ریختہ کا جادو سر چڑھ کربول رہا ہے

damiطویل عرصہ سے اس بات کی تشنگی محسوس کی جارہی تھی کہ اردوادب، شاعری ، بچوں کے ادب ،صوفیا کے کلام ،عام بول چال کی اردو زبان سے منسلک مواد کو محفوظ رکھنے کے لئے کوئی ایسا طریقہ کارعمل میں لایا جائے جس سے اس زبان کے جانکاروں کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو سے دلچسپی رکھنے والے غیر اردو داں تک اس کی چاشنی ،لطافت اور معنویت کی رسائی کو آسان بنایا جاسکے۔ اس بار گراں کو پالی پلیکس اندسٹریز کے فائونڈر سنجیو صراف نے اپنے کندھے پر اٹھایا اور ریختہ فائونڈیشن کی داغ بیل 2013 میں ڈالی ۔ یہ فائونڈیشن مسلسل متعلقہ مواد کو محفوظ کرنے کا کام کر رہا ہے۔ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج اس کے پروگرام تقریباً160 ممالک میں دیکھے جارہے ہیں اوراس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ ریختہ ڈاٹ آرگ ویب سائٹ پر شاعروں کی تعداد گزشتہ سال 1700 تھی جو بڑھ کر امسال 2300 اور ای بک سیکشن میں کتابوں کی تعداد 23000 ہوگئی ہے۔اس ویب سائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ مشکل لفظوں کا معنی محض ایک کلک سے معلوم ہوجاتا ہے۔سنجیو صراف نے اردو کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچادیاہے اور وہ بھی اس طرح کہ جو اردو رسم الخط سے ناواقف ہیں ،وہ بھی اردو کی لطافت کو رومن اور دیوناگری میں پڑھ کر محسوس کرسکتے ہیں۔صراف کہتے ہیں کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ اردو زبان میں مواد کی دستیابی بھرپور ہو اور ساتھ ہی ساتھ اس کی پہنچ لوگوں تک مفت آن لائن مہیا ہو سکے تاکہ اس کے چاہنے والوں کے سامنے زبان کے معاملے میں کوئی مسئلہ نہ پیدا ہو‘‘۔
اْردو کی مٹھاس شاعری، موسیقی، فلم ، ڈرامہ اور مکالمے کاحصول اور اس کے حصول میں وسیلہ بننے والی کرشماتی شخصیتوں کو قریب سے دیکھنے و سننے کا موقع مل جائے تو یقینا آپ خود کو ادھر کھینچتا ہوا محسوس کریں گے۔کیونکہ ایسی محفلوں میں ذہنی آسودگی اور علمی سیرابی کا موقع میسر ہوتا ہے۔اس آسودگی اور سیرابی کا انتظام ریختہ فائونڈیشن ہر سال جشن ریختہ کے نام سے سالانہ جلسہ منعقد کرکے کرتا ہے۔ اس میں اردو کو فروغ دینے کے امکانات کو عمل میں لانے کی بہمہ جہت کوشش کی جاتی ہے جس میں بشمول ہندوستان، دنیا بھر سے اردو کے نامی گرامی شاعر سے لے کر صوفی اور فنکار تک حصہ لیتے ہیں۔ اس فائونڈیشن کو ملک و بیرون ملک میں بڑی شہرت حاصل ہے۔
اپنی سابقہ روایت کے مطابق امسال بھی جشن ریختہ کا انعقاد پورے تزک و احتشام کے ساتھ 17 تا 19 فروری کو دہلی میں ہوا جس میں ایک لاکھ سے زیادہ شائقین نے اپنی روحانی تشنگی بجھائی ۔ اس تین روزہ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے معروف شاعر گلزار نے اردو کے رسم الخط کو بچائے رکھنے کے لئے ہرممکن کوشش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’ کوئی بھی زبان دیگر زبانوں کی فطری شمولیت سے ہی زندہ رہتی ہیں‘‘۔ان کے اس جذبے کی اس وقت ایک دم سے تکمیل ہوتی نظر آئی جب ریختہ کے سربراہ سنجیو صراف نے گلزار اور مشہور سرود نواز استاد امجد علی خان سے درخواست کی کہ وہ لوگ اپنے مبارک ہاتھوں سے ’’ آویزش ڈاٹ کام‘‘ ویب سائٹ کی رونمائی کریں۔ یہ ویب سائٹ ریختہ فاونڈیش نے اردو رسم الخط کی بقا اور اس کے بے پایاں فروغ کے لئے تیار کی ہے۔
تین دن تک چلنے والی اس تقریب میں اردو کے سلسلے میں متعدد پروگرام پیش کئے گئے ۔روشنی سے نہائے اور رنگ و نظاروں سے بھرپور ماحول میں اردو کے ہزاروں نئے پرستاروں نے لطف اٹھایا۔جشن ریختہ میں ہر جگہ اردو کا جادو تھا۔اس سہ روزہ پروگرام میں کئی طرح کی محفلیں سجائی گئی تھیں۔ اسٹیج لان میں دیوان عام ، آڈیٹوریم میںدیوان خاص، امفے تھیئٹر میں بزم رایان اور ٹرلان میںکنج سخاں منعقد ہوا، جن کے تحت متعدد دلچسپ پروگرام ہوئے اور ان پروگراموں میں مشہور فلمی رائٹر جاوید صدیقی، ،نادرہ ببر، سلیم عارف، شوربھ شکل، ،مشہور مورخ عرفان حبیب،فرید الدین شہر یار،کمار وسواس جیسی شخصیتوں نے شرکت کی۔اس کے علاوہ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر، جسٹس آفتاب عالم ،کانگریسی لیڈر سلمان خورشید اور طاہر محمود کی موجودگی نے بھی سامعین کو خوب محظوظ کیا۔
خاص بات یہ ہے کہ تیسرے دن غزل کا پروگرام تھا جس میں سابق مرکزی وزیر کمل مرارکا اور سماجی کارکن بھارتی مرارکا نے فوزیہ عرشی کے غزلوں کا البم ’غزل بائی گریٹ ماسٹرس ‘ کا اجرا کیا۔کمل مرارکا کا شمار ملک کے 10بڑے صنعتکاروں میں ہوتا ہے۔ملک کے بہترین وائلڈ لائف فوٹو گرافروں میں سے ایک اور آرٹ کے ناقد ہیں اور بقول گلزار، اردو کے عاشقین میں شامل ہیںاور بڑی خاموشی سے اردو کی خدمت کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں فوزیہ عرشی نے اردو کے عظیم شعرا ء میر تقی میر، مرزا غالب ، بہادر شاہ ظفر اور فیض احمد فیض کے کلام گنگنا کر سامعین کا دل جیت لیا۔
ان تمام رنگا رنگ پروگراموں میں کوئی شاعری سے لطف اندوزہورہا تھا تو کوئی ادب کی چاشنیوں میں شرسار۔ کوئی صوفیا کے کلام میں مست تو کوئی ڈراموں اور ادبی لیٹریچروں کی گہرائیوںمیں ڈوبا ہوا ۔کوئی گپ شپ کی باریکیوں میں غلطاں تو کوئی ادبی محفلوں کی دلفریبیوں اور لطیفوں کے قہقہوں میں سرمست ۔ اس ادبی میلے میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے نوجوان موجود تھے جن کے گھروں میں اردو نہیں بولی جاتی اور ان کی درس گاہوں میں اردو نہیں پڑھائی جاتی لیکن اردوتہذیب کی کشش انہیں یہاں تک کھینج لائی۔گویا کہ سنجیو صراف نے اپنی کوششوں سے اردو کو محفوظ اور عام کرنے کا ایک انوکھا طریقہ وجود میں لادیا ۔
لیکن یہ روایت بہت پرانی ہے کہ جب کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو فطرت انسانی اسے اپنے شعور کی کسوٹی پر تولتی ہے ۔ اسکسوٹی پر اسے کبھی خوبیاں نظر آتی ہیں تو کبھی خامیاں ۔ سنجیو صراف کا یہ کارنامہ بھی اس روایت سے محفوظ نہیں رہ سکا ہے ۔ ریختہ کی سرگرمیوں کا ایک بڑا طبقہ مداح ہے۔ملک و بیرون ملک میں سنجیو صراف کی ان کوششوں کو سراہا جارہا ہے ۔ وہیں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جو ریختہ کی سرگرمیوں میں کچھ خامیاں دیکھتا ہے اور ریختہ کے نام سے لے کر اس کے انتظامی امور پر اندیشے اور ناراضگی کا اظہار کرتا ہے ۔
دراصل اس مرتبہ پروگرام کے آخری دن ایک عجیب صورت حال پیدا ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ریختہ کے انتظامیہ پر انگلی اٹھائی جارہی ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ پاکستان کی مشہور شاعرہ کیشور ناہید پروگرام میں شرکت کے لئے تشریف لائی تھیں۔ لیکن انہیں پروگرام میں اپنا کلام پیش کرنے سے روک دیا گیا۔اس سے ناراض ہوکر وہ وہاںسے واپس چلی گئیں۔انتظامیہ کے اس عمل سے شائقین میں بے چینی دیکھی گئی کہ ایک عالمی شہرت یافتہ شاعرہ کو اس طرح اسٹیج شیئر کرنے سے کیوں روکا گیا ؟۔ دوسرے ہی دن اخباروں میں یہ خبر چھپی اور ریختہ پر تنقیدیں ہونے لگیں۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعہ بہت اہم تھا ،اس لئے ’’چوتھی دنیا‘‘ نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی ٹھانی اور اردو طبقے کی معروف شخصیتوں ، تنظیموں اور ریختہ کے ذمہ داروں سے بات چیت کی تو واقعہ کا پس منظر کھل کر سامنے آگیا۔اس سلسلے میں جب عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئر مین عبد الرحمن جو کہ سپریم کورٹ میں پریکٹس بھی کرتے ہیں اور منٹو پر ماہر ہیں، سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیشور ناہید کو اسٹیج شیئر نہ کرنے دینا آپ کی نظر میں کیا ہے ؟تو انہوں نے کہا کہ’’ کیشور ناہید کو اس پروگرام میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا تھا مگر پروگرام میں آتے ہی انہیں یہ کہہ کر واپس کردیا گیا کہ ناموافق سیاسی حالات کی وجہ سے ان کا شریک ہونا مناسب نہیں ہے ۔ ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے ساتھ ریختہ کے اس رویے کو کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے‘‘۔
یہی سوال ریختہ کے سینئر سپرایڈوائزر ڈاکٹر انیس الرحمن سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ناہید صاحبہ کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ وہ خود سے اچانک پروگرام میں آگئی تھیں۔ ظاہر ہے پورا شیڈول پہلے سے تیار تھا جس میں بروقت ترمیم نہیں کی جاسکتی تھی ،اسی لئے ان کے اسٹیج شیئر کرنے سے معذرت کی گئی۔اس کے بعد انہوں نے’’ چوتھی دنیا‘‘ کی ٹیم کو دعوت نامے اور پروگرام کا پورا شیڈول دکھایا جس میں کہیں بھی کیشور ناہید کا نام نظر نہیں آیا۔
کیا کہتے ہیں دانشوران و ماہرین اردو
ریختہ کے تعلق سے دیگر گوشوں پر بھی ’’چوتھی دنیا ‘‘نے جو بات چیت کی ، اس کے اقتباسات کو باکس میں پیش کیا جارہا ہے ۔

س: ریختہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئر مین عبد الرحمن: مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریختہ ایک اچھا کام کررہا ہے مگر جو خاص بات ہے، وہ یہ کہ یہ فائونڈیشن اردو کے نام پر قائم ہے۔ لہٰذا اس کا نام ایک غیر معروف لفظ ’’ ریختہ ‘‘ کے بجائے اردو فائونڈیشن یا اس کے سائٹ کو اردو سائٹ سے متعارف ہونا چاہئے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ریختہ بھی اردو کا ہی کلاسیکل نام ہے لیکن حکومت میں اس زبان کا رجسٹریشن اور دنیا بھر میں اس کا تعارف اردو لفظ سے ہے نہ کہ ریختہ سے ۔ایسی صورت میں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ریختہ نام رکھ کر اس زبان کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے۔ جہاں تک فائونڈیشن کی اردو خدمت کی بات ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب اردو سے محبت کی وجہ سے نہیں، بلکہ تجارتی نقطہ نظر سے ہے اور اس کے کچھ سیاسی زاویئے بھی ہیں۔
امریکہ کی یورنیورسٹی آف نارتھ کیرولنا میں سائوتھ ایشین اسٹڈیز کے استاد ڈاکٹر افروز تاج: اردو جس نام سے متعارف ہے اسی نام سے سائٹ کا نام ہونا چاہئے۔ سنجیو صراف نے اس سائٹ کے ذریعہ اردو کی خدمت کم اور نفع کمانے کا کام زیادہ کیا ہے۔حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس سے پیسہ نہیں کمانا چاہتے اور سائٹ پر پڑھنے کا کوئی چارج نہیں ہے لیکن اس کی کیا ضمانت ہے کہ مستقبل میں وہ اس سائٹ کے لئے ممبر شپ کو لازمی قرار نہ دیں۔
دہلی یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے سربراہ پروفیسر این ایم کمال عرف ابن کنول: ریختہ دنیا بھر میں اردو کو پھیلا رہا ہے ۔اس نے قدیم اردو لٹریچروں کو محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھا کر اردو کی بڑی خدمت کی ہے۔ جہاں تک ریختہ نام رکھے جانے کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ یہ بھی اردو کا ہی ایک نام ہے ۔لہٰذا اس بحث میں پڑنا تضیع اوقات ہے۔ریختہ نے اردو کو دیو ناگری اور رومن میں پیش کرنے کاآغاز کیا ہے ۔اس سے غیر اردو داں بھی اردو زبان کی لطافت سے محظوظ ہورہے ہیں اور ان میں اردو کا ذوق پیدا ہورہا ہے۔جہاں تک ریختہ کی تجارتی منشا کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اگر کوئی اس سے نفع کما رہا ہے تو کمائے لیکن اردو زبان محفوظ تو ہورہی ہے۔آج دنیا بھر میں اردو داں اور غیر اردو داں اس سے مستفیض ہورہے ہیں۔ میں نے خود ریختہ کے سائٹ سے کئی بار استفادہ کیا ہے۔
یونیورسٹی آف ناتھ کیرولنا میں اردو و ہندی کے استاد جان کالڈویل: ریختہ ویب سائٹ ایک حد تک صحیح کام کرہا ہے۔ یہ اردو کو تمام لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔ البتہ اردو رسم الخط کو دیو ناگری یا رومن میں پیش کرنے سے اردو رسم الخط کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور جب کسی زبان کا رسم الخط ختم ہوجاتا ہے تو بتدریج وہ زبان بھی ختم ہوجاتی ہے۔ریختہ کو چاہئے کہ وہ اردو کو دیو ناگری میں پیش کرنے کے بجائے نستعلیق میں تعلیم دے تو یہ اس کی بڑی خدمت قرار پائے گی۔ اس بات کو ہمیں نظر اندا ز نہیں کرنا چاہئے کہ دیو ناگری سے زبان کی ساخت ختم ہوجاتی ہے۔
دہلی یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے سابق سربراہ اور اردو ہندی کے ماہر پروفیسر صادق: اردو کا نام مختلف دور میں الگ الگ رہا ہے۔ جیسے ہندوی، زبانِ دہلی، ہندی،اس سے مراد زبان ہندی نہیں بلکہ ہندوستانی زبان ہے۔اس کے علاوہ علاقائی اعتبار سے بھی اس کو مختلف نام دیا جاتا رہا ہے جیسے دکن میں دکنی ، گجرات میں گجری وغیرہ۔ انہی ناموں میں سے ایک نام ریختہ بھی ہے۔ لیکن قابل ذکر یہ ہے کہ اتنے ناموں میں سے کسی بھی نام سے موجودہ دور میں اردو کو متعارف نہیں کرایا جارہا ہے بلکہ اس کا تعارف صرف اردو زبان سے ہی ہے۔ لہٰذا ریختہ کہنے کے بجائے اردو لفظ کے ساتھ اس فائونڈیشن اور سائٹ کا نام جڑا ہوا ہوتا تو قابل ستائش قدم ہو تا۔
ریختہ کے سینئر سپرایڈوائزر ڈاکٹر انیس الرحمن: ریختہ کی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی ویب سائٹ کے 160 ملکوں میں 42 لاکھ سے زائد فالوئرس ہیں۔ جہاں تک ریختہ نام رکھنے کا معاملہ ہے تو ریختہ وہ زبان ہے جس کو صدیوں لگا اس اسٹیج تک پہنچنے میں جس کو ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔تیرھویں صدی میں امیر خسرو نے جو زبان استعمال کی اور اس کے بعد اٹھارھویں صدی میں جس کو کیمپ کی زبان کہا گیا وہ ریختہ ہے ۔ اس لفظ کا استعمال غالب اور میر نے بھی کیاہے۔ یہ ریشی مونیوں کی زبان ہے ، تو یہ ایک ایسی رسائی ہے جو کئی سو صدیوں میں تیار ہوئی ہے۔اٹھارہویں صدی میں جب دکن میں اردو ادب فروغ پارہا تھا ،اور جب ولی دہلی آئے ،تو یہاں انہوں نے جو زبان دیکھی اور سنی یعنی جس کو ریختہ کہتے تھے، اس زمانے میں اس لائق نہیں سمجھی گئی کہ اس میں کوئی ادب تخلیق کی جائے تو جب ولی کے دیوان کو لوگوں نے دیکھا تو کہا کہ واقعی یہ زبان ایسی ہے جس میں اپیل بھی ہے اور کششبھی ہے۔تو لوگوں نے اس زبان میں لکھنا شروع کردیا ۔
ریختہ کے معنی تو ملی جلی زبان کے ہیں لیکن موجودہ وقت میںزبان میں خلط ملط ہوا ہے اور پیغام رسانی کی اردو زبان عمل میں آئی ہے، جیسے فلموں کی زبان ،یا عام بول چال کی زبان ۔اسی زبان کو عوام تک پہنچانا ریختہ کا مقصد ہے ۔اگر اس کا نام اردو لفظ سے منسوب کرکے رکھا جاتا تو صرف ادبیات کی رسائی کو ہی عام کیا جاسکتا تھا جبکہ ریختہ کے ذریعہ ہم ادبی اور عام بول چال کی اردو زبان کو بھی دنیا میں پھیلانے کا کام کررہے ہیں اور یہی ریختہ کا اصل مقصد ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *