پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ: پاکستانی تیز گیند بازمحمد عرفان برخاست

Mohd-Irfanکراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تیز گیند باز محمد عرفان کو مشتبہ سٹے ب از کے رابطہ میں رہنے کے لئے معطل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں مبینہ بدعنوانی کے لئے چل رہی موجودہ بدعنوانی تفتیش میں ملزم بننے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ۔

پی سی بی نے بیان میں کہا پاکستان کرکٹ بورڈ ممکنہ بدعنوان سرگرمیوں کی اپنی تفتیش میں آگے بڑھ رہا ہے اور پی سی بی بدعنوانی مخالف ضوابط کے تحت عرفان کو الزامات سے متعلق نوٹس بھیجا گیا۔ اس کے مطابق عرفان کو ضوابط کی دفعہ 2.4.4 کی دو خلاف ورزیوں کے لئے ملزم بنایا گیا ہے اور اس کے پاس اس نوٹس کا جواب دینے کے لئے 14 دن ہیں۔ بورڈ نے کہا کہ عرفان کو فوری طور پر کرکٹ کے تمام فارمیٹس میں حصہ لینے سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ وہ  بدعنوانی مخالفت ضوابط کے تحت معطل ہونے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ پی سی بی نے شرجیل خان اور خالد لطیف کو پی ایس ایل کے دوسرے دن دبئی سے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہیں بھی گزشتہ مہینے بدعنوانی مخالف ضوابط کے مطابق عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

عرفان پی سی بی کی بدعنوانی مخالف یونٹ اور اعلیٰ قانونی ماہرین کے سامنے پیش ہوئے تھے اور بورڈ سے وابستہ ذرائع کے مطابق انھوں نے ایک مشتبہ سٹے باز سے ملاقات کی بات قبول کی تھی جس نے انہیں میچوں میں اسپاٹ فکسنگ کرنے کے لئے کہا تھا۔ 34 سالہ عرفان نے اپنے کریئر میں چار ٹیسٹ ، 60 ون ڈے اور 20 ٹی 20 بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں۔ عرفان نے کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا لیکن انھوں نے یہ مانا تھا کہ انھوں نے اس معاملہ کی رپورٹ بورڈ کو نہیں کی تھی۔ عرفان نے دعویٰ کیا کہ ان کی والدہ کی وجہ سے وہ گزشتہ تین مہینوں سے کافی ذہنی تنائو میں متبلا تھے۔ انھوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ انہیں پاکستان سپر لیگ میں میچ فکس کرنے کے لئے کسی طرح کی پیشکش ہوئی تھی۔

دیگر معطل کھلاڑیوں نے بھی کچھ غلط کرنے کے الزامات سے انکار کیا تھا اور ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے  کے لئے ایک کمیٹی کی بھی تشکیل کی گئی تھی۔ پی سی بی چیئر مین شہر یار خان نے کہا کہ اگر کوئی قصوروار پایا جاتا ہے تو کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگ سکتی ہے کیونکہ بورڈ کسی بھی طرح کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کرے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *