بی جے پی کا دلت مفاد سے زیادہ سیاسی مفاد

damiایس آر داراپوری
اتر پردیش میں بھاری اکثریت سے انتخابات جیتے کے بعد بی جے پی کو یہ احساس ہو چلا ہے کہ اس انتخاب میں اسے سب سے زیادہ ریزرو سیٹیں ملی ہیں کیونکہ دلتوں کا ایک بڑا حصہ اس کی طرف آگیا ہے۔ اس کامیابی میں اس کے ذریعہ گزشتہ کچھ برسوں سے امبیڈکر کے تئیں دکھائے گئے پریم کا بھی کافی بڑا ہاتھ ہے۔ دلتوں کو متوجہ کرنے کے لئے اس نے دلت لیڈروں کو بی جے پی میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ امبیڈکر کو بھی اپنی چھتری میں لانے کی کوشش کی۔ ایک طرف اس نے انگلینڈ میں ڈاکٹر امبیڈکر کی پڑھائی کے دوران رہنے والے مکان کو خرید کر میموریل کی شکل دی،دوسری طرف ممبئی میں ان کے رہنے کی جگہ پر ایک بڑا میموریل بنانے کے لئے زمین ایکوائر بھی کی ہے۔ گزشتہ سال مودی نے دہلی میں بابا صاحب کی رہائشی جگہ پر ایک بڑا میموریل بنانے کی سنگ بنیاد رکھی تھی۔
14اپریل کو بی جے پی نے بہت بڑی سطح پر امبیڈکر جینتی منا کر بھی یہی کوشش ظاہر کی۔ راشٹریہ سیوک سوئم اور بی جے پی شروع سے ہی اینٹی کاسٹ نظریہ رکھتے رہے ہیں اور انٹر سٹی کنسرٹ اس کا ایک پہلو رہا ہے۔ سنگھ اور بی جے پی کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ دلتوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے جو پروگرام چلائے جارہے ہیں یا ڈاکٹر امبیڈکر کو ہتھیاربنانے کے لئے پروگرام کئے جارہے ہیں، کیا ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ حقیقت میں ذات پات کے سسٹم کو ختم کرکے منصفانہ سماج کے قیام کے حامی بن گئے ہیں؟ اسکے ساتھ ہی کیا یہ کہا جاسکتاہے کہ سنگھ یا بی جے پی جس نے ڈاکٹر امبیڈکر کی ان کے جیتے جی اتنی سخت مخالفت کی تھی، کا ضمیر بدل گیا ہے اور انہوں نے انہیں پوری طرح سے قبول کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ڈاکٹر امبیڈکر کے ہندو راشٹر کے حامی اور سخت مسلم مخالف ہونے کو بھی زور شور سے مشہور کرتے رہے ہیں۔
اپنے ایک مشہور مضمون میں کمیونسٹ آئیڈیا لاگ وی آئی لینن نے کہا ہے، مارکس کی تعلیم کے ساتھ آج وہی ہو رہا ہے جو مظلوم طبقوں کی نجات کی جدو جہد میں ان کے لیڈروں اور انقلابی تھنکروں کی تعلیمات کے ساتھ تاریخ میں اکثر ہو اہے۔ ظالم طبقوں نے عظیم انقلابیوں کو ان کی زندگی میں لگاتار تکلیفیں دیں۔ان کی تعلیم کو تاریک کیا اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔پچھلے سال وزیر اعظم نریندر مودی نے امبیڈکر راشٹریہ میموریل کی سنگ بنیاد کے موقع پر ڈاکٹر امبیڈکر میموریل لکچر دیا تھا جس میں انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کے کردار کی ستائش کرتے ہوئے اپنے آپ کو امبیڈکر بھگت قرار دیا تھا۔ ان کا یہ کہنا بی جے پی کی ہندوتوا کی بھگتی کے مطابق ہی ہے کیونکہ بھگتی میں پیار اور محبت کی صرف خوبیاں بیان کرکے کام چل جاتاہے اور اس کی تعلیمات کے طریقہ پر توضیح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔تب مودی نے بھی ڈاکٹر امبیڈکر کی صرف خوبیاں بیان کی ۔ یہ خوبیاں بھی لینن کی مذکورہ پالیسی کے مقابل کیا جارہا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ بی جے پی کی ہندوتوا نظریہ اور امبیڈکر کی مساویانہ نظریہ میں چھتیس کا آنکڑا ہے۔
اپنی تقریر میں مودی نے کہا تھا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے ذات برادری کے خلاف لڑائی لڑی تھی لیکن کون نہیں جانتا کہ بی جے پی کا ذات اور طبقاتی نظام کے بارے میں کیا نظریہ ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے تو کہا تھا کہ ذات برادری کی تفریق سے پاک سماج کا قیام ہمارا قومی ہدف ہے لیکن بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیم ہم آہنگی کے نام پر ذات اور طبقاتی نظام کا محافظ ہے، بابا صاحب نے مزدور طبقہ کے تحفظ کے لئے لیبر قانون بنانے کی سفارش کی تھی۔ لیکن مودی ’’میک ان انڈیا‘‘ کے نام پر سارے لیبر قانونوں کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جن جن ریاستوں میں بی جے پی کی سرکاریں ہیں ،وہاں پر لیبر قانون کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پورے ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری حلقے میں مستقل مزدوروں کی جگہ ٹھیکہ داری روایت لاگو کر دی گئی ہے جس سے مزدوروں کا زبردست استحصال ہورہا ہے۔ بابا صاحب تو مزدوروں کی سیاست میں حصہ داری کے حامی تھے۔ یہ بھی معروف ہے کہ موجودہ وقت میں مزدوروں کی فلاح سے متعلق جتنے بھی قانون ہیں، وہ زیادہ تر ڈاکٹر امبیڈکر کے ذریعہ ہی بنائے گئے تھے جنہیں موجودہ سرکار ایک ایک کرکے ختم کر رہی ہے یا کمزور بنا رہی ہے۔
بابا صاحب کے سرخیوں میں چھائے’’ تعلیم یافتہ کرو، جدو جہد کرو اور منظم کرو ‘‘کے نعرے کو بگاڑ کر تعلیم یافتہ ہو، منظم ہو اور جدو جہد کرو کی شکل میں پیش کرتے ہوئے مودی جی نے کہا تھا کہ بابا صاحب تعلیم کو بہت اہمیت دیتے تھے اور انہوں نے تعلیم یافتہ ہو کر منظم ہونے کے لئے کہا تھا تاکہ جدو جہد کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس میں بھی مودی جی کا اپنا ہی فارمولہ دکھائی دیتا ہے جبکہ بابا صاحب نے تو تعلیم یافتہ ہو کر جدو جہد کے ذریعہ سے منظم ہونے کا راستہ دکھایا تھا ۔ بابا صاحب مساوات کو لازمی سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس موجود سرکار تعلیم کے پرائیویزیشن کی حامی ہے اور تعلیم کے لئے بجٹ میں مقررہ کٹوتی کرکے ہنر والی تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ سے باہر کر رہی ہے۔
اپنی تقریر میں ریزرویشن کو کھرونچ بھی نہ آنے دینے کی بات پر مودی جی نے بہت زور دیا تھا۔ لیکن انہوں نے موجودہ دور میں ریزرویشن پر سب سے بڑے بحران ’’پروموشن میں ریزرویشن‘‘ سے متعلق آئینی ترمیم کی کوئی توضیح نہیں کی۔ اس کے ساتھ ہی دلتوں کے پرائیویٹ سیکٹر اور عدلیہ میں ریزرویشن کی مانگ کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ پرائیویزیشن کی وجہ سے ریزرویشن کے گھٹ رہے دائرے میں دلتوں کو روزگار کیسے ملے گا۔
مودی نے ڈاکٹر امبیڈکر کا لندن والا گھر خریدنے ،ممبئی میں میوزیم بنانے اور دہلی میں امبیڈکر میموریل بنانے کا سہریٰ بھی اپنی پارٹی کو دیاتھا۔ ویسے تو مایاوتی نے بھی دلتوں کے لئے کچھ ٹھوس کام نہ کرکے صرف میموریل اور یادگاری کی پالیسی سے ہی کام چلایا ہے۔ بی جے پی کی میموریل کی پالیسی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ شاید مودی یہ جانتے ہوں گے کہ بابا صاحب تو خود کو بت پجاری نہیں، بت توڑنے والا کہتے تھے اور یہ شخصیت کی پوجا کے سخت مخالفت تھے۔ بابا صاحب اسکولوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں کے قیام کے حامی تھے۔ وہ سیاست میں کسی آدمی کی بھگتی کے سخت مخالف تھے اور اسے عوامی زندگی کی سب سے بڑی گراوٹ مانتے تھے لیکن بی جے پی میں مودی جی کو ایک خدائی دین مان کر پوجا جارہاہے۔
اپنی تقریر میں مودی جی نے دلتوں کو حوصلہ دینے کا سہری بھی اپنے سرلیا تھا۔ مودی جانتے ہوںگے کہ کچھ دلتوں کے سرمایہ دار یا صنعت کار بن جانے سے اتنی بڑی دلت آبادی کی کوئی فلاح ہونے والی نہیں ہے۔ دلتوں کے اندر کچھ باپ دادا سے توکچھ پہلے سے ہی رہے ہیں۔دلتوں کی فلاح تو تبھی ہوگی جب سرکاری پالیسیاں عوامی حمایت میں ہوںگی نہ کہ کارپوریٹ کی حمایت میں ۔ دلتوں کے امپاورمنٹ کے لئے اراضی کا الاٹمنٹ اور روزگار گارنٹی ضروری ہے جو مودی سرکار کے ایجنڈ میں نہیں ہے۔ اپنی تقریر میں مودی کے ذریعہ ڈاکٹر امبیڈکر کی ستائش ،انہیں صرف سیاست کے لئے ہتھیاربنانے کی کوشش ہے۔ سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کی پیروکار سنگھ کی پالیسیاں اور نظریہ ڈاکٹر امبیڈکر کی متوازی ، غیر جانبداریت اور جمہوری نظریہ کے بالکل برعکس ہے ۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں بھی ڈاکٹر امبیڈکر کو ہتھیار بناکر دلت ووٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں جبکہ کسی بھی پارٹی کا دلت کی تخلیق نو کا ایجنڈا نہیں ہے۔
دلتوں کا خواب پورا کرنے میں فیل رہی مایاوتی
اس بار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اتر پردیش کی 86 ریزرو اسمبلی سیٹوں میں سے 69 سیٹیں جیت لیں۔دلتوں کی لیڈر بننے والی مایاوتی کو صرف دو سیٹیں ملیں۔ مودی نے دلت ووٹ کے اب تک کے سارے میتھ توڑ دیئے۔ حالانکہ لوک سبھا انتخابات میں ہی مودی نے اس میتھ کو منہدم کر دیا تھا۔ کانشی رام نے 1984 میں بہو جن سماج پارٹی بنائی تھی جو کہ 1993 میں اقتدار میں آگئی تھی۔ لیکن اتنی ہی جلدپارٹی ختم بھی ہو گئی۔ مایاوتی سے غیر جاٹو دلتوں کا رشتہ بالکل ٹوٹ گیا۔ دلتوں کا خواب پورا کرنے میں مایاوتی پوری طرح فیل ہو گئیں۔ لوک سبھا انتخابات میں تو بی جے پی نے سبھی 17 ریزرو سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ بہو جن سماج پارٹی نے انہی 17 سیٹوں پر دلتوں کو ٹکٹ دیئے تھے، وہ سبھی انتخاب ہار گئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *