الکایاگنک ان دنوں خاموش کیوں؟

damiپلے بیک سنگر الکا یاگنک نے اپنی دلکش آواز کے ذریعہ کئی سالوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کیا ہے لیکن وہ ایک عرصے سے گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔انھوں نے کہا ’فی الحال ممبئی میں ہی ہوں اور گھر میں چھپی بیٹھی ہوں، میڈیا سے ذرا گھبراتی ہوں، ساری زندگی اتنے انٹرویوز دیے کہ اب تھک گئی ہوں۔‘

کولکاتہ کے ایک متوسط طبقے سے آنے والی الکا ياگنک کی پیدائش 20 مارچ 1966 کو کلکتہ میں ہوئی تھی۔ان کے دور سے اب تک فلمی دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ آج موسیقی کے لحاظ سے گانوں کا اسٹائل بدل چکا ہے، میلوڈی اب کم سنائی دیتی ہے، صوفی ریمکس اور آئیٹم سانگ اب زیادہ سنائی دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے آج کا دور پہلے سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں کسی کا زیادہ دیر ٹکنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ریئلٹی شو کی وجہ سے کئی فنکاروں کو مواقع مل رہے ہیں لیکن موسیقی کی کوالٹی اچھی نہیں ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید اچھے اور میلوڈی (نغمگی) والے گانے ضرور آئیں گے۔الکا نے امیتابھ بچن کی فلم ‘لاوارث میں “میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے۔” گایا تھا جو زبردست ہٹ ہوا۔
ممبئی میں جدوجہد کرنے کے بعد 1988 میں فلم ‘تیزاب کے گیت ‘ایک دو تین چار پانچ چھ سات سے انھیں اصلی کامیابی ملی اور وہ پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئیں۔
الکا یاگنک ’میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے‘ ۔گیت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب یہ گانا گایا تھا، تب اندازہ نہیں تھا کہ اس گانے سے ایک شناخت ملے گی۔ کلیان جی آنند جی تب کہا کرتے تھے کی تمہارا نام ‘آنگنا ياگنک ہونا چاہیے۔ تب اس گانے کو ریہرسل کے طور پر گایا تھا۔
الکا ياگنک کا کہنا ہے کا ‘ان کے زمانے میں وہ لوگ کام کے دم پر آگے بڑھتے تھے لیکن آج کل تو ہر نئے سنگر کو میڈیا راتوں رات اسٹار بنا دیتی ہے۔ اگر ایک گانا بھی پاپولر ہو گیا اور سنگر اس کامیابی کو دہرا نہیں پایا تو اس کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’جو خواہش نہیں کی تھی، وہ بھی پوری ہو گئی، اب زندگی میں جو بھی ملے وہ سرپرائز ہونا چاہیے جو سوچا نہیں تھا وہ مل گیا۔الکا کا کہنا تھا کہ ہر گانے کی اپنی زندگی ہوتی ہے، اگر اس میں دم ہوگا تو اسے پاپولر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
کس گانے کو ریکارڈ کرنے میں انھیں بہت محنت کرنی پڑی؟ اس کے جواب میں الکا کا کہنا تھا فلم ‘سو دیش کا گیت ‘سانوريا کو ریکارڈ کرنے میں بہت محنت کرنی پڑی تھی۔ گانا بہت اتار چڑھاؤ بھرا تھا۔ اس وجہ سے اس کو سمجھنے میں وقت لگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *