ویزا پابندی پر تکرار، اختیار کے دائرے سے باہر نہ جائیں عدالتیں: ٹرمپ

Trumphواشنگٹن: صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹریول بین میں ہوئی ترمیم کے نافذ ہونے سے کچھ گھنٹوں پہلے ہی گزشتہ بدھ کو ایک امریکی فیڈرل جج نے اس حکم پر پابندی لگا دی۔

اس نئے قانون پر روک لگنا انتظامیہ کے لئے بہت بڑا جھٹکا ہے۔ جہاں وہ عارضی طور پر پناہ گزینوں پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ 6 اہم مسلم ملکوں کے مسافروں پر بھی عارضی پابندی لگانا چاہ رہے ہیں۔

 ہوائی میں دائر ہوئے ایک مقدمہ کے جواب میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیرک واٹسن نے نئے حکم پر عاضی روک لگا دی ہے۔ مقدمہ میں دلیل دی گئی تھی کہ اس نئے قانون میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جا رہا ہے۔ اس پر ٹرمپ نے نیشولے ، ٹینسی میں دئے گئے اپنے خطبہ میں کہا کہ جج کا حکم ہمیں لوگوں کے سامنے کمزور دکھا رہا ہے اور عدالت کو اپنے اختیاری دائرے سے  باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہوائی میں مخالفین، صدر ٹرمپ کے پہلے کی مہموں کا حوالہ دے رہے ہیں۔ جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکہ میں پوری طرح سے مسلمانوں کی آمد بند کر دیں گے۔ حالانکہ بعد میں ٹرمپ نے اپنی زبان پر قابو پاتے ہوئے ٹریول بین اور 6 ملکوں کے امریکہ میں پابندی پر 90 دن کی روک کو امریکہ کی سلامتی کے لئے اہم بتایا۔ اس کے ساتھ ہی اب ٹرمپ لوگوں کو اسے کسی مذب سے جوڑنے کے لئے منع کر رہے ہیں۔ ان 6 ملکوں میں ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن ہیں۔ پہلے عراق بھی اس فہرست میں شامل تھا، لیکن بعد میں اسے اس فہرست سے باہر کر دیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *