یو پی میں ہڑتال پر گوشت کے کاروباری

Tundey-Kababلکھنؤ؍نئی دہلی: یو ی کے گوشت کاروباری آج سے بے میعادی ہڑتال پر ہیں۔ اس درمیان یو پی کے وزیر اور یوگی حکومت کے ترجمان سدھارتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت نے انڈا چکن کی دوکانوں کو بند کرنے کا آرڈر نہیں دیا ہے۔ صرف غیر قانونی ذبح خانوں پر کارروائی ہوگی۔ جن ذبح خانوں کے پاس لائسنس ہے، انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہ کریں۔ بتا دیں کہ یوگی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد غیر قانونی اور مکینائزڈ سلاٹر ہائوس کو بند کرنے کا فرمان سنایا تھا۔ ریاست میں 400 سے زیادہ غیر قانونی ذبح خانے ہین۔ ان کے بند سے یو پی میں گوشت سے جڑے 11 ہزار کروڑ روپے کے کاروبار پر اثرا پڑا ہے۔

نیوزی ایجنسی سے بات چیت میں لکھنؤ کے بکرہ گوشت ویاپار منڈل کے ممبر مبین قریشی نے کہا کہ ہم نے ہڑتال کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا ساتھ دینے کے لئے مچھلی کاروباری بھی آگے آ رہے ہیں۔ یہ ہڑتال جلد ختم نہیں ہوگی، بلکہ ب ے میعادی رہے گی۔ اس اسٹرائک کی وجہ سے  نان ویجٹیرین فوڈ والی دکانوں اور اس کے گاہکوں کو دقت ہو سکتی ہے۔

لکھنؤ کی مشہور دکان ٹنڈے کبابی پر بھی تالا لٹک گیا ہے۔ گزشتہ اتوار کو مسلسل تیسرے دن دکان بند رہی ۔ دکان کے مالک عثمان نے بتایا کہ ان کے دادا نے یہ خاص کباب بنانا شروع کیا تھا، لیکن اب میٹ اور بیف کی سپلائی نہیں ہونے کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ریاست میں 400 سے زیادہ غیر قانونی سلاٹر ہائوس ہیں۔ ان کے بند ہونے سے یو پی میں گوشت سے جڑے 11 ہزار کروڑ روپے کے کاروبار پر اثرا پڑا ہے۔ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق یو پی میں 185 سلاٹر ہائوس ہیں۔ ان میں سے 45 کے پاس لائسنس ہے۔ جبکہ 140 سلاٹر ہائوس بنا اجازت کے چل رہے ہین۔

قریشی نے مزید کہا کہ سلاٹر ہائوس پر کارروائی سے لاکھوں لوگوں کی زندگی پر اثر پڑا ہے۔ بتا دیں کہ یوگی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر قانونی طریقہ سے چل رہے سلاٹر ہائوس کو بین کرنے اور گوکشی سختی سے روکنے کے آرڈر دئے ہیں۔  یو پی کے کئی اضلاع میں اس کارروائی کو انتظامیہ کی طرف سے انجام دیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً اس کاروبار سے جڑے کئی لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف ان سلاٹر ہائوس کے خلاف کی جا رہی ہے جو غیر قانونی ہیں۔ بی جے پی نے انتخابات سے پہلے اپنے منشور میں بھی صاف کہا تھا کہ غیر قانونی سلاٹر ہائوس بند کئے جائیں گے اور گوکشی کو ہر حال میں روکا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *