’انڈین آئیڈل‘ کی شہرت یافتہ ناہید آفرین فرضی فتویٰ کا شکار ہوئیں

damiگلوکاری کے لیے مشہور مقابلے ’انڈين آئیڈل‘ سے شہرت پانے والی آسام کی 15 سالہ گلوکارہ ناہید آفرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف فتوے سے متعلق حقائق سے واقف نہیں ہیں۔خبروں کے مطابق تقریبا 46 علما کی طرف سے مبینہ طور پر ان کی گلوکاری کے خلاف فتویٰ جاری کیا گيا تھا۔خبروں کے مطابق ناہید آفرین نوگاؤں میں 25 مارچ کو ہونے والے ایک پروگرام میں گانے والی تھیں جس کے خلاف فتوی جاری کیا گيا۔ اس کے خلاف میڈیا نے زبردست آواز اٹھائی اور فتوے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس بارے میں خود ں ناہید اور ان کے والدین نے بتایا کہ کچھ رپورٹر ان کے گھر ایک لفافہ لے کر آئے تھے، لیکن اس میں کیا لکھا تھا یہ ان کے والدین نے انھیں نہیں بتایا۔

ناہید کہتی ہیں کہ ’میں نے نہیں دیکھا ممی پاپا نے پڑھنے کے لیے نہیں دیا بلکہ انھوں نے خود ہی پڑھا۔ اس کے اندر وہی سب لکھا تھا جو میری گلوکاری میں رکاوٹ کے لیے تھا۔ انھیں معلوم ہے، کچھ ویسا ہے پر انھوں نے مجھے نہیں بتایا۔‘اس بارے میں ناہید کی ماں فاطمہ نے کہا کہ ’ہم تو وہ پڑھ نہیں پائے، لفافہ کچھ رپورٹروں کے ہاتھ میں تھا، شاید کچھ نام تھے۔ ہم لوگوں کو تو اس بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔ ہمیں تو نیوز اور فون کالز سے معلوم ہوا کہ ایسا کچھ ہوا ہے۔‘فتوے کے بارے کسی مذہبی تنظیم سے فون آنے یا کوئی معلومات دیے جانے کے متعلق سوال پر فاطمہ نے کہا کہ ’ہمیں کسی مذہبی تنظیم کی جانب سے فتوی کے سلسلے میں کوئی فون نہیں آیا۔‘اس طرح کی بھی خبریں آئیں کہ ناہید جس پروگرام میں شرکت کرنے والی تھیں وہ مقام کسی مسجد یا قبرستان کے پاس ہے اس لیے انھیں پروگرام نہ کرنے کے لیے فتوی جاری کیا گیا تھا۔
اس پر ناہید کی ماں فاطمہ نے کہاکہ ’ہم کو معلوم ہوتا کہ وہاں کوئی مسجد یا قبرستان ہے تو ہم خود ہی اس منسوخ کروا دیتے۔‘ ناہید آفرین نے کہا کہ ان کا فن خدا کا عطا کیا ہوا تحفہ ہے جسے وہ ترک کرنے والی نہیں ہیں
ناہید کے اہل خانہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ انھیں کسی بھی اسلامی ادارے یا شخص کی جانب سے فتوی نہیں ملا ہے۔ دوسری جانب کسی خاص تنظیم یا شخص کی طرف سے بھی اس فتوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔لیکن میڈیا میں اس پر زبردست بحث ہوئی اور پھر کئی جانب سے ناہید کی حمایت میں بیانات آنے لگے۔ بالی ووڈ سے وابستہ بھی بعض لوگوں نے ان کی حمایت میں ٹوئٹ کیا۔
آسام کے وزیر اعلی سربا نند سونیوال نے بھی فتوے کی سخت مخالفت کی اور اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ‘فنکار کی آزادی جمہوریت کا جوہر ہے، ناہید سے بات کی اور فنکاروں کو تحفظ دینے کی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ناہید آفرین نے اس سے متعلق ٹی وی پر ہونے والی بحث میں حصہ لیا اور کہا کہ ان کا فن خدا کا عطا کیا ہوا تحفہ ہے جسے وہ ترک کرنے والی نہیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *