میرٹھ میونسپل کارپوریشن میں وندے ماترم لازمی

meerut-mcمیرٹھ: شہر کی میونسپل کارپوریشن میں وندے ماترم کو لے کر ہوا تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ میئر کی موجودگی میں ایوان نے قومی ترانہ کو لازمی بنائے جانے سے متعلق تجویز کو صوتی ووٹ سے پاس کر دیا۔ اپوزیشن کے ممبر اسے لازمی بنائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ گزشتہ دن کارپوریشن ایوان کی ہوئی میٹنگ میں بی جے پی کے ممبروں کی جانب سے تجویز پیش ہوئی کہ ایوان کی میٹنگ سے پہلے قومی ترانہ لازمی ہو۔ جو ممبر ایسا نہیں کریں گے انہیں ایوان میں نہیں بیٹھنے دیا جائے گا اور ان کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔
میئر ہری کانت اہلووالیہ کی موجودگی میں ایوان نے صوتی ووٹ سے اس تجویز کو پاس کر دیا۔ میئر نے تجویز پاس ہونے اور اسے ضابطہ بنائے جانے سے انکار کیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ روایت پہلے سے چلی آ رہی ہے اور ایسا ضابطہ بنائے جانے میں کچھ بھی غلط ن ہیں ہے۔
ہری کانت اہلوالیہ نے بی بی سی سے کہا کہ میرے سامنے تجویز آئی کہ کچھ لوگ قومی ترانہ گاتے وقت باہر چلے جاتے ہیں اور پھر آ کر بیٹھ جاتے ہیں، اس سے قومی ترانہ کی توہین ہوتی ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تجویز لانے والے اور ان کی حمایت کرنے والے اکثریت میں ہیں۔ میں ایوان کا صدر ہوں اور اکثریت کا احترام کرنا میرا فرض ہے۔ دراصل میونسپل کارپوریشن کی میٹنگ سے پہلے قومی ترانہ گانے کی روایت کافی پرانی ہے، لیکن مسلم ممبر اس دوران وہاں موجود نہیں رہتے اور اس کے ب عد آکر ایوان میں بیٹھتے ہیں ۔ ابھی تک اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہوا تھا۔
مسلم ممبروں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ ایوان کی مدت کار ختم ہونے میں محض کچھ دن بچے ہیں، بی جے پی کے لوگ جان بوجھ کر اس مدعے کو طول دے رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *