بابری مسجد -رام جنم بھومی تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل کے امکانات؟

au-asif-for-web’’ بابری مسجد -رام جنم بھومی جھگڑے کا حل بات چیت میں ہی ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہندو-مسلم دونوں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں ‘‘۔یہ خیال کسی دانشور یا سیاست داں کا نہیں بلکہ اوکھلا مین بازار میں پیدا ہوئے 62سالہ تھری وہیلر (نمبر ایچ 2986) ڈرائیور پردیپ کمار کا ہے جس کا اظہار انہوں نے 21مارچ کو گاڑی چلاتے ہوئے راقم الحروف سے یہ سن کر کیا کہ سپریم کورٹ نے اس تنازعہ کو باہمی مشورے سے حل کرنے اور بصورت دیگر مقدمہ چلانے کو کہا ہے۔نسلاً پنجابی پردیپ کمار ملک کے ایک عام شہری ہیں۔ عقیدے سے ہندو ہیں مگر مسلم ماحول میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے سبب دونوں مذاہب کی ہم آہنگی سے خوب واقف ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ بی جے پی آئیڈیا لاگ اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سبرا منین سوامی تو کہتے ہیں کہ مسلمان متنازعہ جگہ پر رام مندر بننے دیں اور سرجو ندی کے اس پار نئی مسجد بنالیں ورنہ 2018 میں راجیہ سبھا میں اکثریت ہونے پر قانون بنا کر مندر بنا لیا جائے گا تو ان کا سلیس اردو میں جواب تھا کہ ’’ تب حل کیسے ممکن ہے ؟بات چیت کا مطلب ہے کہ دونوں فریقوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے۔ مندر اور مسجد دونوں کا قیام ایک ہی مقام پر کیا جاسکتا ہے جس کی کئی مثالیں ملک کے کئی مقامات پر پہلے سے موجود ہیں‘‘۔
یہ ایک عام آدمی کا خیال ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس عام آدمی کی کون سنے گا؟کیا سبرامنین سوامی سنیں گے؟کیا دونوں طرف کے فریقین سنیںگے؟دونوں طرف کے متعلقہ افراد اپنی اپنی رائے پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء مسلم فریقین کی آراء کھل کر سامنے آچکی ہیں۔ اس کیس کے ایک فریق بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی کا واضح طور پر کہنا ہے کہ ’’ تین دہائیوں کے اپنے تجربات کی بنیاد پر میرا احساس ہے کہ یہ معاملہ عدالت سے باہر نمٹایا نہیں جاسکتا ہے۔ ماضی میں متعدد بار بات چیت ہوچکی ہے جو کہ ناکام رہی۔1986 میں کانچی کام کوٹی کے اس وقت کے شنکر اچاریہ اور صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا علی میاں کے درمیان بھی بات چیت شروع ہوئی۔ بعد ازاں 1990 میں وزیر اعظم چندر شیکھر، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو اور بھیروں سنگھ شیخاوت نے بھی بات چیت کی۔ وزیر اعظم نرسمہا رائو نے بھی ایک کمیٹی بنائی اور کانگریس رہنما سبودھ کانت سہائے کے ذریعے بھی مذاکرات کی کوششیں ہوئیں مگر 1992 میں مسجد منہدم کردی گئی۔صدر بورڈ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے آخری ایام میں بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور شنکر اچاریہ کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اسی دوران سابق صدر جمہوریہ ہندآر وینکٹ رمن اور کلدیپ نیّر نے بھی مذکورہ بالا دونوں ذمہ داران سے بات چیت کی۔ مگر ان تمام بات چیت سے کچھ نہیں ہوا۔ بورڈ یا مسلم کمیو نیٹی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کے حدود سے باہر ہے۔ وقف کی جائداد پر بنی مسجد کے بارے میں متولی یا کوئی اور بھی کسی فیصلہ کے کرنے کا مجاز نہیں ہے۔لہٰذا میرے خیال میں اب مزید بات چیت سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلہ کا ہی ہمیں انتظار کرنا چاہئے‘‘۔
اسی طرح بابری مسجد کمیٹی کے جوائنٹ کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے بھی ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کو بتایا کہ ’’ اس سے قبل متعدد مذاکرات ہوچکے ہیں۔ وشو ہندو پریشد اور بابری مسجد کمیٹی کسی نتیجہ پر اس طرح کے مذاکرات میں نہیں پہنچ سکی ہے۔ آربیٹریشن اور مذاکرات کے مراحل گزر چکے ہیں۔ اب یہ ایشو جذبات سے نہیں بلکہ قانونی پوزیشن کی بنیاد پر نمٹنا ہے۔ ہمیں اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا چکا ہے‘‘۔
اسی کے ساتھ ساتھ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سپریمو اسد الدین اویسی نے بھی اس سلسلے میں عدالت سے باہر کے کسی حل کو مسترد کردیاہے۔یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے ملکیت کے معاملہ کے ساتھ ساتھ انہدام کے بعد دیگر مقدمات کو بھی جلد نمٹانا چاہئے۔ انہوں نے بھی ’’ چوتھی دنیا ‘‘ سے کہا کہ براہ کرم یاد رکھئے کہ بابری مسجد مقدمہ ملکیت کے معاملہ میں ہے جس تعلق سے الٰہ آباد ہائی کورٹ غلط طریقہ سے پارٹنر شپ مقدمہ کے طور پر فیصلہ سنا چکا ہے اور سلسلے میں اپیل سپریم کورٹ میں ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مسلم اکابرین میں اس تعلق سے ایک رائے نہیں پائی جاتی ہے۔ تبھی تو بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کہتے ہیں کہ ’’ ہمارا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر یقین و اعتماد ہے اور اگر وہ وہاں ہیں تو ہم مذاکرات کے لئے تیارہیں۔ یہ صحیح ہے کہ مذاکرات پہلے بھی ہوچکے ہیں مگر اسے پھر سے شروع کیا جاسکتا ہے۔لیکن مذاکرات لمبے نہیں ہونے چاہئے‘‘۔ خاص بات تو یہ ہے کہ بابری مسجد -رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ میں سب سے پرانے فریق مرحوم محمد ہاشم انصاری کے صاحبزادے محمد اقبال انصاری نے سپریم کورٹ کے آبزرویشن کو صحیح سمت میں بڑھتا ہوا قدم بتایا ہے۔
قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے امپاورمنٹ کے لئے اس ایشو پرسمجھوتہ کرنے کی بات بھی کررہے ہیں۔زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر ظفر محمود جو کہ سچر کمیٹی کے او ایس ڈی رہ چکے ہیں، اپنے 8نکات کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمان رام مندر کی تعمیر کو بابری مسجد کی جگہ پر اس شرط پر قبول کرسکتے ہیں کہ حکومت سچر کمیٹی کی سفارشات کو مکمل طور پر نافذ کرلے۔
ویسے بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کے تعلق سے عدالتی فیصلہ یا مذاکرات پر صرف مسلم کمیونٹی ہی نہیں بلکہ ہندو کمیونٹی میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے۔نیز ججوں کے درمیان بھی عدالتی فیصلہ یا عدالت سے باہر مذاکرات پر الگ الگ رائے رہی ہے۔ 1994 میں سپریم کورٹ ججز جے ایس ورما، ایم این ویکٹا چلیا اور جی این رے نے ایک متعلقہ مقدمہ میں مذاکرات کی بات کی تھی جبکہ پانچ رکنی بینچ کے باقی دو ججز ایس بھروچہ اور اے ایم احمدی اس کے حق میں نہیں تھے۔ یہی صورت حال 2010 میں بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ میں رہی جب جسٹس ایچ ایل گوکھلے نے مذاکرات کا مشورہ دیا مگر جسٹس آروی رویندرن نے عدالتی فیصلہ پر زور دیا۔
بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تنازعہ میں مذاکرات یا عدالتی فیصلہ میں کس کا پلڑا بھاری رہتا ہے اور پھر کیسے یہ حساس معاملہ نمٹایا جاتا ہے؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *