جے این یو کے طالب علم نے کی خود کشی، پنکھے سے لٹکی ملی لاش

JNU-Student-Sucideنئی دہلی: روہت ویمولا کی موت کو ابھی مشکل سے ایک سال بھی نہیں ہوا ہوگا کہ ہولی کی شام جے این یو کے ایک اور دلت طالب علم کی خودکشی کا معاملہ گرماتا جا رہا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ تمل ناڈو کے سیلم ضلع کے رہنے والے موتھو کرشنن جیوانندم کی لاش ایک دوست کے گھر پنکھے سے لٹکتی ہوئی ملی تھی۔ 25 سالہ موتھو کرشنن جے این یو میں ایم فل کا طالب علم تھا۔ اپنے آخری فیس بک پوسٹ میں اس نے عدم مساوات کی بات کی تھی

10 مارچ کو لکھی گئی پوسٹ میں اس  نے لکھا تھا کہ ایم فل؍پی ایچ ڈی داخلہ میں کوئی مساوت نہیں ہے۔ وائوا میں کوئی مساوت نہیں ہے۔ یہاں صرف مساوات کی تردید ہے۔ پروفیسر سکھدیو تھوریٹ کی سفارش سے انکار کرتے ہیں۔ ایک بلاک میں طالب علموں کی مخالفت نکارتے ہیں، مرجینل کی تعلیم کو نکارتے ہیں۔ جب مساوات سے انکار کیا جاتا ہے تو سب کچھ محروم ہو جاتا ہے۔

سلیم میں رجنی کرش کے پریوار کے لوگوں نے گزشتہ پیر کی شام کو احتجاجی مظاہرہ میں سڑک جام کر کے اپنا اشتعال ظاہر کیا۔ مظاہرہ میں موتھو کرشنن کے پریوار کے لوگ، ڈی وائی ایف آئی کے ممبر اور ودوتھلائی سروتھئی کے ممبر بھی شامل تھے۔ پریوار کے لوگوں کا کہنا ہے کہ موتھو کرشنن کی موت پر اسرار حالات میں ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے معاملہ کی جانچ کا مطالبہ بھی کیا۔ انھوں نے دلت طالب علموں کی موت کی بھی مذمت کی اور معاوضہ کا مطالبہ کیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ موتھو کرشنن کا پریوار آج دہلی پہنچ سکتا ہے۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کاہل نہیں تھا کہ خودکشی کر لے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *