان میں کچھ حد تک عزت نفس بھی بیدار ہوئی لیکن ان کی مادی حالت میں کوئی بدلائو نہیں آیا۔ سماجی ، اقتصادی اور ذات برادری کی مردم شماری 2011 کے اعدادو شمار کے مطابق ملک کے دیہی علاقوں میں 56فیصد خاندان زمین سے محروم ہیں جن میں تقریباً 73 فیصد دلت اور 79فیصد آدیواسی خاندان ہیں۔دلت دیہی خاندانوں میں سے 45 فیصد اور آدیواسی میں سے 30فیصد خاندان صرف مزدوری کرتے ہیں۔ اسی طرح دیہی دلت خاندانوں میں سے 18.35 فیصد اور آدیواسی خاندانوں میں 38فیصد کاشتکار ہیں۔ اس مردم شماری سے ایک یہ بات بھی ابھر کر آئی ہے کہ ہماری آبادی کا صرف 40فیصد حصہ ہی مقررہ روزگار میں ہے اور بقیہ 60فیصد حصہ سطحی روزگار میں ہیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ وقت روزگار سے محروم رہتے ہیں۔
سماجی اور اقتصادی مردم شماری سے یہ بھی ابھر کر آیا ہے کہ دیہی علاقوں میں دلتوں کی دو سب سے بڑی کمزوریاں ہیں۔ ایک ہے زمین سے محرومی اور دوسری ہے صرف ہاتھ کا کام۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اگرچہ مایاوتی اتر پردیش میں چار بار وزیر اعلیٰ رہیں،لیکن انہوں نے 1995 کے عرصے کو چھوڑ کر دلتوں کو نہ تو زمین الاٹ کیا اور نہ ہی زمینوں پر قبضے ہی دلوائیں۔ اس کا منفی اثر یہ ہوا ہے کہ دیہی دلت آج بھی زمین مالکوں پر مزدوری، یومیہ سرگرمی اور جانوروں کے لئے گھاس بھوسہ کے لئے منحصر ہیں۔ اس کمزوری کے سبب وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا بھی موثر طریقے سے دفاع نہیں کر پاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید دلتوں کو کمزور اور دوسروں پر منحصر بنا کر رکھنا مایاوتی کی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ جب سے ملک میں نیو لیبرل پالیسیاں لاگو ہوئی ہیں، تب سے دلت اس کا سب سے بڑا شکار ہوا ہے۔ زراعت اور ہیلتھ سروسز میں سرمایا کاری کی کٹوتی کا سب سے برا اثر دلتوں پر ہی پڑا ہے۔ ملک میں روزگار پیدا کرنے کرنے کی رفتار میں گراوٹ بھی دلتوں کے لئے خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ پرائیویٹایزیشن کی وجہ سے سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن بھی غیر موثر ہوگیا ہے۔ لیکن مایاوتی نے دلتوں پر پڑنے والے ان ضمنی اثرات کو پوری طرح سے نظر انداز کردیا ہے۔ دراصل مایاوتی بھی دلتوں کے ساتھ اسی طرح کی پالیسی اختیار کرتی رہی ہیں، جیسی مین اسٹریم کی پارٹیاں کرتی آئی ہیں۔ مایاوتی نے بھی دلتوں کوخود انحصار اور امپاورمنٹ کرنے کے بجائے صرف علامتوں کی سیاست کرکے اپنے ووٹ بینک کے طور پر ہی دیکھا ہے۔ مایاوتی کے اس رویے کے سبب بھی دلتوں کی ان سے دوری ہوئی ہے۔
دلت سیاست سے ہندوتوا مضبوط ہوا
بہو جن سماج پارٹی کی ذات برادری کی سیاست نے ہندوتوا کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط کیا ہے، جس کا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ہے۔ اسی وجہ سے وہ دلتوں کی کئی ضمنی برادریوں کو ہندوتوا میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔یہ بھی معروف ہے کہ ذات برادری جوڑنے کی نہیں، بلکہ توڑنے کا عمل ہے۔ لہٰذا ذات برادری کی سیاست کا بھی یہی نتیجہ ہونا فطری ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ ایک طرف جب یہ بات زور و شور سے مشہور کی گئی کہ بہو جن سماج پارٹی بنیادی طور پر چماروں اور جاٹوں کی پارٹی ہے تو دلتوں کی دیگر ضمنی برادریوں کی طرف سے رد عمل کا ہونا فطری بات تھی۔ گزشتہ کئی انتخابات سے یہی ہوتا آیا ہے ۔اتر پردیش میں دلتوں کی زیادہ تر ضمنی برادریاں بہو جن سماج پارٹی سے الگ ہوکر بی جے پی، سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی طرف چلی گئیں۔ کچھ حد تک جاٹو اور چمار ووٹ بھی بہو جن سماج پارٹی سے الگ ہو گئے۔
صاف ہے کہ شمالی ہندوستان میں بہو جن سماج پارٹی کی ذات برادری کی پالیسی موقع پرستی، بے اصولی، دلت مفاد کو نظر انداز کرنے اور بد عنوانی کا شکار ہوکر پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس نقطہ نظر سے دلتوں کے لئے اب ایک نئے ریڈیکل پالیٹیکل متبادل کی ضرورت ہے۔ یہ متبادل ذات و برادری کے مفاد سے اوپر اٹھ کر طبقاتی مفاد پر مبنی ہونی چاہئے تاکہ اس میں سبھی طبقوں کے مساوی حالات والے فطری دوست لوگ بغیر کسی ذات برادری کی تفریق کے شامل ہو سکیں۔ آل انڈیا پیپلس فرنٹ نے اس سمت میں پہل کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *