آدھار کار ڈ ناگزیرکیوں؟

damiاس ملک میں عجیب ماحول بن گیا ہے۔ سارے لوگ اچھی اچھی باتوں کو بولنا اور سنناچاہتے ہیں۔ملک کا مستقبل اور لوگوں کے تحفظ کے معاملے میں بھی ذمہ دار ادارے صرف میٹھی میٹھی باتوں کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ کڑوی باتیں بولنا اور سننا ملک کی سرکار اور اداروں کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے بھی بند کر دیا ہے۔ سرکار لگاتار بغیر بحث کے قانون پاس کرانے میں کامیاب ہو جارہی ہے اور اپوزیشن اپنی بیوقوفی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان ہورہے چھوٹے موٹے جھگڑے کو لے کر پارلیمنٹ میں زورو شور سے ہنگامہ تو ہوتا ہے لیکن بیرونی طاقتوں کے اشارے پر ملک کے مستقبل کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ پر اپوزیشن کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایتوں کی سرعام خلاف ورزی اپوزیشن کے لئے ایشو نہیں ہے۔ ملک کے عوام کی پرائیویسی اور سیکورٹی جیسے تشویشناک معاملوں پر کسی ممبر پارلیمنٹ یا سیاسی پارٹی کا دھیان تک نہیں جاتاہے۔’’ چوتھی دنیا‘‘ آدھار کارڈ کے خطرے سے لگاتار آپ کو آگاہ کرتا رہا ہے۔ ہم ایک بار پھر آدھار کو لے کر نئے چیلنجز اور سرکار کی کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔
گزشتہ پارلیمانی سیشن میں سرکار نے کئی بڑے فیصلے لئے۔ ان میں سے فائننس ایکٹ 2017 بہت اہم ہے۔ مودی سرکار نے جو فائننس ایکٹ 2017 کو پاس کیا ہے، اس میں 40 قوانین میں 250 ترامیم کئے گئے ہیں۔ اس میں کمپنی ایکٹ اور آدھار ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں، وہ سب سے اہم ہیں۔ اس کے کئی دور رس اثرات ہونے والے ہیں۔ ان دونوں ایکٹ میں جو بدلائو ہوئے ہیں، وہ نظریاتی نقطہ نظر سے جمہوریت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھ نہیں پائے کہ یہ بدلائو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کسی ممبر پارلیمنٹ کو بھی اس کا پتہ نہیں چلا اور نہ ہی کسی نے سوال اٹھایا۔
کمپنیوں کی پہچان کو چھپانا
کمپنی ایکٹ میں بدلائو کرکے سرکارنے کمپنیوں کی پہچان کو چھپانے کا فیصلہ لیا ہے۔ مثلاً کوئی بھی کمپنی کسی بھی سیاسی پارٹی کو پیسہ دے سکتی ہے لیکن اس کی پہچان کو عوامی نہیں کیا جائے گا۔لیکن ٹھیک اس کے برعکس سرکار آدھار کے ذریعہ عام آدمی کی پہچان کو عوامی کرنے کے حق میں ترمیم کررہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سرکار عام شہریوں کو تو شفاف بنانا چاہتی ہے لیکن کمپنیوں کو شفاف بنانے کے بجائے غیر شفاف بنا رہی ہے یعنی اس کی پہچان چھپانا چاہتی ہے۔ اس سے یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ یہ سرکار کس کے لئے کام کررہی ہے؟ یہ تفریق کیوں ہے؟سرکار ایک طرف کمپنیوں کو گمنام ہوکر کام کرنے کی اجازت دیتی ہے، وہیں عام شہریوں کی تمام جانکاری اور کردار و عمل کو عوامی کرنا چاہتی ہے۔ لوگوں کی تمام جانکاریاں بازار میں بکنے کے لئے دستیاب رہیں گی۔ آدھار کا سب سے بڑا فائدہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہونے والا ہے جنہیں آدھار کے ذریعہ ہندوستان کے گرامن بازار میں گھسنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔
پہلے یو پی اے اور اب مودی سرکار بھی وہی غلطیاں کررہی ہیں جس کے بارے میں دنیا کی تمام ایجنسیاں انتباہ دے رہی ہیں۔ کیا سیکورٹی ایجنسیوں کو اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ اس پروجیکٹ کے تحت ایسے لوگ بھی شناختی کارڈ حاصل کر سکتے ہیں،جن کی تاریخ داغدار رہی ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے ویکیلیکس کے حوالے سے امریکہ کے ایک کیبل کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ لشکر طیبہ جیسی تنظیم کے دہشت گرد اس پروجیکٹ کا غلط ستعمال کرسکتے ہیں۔ کچھ کشمیری دہشت گردوں کے پاس سے یو آئی ڈی برآمد بھی کئے گئے ہیں۔ پھر بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔عجیب صورت حال ہے ۔ اب پتہ نہیں نندن نیلکانی نے پہلے منموہن سنگھ اور اب نریندر مودی کو کون سی پٹی پڑھائی ہے کہ دونوں ہی وزیر اعظم یو آئی ڈی کے دیوانے بن گئے۔ جبکہ وزیر اعظم الیکشن سے پہلے پانی پی پی کر اس پروجیکٹ کو کوستے تھے اور اپنی انتخابی تقریر میں آدھار کی مثال دے کر منموہن سنگھ سرکار کو گھیرتے تھے۔ لیکن جب وہ خود وزیر اعظم ہیں تو ان سارے مسائل کو بھول چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدھار میں ضرور ایسی کوئی بات ہے کہ ملک کی سرکار بدل جاتی ہے لیکن یہ پروجیکٹ نہیں بدلتا ۔ دراصل یہ پورا پروجیکٹ ہی ایک فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا رشتہ امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہوئے حملے سے ہے۔ حملے کے بعد سے امریکہ، انگلینڈ اور فرانس نے لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے ایک سیکورٹی پروجیکٹ بنایا جس کے تحت الگ الگ ملکوں پر اسے لاگو کیا گیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ انگلینڈ میں اسے لاگو کرنے کے بعد ،بیچ میں ہی اس پروجیکٹ کو ختم کرنا پڑا۔ وہاں اسے لوگوں کی پرائیویسی اور سیکورٹی کے لئے خطرہ بتایا گیا، ایسا پروجیکٹ جو انگلینڈ کے لوگوں کی پرائیویسی اور سیکورٹی کے لئے خطرہ ہے، وہ ہندوستان کے لوگوں کے لئے فائدہ مند کیسے ہو سکتا ہے؟
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آدھار کو ایک فوجی حکمت عملی کی شکل میں لاگو نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لئے اسے شہری وسائل سے جوڑ کر ہندوستان میں پیش کیا گیا۔ اس پروجیکٹ کے لئے ورلڈ بینک کام کررہا تھا۔ اس پر 2007 سے ہی کام شروع ہو گیا تھا۔ موجودہ یو آئی ڈی اے آئی کے چیئر مین جے ستیہ نارائن اُس وقت آئیڈنٹیٹی مینجمنٹ کے ٹاسک فورس کے ممبر بھی تھے۔ غیر سرکار ی طور پر وِیپرو نے 2006 میں ایک رپورٹ تیار کی تھی اور سرکاری طور پر ٹاسک فورس نے آدھار کا پورا خاکہ تیار کیا تھا۔ 2009 میں پرنب مکھرجی نے اسے ہندوستان میں لاگو کیا۔ اس سے پہلے امریکہ میں ایسے ہی پروجیکٹ کو امریکہ کی ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس اپنا چکی تھی۔ اس لئے ہندوستان میں اس کے لاگو ہونے پر کوئی حیرانی نہیں ہے۔یہ پورا پروجیکٹ نیشنل انٹلی جینس گریڈ اور نیشنل کائونٹر ٹیریرزم سینٹر سے جڑا ہوا ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل بھی اس طرح کے پروجیکٹ پر اپنی منظوری دے چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے ذریعہ دنیا میں دہشت گردی اور سماجی تشدد پر کنٹرول کرنا ایک کارگر طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاکے کئی ملکوں میں ہندوستان کی طرح بایو میٹرک کے ذریعہ پہچان دینے کی کارکردگی چل رہی ہے۔ اس میں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اور خفیہ ایجنسیاں درپردہ دخل دے رہی ہیں اور یہ طے کرتی ہیں کہ اس پروجیکٹ میں کوئی خلل نہ پڑے۔موجودہ وقت میں یہ پروجیکٹ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال ، سینٹرل ایشیا سمیت دنیاکے 14ملکوں میں چل رہا ہے۔
اب کچھ سوال ہے جس کا جواب مودی سرکار کو ملک کے عوام کو دینا چاہئے۔ سرکار لگاتار ایک ایک کرکے ہر سروس میں اس کا استعمال لازمی کررہی ہے۔ کیا سرکار نے سپریم کورٹ کی ہدایت کی تعمیل کرنے سے منع کر دیا ہے؟23ستمبر 2013، 26نومبر 2013 اور 24مارچ 2014 کو سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ ملک کے شہریوں پر آدھار کارڈ زبردستی نہیں تھوپا جاسکتا ہے‘۔ پھر بھی سرکاری ایجنسیاں اسے لازمی کیوں بنا رہی ہیں؟ حالات تو یہ ہیں کہ اب سپریم کورٹ اپنی ہدایات کو ہر سنوائی کے دوران دوہراتی ہے لیکن سرکار اس کے کچھ دن بعد ہی کسی نئے محکمہ میں اس کے استعمال کو لازمی کر دیتی ہے۔جیسے کہ حال میں ہی انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے کے دوران بھی آدھار نمبر کے استعمال کو لازمی بنا دیا گیا۔ ساتھ ہی ہر آدمی کے بینک اکائونٹ کو آدھار سے جوڑنے کا سخت حکم دیا گیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بھی تماشائی بنا ہوا ہے۔ اب تو الیکشن کمیشن بھی ووٹنگ کے لئے آدھار کارڈ کا استعمال کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں انتخاب ہارنے کے بعد اے وی ایم کی گڑبڑی کو لے کر اتنا ہنگامہ کررہی ہیں لیکن ووٹنگ میں آدھار کے استعمال کو لے کر آج تک کسی پارٹی نے الیکشن کمیشن میں شکایت یا اعتراض درج نہیں کیا ہے۔
نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے ،تب انہوں نے آدھار کے خطرے کو لے کر کئی ساری باتیں کہیں۔ ان میں سے ایک خطرہ لوگوں کی سیکورٹی کو لے کر تھا۔ اب وہ وزیر اعظم ہیں اور آدھار کے حامی بن گئے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کے رخ میں کوئی بدلائو آیا ہے تو ضرور صورت حال میں کوئی فرق ہوا ہوگا۔ ایسے میں انہیں بتانا چاہئے کہ کیا آج بھی ملک کے باشندوں کے پرسنل سنسیٹیو بایو میٹرک ڈاٹا بیرون ملک بھیجے جارہے ہیں یا نہیں ؟کیا آدھار سے جڑے ڈاٹا کے استعمال اور ان کے آپریٹ کرنے کا حق غیر ملکی پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا گیا ہے؟اگر سرکار اس سوال کا جواب عوامی طور سے نہیں دیتی ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ لوگوں کا بایو میٹرک ڈاٹا بیرون ملک بھیجا جارہا ہے اور ان ڈاٹا کے آپریٹ کرنے کا حق غیر ملکی کمپنیوں کے پاس ہے۔ اگر مودی سرکار نے اس میں کچھ بدلائو کیا ہے یعنی اگر ڈاٹا کو غیر ملکی ہاتھوں میں جانے سے روک دیا ہے تو اس جانکاری کو عوام کے ساتھ شیئر کرنے میں کیا پریشانی ہے ؟ہم جیسے لوگوں کا وہم بھی ختم ہوجائے گا اور ملک کی سیکورٹی کے لئے سرکار کو اس کا کریڈٹ بھی جائے گا۔ چونکہ سرکار ان سوالوں کے اوپر خاموش ہے ،اس لئے شک ہونا لازمی ہے۔ اپوزیشن بھی خاموش ہے، اس لئے سازش کا شبہ ہونا بے معنی نہیں ہے۔
’’چوتھی دنیا‘‘ نے سب سے پہلے آدھار سے جڑے غیر ملکی کمپنیوں کے بارے میں پردہ فاش کیا تھا ۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے اگست 2011 میں ہی بتایا تھا کہ کیسے یہ یو آئی ڈی کارڈ ہمارے ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرناک ہے۔ دراصل یونک آئڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا( یو آئی ڈی اے آئی ) نے اس کے لئے تین کمپنیوں کو چنا۔ ایسنچر، مہندرا، ستیم مورفو اور ایل 1 آئیڈنٹیٹی سولیوشن۔ایل 1 آئیڈنٹیٹی سولیوشن کے بارے میں ہم نے بتایا تھا کہ اس کمپنی کے ٹاپ مینجمنٹ میں ایسے لوگ ہیں جن کا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور دوسرے فوجی اداروں سے رشتہ رہا ہے۔ ایل 1 آئیڈنٹیٹی سولیوشن امریکہ کی سب سے بڑی ڈیفنس کمپنیوں میں سے ہے جو 25ملکوں میں فیس ڈیٹکشن، الکٹرانک پاسپورٹ وغیرہ جیسی چیزوں کو بیچتی ہے۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹروں کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ اس کے سی ای او نے 2006 میں کہا تھا کہ انہوں نے سی آئی اے کے جارج ٹینٹ کو کمپنی بورڈ میں شامل کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ جارج ٹینٹ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور انہوں نے ہی عراق کے خلاف جھوٹے ثبوت اکٹھا کئے تھے کہ اس کے پاس بڑی تباہی کے ہتھیار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اس طرح کی کمپنیوں کو ہندوستان کے لوگوں کی تمام جانکاریاں دے کر کیا کرنا چاہتی ہے؟ایک تو یہ کمپنیاں پیسہ کمائیںگی، ساتھ ہی پورے سسٹم پر ان کا قبضہ بھی ہوگا۔ اس کارڈ کے بننے کے بعد پورے ہندوستانی باشندوں کی جانکاریوں کا کیا کیا غلط استعمال ہو سکتاہے، یہ سوچ کر ہی کسی کے بھی دماغ کی بتی گل ہو جائے گی۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا مودی سرکار نے آدھار سے جڑے ان کمپنیوں کی تاریخ اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے ان کمپنیوں کے رشتے کی تحقیقات کی؟
مودی سرکار کو یہ بتانا چاہئے کہ آدھار پروجیکٹ کا کام سرکاری ایجنسیوں کے بجائے غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں میں کیوں ہے؟اب آدھار کو لے کر جو نئی جانکاریاں آرہی ہیں ،وہ چونکانے والی ہیں۔ مرکزی سرکار کو یہ بتانا چاہئے کہ آدھار کے سوِل استعمال کو فوجی استعمال سے کیوں جوڑ دیا گیا؟لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی یو آئی ڈی پروجیکٹ پر از سر نو غور کرنے کی بات کہتی رہی ہے۔ انتخابات کے بعد بی جے پی کا اسٹینڈ کیوں بدل گیا؟بی جے پی نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ آدھار پروجیکٹ کو لے کر پارٹی کی دو تشویشات ہیں۔ ایک تو اس کی قانونی بنیاد اور دوسرا سیکورٹی کا ایشو۔ پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی آن انفارمیشن ٹکنالوجی کی سائبر سیکورٹی رپورٹ کے مطابق ،کیا آدھار پروجیکٹ قومی سیکورٹی سے سمجھوتہ کرنے جیسا اور شہریوں کی خود مختاری اور پرائیویسی کے حق پر حملہ نہیں ہے؟کیا یہ تشویشات اب ختم ہو گئی ہیں؟ سرکار کو بتانا چاہئے کہ گزشتہ تین سالوں میں ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے آدھار جو بی جے پی کے لئے ایک خطرناک پروجیکٹ تھا، اچانک سے سرکار کی ترجیحات کا حصہ بن گیا ۔
گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے یو پی اے سرکار سے یہ پوچھا تھا کہ آدھار پروجیکٹ پر کتنا پیسہ خرچ ہوا ہے اور آگے کتنا ہوگا؟ آج یہی سوال مودی سرکار سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان سوالوں کا جواب نہیں ملتا ہے تو یہ کیوں نہ مان لیا جائے کہ ملک کی سرکار اور سرکاری ادارے غیر ملکی کمپنیوں اور عالمی تنظیموں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ انہی کے اشاروں پر ہندوستان کے عوام کی پرائیویسی اور سیکورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی شرمناک سازش ہو رہی ہے۔ غیر ملکی ادارے طاقتور ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں وہ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ان ملکوں میں ان کی طاقت اور بھی زیادہ ہے جن ملکوں کا اقتصادی نظام اور اقتصادی پالیسی کاآپریٹ کرنا ان تنظیموں کے ہاتھ میں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 1991 سے ہندوستان انہی ممالک کی لسٹ میں شامل ہو گیا ہے جس کی کمان عالمی تنظیموں کے ہاتھوں میں ہے۔ آخر میں،ایک کرغستان نام کے ملک کی مثال دیتا ہوں جس سے آپ کو سمجھ میں آ جائے گا کہ آدھار پروجیکٹ کس طرح عالمی سازش کا ایک حصہ ہے اور کیوں ہندوستان نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ کرغستان کی سرکار نے بھی آدھار جیسے پروجیکٹ کو لاگو کیا اور وہاں کے شہریوں کے بایو میٹرکس کو جمع کرنا شروع کیا۔ جس طرحہندوستان میں اسے ہر جگہ لاگو کیا جارہاہے ،اسی طرح کرغستان میں بھی پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور انتخابات میں اس کے استعمال کو لازمی کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ کرغستان کی سرکار نے 2014 میں ایک قانون پاس کرکے شہریوں کے بایو میٹرک جانکاری کو جمع کرنے پر قانونی مہر لگا دی تھی۔ہندوستان کی طرح وہاں کے بھی سماجی کارکنوں نے اس کی مخالفت کی۔ مخالفت کے دلائل و شواہد وہی ہیں جو ہندوستان میں پیش کئے جارہے ہیں۔ اس پر کرغستان کی سپریم کورٹ کی جج کلارا سورون کولوا نے ایک دستاویز تیار کیا۔ اس کے ڈرافٹ میں جج صاحبہ نے اس پوری کارکردگی کو غیر آئینی قرارد دے دیا۔ یہ خبر ملتے ہی سپریم کورٹ کے ججوں کی کالس نے کلارا سورونکولوا کو برخاست کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے احتجاج کیا اور پارلیمنٹ کا گھیرائو کر کے یہ اپیل کی کہ پارلیمنٹ سے اسے انصاف ملے ۔پارلیمنٹ میں انصاف ملنے کے بجائے کرغستان کے صدر نے پارلیمنٹ میں فرضی واڑے سے اکثریت اکٹھا کی اور جج کلارا سورونکولوا کو قصوروار قرار دیا اور انہیں برخاست کر دیا۔ سورونکولوا کے مطابق کالس آف جج پر صدر المازبیک اتامبایف نے ہی یہ دبائو دیا تھا کہ انہیں کسی بھی قیمت پر روکا جائے۔ یہ مثال اس لئے دے رہا ہوں تاکہ آدھار کے پیچھے لگی غیر ملکی طاقتوں کی حیثیت کا ا ندازہ لگ سکے۔ ہندوستان میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ ہر سنوائی کے دوران کورٹ اپنے پرانے فیصلے کو دوہراتا ہے اور اگلی سنوائی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ سرکار کورٹ کی ہدایتوں کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ پھر بھی،کورٹ مایوس اور بے بس ہوکر صرف سنوائی کی تاریخ آگے بڑھا دے رہا ہے۔
یو آئی ڈی کی ابتدا
یہ ایک حیرت انگیز داستان ہے ۔ملک میں ایک خصوصی شناختی کارڈ کے لئے وِیپرو نام کی کمپنی نے ایک دستاویز تیار کیا۔ اسے پلاننگ کمیشن کے پاس جمع کیا گیا۔ اس دستاویز کا نام ہے’’ اسٹریٹجک ویژن آن دی یو آئی ڈی اے آئی پروجیکٹ‘‘۔ مطلب یہ کہ یو آئی ڈی کی تمام دلائل ، پروجیکٹ اور اس کا فلسفہ اس دستاویز میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دستاویز اب غائب ہو گیا ہے۔ وِیپرو نے یو آئی ڈی کی ضرورت کو لے کر 15صفحات کا ایک اور دستاویز تیار کیا، جس کا عنوان ہے’’ از انڈیا نیڈ اے یونیک آئیڈنٹیٹی نمبر ‘‘۔ اس دستاویز میں یو آئی ڈی کی ضرورت کو سمجھانے کے لئے وِیپرو نے برطانیہ کی مثال دی۔ اس پروجیکٹ کو اسی دلیل پر ہری جھنڈی دی گئی تھی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ برطانیہ کی سرکار نے اپنے پروجیکٹ کو بند کردیا۔ اس نے یہ دلیل دی کہ یہ کارڈ خطرناک ہے،اس سے شہریوں کی پرائیویسی کی توہین ہوگی اور عام آدمی جاسوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس پروجیکٹ کا بیک گرائونڈ ہی بے بنیاد اور ویژن لیس ہوگیا تو پھر سرکار کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ اسے لاگو کرنے کے لئے تمام دستور و قانون اور مخالفتوں کو درکانار کرنے پر آمادہ ہے۔ کیا اس کی وجہ نندن نیلکانی ہیں جو یو پی اے سرکار کے دوران وزیر اعظم کے قریبی اور یو آئی ڈی اے آئی کے چیئر مین تھے۔ کیا یہ غیر ملکی طاقتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشارے پر کیا جارہا ہے؟ملک کے عوام کو ان تمام سوالوں کے جواب جاننے کا حق ہے، کیونکہ یہ کام عوام کے ہزاروں کروڑ روپے سے کیا جارہاہے، جسے سرکار کے ہی آفیسر ناقابل یقین، ناقابل بھروسہ اور تکرار بتا رہے ہیں۔
متروں ، دو دن پہلے سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا جس آدھار کارڈ کے نام پر پورے ہندوستان میں کانگریس کے لوگ ناچ رہے تھے اور نہ جانے ملک کے لوگوں کو کوئی جڑی بوٹی دے دی ہے جو ان کو ہر پریشانیوں سے نجات دلائے گی۔ اس آدھار پر یہ لوگ جو کھیل کھیل رہے تھے، سپریم کورٹ سے اس پر ڈانٹ پڑی ہے۔آج سوال یہ ہے کہ وزیراعظم جی ملک پوچھنا چاہتا ہے کہ اس آدھار کارڈ کے پیچھے کتنے روپے خرچ ہوئے،یہ روپے کہاں گئے، آدھار کارڈ کا فائدہ کس کو ملا، سپریم کورٹ نے جو سوال اٹھائے ہیں، ان سوالوں کے جواب اس ملک کے عوام مانگتے ہیں آپ سے۔ میں ایک بات پہلی بار آپ لوگوں کے سامنے رکھنے جارہا ہوں۔گزشتہ تین سال سے میں لگاتار گجرات کی طرف سے وزیر اعظم جی کو خط لکھتا رہا ہوں۔ میں نے آدھار کارڈ کے سلسلے میں اہم سوال اٹھائے تھے۔ میں نے انہیں انتباہ دیا تھا کہ ہمارا گجرات سرحدی ریاست ہے ۔آپ اس طرح سے کسی کے ذریعہ سے کسی کو بھی آدھار کارڈ دیتے جائوگے تو ہندوستان میں جو انفریلیٹیشن کرنے والے لوگ ہیں، ان کو بڑھاوا ملے گا۔ پڑوسی ملکوں کے لوگ ہمارے یہاں گھس جائیںگے۔غیر قانونی طریقے سے وہ شہری بن جائیںگے۔ حق چھین لیں گے ہمارا۔آپ اس پر سنجیدگی سے سوچئے۔ میں نے اس کے طریقہ کار کے تعلق سے سوال اٹھائے تھے۔ آج جو سپریم کورٹ نے سوال اٹھائے ہیں، وہ سارے سوالات تین سال پہلے میں ملک کے وزیر اعظم کے سامنے اٹھا چکا ہوں۔ میں نے وزیراعظم سے اپیل کی تھی کہ آپ نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ بلائیے، وزراء اعلیٰ سے اس موضوع پر بات کیجئے۔ آدھار کارڈ کے نام پر آپ اس ملک پر سنگین بحران لائیںگے۔ اس پر سنجیدگی سے سوچئے۔ انہوں نے نہیں سوچا لیکن سپریم کورٹ نے ڈنڈا مارا، تب ا ن کو سمجھ میں آیا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *