اکھلیش کے دور میں اسمبلی بن گئی تھی بدعنوانی کا پینڈورا باکس

damiسماجوادی پارٹی کے دور حکومت میںاسمبلی اسپیکر رہے ماتا پرساد پانڈے کے ذریعہ اسمبلی سکریٹریٹ میں کی گئیں سیکڑوںغیر قانونی تقرریاں مہا بھرشٹاچار کا پینڈورا باکس ہے۔ پانڈے نے اسمبلی سکریٹریٹ کو اپنے رشتہ داروں ، علاقائیوں اور تیمارداروں کا اڈا بنا دیا۔ اس میںکئی لیڈروں او راسمبلی سکریٹریٹ کے افسروں نے بھی ہاتھ دھوئے۔ جس ایوان میں آئین کے احترام اور قاعدے قانون بنانے کی پہل ہوتی ہے، اسی ایوان میںقاعدے قانون کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئیں۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کو لے کر ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد بھی ماتا پرساد پانڈے نے اسمبلی سکریٹریٹ میں تقرریاں جاری رکھیں اور اپنے لوگوں کو بھرتی کرنے کا سلسلہ انتخابی نتائج آنے تک جاری رہا۔ المیہ یہ ہے کہ ان غیر قانونی تقرریوں کے بارے میں الیکشن کمیشن سے شکایت بھی کی گئی لیکن کمیشن نے اس میں ہاتھ ڈالنے سے پرہیز کیا۔
ایس پی کے اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے کے ذریعہ کی جانے والی غیر قانونی تقرریوں کے بارے میں ان کی مدت کار کے درمیان ہی ’چوتھی دنیا‘ نے تفصیل کے ساتھ خبر (کور اسٹوری) شائع کی تھی۔ تب انھوں نے استحقاق کی خلاف ورزی اور توہین کا نوٹس بھجوایا تھا۔ اس کا جواب جاتے ہی انھوںنے نوٹس کو اپنی دراز میں بند رکھنا ہی مناسب سمجھا۔ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے اور انتخاب کے درمیان بھی ماتا پرساد پانڈے کی جانب سے جو دھڑا دھڑ تقرریاں کی گئیں، اس کے بارے میںہم تفصیل سے بتانے جارہے ہیں۔ اس کے بعد پہلے کے کرتوتوں کی فائل ایک بار پھر آپ کے سامنے کھولیں گے، تاکہ سند رہے۔۔
سابق اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے خود بھی اٹاوہ اسمبلی نمبر (305) سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار تھے۔ ان پر ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی دوہری ذمہ داری تھی، اسے طاق پر رکھ کر وہ اسمبلی سکریٹریٹ میںاپنے ناتے رشتہ داروں اور پیروی بیٹوں کی تقرری کرنے میںلگے تھے۔ ریاست میںضابطہ اخلاق 4 جنوری سے نافذ ہوگیا تھا۔ آپ اسمبلی سکریٹریٹ کی دستاویزات کھنگالیں تو پائیں گے کہ ضابطہ اخلاق کے دوران خوب تقرریاںکی گئیں۔ ضابطہ اخلاق کے بیچ 12,13,16,17,18 اور 27 جنوری کو اسمبلی ریویو آفیسرز اوراسسٹنٹ ریویو آفیسرز کی تقرریاں کی گئیں۔ ان سے متعلقہ دستاویزات ’چوتھی دنیا‘ کے پاس دستیاب ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے دوران اسمبلی سکریٹریٹ میںجن ریویو آفیسرز اور اسسٹنٹ ریویو آفیسرز کی تقرریاں کی گئیں، ان میں سے کچھ نام ہم قارئین کے اطمینان کے لیے چھاپ رہے ہیں۔ اس فہرست میںاپیندر ناتھ مشر، رودر پرتاپ یادو، نریندر کمار یادو، مان بہادر یادو، رجنی کانت دوبے، راکیش کمار ساہنی، ورون دوبے، رویندر کمار دوبے، بھاسکر منی ترپاٹھی، ویریندر کمار پانڈے، جے پرکاش پانڈے، آدتیہ دوبے، نوین چترویدی، پرویش کمار مشر، منی رام یادو، درگیش پرتاپ سنگھ، سدھیر کمار یادو، سندیپ کمار دوبے، راجیش کمار سنگھ، راکیش کمار سنگھ، سنیل سنگھ، وجے کمار یادو، وویک کمار یادو، امیتابھ پاٹھک، راہل تیاگی، اویناش چترویدی، پنیت دوبے، شلبھ دوبے،پرشانت رائے شرما، آدتیہ کمار دویدی، شرییانش پرتاپ مشر، کالی پرساد، وپن ورما، سونی کمارپانڈے، سنجیو کمار سنگھ، سدھارتھ دھرم راجن، چندریش کمار پانڈے، ستیش کمار سنگھ، کیرتی پردھان، شیشر رنجن، ورون سنگھ، پیوش دوبے، اروندکمار پانڈے، اورنگ زیب عالم، سلمان، کروناشنکر پانڈے، دلیپ کمار پاٹھک، پروین کمار سنگھ، بھوپیندر سنگھ، سشمتا گپتا، ابھیشیک کمار سنگھ، انکتا دویدی، ہمانشو شریواستو، پارتھ سارتھی پانڈے، پرشانت کمار شرما، راہل تیاگی اور ہری شنکر یادو کے نام شامل ہیں۔ ان میںسے زیادہ ر لوگ ماتا پرساد پانڈے کے اسمبلی حلقہ کے رہنے والے، ان کے یا ان کے قریبی لیڈروں کے رشتہ دار یا ان کے ضلع کے رہنے والے حامی ہیں۔ ماتاپرساد پانڈ ے نے تقرریوں کو اور پختہ کرنے کے لیے کچھ دیگر دستاویزی خرافات بھی کیں، جن میںاسمبلی کے پرنسپل سکریٹری پردیپ کمار دوبے اور اسپیشل سکریٹری پرمود کمار جوشی خاص طور پر ان کا ساتھ دیتے رہے۔ 27 فروری 2017 کو ماتا پرساد پانڈے نے اسمبلی سیشن میں اوور ٹائم کام کرنے والے 652 افسروں/ ملازمین کے لیے 50 لاکھ روپے کی اضافی تنخواہ منظور کی اور بڑی چالاکی سے اس لسٹ میں ان لوگوں کے نام بھی گھسیڑ دیے جن کی تقرری ہی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد کی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اسمبلی سکریٹریٹ میں ریویو افسروں اور اسسٹنٹ ریویو افسروں کی تقرری کے لیے 12 جون 2015 کو اشتہار شائع کیا گیا تھا۔ ا س میں قریب 75 ہزار امیدواروں نے فارم بھرا تھا۔ اسمبلی نے ان سے فیس کے طور پر کل تین کروڑ روپے وصول کیے تھے۔ تقرری کے لیے امتحان کرانے کی ذمہ داری ٹاٹا کنسلٹینسی سروس (ٹی سی ایس) کو دی گئی تھی۔ اس کے لیے ٹی سی ایس کو ایک کروڑ 52 لاکھ 33 ہزار 700 روپے فیس کے طور پر دیے گئے۔ ٹی سی ایس نے 29/30 دسمبر 2015 کو 11 ضلعوں میں بنائے گئے مراکز پر آن لائن امتحان لیا۔ اس امتحان کے رزلٹ کا لوگوںکو انتظار تھا۔ لیکن ساتھ مہینے کے انتظار کے بعد امیدواروں کو پتہ چلا کہ وہ امتحان تو اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ رد کیا جا چکا ہے۔ 27 جولائی 2016 کو اسمبلی کے نوٹیفکیشن کے ذریعہ اسپیشل سکریٹری پرمود کمار جوشی نے ٹی سی ایس کے آن لائن امتحان رد کیے جانے اور دوبارہ امتحان میں شامل ہونے کے لیے ان ہی امیدواروںسے پھر درخواست داخل کرنے کا فرمان جاری کیا۔ امتحان رد کونے کا کوئی سبب بھی نہیںبتایاگیا۔ اس نوٹیفکیشن میںیہ بات بھی گول کردی گئی کہ اب کون سی کمپنی امتحان کرائے گی۔ ملک ،ریاست سے درخواست دینے والے امیدواروںمیںبھگدڑ جیسی صورت حال بن گئی۔ ہزاروں امیدواروں کو تو دوبارہ امتحان کی جانکاری بھی نہیںمل پائی ان کی فیس کا پیسہ ڈوب گیا۔ امتحان رد ہونے اور اسے دوبارہ کرانے کے بارے میںقاعدے کے مطابق اشتہار شائع کرایا جانا چاہیے تھا، لیکن اسمبلی نے ایسا نہیںکیا۔ کہیںکوئی شفافیت نہیں برتی گئی۔ دوبارہ امتحان دینے کے لیے 60 ہزار امیدوار ہی درخواست داخل کر پائے۔ امیدوار اور سرپرست پریشان اور بے چین تھے، لیکن اسمبلی کے اندر سازش کا کھیل بڑی تسلی سے کھیلا جارہا تھا۔ اس بار امتحان کرانے کا ٹھیکہ گپ چپ طریقہ سے ’ایپٹیک‘ کو دے دیا گیا۔ اس بار محض چھ ضلعوںمیںبنائے گئے مراکز پر آف لائن امتحان کرایا گیا۔ اس میںاو ایم آر شیٹ پر جواب کے خانوں میںپینسل گھسوائی گئی تاکہ آسانی سے ہیرا پھیری کی جاسکے۔
اور ایسا ہی ہوا۔ قریب 60 ریویو افسروں (آر او) اور 80 اسسٹنٹ ریویو افسروں (اے آر او) کی ایسے وقت تقرریاں کی گئیں جب اترپردیش میںانتخابی ضابطہ اخلاق نافذ تھا۔ ایسے بھی لوگوںکی تقرری کی گئی جو امتحان میںپاس نہیں تھے اور مقررہ عمر کی حد سے کافی اوپر کے تھے۔ ماتا پارساد پانڈے کو اندازہ تھا کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد ریاست میںسماجوادی پارٹی کی سرکار نہیںبچے گی۔ اسمبلی سکریٹریٹ کے چیف سکریٹری پردیپ کمار دوبے بھی 30 اپریل 2017 کو ریٹائرہونے والے ہیں۔ لہٰذا بہتی گنگا میںہاتھ دھوتے ہوئے 25-30 اسسٹنٹ ریویو افسروں کی بھی بھرتی کرلی گئی۔ اس کے لیے اسمبلی سکریٹریٹ نے اشتہار شائع کرنے کے ضابطہ پر عمل کرنابھی مناسب نہیںسمجھا۔ ان تقرریوںمیںایسے لوگ بھی شامل ہیں جو تعلیمی اعتبار سے اہل نہیں ہیں اور مقررکی گئی عمر سے بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ چپراسی کی تقرری کا اشتہار ایک ساندھیہ اخبار میںشائع کرایا گیا او راس میںماتا پرساد نے اپنے حلقہ کے لوگوں کو بھر دیا۔ اناپ شناپ طریقہ سے پروموشن بھی کردیے گئے۔ ایس پی لیڈر رام گوپال یادو کے قریبی بتائے جانے والے رمیش کما ر تیواری کو اسمبلی کی لائبریری میںاسپیشل ورک آفیسر (ریسرچ) کے عہدہ پر کسی انتخابی عمل کے بغیر مقرر کردیا ۔ اسی طرح ریٹائر ہوچکے رام چندر مشر کو پھر سے او ایس ڈی بنا کر لے آیا گیا۔ اس طرح کے کوئی نمونے ہیں۔ عجیب لیکن سچ یہ بھی ہے کہ جن 40 ریویو افسروںکی تقرری 2005 میں ہوئی تھی، انھیںریگولر نہیںکیا گیا اور سال 2007 کے الیکشن کے وقت ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے درمیان ہی انھیں نکال باہر کیا۔ تب بھی اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے ہی تھے۔ سال 2011 میںان ہی میں سے کچھ پیروی بیٹوںکو پھر سے ریگولر کردیا گیا اور باقی لوگوںکو سڑک پر دھکے کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ماتا پرساد پانڈے کو ضابطہ اخلاق کے درمیان ہی ناپسند افسروںکو نوکری سے باہر نکالنے اور ضابطہ اخلاق کی مدت میںہی اپنے پسندیدہ لوگوںکو نوکری دینے میںمہارت حاصل ہے۔
ماتا پرساد پانڈے کے دو دامادوں اور سابق اسمبلی اسپیکر سکھدیو راج بھر کے داماد کی غیر قانونی تقرریوں سے اسمبلی کا مذاق پہلے ہی اڑ چکا ہے۔ پانڈے نے اپنے دو دامادوں پردیپ کمار پانڈے اور نریندر شنکر پانڈے کو سارے قانون طاق پر رکھ کر مقرر کیا تھا۔ بڑے داماد پردیپ کمار پانڈے 22 مارچ 2013 کو اسمبلی میں ایڈیٹر کے عہدے پر اور چھوٹے داماد نریندر شنکر پانڈے 12 مئی 2015 کو او ایس ڈی کے عہدہ پرمقرر کیے گئے تھے۔ اسی طرح بی ایس پی کے دور حکومت میںاسمبلی اسپیکر رہے سکھدیو راج بھر نے بھی اپنے داماد راجیش کمار کو اسمبلی سکریٹریٹ میںریسرچ اینڈ ریفرینس آفیسر کے عہدہ پر بغیر کم سے کم اہلیت اور بغیر کسی عمل کی تعمیل کیے ہوئے تقرر کردیا تھا۔ ماتا پرسادپانڈے نے تقرریوںکے لیے اسمبلی کے دستور العمل کی ان دفعات میں بھی ترمیم کردی جسے ترمیم کرنے کا اختیار اسمبلی اسپیکر کو ہے ہی نہیں۔ ان دفعات میںانفارمیشن آفیسر کرمیش پرتاپ سنگھ کی غیر قانوی تقرری کے سیاق و سباق میں اس ترمیم کا بھانڈہ پھوٹا۔ لیکن تب تک پانڈے انفارمیشن آفیسر کی تقرری کرچکے تھے۔
ماتا پرساد پانڈے نے اسمبلی سکریٹریٹ میں ریویو افسروں اور اسسٹنٹ ریویو افسروںکی بھرتی کا ہدف 2006 سے ہی سادھ رکھا تھا۔ اس وقت بھی ملائم کے دور حکومت میںماتا پرساد پانڈے ہی اسمبلی اسپیکر تھے اور انھوںنے 50 ریویو افسروں اور 90 اسسٹنٹ ریویو افسروںکی تقرری کے لیے 12 مارچ 2006 کو امتحان کرایا تھا۔ تقرریوںمیں تاخیر ہوئی اور 2007 میں اقتدار بدل گیا۔ بی ایس پی سرکار نے آتے ہی سارے امتحان رد کردیے تھے۔ بی ایس پی کے دور میںاسمبلی اسپیکر رہے سکھدیو راج بھر نے ریویو افسروں کی تقرری کے لیے 14 اپریل 2011 میں پھر سے امتحان کرائے۔ بی ایس پی کے اسمبلی اسپیکر نے وہ امتحان اترپردیش ٹیکنیکل یونیورسٹی (یو پی ٹی یو) سے کرائے۔ اس میں48 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ اس خرچ کا حساب آج تک مالیاتی محکمہ کے پاس جمع نہیں کیا گیا ہے۔ خیر 2012 میں پھر اقتدار بدلا، ماتا پرساد پانڈے پھر اسمبلی اسپیکر بن گئے۔ پانڈے نے پھر بی ایس پی کے امتحان رد کردیا۔ اسے ٹی سی ایس سے کرایااور پھر رد کردیا۔ پھر ’ایپٹیک‘ سے کرایااور حکومت جانے سے عین قبل اپنی مرضی کی بھرتیاںکرڈالیں، ضابطہ اخلاق کا بھی دھیان نہیںرکھا۔ ماتا پرساد پانڈے نے اپنی مدت کار میںاسمبلی سکریٹریٹ میںجتنی بھی تقرریاں کیں،ان میںسے کون ان کے رشتہ دار ہیں،کون ان کے اسمبلی حلقہ کے ہیں،کون ان کے ضلع کے نزدیکی ہیں،کون کس لیڈر کے سگے ہیں اور کون اسمبلی کے کس افسر کے ناتے دار ہیں،اس کا بھی ہم آگے تفصیل سے خلاصہ کریں گے۔
اب ایکسٹینشن کی جگاڑ لگا رہے ہیں پردیپ دوبے
اسمبلی کے پرنسپل سکریٹری پردیپ دوبے کی تقرری میںبھی مثالی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ جنوری 2012 کو مایاوتی نے پردیپ دوبے کی تقرری پر مہر لگائی تھی۔ تب ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ تھا۔ اس وقت پردیپ دوبے کی تقرری پر سماجوادی پارٹی نے اعتراض کیا تھا لیکن اقتدار میںآتے ہی سماجوادی پارٹی کے اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے اور دوبے کی چھننے لگی۔ اسمبلی سکریٹریٹ میں ہوئیں اناپ شناپ تقرریوں میں پانڈے اور دوبے نے خوب ملی بھگت کی۔ اب وہی پردیپ دوبے، بی جے پی کی حکومت میںبھی اپنی سروس کی مدت کار بڑھوانے (ایکسٹینشن ) کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دوبے ریٹائرمنٹ کے نزدیک ہی ہیں۔
اسمبلی سکریٹریٹ کے پرنسپل سکریٹری پردیپ کمار دوبے کی تقرری کے وقت یہ سوال بھی اٹھا تھا کہ وہ مقرر کی گئی عمر کی حدپار کرچکے تھے۔ ان کی تقرری پبلک سروس کمیشن سے نہ ہوکر سیدھی بھرتی کے ذریعہ کی گئی تھی، جو سکریٹریٹ سروس مینوئل کی خلاف ورزی ہے۔ اترپردیش اسمبلی سکریٹریٹ سروس (بھرتی اور سروس کی شرائط) کے مینوئل کے مطابق اسمبلی میں سکریٹری کے عہدے پر تقرری کمیشن سے ہی کی جاسکتی ہے لیکن پردیپ کمار دوبے کی تقرری میں چوتھے درجہ کے ملازمین کی بھرتی والا عمل اپنایا گیا تھا۔ سیدھی بھرتی کے لیے 25 جنوی 2012 کو اشتہار شائع ہوا تھا۔ تب ریاست میں ضابطہ اخلاق نافذ تھا۔ اس کے مطابق امیدوار کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 52 سال ہونی چاہیے تھی جبکہ دوبے کی عمر 52 سال سے زیادہ تھی، پھر بھی بی ایس پی سرکار میں ان کی پرنسپل سکریٹری اسمبلی کے عہدے پر تقرری کردی گئی۔ پردیپ کمار دوبے 13 جنوری 2009 کو پارلیمانی امور محکمہ میں پرنسپل سکریٹری مقرر ہوئے تھے۔ چھ دن بعد ہی 19 جنوری کو ایک نئے حکم کے ذریعہ انھیںاسمبلی کے پرنسپل سکریٹری کی ذمہ داری سے ڈسچارجہونے کو کہا گیا۔ بی ایس پی سرکار نے دوبے کو پرنسپل سکریٹری کے عہدہ پر منتقل دکھاتے ہوئے ضابطہ اخلاق کے دوران ہی اسمبلی کے پرنسپل سکریٹری کے عہدے پر ریگولر کردیا۔ تب دوبے کی تقرری کی ایس پی نے پرزور مخالفت کی تھی۔ اس وقت ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر بھرتی کے عمل کو روکنے کی مانگ کی تھی۔ لیکن بی ایس پی سرکار میں ضابطوں کو طاق پر کھ کر کی گئی تقرری کے معاملے کو حکومت میںآنے کے بعد ایس پی سرکار نے خاموشی اختیار کرلی۔ پردیپ دوبے کے وی آر ایس لینے کے بعد ہوئی دوبارہ تقرری پہلے سے کٹہرے میں تھی، لیکن سماجوادی پارٹی کی سرکار بننے کے بعد معاملہ پوری طرح دفن کردیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *