اب یوگی بنے یوپی کے مہنت

damiاترپردیش کاوزیر اعلیٰ کون ہوگا؟ اسے لے کر انتخابات سے پہلے اور انتخابی نتائج آنے کے بعد تک تمام قیاس آرائیاں ہوتی رہیں اور تمام لیڈروں کے نام اچھلتے رہے،لیکن بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے اسمبلی انتخابات میں انتھک محنت کرنے اور موزوں نتائج دینے والے یوگی آدتیہ ناتھ کا نام 11مارچ کو ہی طے کر لیا تھا۔ ناموں کو لے کر تمام ڈرامے ہوئے اور ان سب کے درمیان 18 مارچ کو یوگی کو اتر پردیش پارٹی اراکین کا لیڈر بنائے جانے کی تجویز رکھ دی گئی اور اس پر پارٹی کے اسمبلی اراکین کا مکمل اتفاق بھی ہو گیا۔ اس طرح گورکھپور کے ممبر پارلیمنٹ اور گئو رکش پیٹھ کے پیٹھا دھیشور مہنت یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کے 21ویں وزیر اعلیٰ اور مکمل اکثریت والے اول وزیر اعلیٰ ہو گئے۔ ریاستی بی جے پی کے صدر کیشو پرساد موریہ اور لکھنو کے میئر دنیش شرما یوگی آدتیہ ناتھ سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ رہیں گے۔
اسمبلی انتخابات کے پہلے بھی بی جے پی کو یو پی کے وزیر اعلیٰ کا چہرہ چننے کو لے کر گھیرا گیا تھا لیکن بی جے پی نے وزیراعظم نریندر مودی کے چہرے پر ہی انتخاب میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ یو پی انتخابات کو لے کر بنی بی جے پی کی ابتدائی کور ٹیم میں یوگی آدتیہ ناتھ کا مرکزی کردار رہا ۔اس درمیان ریاست بھر سے یہ مانگ اٹھنے لگی کہ یوگی کو ہی وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ اسے لے کر تنازع کچھ اتنا بڑھا کہ کچھ دنوں کے لئے یوگی وہسٹل شیڈ میں چلے گئے۔ امیدوار وں کے انتخاب پر غور کرنے کے لئے بنی انتخابی کمیٹی میں بھی یوگی کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ اس کی مخالفت میں ہندو یوا واہینی نے بی جے پی کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے مساوی امیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کردیا۔ ہندو یوا واہینی کے بانی یوگی ہی ہیں،لیکن انہوں نے بڑی ہوشیاری سے بغاوت کو روکا بھی اور قیادت کو اس کا احساس بھی کرا دیا۔ بی جے پی کی ’’ پریورتن یاترا ‘‘ اور وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی صدر امیت شاہ کی ریلیوں کے درمیان بی جے پی قیادت کو یوگی آدتیہ ناتھ کی بڑے پیمانے پر عوامی مقبولیت کا احساس ہوا۔ مودی اور شاہ کی ریلیوں میں جمع بڑی بھیڑ کا سہریٰ بھی یوگی اور ان کی ٹیم کو ملا۔ بلند شہر کے اجلاس میں یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریر کے بڑے اثرات پڑنے پر اعلیٰ کمان کو ملی خفیہ رپورٹ کے بعد بی جے پی قیادت نے یوگی کو اسٹار پرچارکوں میں شامل کیا اور عوام پر پڑ رہے اثرات کو دیکھتے ہوئے تشہیری کام کے لئے انہیں الگ سے ہیلی کاپٹر بھی دے دیا۔
اب بی جے پی قیادت کو انتخابی نتائج کا انتظار تھا۔ مانا جاتا ہے کہ 60 سے زیادہ سیٹوں پر ہوئی جیت میں یوگی آدتیہ ناتھ کا اہم کردار رہا ہے۔ اس تاریخی جیت کے بعد یوگی کا راستہ پکا ہو گیا تھا، لیکن بی جے پی قیادت کو یوپی کی سیاست کا درجہ حرات بھی لینا تھا۔ اس بیچ کئی نام اچھلے۔ مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ سے لے کر منوج سنہا، کیشو پرساد موریہ ، سریش کھنہ، مہیش شرما وغیرہ وغیرہ کے نام اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں سامنے آتے رہے اور ان کی حمایت اور مخالفت کی سیاست کی حرارت اعلیٰ کمان کو ملتی رہی۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ہی یو گی آدتیہ ناتھ ’لو پروفائل ‘ میں آگئے تھے۔ ایسا لگا تھا کہ یوگی نے وزیر اعلیٰ عہدہ کی ریس سے خود کو الگ کر لیاہے ۔ لیکن انڈر کرنٹ چل رہا تھا۔ تجربہ کار سیاست داں راجناتھ سنگھ نے یہ سب بھانپ کر خود کو پہلے ہی الگ کر لیا۔ وزیر مملکت برائے سینٹرل ریلوے و مواصلات منوج سنہا اوپر اوپر بھلے ہی کہتے رہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں، لیکن ان کے چہرے اور جسم کا تاثر ان کی توقعات کا راز کھولتا رہا۔ منوج سنہا 18مارچ کو بنارس پہنچ بھی گئے تاکہ اعلیٰ کمان کا سگنل ملے اور وہ فوراً لکھنو پہنچ جائیں۔ پولیس نے منوج سنہا کو باقاعدہ سی ایم پروٹوکول کے تحت ’’گارڈ آف آنر ‘‘ دینے کی تیاری بھی کرلی تھی، لیکن سنہا نے اسے روک کر عقلمندی دکھائی۔ کچھ ایساہی حال کیشو پرساد موریہ کا بھی ہوا۔ وزیر اعلیٰ بننے کی بدمزہ سیاسی گھیرے بندی پر خود قومی صدر امیت شاہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ اس پر کیشو موریہ پہلے تو دہلی کے اسپتال میں جاکر بھرتی ہو گئے۔ لیکن اعلیٰ کمان کی سختی دیکھ کر اسپتال سے چھٹی کرائی اور اپنے پیر پیچھے سمیٹ لئے۔
سپروائزر کی شکل میں لکھنو بھیجے گئے وینکیا نائیڈو اور بھوپندر یادو گھٹتی بڑھتی سیاسی حرارت کا جائزہ لے رہے تھے اور ادھر بساط فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنے کے لئے تیار ہو رہی تھی ۔ 18مارچ کو صبح صبح ہی یوگی آدتیہ ناتھ کو دہلی بلایا گیا۔ یوگی کو دہلی لے جانے کے لئے چارٹرڈ طیارہ بھیجا گیا تھا۔ اسی وقت یہ صاف ہو گیا تھا کہ یوگی اتر پردیش کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھے جارہے ہیں ۔یوگی کو مرکز میں کابینہ کی تجویز دینے کے لئے چارٹر ڈطیارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ یوگی کی امیت شاہ سے تفصیل سے بات ہوئی ۔ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد یوگی کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات ہوئی۔ بی جے پی کے اتر پردیش انچارج اوم ماتھر اور پردیش مہا منتری سنیل بنسل بھی دہلی میں ہی تھے۔ بی جے پی اعلیٰ کمان کے فیصلے سے تمام لیڈروں کو واقف کرا دیا گیا اور سب کو ساتھ ہی لکھنو پہنچنے کی ہدایت مل گئی۔ اس کے بعد مذکورہ تمام لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ ہی دوپہر بعد لکھنو پہنچے۔ نو تعمیر شدہ سکریٹریٹ ’’لوک بھون ‘‘ پہنچنے کے پہلے وی وی آئی پی گیسٹ ہائوس میں بھی تھوڑی دیر لیڈروں کے درمیان غور و خوض ہوا ۔اس کے بعدوہ لوک بھون پہنچے۔ پارٹی کے اراکین اسمبلی کی میٹنگ سے پہلے مرکزی وزیر ونکیا نائیڈو نے یوگی آدتیہ ناتھ کا نام رکھا جسے پارٹی اراکین کی میٹنگ میں سوریش کھنہ نے رسمی تجویز کے طور پر پیش کیا۔ کیشو پرساد موریہ نے اس تجویز کی حمایت کی اور بی جے پی پارٹی اراکین اسمبلی نے تالیوں سے یوگی کو اپنا وزیر اعلیٰ چن لیا۔ یوگی نے کیشو پرساد موریہ اور دنیش شرما کو نائب وزیر اعلیٰ کی شکل میں چننے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے نائب صدر دنیش شرما کو 17 مارچ کی رات کو ہی دہلی بلا کر اعلیٰ کمان کے فیصلے سے واقف کرا دیا گیا تھا۔
اتر پردیش میں مکمل اکثریت سے اول وزیر اعلیٰ بننے والے یوگی آدتیہ ناتھ کی شخصیت اور ان کے پس منظر پر بھی تھوڑی بات کرتے چلیں۔ سیاسی تجزیہ اور جوڑ توڑ پر بعد میں چرچا کریںگے۔ گورکش پیٹھ کے پیٹھا دھیشور مہنت اویدھیہ ناتھ نے اپنے پیارے شاگرد یوگی آدتیہ ناتھ کو 15فروری 1994 کو اپنا جانشیں ہونے کا اعلان کیا تھا اور یوگی کا دیکشا بھیشیک ہوا تھا۔ مہنت اویدھیہ ناتھ رام جنم بھومی آندولن کے خالق تھے۔ان کی موت کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور میں واقع گئو رکش پیٹھ کے پیٹھا دھیشور بنے۔ 5 جون 1972 کو اترا کھنڈ (تب یوپی ) کے پوڑی ضلع میں یمکیشور بلاک کے پنچور گائوں میں پیدا ہوئے اجے سنگھ 22 سال کی عمر میں سنیاسی بن گئے اور ان کا سنیاسی نام آدتیہ ناتھ پڑا۔ سائنس گریجویٹ یوگی آدتیہ ناتھ دور طالبعلمی میں بھی اور سنیاسی ہونے کے بعد بھی مختلف قومی آندولنوں سے جڑے رہے۔ چھوا چھوت کے خلاف انہوں نے بڑے پیمانے پر آندولن چلایا۔ مذہبی کٹرپنتی کے الزامات کے درمیان اپنی سیاسی و سماجی شخصیت گڑھنے والے یوگی، ہندوستان کی سناتن تہذیب کو کمزور کرنے والے عناصر کے خلاف لگاتار لڑائی کرتے رہے۔ یوگی نے بڑے پیمانے پر ہندوئوں کو منظم کرنے کا کام کیا اور سوال اٹھاتے رہے کہ مسلمانوں کو منظم کرنا اور ان کی حمایت کرنا اگر مذہبی غیر جانبداریت ہے تو ہندوئوں کو منظم کرنا مذہبی کٹرپن کیسے ہو گیا؟اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے یوگی نے 1998 میں لوک سبھا کا انتخاب لڑا اور 26سال کی عمر میں ہی رکن پارلیمنٹ بنے۔ یوگی نے اپنے پارلیمانی حلقے کے تقریباً 1500 گرام سبھائوں کا ہر سال دورہ کیا اور وہاں ترقی کے مختلف پروگراموں کی ذاتی طور سے نگرانی کرتے رہے۔ اس وجہ سے وہ گورکھپور پارلیمانی حلقے سے لگاتار رکن پارلیمنٹ چنے جاتے رہے۔ 2014 کے لوک سبھاانتخابات میں بھی یوگی لوک سبھا کا انتخاب جیتے۔ اب وزیر اعلیٰ بننے کے بعد وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دیں گے اور ایم ایل اے کا انتخاب لڑیں گے۔ پارلیمنٹ میں بھی یوگی اپنی فعال حصہ داری کے سبب جانے جاتے رہے ہیں۔ مرکزی سرکار کی مختلف وزارتوں کی پارلیمانی کمیٹی کے بھی وہ ممبر ہیں۔ یوگی درجنوں تعلیمی اداروں کے بھی بانی ہیں۔ وشو ہندو مہا سنگھ نے یوگی کو بین الاقوامی نائب صدر بنایا تھا۔ ،1997,2003,2006 میں گورکھپور میں اور 2008 میں تلسی پور (بلرام پور ) میں وشو ہندو مہا سنگھ کا بین الاقوامی اجلاس منعقد کر کے یوگی کافی سرخیوں میں آئے تھے۔ سناتن مذہب اور کلچر پر یوگی نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان میں ’’ یوگک شٹکرم ، ہٹھ یوگ: سوروپ اور سادھنا ، راج یوگ: سوروپ اور سادھنا، ہندو راشٹر نیپال ‘‘ جیسی کتابیں قابل ذکر ہیں۔گئو رکش پیٹھ سے شائع کئی اخبارو رسائل کی بھی ادارت یوگی کرتے رہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ بد عنوانی کے خلاف سختی سے کھڑے رہے ہیں اور گورکھپور کو جرائم پیشوں اور مافیائوں سے پاک کرانے میں یوگی کا مرکزی کردار رہا ہے۔ یوگی کے اثرات کے سبب ہی پوروانچل میں دہشت گردی اور ملک مخالف سرگرمیاں پنپ نہیں پائیں۔ یوگی کی سیاست میں ہندوتوا ایک نکاتی مہم رہا ہے۔ لو جہاد پر اپنے سخت بیان کی وجہ سے یوگی تنازع میں بھی رہے اور سرخیوں میں بھی۔ لو جہاد پر یوگی آدتیہ ناتھ کے تیکھے بیان اور لو جہاد کے خلاف اینٹی رومیو اسکوائڈ کی تشکیل کے اعلان نے بھی انہیں کافی متنازع طور سے مشہور کیا۔ پوروانچل میں انہوں نے مذہب تبدیلی کے خلاف بھی مہم چھیڑ رکھی تھی۔ گورکھپور میں انہوں نے کئی محلوں کے نام بدلوا دیئے ۔اردو بازار کا نام بدل کر ہندی بازار کر دیا گیا۔ علی نگر کو آریہ نگر بنا دیا گیا۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ یوگی نے یوگ کولے کر کہا تھا کہ جو لوگ یوگا کی مخالفت کررہے ہیں، انہیں ہندوستان چھوڑ دینا چاہئے۔ جو لوگ سوریہ نمسکار نہیں مانتے ،انہیں سمندر میں ڈوب جانا چاہئے لیکن بدلتے دور میں جیسے جیسے مذہبی غیر جانبداریت اور ترقی کی نقلی یکطرفہ تعریفیں ہوتی گئیں،یوگی آدتیہ ناتھ کا قد بڑھتا گیا۔ تنازعات میں رہنے کے باوجود یوگی کی سیاسی و سماجی طاقت بڑھتی ہی چلی گئی۔
آج نتیجہ یہ ہوا کہ یوگی آدتیہ ناتھ اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بن کر وزیر اعلیٰ کے ریس میں لگے تمام قد آوروں کو پچھاڑ دیا۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر اعلان ہونے کے فورا بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے سُر بدلے ۔ گورنر رام نائک کے ذریعہ ریاست میں سرکار کی تشکیل کے لئے دعوت ملتے ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مہم ’’ سب کا ساتھ ،سب کا وکاس‘‘ کے جذبے کے ساتھ وہ کھڑے ہیں اور اتر پردیش میں اسے سو فیصد لاگو کرانے کے پابند ہیں۔ صحیح ہے کہ یوگی کے سامنے تمام چیلنجز کھڑے ہوںگے۔ یوگی کے ریس جیت لینے سے کئی سیاسی لیڈروں کو کافی پریشانی ہو رہی ہوگی۔ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے یوگی کو ترقی کے راستے پر چلنا ہوگا۔ حال ہی میں عوام کی توقعات کو لے کر ایک سروے ہوا جس میں ریاست کے تقریباً 25ہزار لوگوں کے آراء شامل کئے گئے تھے۔ زیادہ تر لوگوں نے بتایا ہے کہ اترپردیش میں لاء اینڈ آرڈر اور ہیلتھ سروس کا ڈھانچہ پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ ریاست کی بدحال لاء اینڈ آرڈر اور ہیلتھ سروسز پر یوگی آدتیہ ناتھ مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ گورکھپور اور پوروانچل میں نامعلوم بیماری (مبینہ طور پر مینن جائٹس ) سے لگاتار ہورہی بچوں کی موت کا مسئلہ یوگی کی وجہ سے ہی قومی اور بین الاقوامی مسئلہ بن سکا۔ آخر کار مرکزی سرکار نے گورکھپور میں ایمس بنانے کی منظوری دی۔ سروے میں 82 فیصد لوگوں نے سیکورٹی کو لے کر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پختہ نظم و نسق نئی حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ بدعنوانی کو لے کر بھی لوگ کافی فکرمند ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ قانون سازی اور نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ سے پھل پھول رہی بدعنوانی ساری بیماریوںکی جڑ ہے، جسے ختم کیا جانا چاہیے۔ لوگوںنے ریاست میںپبلک ہیلتھ سروس کے بنیادی ڈھانچے میںمکمل اصلاح کی ضرورت کی نشاندہی کی ہے۔ 73 فیصد سے زیادہ شہریوںنے خواہش ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت لال فیتہ شاہی اوربدعنوانی کو ختم کرے۔ یوگی کو ان چیلنجز سے دو دو ہاتھ کرنے ہوںگے۔
سب سے تیز ’جنتا چینل‘ 12 بجے ہی یوگی کو بنا دیا سی ایم
اترپردیش کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا، اسے لے کر پوری ریاست میںچرچا، شور وغل اور ضرب تقسیم چل رہی تھی۔ دہلی سے لے کر راجدھانی لکھنؤ تک لیڈروںکی بھاگ دوڑ لگی تھی۔ سرکاری طور پر 18 مارچ کی شام کو یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کی خبر باہر نکلی۔ لیکن لیڈروں سے لے کر میڈیا نمائندوں تک کوحیرت تب ہوئی جب انھوںنے دوپہر کے 12 بجے سے ہی سوشل میڈیا پر یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ ہونے کی خبر چلتی دیکھی۔ جو میڈیا نمائندے اب تک ہوئے یوپی کے وزرائے اعلیٰ کا سلسلہ کھنگال رہے تھے،وہ وکی پیڈیا دیکھ کر حیرت میںتھے کہ وہاں وزیر اعلیٰ کا نام اکھلیش یادو سے ہٹ کر یوگی آدتیہ ناتھ ہوچکا ہے۔ حالانکہ دوپہر میںوکی پیڈیا پر تصویر اکھلیش یادو کی ہی لگی ہوئی تھی، لیکن نام یوگی لگا تھا۔ شام کو اکھلیش کی تصویر بھی ہٹ گئی تھی اور باقاعدہ یوگی کی تصویر وہاںچسپاںتھی۔
سی ایم سے پہلے ہی کون بنے گا وزیرکی بحث تیز تھی
نوتن سچوالیہ ’لوک بھون‘ میں18 مارچ کی شام کو پارٹی اراکین کی میٹنگ ہونے والی تھی۔ نئے منتخب اراکین اسمبلی لوک بھون کے احاطے میںدوپہر بعد سے ہی اکٹھے ہونے لگے تھے۔ اراکین اسمبلی میںیہی بحث تھی کہ کون کون بنے گا وزیر؟ جبکہ اس وقت تک یہ بھی طے نہیں ہوا تھا کہ وزیر اعلیٰ کون بنے گا۔ آئیے اس بحث کی پتنگ بازی کا آپ بھی جائزہ لیجئے۔
وزیر بننے کے لیے بی جے پی کی اتحادی پارٹی کے نئے منتخب اراکین اسمبلی نے کچھ زیادہ ہی خواب سجا رکھے ہیں۔ بی جے پی کے پارٹی لیڈروںکے ساتھ ساتھ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے عہدیداروںکو بھی سادھنے کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔ جن لوگوںکے وزیرہونے کے امکانات پر بحث ہو رہی تھی، ان میںشاہجہاں پور کے سریش کھنہ، بریلی کے راجیش اگروال،،کانپور کے ستیش مہانا،گورکھپور کے ڈاکٹر رادھا موہن داس اگروال، آنولہ سے دھرمپال سنگھ ، سابق ایم ایل سی سوتنتر دیو سنگھ، ایم ایل سی مہندر سنگھ اور بی ایس پی سے بی جے پی میںآئے سوامی پرساد مورویہ کے نام تو شامل تھے ہی، ان کے علاوہ بھگونت نگر سیٹ سے جیتے ہردے نارائن دیکشت، میرٹھ کے سردھنہ سے جیتے سنگیت سوم،مظفر نگر سے جیتے اوتار سنگھ بھڑانا، متھرا سے جیتے شری کانت شرما، بارہ بنکی سے جیتے بیجناتھ راوت، ریاستی جنرل سکریٹری ودیا شنکر سونکر، نوئیڈا سے رکن اسمبلی چنے گئے پنکج سنگھ،لکھنؤ سے جیتے آشوتوش ٹنڈن، لکھنؤ کینٹ سے جیتی ڈاکٹر ریتا بہوگناجوشی، لکھنؤ صدر سے جیتے برجیش پاٹھک، اورئی سے جیتے دینا ناتھ بھاسکر،گھوسی سے جیتے پھاگوچوہان، کاشی سے جیتے رویندر جیسوال، تھانہ بھون سے جیتے سریش رانا،سابق وزیر ویریندر سنگھ سروہی، ایم ایل سی بھوپندر سنگھ، آر ایل ڈی سے آئے ٹھاکر دلویر سنگھ،امیٹھی سے جیتی گریما سنگھ او رسروجنی نگر سے رکن اسمبلی بنی سواتی سنگھ کے نام پر بھی خوب چرچا تھا۔ مافیا سرغنہ مختار انصاری کے بڑے بھائی صبغت اللہ انصاری کو ہراکر جیتی الکا رائے (مختارکے ہاتھوں مارے گئے بی جے پی لیڈر کرشنا نند رائے کی بیوی)، الہ آباد سے جیتے سدھارتھ ناتھ سنگھ کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی اتحادی پارٹی بھارتیہ سماج پارٹی کے صدر اوم پرکاش راج بھر اور اپنا دل کے رکن اسمبلی نیل رتن پٹیل کے بھی وزیر بننے کا چرچا تھا۔
پی ایم کو گڑھ والی پسند ہے
یوپی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کے انتخاب کے بعد اس پر بھی بات چلی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اتراکھنڈ اور خاص طور سے گڑھ والی پسند ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ملک کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ ساتھ ملک کی بری فوج کے جنرل وپن سنگھ راوت، ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے چیف انل دھسمانا، اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ تریوندر سنگھ راوت اور اب اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی بنیادی طور پر گڑھوال کے ہیں۔ کانگریس سے بی جے پی میںآئے اترا کھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ وجے بہوگنابھی گڑھوال کے ہی ہیں۔
دمدار ہے کیشو موریہ کا سیاسی سفر
اترپردیش بی جے پی کے صدر کیشو پرساد موریہ کے بارے میںبھلے ہی یہ کہا جاتا رہے کہ موریہ پچھڑوںاور دلتوںکا چہرہ ہیں، لیکن یہ زمینی اور سماجی حقیقت نہیںہے۔ اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ بنے کیشو پرساد موریہ کی شبیہ نسل پرست سے الگ شدید ہندو پرست کے طور پر رہی ہے۔ موریہ کی سیاسی زندگی 2012 میںشروع ہوئی جب وہ سراتھو سیٹ سے رکن اسمبلی بنے تھے۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھتے ہی رہے۔ سال 2014 میںموریہ الہ آباد کی پھول پور پارلیمانی سیٹ سے جیت کر رکن پارلیمنٹ بنے اور دو ہی سال بعد وہ پارٹی کے ریاستی صدر بن گئے۔ بی جے پی سے پہلے موریہ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل میںفعال کارکن اور پرچارک کے طور پر شریک رہے ہیں۔ موریہ بھی یہ کہتے ہیںکہ وہ بھی مودی کی طرح چائے بیچتے تھے۔ لیکن ان کا یہ دعویٰ حقیقت کم نقل زیادہ ہے۔ کوشامبی کے سراتھو میں کسان خاندان میں پیدا ہوئے کیشو پرساد موریہ وشو ہندو پریشد لیڈر اشوک سنگھل کے کافی قریب تھے۔ موریہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ سے گہرے جڑے ہوئے تھے اور شری رام جنم بھومی آندولن میںجیل کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔
2017 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی صدر بنائے گئے کیشو پرساد موریہ نے اتنخابی تشہیر میںجم کر حصہ لیا۔ موریہ کی شبیہ اچھے لیڈر اور اسپیکر کے طور پر ہے۔ اس الیکشن میںہی انھوںنے 155 سبھائیں کیں۔ کیشو پرساد پر کئی مجرمانہ معاملے بھی درج ہیں،جنھیںوہ سیاسی سازش کا نتیجہ بتاتے ہیں 48 سال کے کیشو پرساد موریہ نے بھی 14 سال کی عمر میںگھربارچھوڑ دیا تھا اور وشو ہندو پریشد لیڈر اشوک سنگھل کے ساتھ جڑ گئے تھے۔ سنگھل سے قربت کے سبب ہی موریہ کی سنگھ میںاچھی پکڑ بن گئی۔
دنیش شرما میئر سے ڈپٹی سی ایم تک نرم چہرہ
اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کے روپ میںچنا گیا دوسرا چہرہ لکھنؤ کے میئر ڈاکٹر دنیش شرما کا ہے۔ دنیش شرما نرم ، ایماندار اور صاف شبیہ کے شخص مانے جاتے ہیں۔ دنیش شرما بی جے پی کے قومی نائب صدر اور گجرات ریاست کے انچارج بھی رہے ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر دنیش شرما لکھنؤ یونیورسٹی کے پروفیسر بھی رہے ہیں۔ وہ کامرس فیکلٹی میںپروفیسر ہیں۔ نرم گفتار ڈاکٹر دنیش شرما وزیر اعظم نریندر مودی ، قومی صدر امت شاہ اور سنگھ کے پسندیدہ ہیں۔ اترپردیش میںبی جے پی کو مضبوط کرنے میںشرما کا اہم کردار رہا ہے۔بی جے پی اعلیٰ کمان نے پارٹی کی ممبر شپ بڑھانے کی اہم مہم کی کمان دنیش شرما کے ہاتھ میں ہی سونپی تھی۔ الیکشن سے قبل بی جے پی کی ممبرسازی مہم کی ریکارڈ کامیابی کا کریڈٹ ڈاکٹر دنیش شرما کو ملا۔
لوجہاد پر ڈاکٹر دنیش شرما کا بیا ن بھی کافی سرخیوںمیںرہا تھا لیکن وہ یوگی کی طرح دھماکہ خیز نہیںبنا۔ ڈاکٹر شرما نے کہا تھا کہ لو جہاد گھاتک بم سے بھی زیادہ گھاتک ہے۔شرما نے کہا تھا کہ پیار کو ایک مذہبی اوزار بنا لیا جائے اور ایک خاص فرقے کے خلاف اسے مہم کے طور پر چلایا جائے ، زور زبردستی کی جائے تو یہ بھیانک جرم ہے۔ عورتوںکے ساتھ آبروریزی کرنے کے بعد اس کی فلم بناکر ، ظاہر کرکے،اسے بلیک میل کرکے، اس کے گھر والوںکو بلیک میل کرکے ،جبراً ان کامذہب تبدیل کرایا جائے اوراس کو اپنے ساتھ میںرہنے کے لیے مجبور کیا جائے تو اس نفرت انگیز رویہ اور راستے کی پرزور مخالفت ہونی چاہیے۔ ایسے کسی کام یا جبراً مذہب تبدیل کرانے کی نہ ہندو دھرم حمایت کرتا ہے اور نہ ہی اسلام کرتا ہے۔ ایسی سرگرمیوںکا چلنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ ملک کو توڑنے کا عمل ہے۔ یہ بم اور ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *