حسنی مبارک کی رہائی مصر میں جمہوریت کا قتل

damiایک ایسے وقت جب جمہوری طریقے سے منتخب مصر کے پہلے صدر محمد مرسی ایک برس اقتدار میں رہنے کے بعد فوجی بغاوت کے نتیجے میں تین جولائی 2013سے آہنی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزار رہے ہیں، 25جنوری 2011کو تحریر اسکوائر کے عوامی انقلاب کے دوران بدعنوانی اور سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کے الزام میں جنوبی قاہرہ کے فوجی اسپتال میں 6برس قید و بند میں رہ کر عدالت کے حکم سے 24مارچ 2017کو بری الذمہ قرار دئے گئے 88سالہ سابق صدر حسنی مبارک ہیلو پولس کی اپنی رہائش میں واپس آ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا 30برس تک جمہوریت کے اس قاتل کی رہائی اور نارمل زندگی میں واپسی کو مصر کی وہ عوام جس نے تحریر اسکوائر پر تاریخی مظاہرہ کر کے اپنے ملک میں جمہوریت کا جھنڈا گاڑا تھا اور دنیا بھر میں جمہوریت کی جنگ کے لئے زبردست مثال پیش کی تھی، محمد مرسی کی مظلومیت کو برداشت کرلیں گے اور حسنی مبارک کو معاف کر دیں گے؟
عیاں رہے کہ حسنی مبارک کے زیادہ تر متعلقین اور خاندان کے لوگ جن کے خلاف سنگین الزامات تھے، وہ بھی دریں اثنا ء رہا ہو کر باہر آ گئے ہیں۔ ان کے بیٹے اعلیٰ اور جمال جن پر پبلک فنڈوں کو لوٹنے کا الزام تھا، اکتوبر 2015میں بری ہوئے ہیں۔ جنوری 2015میں حسنی مبارک کے خلاف بدعنوانی کے الزامات مسترد کر دئے گئے تھے۔ مارچ کے اوائل میں حسنی مبارک پر مظاہرین کی ہلاکت میں سازش کرنے کا الزام تھا مگر مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے انہیں اس سے بری الذمہ قرار دیا اور اس طرح ان کی رہائی کا راستہ ہموار ہو گیا۔
ویسے بظاہر حسنی مبارک کی رہائی کے بعد ملک میں ان کی رہائی کے خلاف نہ کوئی بڑا مظاہرہ دیکھا گیا اور نہ ہی ان کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہیں کوئی ریلی نکالی گئی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عرب بہاریہ کے 6برس بعد مصر کی مملکت اور وہاں کا معاشرہ کتنا مجبور محضبن گیا ہے؟ یعنی وہ انقلابی عوام جس نے 30برس کی آمرانہ حکومت کو اکھاڑ پھینکا تھا، بالکل ساکت اور خاموش ہے اور اس کا جواب اس کی خموشی اور سکون ہے۔ اس خموشی اور سکون کی وجہ فوجی حکمراںعبدالفتاح السیسی کا ڈنڈا اور ظلم و جبر ہے۔ 3جولائی 2013کو فوجی بغاوت میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کو بے دخل کرنے میں ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور کئی لاکھ افراد کو پابند سلا سل کر دیا گیا۔ معزول صدر محمد مرسی کی پارٹی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی اور اس کی اساسی تنظیم اخوان المسلمین کو تحلیل کر کے اس کے دفاتر پر تالے مار دئے گئے۔ جس نے بھی ان اقدامات کی مخالفت کی ، اس پر آفت آ گئی۔
نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ حسنی مبارک کے 30سالہ دور حکومت کے ظلم و جبر بھی کم محسوس ہونے لگے۔ معروف وکیل ملک عدلی نے مشہورصحافی و مصنفہ شاہرہ امین سے کہا کہ مجھے حسنی مبارک کی رہائی پر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق،موجودہ فوجی حکومت کے جرائم حسنی مبارک کے جرائم سے بھی بدتر اور سنگین ہیں۔ 2011کے تحریر اسکوائر کے انقلاب کے 18دنوں کے دوران تو 900افرادہلاک ہو ئے تھے جبکہ اگست 2013میں رابعہ اسکوائر میں اخوان نواز دھرنے میں صرف ایک دن میں اتنے ہی افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے۔لاکھوں لوگ جیل کے اندر بند ہیں۔ حسنی مبارک کی رہائی اس بات کا مظاہرہ ہے کہ وہاں عدلیہ فوجی حکمراں کے اشارے پر کس طرح چل رہی ہے؟ بین الاقوامی حقوق انسانی گروپوں نے اس ضمن میں عدالتوں کے فیصلوں کو فراڈ اور سیاست سے پوری طرح متاثر بتایا ہے اور ان سب اقدامات کو مصر میں عدلیہ کا قتل قرار دیا ہے۔قابل ذیر ہے کہ ملک عدلی ان دنوں مصر میں معتوب اس لئے ہیں کہ یہ حقوق انسانی کے وکیل ہیں اور انھوں نے ان وکلاء کی سربراہی کی تھی جنھوں نے السیسی کی حکومت کے سعودی عرب کو دو جزیروں کو حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف لیگل سوٹ دائر کیا تھا۔
عدلیہ کا کس طرح قتل کیا جا رہا ہے، اس کا اندازہ سیکورٹی فورسز اور جمہوریت نواز کارکنوں کے درمیان 16دسمبر 2011کو جھڑپ میں معروف سیاسی کارکن احمد ڈائو ما کے خلاف سخت فیصلہ کو جان کر ہوتا ہے۔ مذکورہ جھڑپ حسنی مبارک حکومت کے کابینی وزیر رہے کمال جنظوری کی وزیر اعظم کے طور پر تقرری کو لے کر ہوئی تھی۔ اس سے متعلق مقدمہ میں احمد ڈائو ما و دیگر 229افراد کو تشدد بھڑکانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ علاوہ ازیں ڈائوما کو 9لاکھ 40ہزار ڈالر کا جرمانہ بھی ہوا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ڈائوما اور ان کے تمام رفقاء مشہور و معروف 6اپریل موومنٹ کے ارکان تھے جوکہ صحیح معنوں میں تحریر اسکوائر موومنٹ اور حسنی مبارک کو بے دخل کرنے کے محرک بنے تھے۔ سب سے زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مصر میں جمہوریت کے قاتل عبد الفتاح السیسی ان دنوں امریکہ کے چہیتے بنے ہوئے ہیں۔ یہ ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے والے پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت تھے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران السیسی کو ایک ’شاندار انسان ‘قرار دیا تھا۔
السیسی کے لئے یہ دورہ اس لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے پیش روباراک اوبامہ نے انہیں کبھی بھی وہائٹ ہائوس مدعو نہیں کیا تھا۔ اوبامہ انتطامیہ نے کچھ عرصہ کے لئے مصر کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد بھی روک دی تھی۔
ویسے مصر کے معاملہ میں امریکہ کا کردار صرف بہت ہی عجیب و غریب نہیں بلکہ منافقانہ اور دوہرا رویہ کا حامل بھی ہے۔ 2011میں جب حسنی مبارک اقتدار سے بے دخل کئے گئے تھے، تب امریکہ نے انقلاب کا خیر مقدم کیا تھا اور پھر محمد مرسی کے صدر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد بھی نئی حکومت سے پورے طور پر تعلقات اور روابط بنالئے تھے، جس کے نتیجہ میں محمد مرسی سے ملنے خصوصی طور پر ہلیری کلنٹن قاہرہ پہنچی تھیں۔ بعد ازاں جب السیسی نے محمد مرسی کا تختہ پلٹ دیا تب امریکہ نے دھیرے دھیرے السیسی حکومت کو بھی تسلیم کر لیا۔
یہ بات بھی کم چونکانے والی نہیں ہے کہ حسنی مبارک کی رہائی پر بھی امریکہ خاموش ہے۔ دنیا کی امریکہ جیسی بڑی جمہوریت کی جانب سے حسنی مبارک کی رہائی پر خوشی ایکدم ناقابل فہم ہے۔ جس طرح وہاں کئی لاکھ لوگ پابند سلاسل ہیں اور فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ساتھ اخوان المسلمین نیز 6اپریل مومنٹ اور دیگر گروپ کے کارکنان وہاں ظلم و جبر کا شکار ہیں، حسنی مبارک جیسے آمر کی ایک بے گناہ اور آزاد شخص کے طور پر واپسی صحیح معنوں میں جمہوریت کا قتل ہے۔ دنیا کے تمام حق و انصاف پسند لوگوں کو اس کی مخالفت کرنی چاہئے۔مگر سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ امریکہ سمیت مغرب ہمیشہ کسی بھی عوامی انقلاب میں آمر حکمرانوں کی حمایت کرتا ہے اور انہیں پناہ دیتا ہے جوکہ کھلے طور پر جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ تبھی تو افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ کو روم نے پنا ہ دیا اور پھر امریکہ کی حمایت سے وہ 2002میں کابل واپس لوٹے اور ’بابائے قوم‘ کے خطاب سے نوازے گئے۔ ویسے 23جولائی 2007کو ان کا 92برس کی عمر انتقال بھی ہو چکا ہے۔ ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے کرائون پرنس رضا پہلوی کو بھی ایران میں واپس لانے کے لئے امریکہ بے چین ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں 2011میں ’ایران کا پرسن آف دی ایئر‘ بھی قرار دیا گیا۔ رضا پہلوی ’اوفو غیران‘ نام سے اپنا ٹی وی اور ریڈیو نیٹ ورک بھی چلاتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ کو عوام مخالف قوت خواہ وہ مصر میں ہو یا افغانستان اور ایران یا کہیں اور، ان کی واپسی کی کوشش میں حصہ دار نہیں بننا چاہئے۔ امریکہ جیسے جمہوری ملک کو یہ زیب نہیں دیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *