یو این ایس سی میں ہندوستان کی نئی پیشکش، ویٹو پاور نہ ہونے کے متبادل پر بھی تیار

Indiasssاقوام متحدہ: اقوام متحدہ اصلاحی عمل کو آگے  بڑھانے کی کوشش کے تحت ہندوستان اور جی 4 کے دیگر ممالک نے کہا ہے کہ وہ اصلاح کے لئے نئے نئے خیالات کے لئے تیار ہیں اور مستقبل رکن کے طور پر تب تک ویٹو کا اختیار نہیں ہونے کے متبادل کے لئے بھی تیار ہیں جب تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقبل نمائندے سید اکبرالدین نے گزشتہ بدھ کو بین سرکاری مذاکرات میٹنگ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاح کے لئے بڑی تعداد میں اقوام متحدہ رکن ممالک مستقبل اور عارضی رکنیت کی توسیع کی حمایت کرتے ہیں۔ ویٹو کے مدعے پر اکبر الدین نے کہا کہ ویٹو کے سوال پر کئی لوگوں نے الگ الگ نظریہ سے غور کیا، لیکن جی 4 کا رخ یہی ہے کہ ویٹو کوئی مسئلہ (نئے مستقبل اراکین کو فوراً دینے کے ضمن میں) نہیں ہے، لیکن مسئلہ رکاوٹوں کی تجویز کرنے کو لے کر ہے۔ جی 4 نے ایک بیان کہا کہ ہمارا رخ اسی جذبہ کے مطابق ہے۔ نئے مستقبل اراکین کے پاس اصولی طور پر وہ تمام ذمہ داریاں اور پابندیاں ہوں گی، جو موجودہ وقت کے مستقبل اراکین کے پاس ہیں۔ حالانکہ نئے اراکین ویٹوں کا استعمال تب تک نہیں کریں گے جب تک جائزہ کے دوران کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

اس گروپ نے کہا کہ ویٹو کا مدعا اہم ہے، لیکن رکن ممالک کو سلامتی کونسل کے اصلاحی عمل پر ویٹو نہیں ہونے دینا چاہئے۔ جی 4 ممالک کے  بیان میں کہا گیا کہ اس بات سے مطلع ہیں کہ آگے بڑھنے کے لئے کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم اقوام متحدہ میں اصلاح کے لئے نئے خیالات کا خیر مقدم کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ابھی تک انہیں کوئی ترقی پسند خیال سننے کو نہیں ملا ہے اور کچھ ملک پرانے ٹھکرائے گئے خیالات کو دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ سلامتی کونسل میں مستقبل اور غیر مستقبل اراکین کے درمیان اثر کا عدم توازن ہے اور غیر مستقبل زمرے میں توسیع کرنے بھر سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بیان میں آگے کہا گیا ہے کہ حقیقت میں یہ مستقبل اور غیر مستقبل اراکین کے درمیان فرق کو مزید گہرا کرے گا۔ ویٹو کے ایشو پر جی 4 نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ پابندی لانے پر ویٹو کا معاملہ مقدار کا نہ کر کوالٹی کا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *