قرض معافی کے خلاف آر بی آئی۔ ایس بی آئی افسران کی بیان بازی کے کیا ہیں معنی؟

RBIدہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں پرچار کے دوران ریاست کے کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیر اعظم کے وعدے کے مطابق ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی سب سے پہلا فیصلہ کسانوں کا قرض معاف کرنے کے لئے لیا جانا تھا۔ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بن چکی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکنب اب وزیر اعظم کے وعدے کو پورا کرنے کے لئے فیصلہ نہیں لیا جا پا رہا ہے۔

دراصل کسانوں کی قرضی معافی کی مخالفت کرنے والوں میں ریزرو بینک کے ڈپٹی گورنر ایس ایس موندڑا بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس سے قرض لینے اور دینے والوں کے درمیان ڈسپلن بگڑتا ہے۔ حالانکہ انھوں نے واضح کیا ہے کہ یہ زیزرو بینک کا رخ نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے بھی اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ موندڑا نے یہ ضرور کہا کہ آر بی آئی روایتی طور پر کسان قرض معافی کے خلاف رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ قرض معافی کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ اگر ہے تو کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟

گزشتہ ہفتے بدھ کو ملک کے سب سے  بڑے بینک ایس بی آئی کی چیئر پرسن اروندھتی بھٹاچاریہ نے  بھی کسان قرض معاف کئے جانے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے  بھی ڈسپلن بگڑنے کی بات کہی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ قرض لینے والے قرض چکانے کے بجائے آئندہ انتخابات کا انتظار کریں گے۔ اس کے بعد کانگریس لیڈروں نے نریمن پوائنٹ میں واقع ایس بی آئی کے صدر دفتر میں مظاہرہ کیا تھا۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن بھی ایسی اسکیموں کو اخلاقی طور پر غلط مانتے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *