جھارکھنڈ میں ٹیننسی ایکٹ میں ترمیم چرچ اور بی جے پی آمنے سامنے

damiپرشانت شرن
چھوٹا ناگپور اور سنتھال پرگنہ ٹیننسی ایکٹ میںریاستی سرکا کے ذریعہ کی جارہی ترمیم کی تجویز کو لے کر چرچ اور عیسائی مذہبی رہنماؤں نے کھل کر مخالفت میںآواز بلند کردی ہے۔ عیسائی مذہبی رہنما مانتے ہیںکہ سیاست کے دو پاٹوں کے بیچ میںرکھ کر عیسائیوںکو پیسا جارہا ہے۔اس کی وجہ سے جھارکھنڈ میں افرا تفری کی صورت حال پیدا ہونے اور تشدد و انتقام کی شکل میںبدلنے کا اندیشہ ہوتا جارہا ہے۔ ریاست میںعیسائیوں کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما کارڈینل تیلوسفر پی ٹوپپو نے صاف طور پر سرکار کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کو ریاستی سرکار نہیں لائے، اس سے آدیواسیوں کا وجود ختم ہو جائے گا۔
اس قانون کی ہرممکن مخالفت چرچ اور عیسائی فرقہ کرے گا۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے چرچ اور ان کے مذہبی رہنماؤں کو ایک طرح سے تنبیہ دے ڈالی اور انھیںہدایت دے ڈالی کہ وہ اپنے دائرے میں ہی رہیں اور مذہب کی آڑ میںسیاست کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ پارٹی نے چرچ پر آدیواسیوں کی زمین ہڑپنے کا الزام لگایا اور کہاکہ بھولے بھالے آدیواسیوں کو لالچ دے کر ان لوگوںکا مذہب تبدیل کرایا جارہا ہے۔ بی جے پی اور چرچ کے بیچ اس طرح کی الزام تراشیوںسے جھارکھنڈ میں ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے اور یہ معاملہ دھیرے دھیرے سلگتے ہوئے دھماکہ خیز مادہ کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی مقامیت اور اس ایکٹ کو لے کر ریاست کے مختلف حصوںمیں تشدد کے واقعات ہوچکے ہیں۔
عام لوگوںکے بیچ یہ عام چرچا ہے کہ بی جے پی کی بڑھتی عوامی مقبولیت اوروزیر اعظم مودی کے بڑھتے اثر سے عیسائی مشنریز کی تشاویش بڑھ گئی ہیں۔ اپنے وجود کی حفاظت کے لیے چرچ اب آدیواسیوں کو گول بندکرنے کی کوشش کررہا ہے اور سرکار کی مخالفت میںآدیواسیوںکو کھڑا کرنے میںلگا ہوا ہے۔ چرچ کے ذریعہ تبدیلی مذہب کرائے جانے کی مخالفت بھی ہمیشہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کرتا رہا ہے ۔ مشرقی ہند میںجھارکھنڈ ہی ایک ایسی ریاست ہے جہاںچرچ کی جڑیںمضبوط ہیں اور تقریباً پانچ فیصد آبادی عیسائیوںکی ہے۔
ادھر عیسائیوںکے اعلیٰ ترین مذہبی گرو کارڈینل تیفوسفر ٹوپپو نے اس بات سے انکار کیا کہ چرچ کوئی سیاست کررہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ پہلے آدیواسی ہیں، بعدمیںمذہبی رہنما۔ وہ سرکار کے ذریعہ آدی واسیوں کے خلاف کی جارہی سازش سے لوگوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اگر سی این ٹی اور ایس پی ٹی ایکٹ میں تبدیلی ہوئی تو آدیواسیوں کی پوری زمین چلی جائے گی اور ان لوگوںکا وجود ختم ہوجائے گا۔ روزی روٹی کی تلاش میںان لوگوں کی نقل مکانی شروع ہوجائے گی۔ اس لیے ہم لوگ سرکار کو یہ آگاہ کررہے ہیں کہ کوئی بھی قانون لانے سے قبل آدیواسی تنظیموںاور عام لوگوںسے صلاح ومشورہ کرکے ہی کوئی آرڈیننس لائیں۔
جھارکھنڈ میں ٹکراؤ کا خدشہ اس لیے بھی بڑھ گیا ہے کہ چرچ کے رخ کو دیکھتے ہوئے بی جے پی بھی سخت رخ اختیار کرتے ہوئے چرچ کے خلاف آکھڑی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر لکشمن گلووا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بھولے بھالے آدیواسیوںکو لالچ دے کر ان لوگوںکی زمین ہڑپنے کا کام کیا جارہا ہے ۔ لالچ دے کر مذہب کی تبدیلی کرانا ہی ان کام رہ گیا ہے۔ بی جے پی لیڈروںنے یہاں تک کہہ ڈالا کہ چرچ، مذہب کے دائرے سے باہر نکل کر سیاست نہیںکرے۔ آدیواسیوںکی ہزاروںایکڑ زمین تعلیم، صحت اور چرچ کے نام پر ہڑپ لی گئی ہے۔ اس زمین کے بدلے میں رعیتوںکو کچھ نہیں دیا گیا ۔
دراصل مسلم فرقہ کی طرح عیسائی بھی اس بات سے فکرمند ہیں کہ اگر بی جے پی کی مقبولیت ریاست میں بڑھی اور یہاںبھی ہمیشہ اکثریت کی سرکار بنی تو چرچ کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تبدیلی مذہب کے ایشو پر چرچ اور سنگھ پریوار کے بیچ ہمیشہ تناؤ کی صورت حال بنی رہتی ہے۔ عیسائی تعلیمی اداروںکی وسعت کو دیکھتے ہوئے اس پر قابو پانے کے مقصد سے سنگھ پریوار نے بھی سرسوتی ششو ودیالیہ جیسے تعلیمی ادارے ،عیسائی تسلط والے علاقوںمیںکھولنے شروع کیے۔
اس کے بعدتبدیلی مذہب پر بہت حد تک قابوپایا جاسکا لیکن اس کے بعد چرچ اور سنگھ پریوار کے درمیان ٹکراؤ کی صورت حال بنی رہی۔ بی جے پی کی اکثریت والی سرکار آنے کے بعد چرچ اور اس کی سرگرمیوںپر نکیل کسنا شروع کردیاگیا۔ اس کے بعد آدیواسی نامدھاری تنظیم نے آدیواسیوں کو سرکار کے خلاف بھڑکا کر اکٹھا کرنا شروع کیا۔ بہت حد تک آدیواسی تنظیموں نے اس میں کامیابی بھی پائی۔ اس کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار نے اس میں سیندھ ماری کی اور سنتھال پرگنہ ڈیژن ،جو آدیواسی اکثریتی علاقہ ہے، میں وہ کچھ رسائی بنانے میںکامیاب رہے لیکن زمین کے فائدے اس ترمیم سے ہونے والے فائدے کے بارے میں آدیواسیوں کو سمجھنانے میں وہ پوری طرح سے ناکام رہے۔ کم و بیش یہی صورت حال پوری ریاست کی ہے اور اسی وجہ سے جھارکھنڈ سرکار باہری اور مقامی لوگوں کو صنعت کے لیے زمین دینے میںپوری طرح سے ناکام ہے اور چرچ اور عیسائی مشنر یز اسی کا فائدہ اٹھانے میں لگ گئے ہیں اور آدیواسیوںکو خوفزدہ کرکے گول بند کرر ہے ہیں ۔عیسائی فرقہ کے لوگ جن کی آبادی تقریباً پانچ فیصد ہے ، وہ تو کھل کر سرکار کی مخالفت میںاتر گئے ہیںاور یہ لوگ دیگر آدیواسیوںکو بھی گول بند کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
اگر چرچ اور عیسائی مشنریز اپنے اس منصوبے میں کامیاب رہے تو اس بات سے انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ تشدد کے واقعات کا دور شروع ہوجائے گا اور اس ریاست میں بد امنی ہونے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔ ایک طرح سے یہ ریاست بارود کے ڈھیر پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔
کارڈینل کا احتجاج
رگھوور سرکار کے ذریعہ سی این ٹی ایس پی ٹی ایکٹ میں کی جارہی ترامیم سے اب مذہبی رہنما بھی بوکھلا گئے ہیں۔ مشرقی ہند کے عیسائی مشنریز کے چیف کارڈینل تیلوسفر پی ٹوپپو کھل کر سامنے آگئے ہیں اور سی این ٹی ایس پی ٹی ایکٹ میں کی جارہی ترمیم کی مخالفت کررہے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ اس ایکٹ میں ترمیم ہونے سے آدیواسیوںکا وجود مٹ جائے گا۔ مذہبی رہنما نے گورنر دروپدی مُرمو سے ملاقات کرکے اس ترمیم کی تجویز کو منظوری نہیں دینے کی بھی گزارش کی۔
کارڈینل ٹوپپو نے کہا کہ ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ رگھو ورسرکار جبراً آدیواسیوں پر قانون تھوپنا چاہتی ہے۔ ایسے میںکوئی کیسے چپ رہ سکتا ہے۔ آدیواسی کی دماغی حالت جاننے کے بعد ہی چرچ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑی۔ آ خر چرچ گروپ خاموش کیسے رہ سکتا ہے۔ مذہبی رہنما نے کہا کہ وہ پہلے آدیواسی ہیں اور بعد میں مذہبی رہنما۔ آدیواسیوں کی آواز بلند کرنے کے لیے ان کا ساتھ دے رہا ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس قانون میں تبدیلی کی بات سے آدیواسی فرقہ میں گہری بے چینی ہے اور وہ اس بات پر اپنا موقف رکھنے کے لیے گورنر سے ملنے گئے تھے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس بات کو بے وجہ طول دے کر ان پر نشانہ سادھ رہے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ ایک شہری ہونے کے ناتے کیا یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی بات کو سرکار کے سامنے رکھ سکیں۔ ایسا کرنے پر بے وجہ ہنگامہ کیا جارہا ہے اور چرچ کے کاموں کا حساب کتاب مانگا جارہا ہے ۔ انھوںنے اس کو لے کر ناراضگی کا بھی اظہار کیا کہ بی جے پی کے کچھ لوگ چرچ پر زمین ہڑپنے اور تبدیلی مذہب کا الزام لگا رہے ہیں، جو تکلیف دہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو یہ بتانا چاہیے کہ چرچ نے کہاں زمین لوٹی ہے اور کہاں تبدیلی مذہب کرایا ہے۔ مذہبی رہنما نے لالچ دے کر کسی بھی مذہب کے لوگوں کا مذہب تبدیل کرائے جانے کی بات سے پوری طرح انکار کیا۔ جھارکھنڈ میں محض چار فیصد ہی عیسائی فرقہ کے لوگ ہیں۔
کارڈینل نے ریاستی سرکار پر یہ بھی سوال اٹھایا کہ سرکار بلا بلا کر صنعت کاروںکو زمین دے رہی ہے۔ ہم لوگوں نے بھی میڈیکل کالج اور اسپتال کے لیے زمین مانگی تھی، لیکن ہم لوگوںکو ریاستی سرکار نے زمین نہیںدی جبکہ ریاستی سرکار کی اگر قوت ارادی ہوتی تو فوراً زمین الاٹ کرسکتی تھی۔ صنعتوں کو دینے کے لیے زمین ہے لیکن اسپتال کالج کے لیے نہیں ہے۔ انھوںنے سوالیہ لہجہ میں کہا کہ کیا میڈیکل کالج میں صرف عیسائی لڑکے ہی پڑھتے ہیں اور صرف ان ہی لوگوں کا علاج ہوتاہے۔
شری ٹوپپو نے ریاستی سرکار کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون لاگو کرنے سے قبل عام لوگوں سے رائے مشورہ کرنا چاہیے۔ سرکار میں بھی لوگ ہیں لیکن ان لوگوںسے صلاح نہیںلی گئی۔ سمجھداری اسی میںہے کہ سب سے مشورہ لے کر ہی کوئی کام کیا جائے۔
سیاست کررہے ہیں عیسائی رہنما
سی این ٹی ایس پی ٹی ایکٹ ترمیم کے خلاف ہورہے آندولن کے پیچھے چرچ کا ہاتھ ہے اور اس ترمیم کے خلاف وہ آدیواسیوںبھڑکا رہے ہیں۔ ریاستی سرکار آدیواسیوں کے مفاد میں کام کرنا چاہتی ہے جبکہ چرچ بھولے بھالے آدیواسیوں کو بہلا پھسلاکر آدیواسیوںکی زمین پر قبضہ کرنے میںلگے ہوئے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر لکشمن گلووا نے عیسائی مذہبی رہنماؤں پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو اپنے دائرہ اختیار میں ہی محدود رہنا چاہیے، نہ کی سیاست میںآنا چاہیے۔ ریاستی عوام چرچ کی منشا سمجھ چکے ہیں اور اس منشا کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انھوںنے کہا کہ کارڈینل تیلوسفر ٹوپپو کی یہ آدیواسیوں کی زمین چھن جائے گی۔ سی این ٹی ایس پی ٹی ایکٹ کی سب سے زیادہ خلاف ورزی چرچ نے کی ہے۔
آدیواسیوںکے خیر خواہ بننے کاڈرامہ کرنے والے ان ہی مذہبی رہنماؤں نے ہی آدیواسیوںکو ان کی بنیادی روایتی ثقافت سے توڑنے کا کام کیا ہے۔انھوںنے لالچ دے کر بھولے بھالے آدیواسیوںکی زمین پر قبضہ کررکھا ہے۔ انھوںنے کہا کہ کارڈینل سیاست نہ کریں،اس میںہی بھلائی ہے۔ انھوںنے کہا کہ یہ بے حد بدقسمتی ہے کہ مذہبی رہنما اب سیاسی موضوعات پر کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ریاستی صدر نے ایک طرح سے مذہبی رہنماؤں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی خودغرضی کے لیے جھارکھنڈ کے عوام کو ورغلانے کی کوشش نہ کریں۔ انھوںنے کہا کہ چرچ آندولن کو ہوا دینے کا کام کررہا ہے۔ اس معاملے کو لے کر کارڈینل کے ذریعہ گورنر سے ملاقات کو بھی انھوںنے بدقسمتی بتایا۔ چرچ کے کردار پر انھوں نے کہا کہ آدیواسیوں سے مل کر مذہبی رہنماؤںنے یہاںدوکان کھول رکھی ہے اور اسے چلنے نہیںدیا جائے گا۔
کیا چرچ مذہبی کاموں سے ہٹ کر آندولن چلا رہا ہے، کے بارے میںپوچھنے پر انھوں نے کہا کہ شروع سے ہی یہ اندیشہ تھا کہ چرچ ہی سی این ٹی ایس پی ٹی کی ترمیم کے خلاف آندولن کے ساتھ کھڑا رہا ، مجبوراً چرچ اور مذہبی رہنماؤں کو خود سامنے آنا پڑا۔ آندولن ان ہی علاقوں میں تھا جہاں چرچ کا اثر تھا۔ اس سے یہ بات او ر واضح ہوجاتی ہے کہ اس آندولن کے پیچھے چرچ کا سیدھا ہاتھ ہے۔ انھوںنے کہا کہ کارڈینل کا یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ سی این ٹی ایس پی ٹی میںترمیم سے آدیواسیوںکی زمین چھن جائے گی، جبکہ اس ایکٹ کے تحت آدیواسیوںکی زمین ان ہی لوگوںکی رہے گی اور وہ اپنی زمین کا کاروباری استعمال کرسکیںگے۔
سی این ٹی ایس پی ٹی میں ترمیم کے خلاف چرچ اور مذہبی رہنماؤں کی مداخلت سے وزیر اعلیٰ کی ناراضگی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی پارٹی کے ساتھ مذہبی رہنماؤں پر سیدھا حملہ بول دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ ماننا ہے کہ کارڈینل اور چرچ کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور اپنے دائرے میں رہنا چاہیے۔ کارڈینل کا آئینی عمل غیر شائستہ ہے۔
وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے کہا کہ آدیواسیوں کے مفاد میں ہی یہ ترمیم کی گئی ہے۔ وقت اور حالات کو دھیان میں رکھ کر یہ ترمیم کی گئی ہے۔ اب ضرورت ہے لوگوں کی سوچ میںتبدیلی آئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکار نے رعیتوں کے مفاد میں ہی یہ ترمیم کی ہے تاکہ وہ کاروباری استعمال کر سکیں۔ صنعت کاروں اور کاروباری گھرانوںکو زمین لیز پر دی جائے گی اور زمین رعیت کے نام پر ہی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ پورا آدیواسی سماج اس ترمیم کے حق میں کھڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ مفاد پرست عناصر نے اس ترمیم کے خلاف تین بار جھارکھنڈ بند بلایا، لیکن عوام نے اس بند کو مسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ اس ترمیم کے ساتھ ہیں۔ آدیواسی سماج سے جڑکر کئی سرگرم لوگوںنے دوکان کھول لی ہے اور بھولے بھالے آدیواسیوں کو ورغلانے کا کام کررہے ہیں۔ لیکن اب ایسی طاقتوں کر پست کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آزادی کے بعد اب تک آدیواسی، دلت اور پسماندہ طبقہ کو ان کا حق نہیںمل پایا، سیکڑوں گاؤں میں اس کی مثال دیکھنے کو ملتی ہے۔ انھوںنے یہ دعویٰ کیا کہ اس ترمیم سے آدیواسیوں کی ترقی ہوگی ۔ انھوںنے کہا کہ دلت سماج کے کئی اراکین اسمبلی نے بھی سی این ٹی کے دائرے سے باہر کرنے کی مانگ کی ہے۔
مرانڈی کا سرکار پر الزام
جھارکھنڈ وکاس مورچہ سپریمو بابو لال مرانڈی نے رگھوور سرکار پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار سی این ٹی اور ایس پی ٹی میں ہوئی ترمیم کو آدیواسیوںکے مفاد میںبتاتے ہوئے بھولے بھالے آدیواسیوں کو ورغلانے کا کام کررہی ہے۔ ریاستی سرکار یہ دعویٰ کررہی ہے کہ زمین رعیتوں کے نام پر رہے گی۔ کاروباری اس کے استعمال کے بدلے میںزمین مالک کو رقم دیں گے۔ یہ حسین خواب دکھا کرآدیواسیوں کی زمین پر کاروباری گھرانوں کا قبضہ کرادیا جائے گا۔ ا ن کا ماننا ہے کہ اگر اس ترمیم کو نافذ کردیا گیا تو آدیواسی کہیں کے نہیںرہیں گے۔ روزی روٹی کی تلاش میںریاست سے نقل مکانی شروع ہوجائے گی۔ آدیواسیوں کا وجود ختم ہوجائے گا لیکن بی جے پی کے صنعتی گھرانوںکی سلطنت قائم ہوجائے گی۔
یہ پوچھے جانے پر کہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس اپوزیشن لیڈروں پر ہی یہ الزام لگا رہے ہیں کہ مفاد حاصل کرنے کے لیے آدیواسیوںکو ورغلا یا جارہا ہے تو انھوںنے کہا کہ آدیواسیوںکو ترمیم کا فائدہ دکھاکر ترمیم کی سچائی عوام کے سامنے لارہے ہیں توطرح طرح کے الزام اپویشن لیڈروں پر لگائے جارہے ہیں لیکن سچ توسامنے آنا ہی ہے۔ عوام ان لیڈروں کو سبق سکھا کر رہیںگے۔ ترقی کے نام پر آدیواسیوں کی تباہی کی سازش ہورہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *