پاریکر نے گووا اسمبلی میں ثابت کی اکثریت، 22 اعتماد کے ووٹ ملے

گووا میں وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر نے اسمبلی میں اکثریت ثابت کر دی ہے۔ 40 ایم ایل اے والی اسمبلی میں پاریکر کے حق میں Manohar-Parrikar22 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن میں 16 لوگوں نے ووٹ کیا۔ کانگریس لیڈر وشو جیت رانے نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور واک آئوٹ کر لیا۔ طاقت آزمائی کے  بعد پاریکر نے کہا کہ ان کے ساتھ 23 ممبران اسمبلی ہیں اور 22 نے ووٹنگ ان کے حق میں کی۔انھوں نے کہا کہ ایک اسپیکر بھی ہماری طرف سے تھا جنھوں نے ووٹ نہیں کیا۔ منوہر پاریکر نے کہا کہ ہم نے کسی ایم ایل اے کو کسی ہوٹل میں نہیں رکھا ، کسی ریزارٹ میں نہیں رکھا۔ سبھی نے اپنی مرضی سے ووٹ دیا ہے۔

منوہر پاریکر نے کانگریس کے قدآور لیڈر دگ وجے سنگھ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ اگر گووا میں صرف چھٹیاں منانے کے لئے آئیں گے تو ایسا ہی ہوگا۔ وہ کانگریس پر بڑی پارٹی ہونے کے بعد بھی اقتدار سے دور رہنے کی وجوہات پر اپنا تبصرہ کر رہے تھے۔ پاریکر نے کہا کہ دگ وجے سنگھ کا اکثریت کا دعویٰ بکواس تھا۔ ان کے پاس کبھی بھی اکثریت نہیں تھی۔

اسی کے ساتھ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اسمبلی میں طاقت آزمائی کر لی گئی ہے۔ گووا اسمبلی کی کارروائی صبح 11 بج کر 30 منٹ کے قریب شروع ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کانگریس پارٹی کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ 16 مارچ کو پاریکر ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔

اس سے قبل کانگریس پارٹی نے گورنر کے فیصلہ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ریاست میں ہوئے انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں کانگریس کو لوگوں نے چنا ہے۔اس لئے کانگریس کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا جانا چاہئے تھا، لیکن بی جے پی نے منوہر پاریکر کی قیادت میں کچھ آزاد اور پارٹیوں کی حمایت کا خط لے کر گورنر سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ گورنر نے انہیں 15 دنوں میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا تھا۔ اس کے بعد کانگریس پارٹی سپریم کورٹ پہنچی اور پاریکر کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کی حلف برداری پر روک کا مطالبہ کیا۔ لیکن کورٹ نے پاریکر کو جمعرات کو اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *