ریل میں سفر کرتے ہیں تو پڑھیں یہ خبر، بدلنے والے ہیں کئی ضوابط

Train-Rules-Changeنئی دہی: انـڈین ریلوے اپنی نئی اسکیم ’وکلپ‘ یکم اپریل 2017 سے شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مسافروں کے ذریعہ ریزرو کئے گئے ٹکٹ کنفرم نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں دیگر ٹرینوں میں ریزرویشن کرا سکیں گے، جس کے لئے انہیں دیگر ٹرینوں میں ٹکٹ کی سہولت مہیا کرائے گی۔ یہ سہولت یکم اپریل 2017 سے نافذ کی جائے گی۔ اس سہولت کے تحت ویٹنگ لسٹ میں شامل مسافر اپنے ٹکٹ کی تصدیق کے لئے ’وکلپ‘ سروس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس میں مسافر آزاد ہوں گے کہ وہ دوسری ٹرین میں سفر کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

اس اسکیم کا اعلان فروری میں پیش ہوئے ریل  بجٹ میں کیا گیا تھا۔ یہ سہولت صرف میل، ایکسپریس اور سپرفاسٹ ٹرینوں میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس کا اعلان وزیر ریل سریش پربھو نے گزشتہ سال مئی میں کر دیا تھا۔  یاد رہے کہ شروعاتی طور پر یہ اسکیم صرف ای ٹکٹ کے لئے ہی مہیا ہوگی۔ اس اسکیم کے تحت ویٹنگ لسٹ والے مسافروں کو وکلپ اسکیم کے انتخاب کا موقع ملے گا۔ وکلپ میں ان مسافروں کا انتخاب کیا جائے گا، جن کا نام چارٹ تیار ہونے کے بعد بھی کنفرم نہیں ہوتا ہے، صرف انہیں کے لئے متبادل ٹرین میں الاٹمنٹ پر غور کیا جائے گا۔ اس کے لئے نہ ہی کسی مسافر سے کوئی اضافی چارج وصولہ جائے گا اور نہ ہی کرائے میں فرق پر ریفنڈ کی کوئی سہولت ہوگی۔ ریل مسافر کو الٹرنیٹ ٹرین میں سیٹ دئے جانے کے بعد اسے عام مسافر ہی مانا جائے گا اور وہ اپرگریڈیشن کے مستحق ہوں گے۔

ریلوے نے کہا کہ وکلپ اسکیم کے تحت ہر ٹرین میں برتھ کے استعمال کی سہولت مل سکے گی۔ ویٹنگ لسٹ والے مسافر جو وکلپ اسکیم کا متبادل چنیں گے انہیں چارٹ تیار ہونے کے بعد پی این آر اسٹیٹس چیک کرنا ہوگا۔ کسی ٹرین سے ویٹنگ لسٹ والے مسافر کو نئی ٹرین مل جانے کے  بعد اس ٹرین میں بورڈ کرنے کا اجازت نہیں ہوگی۔ متبادل کا انتخاب کرنے والے مسافر جنہیں الٹرنیٹ ٹرین میں اکوموڈیشن دیا جا چکا ہے کہ ان کا نام بیس ٹرین کی ووٹنگ لسٹ میں نہیں درج کیا جائے گا۔ جب وکلپ کا انتخاب کرنے والا کوئی مسافر کینسل کا متبادل چنتا ہے اس کے بعد اسے الٹرنیٹ اکوموڈیشن دے دیا جاتا ہے اور وہ ایک کنفرمڈ مسافر کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اس کے  بعد بھی کینسیلیشن کے ضوابط نافذ ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *