نقد لین دین کی حد ہوئی دو لاکھ، نہیں تو لگے گا 100 فیصد جرمانہ

Jaitelyنئی دہلی: حکومت نے کالے دھن کے خلاف مہم جاری رکھتے ہوئے یکم اپریل سے نقد لین دین کی حد کم کر کے دو لاکھ روپے کرنے اور الیکشن ٹرسٹ میں صرف چیک کے ذریعہ ہی چندہ دئے جانے کے نظام کا منگل کو تجویز کی۔ اس کے پہلے کیش لین دین کی حد تین لاکھ روپے رکھنے اور اس سے زیادہ پر 100 فیصد جرمانہ کی تجویز مرکزی بجٹ میں رکھی تھی۔

وزیز خزانہ ارون جیٹلی نے یکم فروری کو پیش کردہ مالی بل 2017 کو 40 ترامیم کی پیشکش کیں جو ایک غیر متوقع بات ہے۔ ترمیم تجاویز کا اپوزیشن پارٹیوں نے پرزور مخالفت کی۔ اپوزیشن ممبران نے اسے غیر ٹیکس کردہ بلوں کو ’پچھلے دروازے سے‘ سے مالی بل کی شکل میں پاس کرنے کی حکومت کی چال بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح حکومت غیر ٹیکس کردہ بلوں پر راجیہ سبھا کی منظوری لینے کی ضرورت ختم کرنا چاہتی ہے، جہاں بر سراقتدار اتحاد کو اکثریت نہیں ہے۔ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے اپوزیشن پارٹیوں کی ناراضگی کو خارج کرتے ہوئے نظام بنایا کہ ترامیم سے متعلق ’ایمر جنسی تجاویز‘ کو دولت بل کی شکل میں مالی بل کا حصہ مانا جا سکتا ہے۔ مالی بل میں کی گئی ترمیم میں سب سے اہم نقد لین دین کی حد کو دولالکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ ترمیم پیش کئے جانے کے بعد ریوینیو سکریٹری ہنسمکھ ادھیا نے ایک ٹویٹ کیا کہ تجویز کی خلاف وری ہونے پر اتنی ہی رقم کا جرمانہ وصولا جائے گا۔ جرمانہ اس شخص یا یونٹ سے وصولا جائے گا جو نقدی حاصل کریں گے۔

اس کے علاوہ کمپنی قانون 2013 میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اس کے تحت کمپنیوں کے ذریعہ الیکشن ٹرسٹ کو چندہ صرف کھاتوں میں چیک، بینک ڈرافٹ یا الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعہ ہی کئے جانے کی تجویز کی گئی ہے۔ یہ قدم جیٹلی کی بجٹ تجویز کے عین مطابق ہے، جس میں الیکشن بانڈ کی بات کہی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *