انتخاب غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے ، غیر جانبدرانہ دکھنا بھی چاہئے

morarka-sir-jiہندوستانی جمہوریت کا سب سے مضبوط جز اس کے مستقل طور پر ہونے والے انتخابات ہیں۔ ایمرجنسی کو چھوڑ کر جب اندراگاندھی سے غلطی ہوئی تھی لیکن ایک سال کے بعد انھوں نے بھی اپنی غلط کو سدھار لیا تھا ۔ ہندوستان میں ہمیشہ سے آئین کے مطابق مستقل طور پر انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ جب تک انتخابی عمل صاف شفاف ہے اور مستقل طور پر انتخابات ہوتے رہتے ہیں ، تب تک اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ حال ہی میں ہوئے اتر پردیش انتخابات میں بی جے پی کو زبردست جیت حاصل ہوئی۔ لازمی طور پر وہ بہت خوش ہیں۔ حالانکہ ای وی ایم کی طرز کار پر شک کرنا اچھا پیغام نہیں ہے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو انتخابات ہارنے کے بعد نظام پر الزامات عائد کرنے لگتے ہیں۔ پھر بھی یہ انتخابی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ انتخابات نہ صرف صاف شفاف اور غیر جانبدرانہ ہوں بلکہ صاف ستھرے اور غیر جانبدرانہ نظر بھی آنے چاہئیں۔ جیسا کہ ہم نے افریقی ممالک کے انتخابات میں دیکھا ہے کہ وہاں انتخابات ہی چرا لینے کے الزامات عائد ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بر سراقتدارپارٹی بے ایمانی سے انتخابات جیت گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں جمہوریت ناکام ہو جاتی ہے۔ یا تو وہاں تختہ پلٹ ہو جاتا ہے یا فوج اقتدار پر قابض ہو جاتی ہے اور جمہوریت کا پوری طرح سے صفایا ہو جاتا ہے۔
اگر (اور یہ پر اسرار ہے) ای وی ایم سے واقعی چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے تو ہندوستان ایک بہت ہی تاریک راستے کی طرف جا رہا ہے۔ اگر انتخابات غیر جانبدرانہ ہوتے ہیں تو پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سی جماعت انتخابات جیتتی ہے۔ ہم اس تاریک راستے کی طرف نہیں جا رہے ہیں، کیونکہ ایسے عوام خود ہی حکومت کو درست کر دیں گے۔ جو سب سے اہم نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو حکومت نہیں ہٹا سکتی، لیکن دیگر دو الیکشن کمشنروں کو حکومت ہٹا سکتی ہے اور سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ انتخابی کمیشن کے فیصلہ اکثریت سے لئے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انتخابی کمیشن کی آزادی اپنے ڈھانچہ سے ہی کمزور ہو گئی۔ یا تو صرف ایک چیف الیکشن کمشنر ہونا چاہئے اور حکومت کو پہلے کی طرح دو کمشنروں کے عہدہ کو ختم کر دینا چاہئے یا پھر یہ ضابطہ بنانا چاہئے کہ تینوں الیکشن کمشنروں کو پارلیمنٹ کی دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے اور تینوں کو آزاد بنا دینا چاہئے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا تب تک انتخابی کمیشن کا ڈھانچہ کمزور رہے گا اور اس کی آزادی شکوک کے گھیرے میں رہے گی۔
انتخابی کمیشن نے حال ہی میں دو فیصلے دئے ہیں۔ پہلا سماجوادی پارٹی سے جدا ہے جس میں انھوں نے پارٹی کا انتخابی نشان اکھلیش یادو کے گروپ کو اس بنیاد پر دے دیا کیونکہ ان کے پاس ایم ایل اے تھے۔ پارٹی کا نشان مقررکرنے کی یہ غلط بنیاد تھی، کیونکہ ایم ایل اے پارٹی نہیں ہوتے ،تووہ پارٹی سے جڑے ہوتے ہیں۔ موجودہ رکن اسمبلی کا گروپ پارٹی نہیں ہو سکتا، کیونکہ آئندہ انتخابات میں وہ ہار سکتے ہیں، جیسے کہ ان میں سے بیشتر ہار گئے۔ وہیں دوسری طرف تمل ناڈو میں انھوں نے اے آئی اے ڈی ایم کے کا انتخابی نشان فریز کر دیا ۔ جبکہ کچھ ارکان اسمبلی کو چھوڑ کر باقی کے تمام ارکان اسمبلی پلنی سوامی کے ساتھ ہیں اور آپ نے انہیں پارٹی کا نشان نہیں دیا۔ لہٰذا، یہ ظاہر ہے کہ انتخابی کمیشن حکومت کے دبائو میں ہے۔ جتنی جلدی اسے درست کر لیا جائے گا ،اتنا اچھا ہوگا۔ سپریم کورٹ اس پر نوٹس لے سکتا ہے اور اپنی ہدایات جاری کر سکتا ہے۔
ان سب کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ چونکہ آپ نے انتخاب جیت لیا اور یہ سمجھ لیا کہ آپ ناقابل تسخیر ہیں ۔ سنگھ پریوار کے کارکنان قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگے اور گو رکشا کے نام پر لوگوں کو جان سے مارنے لگے۔ قانون کے علاوہ کسی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو سزا دے ۔ اگر کوئی غیر قانونی طریقہ سے گائے لے جا رہا ہے تو عدالت جایئے ۔ آپ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ راجستھان کے وزیر داخلہ اور مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ گائے کے نام پر قتل کی خبریں جھوٹی ہیں۔ اب کیا غلط اور کیا صحیح ہے ،یہ پولس کو پتہ لگانا ہے۔ اس کا فیصلہ وزیر کیسے کر سکتے ہیں؟ نظم و نسق کی ذمہ داری ریاست کے وزیر اعلیٰ کی ہوتی ہے۔ راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جو متوقع طور پر پر امن ریاست ہے، لیکن الور ضلع میں جو واقعہ پیش آیا ،وہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ امید ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس کا نوٹس لیا ہوگا اور وہ اسے ٹھیک کریں گی۔
دوسری طرف یوگی ہیں ، حالانکہ وہ ایک مذہبی شخص ہیں ، لیکن پریس سے جو باتیں انھوں نے کی ہیں، اس سے یہ امید بندھتی ہے کہ وہ قانون کے لحاظ سے کام کریں گے۔ اتر پردیش، راجستھان سے بڑی ریاست ہے ۔ ہمیں وہاں قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے۔ گوکشی شمال مشرق کی ریاستوں میں ممنوع نہیں ہے۔ بی جے پی وہاں اپنے پیر جمانا چاہتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی کے اراکین اور آر ایس ایس وغیرہ سے وابستہ اراکین کو خوداحتسابی کرنا چاہئے کہ ان کا دنیاوی نظریہ کیا ہے۔ کیا آپ لوگوں کی ذہنیت بدلنا چاہتے ہیں؟ مہاتما گاندھی کو لوگوں میں یہ بھروسہ پیدا کرنے میں کہ بنا تشدد کے کہ ہم آزاد ہو سکتے ہیں، 30سے 40سال کا وقت لگا تھا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ سبزی خور بن جائیں تو یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ پانچ سال کے لئے چنی گئی حکومت تو یہ کر نہیں سکتی، لیکن ان کے دماغ میں ہے؟ ہمیں نہیں معلوم۔ وزیر اعظم الگ زبان بولتے ہیں، سنگھ پریوار الگ زبان بولتا ہے اور شر پسندوں کے کارنامے سب کے سامنے ہیں۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ اہم ایشو یہ ہے کہ وزیر اعظم کے کانگریس مکت ہندوستان کی اپیل بہت ہی غلط تھی۔ دراصل ان کے ذہن میں اپوزیشن مکت ہندوستان کا تصور تھا۔ اپوزیشن سے پاک ملک صرف غیر جمہوری ملک میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن لازمی ہے۔ جیسے پہلے بی جے پی اپوزیشن میں تھی، اب کانگریس اپوزیشن میں ہے۔ اپوزیشن میں بغیر مکمل آزادی کی بات کرنا جمہوریت کے تصور کے خلاف ہے۔ جتنی جلدی اس طرح کی زبان بند ہوگی اتنا ہی بہتر ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو اب خود ہی ذمہ داری لینی ہوگی کیونکہ لوگوں نے ان کے لئے ووٹ کیا ہے۔ خواہ وہ اتر پردیش ہو یا کوئی دیگر ریاست لوگوں نے ان کا چہرہ دیکھ کر ان پر بھروسہ ظاہر کیا ہے۔کیونکہ وہ جو باتیں کرتے ہیں وہ سیکولر ہیں، جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ انصاف پسند ہیں، ان سب کو حقیقی شکل دینا ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ اگر وہ عام بی جے پی کیڈر پر چھوڑ دیں گے تو وہ یقینی طور پر ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ان کے ورلڈ ویو کو نہیں مانتے کہ ہندوستان کو سیکولر ہونا چاہئے، آئین ایک محض پاکیزہ کتاب ہونا چاہئے۔ یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی سوچ نہیں ہے۔ جتنی جلدی اس تضاد کو سلجھا لیا جائے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *